صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي النِّيَاحَةِ وَنَحْوِهَا · حديث 3157
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو أَخْبَرَهُ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَزْرَقِ قَالَ: كُنْتُ جالسا مع بن عُمَرَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا فَعَابَ ذَلِكَ بن عُمَرَ وَانْتَهَرَهُنَّ فَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بجنازة وأنا مَعَہُ ، ومَعَہٗ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَنِسَاءٌ یَبْکِیْنَ عَلَیْھَا ، فَزَجَرَھُنَّ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : دَعْھُنَّ یَا عُمَرُ ، فَاِنَّ الْعَیْنَ دَامِعَۃٌ ، وَالنَّفْسَ مُصَابَۃٌ ، وَالْعَھْدَ قَرِیبٌ۔
سلمہ بن ازرق بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اسی دوران وہاں ایک جنازہ لایا گیا جس پر رویا جا رہا تھا، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس پر اعتراض کیا اور ان خواتین کو جھڑکا ۔ سلمہ بن ازرق نے کہا: میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ کے پاس موجود تھا میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا میں اس وقت نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا آپ ﷺ کے ہمراہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ بھی تھے خواتین اس میت پر رو رہی تھیں، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے انہیں جھڑکا اور انہیں ڈانٹا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے عمر! انہیں کرنے دو، کیونکہ آنکھ آنسو بہا رہی ہے ، جسم کو تکلیف لاحق ہے اور (افسوس ناک واقعہ ) قریب ہی رونما ہوا ہے۔ آدمی کے لیے اپنے بچے یا بچے کی اولاد کے انتقال کے وقت رونے کے مباح ہونے کے تذکرہ جبکہ اس رونے کے ہمراہ (تقدیر کے فیصلے پر ) ناراضگی کا اظہار نہ ہو
وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ
Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in wanah and its like · Hadith 3157
