Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3193

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ1 عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ: حَدَّثَتْنَا اُمُّ سَلَمَۃَ، اَنَّ الَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَا ھُوَ فِیْ بَیْتِھَا وَعِنْدَہُ نَفَرٌ مِنْ اَصْحَابِہٖ اِذْ جَائَہٗ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمْ صَدَقَۃُ کَذَا وَکَذَا مِنَ التَّمْرِ ؟ قَالَ : کَذَا وَکَذَا قَالَ الرَّجُلُ : فَاِنَّ فُلَانًا تَعَدَّی عَلَیَّ ، وَاَخَذَ مِنِّیْ کَذَا وَکَذَا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَکَیْفَ اِذَا سَعَی عَلَیْکُمْ مَنْ یَّتَعَدَّی عَلَیْکُمْ اَشَدَّ مِنْ ھٰذَا التَّعِدِّی ، فَخَاضَ الْقَوْمُ فِیْ ذٰلِکَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ مِنْھُمْ ،فَکَیفَ بِنَا یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا کَانَ الرَّجُلُ مِنَّا غَائِبًا فِیْ اِبِلِہٖ وَمَاشِیَتِہٖ وَزَرِْعِہٖ وَنَخْلِہِ ، فَاَدَّی زَکَاۃَ مَالِہِ ، فَتَعَدَّی عَلَیْہِ الْحَقََ ، فَکَیْفَ یَصنَعُ یَا رَسُوْلَ اللہِ ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ اَدَّی زَکَاۃَ مَالِہٖ طَیْبَۃً بِھَا نَفْسُہُ یُرَیْدُ بِھَا وَجْہَ اللہِ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ ، ثُمَّ لَمْ یُغَیِّبُ مِنْھَا شَیْئًا ، وَاَقَامَ الصَّلَاۃَ ، وَآتَی الزَّکَاہَ فَتَعَدَّی عَلَیْہِ الْحَقَّ ، فَاَخَذَ سِلَاحَہُ ، فَقَاتَلَ فَقُتِلَ ، فَھُوَ شَھِیْدٌ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : مَعْنٰی ھٰذَا الْخَبَرِ ، اِذَا تَعَدَّی عَلَی الْمَرْءِ فِیْ اَخَذِ صَدَقَتِہٖ ، اَوْ مَایُشْبِہُ ھٰذِہِ الْحَالَۃَ ، وَکَانَ مَعَہ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ الَّذِی یُوَاطِئُونَہٗ عَلٰی ذٰلِکَ ، وَفِیْھِمْ کِفَایَۃٌ بَعْدَ اَنْ لَّا یَکُوْنَ قَصْدُھُمُ الدُّنْیَا ، وَلَا شَیْئًا مِنْھَا دُونَ اِلْقَاءِ الْمَرْءِ نَفْسَہٗ اِلَی التَّھْلُکَۃِ اِذِ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِاَبِیْ ذَرٍ : اسْمَعْ وَاَطِعْ وَلَوْ عَبْدًا حَبَشِیًّا مُجَدَّعًا وَقَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَمَلَ عَلَیْنَا السِّلَاحَ فَلَیْسَ مِنَّا

امام زین العابدین رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں موجود تھے آپ ﷺ کے پاس آپ ﷺ کے کچھ اصحاب بھی موجود تھے اسی دوران ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اتنی کھجوروں کا صدقہ (یعنی زکوٰۃ) کتنا ہو گا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اتنا۔ اس نے عرض کی: فلاں صاحب نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے انہوں نے مجھ سے اتنی، اتنی وصو لی کر لی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس وقت کیا عالم ہو گا، جب تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو تمہارے ساتھ اس سے زیادہ زیادتی کریں گے، تو لوگ اس بات پر پریشان ہو گئے ان میں سے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اس وقت ہمارا کیا بنے گا، جب کوئی شخص اپنے اونٹوں میں یا جانوروں میں یا کھیت میں یا باغ میں موجود نہیں ہو گا اور وہ اپنے مال کی زکوٰۃ اد ا کرے گا اس کے ساتھ زیادتی ہو جائے گی، یا رسول اللہﷺ ! تو اسے کیا کرنا چاہئے؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی خوشی کے ساتھ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہو، آخرت کا حصول ہو اور وہ اس میں سے کوئی چیز غائب نہ کرے اور وہ نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور پھر اس کے ساتھ زیادتی ہو، تو وہ اپنا اسلحہ پکڑے اور لڑائی کرتے ہوئے مارا جائے، تو وہ شہید ہو گا۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : اس روایت کا مطلب یہ ہے: جب زکوٰۃ وصولی یا ا س جیسی کسی اور صورتحال میں کسی شخص کے خلاف زیادتی کی جائے اور پھر اس شخص کے ہمراہ مسلمان موجود ہوں جو اس بارے میں اس کا ساتھ دیں اور اس میں کفایت بھی موجود ہو اور ان کا مقصد دنیاوی فائدے کا حصول نہ ہو۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ہلاکت کا شکار کر لے کیونکہ نبی کرمﷺ نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہہ سے یہ فرمایا تھا: "تم اطاعت و فرمانبرداری سے کام لو۔ اگرچہ ناک کان کٹا ہوا حبشی (حکمران ہو)" اور نبی اکرم ﷺ نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے" جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھاتا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔" اس شخص کے لیے جنت واجب ہونے اور شہادت کے اثبات کا تذکرہ جو اپنےمال کی وجہ سے قتل ہو جاتا ہے خواہ وہ مقابلہ کرے یا مقابلہ نہ کرے

عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← اَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزّانُ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3193

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3194

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ بِجُرْجَانَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَالَ من قتل دون ماله فهو شهيد" 1. [2:1]

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔"

سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ بِجُرْجَانَ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3194

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3195

أَخْبَرَنَا بن قتيبة حدثنا بن أَبِي السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ بن أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الْمَدَنِيِّ1 عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا طَوَّقَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ". قَالَ مَعْمَرٌ: وَبَلَغَنِي عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فهو شهيد" 2. قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : رَوٰی ھٰذَا الْخَبَرَ اَصْحَابُ الزُّھْرِیِّ الثِّقَاتُ الْمُتْقِنُونَ ، فَاتَّفَقُوا کُلُّھُمْ عَلٰی رِوَایَتِھِمْ ھٰذَا الْخَبَرَ عَنِ الزُّھْرِیِّ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ ، خَلَا مَعْمَرٍ وَّحْدَہٗ ، فَاِنَّہٗ اُدْخِلَ بَیْنَ طَلْحَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ وَبَیْنَ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَھْلِ ، وَاَخَافُ اَنْ یَّکُوْنَ ذٰلِکَ وَھْمًا ، وَقَدْ قَالَ مَعْمَرٌ فِیْ ھٰذَا الْخَبَرِ بَلَغَنِیْ عَنِ الزُّھْرِیِّ فَیُشَبِّہُ اَنْ یَّکُوْنَ سَمِعَہٗ مِنْ بَعْضِ اَصْحَابِہٖ عَنِ الزُّھْرِیِّ فَالْقَلْبُ اِلٰی رِوَایَۃِ اُولَئِکَ اَمْیَلُ

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " جو شخص ظلم کے طور پر ایک بالشت زمین ہتھیائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سات زمینوں جتنا وزنی طوق اس کے گلے میں ڈالے گا۔" معمر نامی راوی بیان کرتے ہیں:زہری کے حوالے سے یہ حدیث ہم تک پہنچی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔" ( امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو زہری کے ثقہ اور متقن شاگردوں نے نقل کیا ہے اور ان سب کا اس روایت کو زہری کے حوالے سے طلحہ بن عبداللہ کے حوالے سے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہہ سے نقل کرنے پر اتفاق ہے۔ صرف معمر نے اختلاف کیا ہے انہوں نے طلحہ بن عبید اللہ اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہہ کے درمیان عبدالرحمٰن بن سہل نامی راوی کا ذکر کیا ہے۔ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ انہیں اس بارے میں وہم ہوا ہے کیونکہ معمر نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں جسے زہری کے حوالے سے یہ روایت پہنچی ہے، تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ انہوں نے یہ روایت زہری کے کسی شا گرد سے سنی ہو۔ اس لئے ذہن دوسرے حضرات کی طرف زیادہ مائل ہے۔

الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ← مَعْمَرٌ: وَبَلَغَنِي ← "مَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا طَوَّقَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ". ← رَسُولِ اللَّهِ ← سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الْمَدَنِيِّ1 ← طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ بن أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3195

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3196

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا یُوْنُسُ ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ ، قَالَ : حدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ، وَعَبْدُ اللہِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ، اَنَّ سَلَمَۃَ بْنَ الْاَکْوَعِ ، قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمَ خَیْبَرَ قَاتَلَ اَخِی قِتَالًا شَدِیْدًا مَعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَارْتَدَّ عَلَیْہِ سَیْفُہُ فَقَتَلَہٗ ، فَقَالَ اَصْحَابُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ : رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِہِ وَشَکُّوْا فِیْ بَعْضِ اَمْرِہِ ، قَالَ سَلَمَۃُ : فَقَفَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ خَیْبَرَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ائْذَنْ لِی اَنْ اَرْجُزَبِکَ ، فَاَذِنَ لِی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : اَعْلَمُ مَا تَقُوْلُ: وَاللہِ لَوْلَا اللہُ مَا اھْتَدَیْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا فَاَنْزِلَنْ سَکِیْنَۃً عَلَیْنَا وَثَبِّتِ الْاَقْدَامَ اِنْ لَّا قَیْنَا وَلْمُشْرِکُوْنَ قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا فَلَمَّا قَضَیْتُ رَجَزِی قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَالَ ھٰذَا ؟ قُلْتُ : اَخِی ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَرْحَمُہٗ اللہُ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِنَّ نَاسًا اَبَوْا الصَّلَاہَ عَلَیْہِ ، یَقُوْلُوْنَ : رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِہِ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : رَجُلٌ مَاتَ جَاھدًا مُجَاھِدًا

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: غزوہ خیبر کے موقع پر میرے بھائی نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ (جنگ میں حصہ لیتے ہوئے ) شدید لڑائی کی ان کی تلوار پلٹ کر انہیں لگی اور وہ شہید ہو گئے ان کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے یہ کہا، کیونکہ یہ شخص اپنے ہتھیا ر کے ذریعے مرا ہے اس لیے ان کے معاملے کے بارے میں لوگوں کو شک ہو گیا۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہہ بیا ن کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ خیبر سے واپس تشریف لا رہے تھے، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ ﷺ کے سامنے رجز پڑھوں۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھے اجازت دے دی، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: دھیان رکھنا تم کیا پڑھ رہے ہو ( تو میں نے پڑھنا شروع کیا) " اللہ کی قسم! اگر اللہ کی ذات نہ ہوتی، تو ہم ہدایت حاصل نہ کرتے ہم صدقہ و خیرات نہ کرتے اور ہم نماز نہ پڑھتے (اے اللہ)، تو ہم پر سکنیت نازل کر اور اگر ہم (دشمن کا سامنا کریں)، تو ، تو ہمیں ثابت قدم رکھنا مشرکوں نے ہمارے خلاف محاذ آرائی کی ہے۔" جب میں نے اپنا رجز مکمل کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: یہ اشعار کس نے کہے ہیں؟ میں نے جواب دیا: میرے بھائی نے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! کچھ لوگوں نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی وہ یہ کہتے ہیں: اس شخص کا انتقال اپنے اسلحے کے ذریعے ہوا ہے، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرما یا: وہ ایک ایسا شخص ہے، جو جہاد کرتے ہوئے مجاہد ہونے کے عالم میں فوت ہوا ہے۔

عَبْدُ اللہِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ سَلَمَۃَ بْنَ الْاَکْوَعِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3196

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3197

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بن سعد عن بن شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَيَقُولُ: "أَيُّهُمَا أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟ " فَإِذَا أُشِيرَ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بدمائهم وَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْھِمْ ، وَلَمْ یُغَسَّلُوا

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ شہدائے احد میں سے دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے تھے اور دریافت کرتے تھے ان میں سے کسے زیادہ قرآن آتا ہے؟ جب ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا ، تو آپ ﷺ اسے لحد میں آگے کی طرف رکھتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن میں ان سب لوگوں کا گواہ ہوں گا۔ نبی اکرم ﷺ نے ان حضرات کو ان کے خون سمیت دفن کیا تھا آپ ﷺ نے ان کی نماز جنازہ ادا نہیں کی تھی اور ان لوگوں کو غسل نہیں دیا گیاتھا۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← بن شِهَابٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3197

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3198

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادِ زُغْبَةَ فَقَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: "إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى اِلٰی حَوْضِی الْآنَ ، وَاِنِّیْ قَدْ اُعْطِیتُ مَفَاتِیحَ خَزَائِنِ الْاَرْضِ اَوْ مَفَاتِیحَ الْاَرْضِ وَاللہِ مَا اَخَذَفُ عَلَیْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوابَعْدِیْ ، وَلٰکِنِّیْ اَخَافُ اَنْ تَتَنَا فَسُوا فِیْھَا

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے اور آپ ﷺ نے شہداء احد پر اسی طرح نماز ادا کی جس طرح آپﷺ نماز جنازہ ادا کرتے تھے پھر آپ ﷺ منبر کی طرف تشریف لائے اور آپ ﷺ نے ارشادفرمایا: میں تمہیں پیش رو ہون میں تمہارا گواہ ہوں اللہ کی قسم! میں اس وقت بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئی ہیں( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) زمین کی چابیاں عطا کی گئی ہیں اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ نہیں ہے کہ تم لوگ میرے بعد شرک کرو گے ، لیکن مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا کی طرف راغب ہو جاو گے۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادِ زُغْبَةَ فَقَالَ: ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3198

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3199

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ وَإِنِّي عَلَيْكُمْ لِشَهِيدٌ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ اللَّيْلَةَ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ وَأَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا" ثُمَّ دَخَلَ فَلَمْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا1. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ: خَصَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشهداء الذي قُتِلُوا فِي الْمَعْرَكَةِ بِتَرْكِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِمْ وَفَرَّقَ بينهم وبين سَائِرَ الْمَوْتَى يُغَسَّلُونَ وَيُصَلَّى عَلَيْهِمْ وَمَنْ قُتِلَ فِي الْمَعْرَكَةِ مِنَ الشُّهَدَاءِ لَا يُصَلَّى عَلَيْهِمْ وَيُدْفَنُ بِدَمِهِ مِنْ غَيْرِ غُسْلٍ فَأَمَّا خَبَرُ عقبة بن عامر: "أن النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلّٰی عَلٰی قَتْلٰی اُحُدٍ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَعَدَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ اَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ بَیْنَ اَیْدِیکُمْ فَرَطٌ ، وَاِنِّیْ عَلَیْکُمْ لِشَھِیدٌ ، وَاِنِّیْ وَاللہِ مَا اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوا بَعْدِیْ ، وَلٰکِنِّیْ قَدْ اُعْطِیتُ اللَّیْلَۃَ مَفَاتِیحَ خَزَائِنِ الْاَرْضِ وَالسَّمَاءِ ، وَاَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ تَتَنَا فَسُوا فِیْھَا ثُمَّ دَخَلَ ، فَلَمْ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہٖ حَتّٰی قَبَضَہُ اللہُ جَلَّ وَعَلَا۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : خَصَّ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الشُّھَدَاءَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِی الْمَعْرَکَۃِ ، بِتَرْکِ الصَّلَاۃِ عَلَیْھِمْ وَفَرَّقَ بَیْنَھُمْ وَبَیْنَ سَائِرِ الْمَوْتَی ، فَاِنَّ سَائِرَ الْمَوْتٰی یُغَسَّلُوْنَ ، وَیُصَلّٰی عَلَیْھِمْ ، وَمَنْ قُتِلَ فِی الْمَعْرَکَۃِ مِنَ الشُّھَدَاءِ لَا یُصَلّٰی عَلَیْھِمْ ، وَیُدْفَنُ بِدَمِہٖ مِنْ غَیْرِ قُصْلٍ ، فَاَمَّا خَبَرُ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فَصَلّٰی عَلٰی قَتْلٰی اُحُدٍ لَیْسَ یُضَادُّ خَبَرَ جَابِرٍ الَّذِی ذَکَرْنَاُ ، اِذِ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ اِلٰی اُحُدِ ، فَدَعَا لِشُھَدَاءِ اُحُدِ کَمَا کَانَ یَدْعُو لِلْمَوْتٰی فِی الصَّلَاۃِ عَلَیْھِمْ ، وَالْعَرَبُ تُسَمِّی الدُّعَاءَ صَلَاۃً ، فَصَارَ رَخُرُوْجُہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی شُھَدَاءِ اُحُدٍ ، وَزِیَارَتُہُ اِیَّاھُمْ وَدُعَاؤُہُ لَھُمْ سُنَّۃً لِمَنْ بَعْدَہُ مِنْ اُمَّتِہٖ اَنْ یَّزُورُوا شُھَدَاءَ اُحُدٍ یَدْعُونَ لَھُمْ کَمَا یَدُْونَ لِلْمَیِّتِ فِی الصَّلَاۃِ عَلَیْہِ ، وَفِیْ خَبَرِ زَیْدِ بْنِ اَبِیْ اُنَیْسَۃَ الَّذِی ذَکَرْنَاہُ ، ثُمَّ دَخَلَ فَلَمْ یَخْرُجْ مِنْ بَیْتِہٖ حَتّٰی قَبَضَہُ اللہُ جَلَّ وَعَلَا ، اَبْیَنُ الْبَیَانِ بِاَنَّ ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ کَانَتْ دُعَاءً لَھُمْ ، وَزِیَادَۃً قَصَدَ بِھَا اِیَّاھُمْ لَمَّاقَرُبَ خُرُوْجُہُ مِنَ الدُّنْیَا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَوْ کَانَتِ الصَّلَاۃُ الَّتِیْ ذَکَرَھَا عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ کَالصَّلَاۃِ عَلَی الْمَوْتٰی سَوَاءً لَلَزِمَ مَنْ قَالَ بھٰذَا جَوَازُ الصَّلَاۃِ عَلَی الْقَبْرِ وَلَوْ بَعْدَ سَبْعِ سَنِیْنَ ، لِاَنَّ اُحُدًا کَانَتْ سَنَۃَ ثَلَاثٍ مِنَ لْھِجْرَۃِ ، وخُرُوْجُہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیْثُ صَلّٰی عَلَیْھِمْ قُرْبَ خُرُوْجِہِ مِنَ الدُّنْیَا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَقْعَۃِ اُحُدٍ بَسَبْعِ سِنِیْنَ ، فَلَمَّا وَاَفَقْنَا مَنِ احْتَجَّ بِھٰذَ الْخَبَرِ عَلٰی اَنَّ الصَّلَاۃَ عَلَی الْقُبُوْرِ غَیْرُ جَائِزَۃٍ بَعْدَ سَبْعِ سِنِیْنَ ، صَحَّ اَنَّ تِلْکَ الصَّلَاۃَ کَانَتْ دُعَاءً لَا الصَّلَاۃَ عَلَی الْمَوْتَی ، سَوَاءً ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ اَنَّ اَصْحَابَ الْحَدِیثِ یَرْوُونَ مَالَا یَعْقِلُوْنَ ، وَیَتَکَلَّمُوْنَ بِمَا لَا یَفْھَمُوْنَ ، وَیَرَوُونَ الْمُتَضَادَّ مِنَ الْاَخْبَارِ

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے شہد اء احد کی نماز جنازہ اد ا کی پھر آپ ﷺ واپس تشریف لائے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر ارشادفرمایا : ا ے لوگو! میں تمہارے آگے پیش رو ہوں گا اور میں تمہارا گواہ ہوں گا اللہ کی قسم! بے شک مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ نہیں ہے تم میرے بعد شرک کرو گے، لیکن گزشہ رات مجھے زمین اور آسمان کے خزانوں کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں، تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا کی طرف راغب ہو جاو گے پھر نبی اکرم ﷺ گھر میں تشریف لے گئے اس کے بعد آپ ﷺ گھر سے باہر تشریف نہیں لائے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی (روح مبارکہ کو ) قبض کر لیا۔ (امام اب حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ نے شہداء کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا ہے وہ لوگ جو جنگ میں شہید ہوئے تھے کہ آپ نے ان کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ اس بار ے میں ان لوگوں اور دیگر مرحومین کے درمیان فرق کیا ہے کیونکہ دیگر تمام مرحومین کو غسل بھی دیا جاتا ہے اور ان کی نماز جنازہ بھی ادا کی جاتی ہے لیکن جو لوگ جنگ کے دوران شہید ہوتے ہیں نہ ان کی نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے اور انہیں غسل دئیے بغیر ان کے خون میں دفن کیا جاتا ہے جہاں تک حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہہ کی نقل کر دہ روایت کے خلاف نہیں ہے جسے ہم ذکر کر چکے ہیں کیونکہ نبی اکرم ﷺ اُحد تشریف لے گئے تھے اور بعد میں شہداء اُحد کے لئے دعا کی تھی۔ جس طرح آپ نماز جنازہ کے دوران دیگر مرحومین کے لئے دعا کیا کرتے تھے تو عرب دعا کے لئے بھی لفظ صلو ٰۃ استعمال کر لیتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کا شہداء اُحد کی طرف جانا اور ا ن کی زیارت کرنا اور ان کے لئے دعا کرنا آپ کے بعد آپ کی اُمت کے لئے سنت ہے کہ وہ شہداء اُحد کی زیارت کریں اور ان کے لئے دعا کریں جس طرح نماز جنازہ میں میت کے لئے دعا کی جاتی ہے۔ اس طرح حضرت زید بن ابو انیسہ رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے منقول وہ روایت جسے ہم ذکر کر چکے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اند ر تشریف لے گئے اور اس کے بعد آپ اپنے گھر سے باہر تشریف نہیں لائے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی (روح مبارکہ کو ) قبض کر لیا۔ یہ اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ نماز دراصل ان کے لئے دعا تھی جو نبی اکرم ﷺ نے بطور خاص ان حضرات کے لئے کی کیونکہ نبی اکرم ﷺ کی دنیا سے تشریف لے جانے کا وقت قریب آچکا تھا اگر حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے منقول اس روایت میں لفظ صلاۃ سے مراد دیگر مرحومین کی نماز جنازہ کی طرح نماز ہوتی تو یہ بات لازم آتی ہے کہ جو شخص اس بات کا قائل ہے کہ وہ قبر پر نماز جنازہ ادا کرنے کو جائز تسلیم کر لے۔ خواہ سات سال بعد ایسا کیا جائے کیونکہ غزوہ اُحد ہجرت کے تیسر ے سال پیش آیا تھا۔ نبی اکرم ﷺ ان حضرات کے لئے دعا کرنے کے لئے اس وقت تشریف لے گئے تھے جب آپ کا دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آ گیا تھا۔ تو یہ چیز غزوہ اُحد کے سات سال بعد پیش آئی تھی تو جو شخص اس روایت کے ذریعے یہ استد لال کرتا ہے کہ سات سال گزرنے کے بعد قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا جائز نہیں ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ یہ صلاۃ اصل میں دعا تھی مرحومین کے لئے نماز جنازہ نہیں تھی خواہ یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہو جو اس بات کا قائل ہے کہ محد ثین وہ روایت نقل کر دیتے ہیں جس کی انہیں سمجھ نہیں ہوتی اور وہ بات بیان کرتے ہیں جن کا نہیں فہم نہیں ہوتا اور متضاد روایات نقل کر دیتے ہیں۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3199

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2892

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ عُبَيْدٍ سَنُوطَا عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ طَعَامًا فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ فَوَجَدَهُ حَارًّا فَقَالَ: "حَسِّ" وَقَالَ: "ابْنُ آدَمَ إِنَّ أَصَابَهُ بَرْدٌ, قَالَ: حَسِّ وَإِنَّ أَصَابَهُ حر 1، قال: حس" ثُمَّ تَذَاكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم و2حمزة بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا وَرُبَّ متخوض فيما شاءت نفسه في مال اللہِ وَمَالِ رَسُوْلِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَہُ النَّارُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ

سیّدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺہمارے ہاں تشریف لائے میں نے آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا۔آپ نے اپنا دست مبارک اس میں رکھا آپ کو وہ گرم محسوس ہوا تو فرمایا: حس (یعنی''اوئی") آپ نے ارشاد فرمایا: اگر ابن آدم کو سردی لگتی ہے تو وہ یہ کہتا ہے: حس(یعنی''اوئی") اگر اسے گرمی لگتی ہے تو وہ کہتا ہے۔ حس (یعنی''اوئی") (متن حدیث): پھر نبی اکرم ﷺ اور حضرت حمزہ بن عبدالمطلب دنیا کا تذکرہ کرنے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: دنیا سر سبز اور میٹھی ہے، جو شخص اس کے حق کے ہمراہ اسے حاصل کرے گا۔ اس کے لیے اس میں برکت رکھی جائے گی اور کئی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کو قیامت کے دن جہنم ملے گی۔

حس" ثُمَّ تَذَاكَرَ رَسُولُ اللَّهِ و2حمزة بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الدُّنْيَا ← حَسِّ وَإِنَّ أَصَابَهُ حر ← "ابْنُ آدَمَ إِنَّ أَصَابَهُ بَرْدٌ, ← "حَسِّ" ← أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ طَعَامًا فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ فَوَجَدَهُ حَارًّا ← خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← عُبَيْدِ سَنُوطَا، ← عُمَرَ بْنِ کَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2892

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2893

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ بْنِ عَمْرِو بْنِ آدَمَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ عَنْ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِیْنَ ، فَمَا قَالَ لِی: لَمْ فَعَلْتَ کَذَا وَلَمْ تَفْعَلْ کَذَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے دس سال نبی اکرمﷺ کی خد مت کی۔آپ نے کبھی" اف" نہیں کہا اور کبھی یہ نہیں فرمایا: یہ کیوں کیا ہے یہ کیوں نہیں کیا۔

لِی: لَمْ فَعَلْتَ کَذَا وَلَمْ تَفْعَلْ کَذَا ← خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَشْرَ سِنِیْنَ فَمَا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ بْنِ عَمْرِو بْنِ آدَمَ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2893

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2894

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ أَخْبَرَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي: أُفٍّ قَطُّ وَلَا قَالَ لِي: أَلَا صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا وَلَمْ تَصْنَعْ كذا وكذا؟ 1. [47:5]

حضرت انس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں میں نے دس سال نبی اکر مﷺ کی خدمت کی آپ نے کبھی مجھے اف نہیں کہا اور کبھی یہ نہیں فرمایا: تم نے یہ نہیں کیا؟ یہ کیوں نہیں کیا ہے؟

لِي: أَلَا صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا وَلَمْ تَصْنَعْ كذا وكذا؟ ← لِي: أُفٍّ قَطُّ وَلَا ← خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَشْرَ سِنِیْنَ فَمَا ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2894

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2895

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ تَبْكِي فَقَالَ: "يَا هَذِهِ اصْبِرِي" فَقَالَتْ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا مُصَابِي فقيل لها بَعْدَ ذٰلِکَ: ھٰذَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَاَتَتْہُ ، فَقَالَتْ: لَمْ اَعْرِفْکَ

حضرت انس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکر مﷺ ایک خاتون کے پاس سے گزرے جو قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ نبی اکر مﷺ نے فرمایا:اے عورت !صبر سے کام لو۔ اس نے کہا آپ نہیں جانتے مجھے کیا مصیبت لاحق ہوئی ہے، بعد میں اس خاتون کو بتایا گیا وہ اللہ کےنبی تھے۔ وہ خاتون نبی اکر مﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نےعرض کی: میں آپ کو پہچانی نہیں تھی۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2895

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2896

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ وَإِنَّ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ ، وَکَانَ خَیْرًا لَہٗ، وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِاَحَدٍ اِلَّا لِلْمُؤْمِنِ

حضرت صہیب رضی اللہ عنہہ ، نبی اکر مﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " بندہ مومن کے بارے میں حیرت ہوتی ہیں، اس کا معاملہ ہر حالت میں بہتر ہوتا ہے اگر اسے خوشخبری ملتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے۔ اگر اسے پریشانی لاحق ہوتی ہے تو وہ صبر سے کام لیتا ہے اور یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتی ہے یہ خصوصیت صرف مومن کو حاصل ہیں۔

صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2896

chevron_left Previous
1…2223242526
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr