Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي النِّيَاحَةِ وَنَحْوِهَا · حديث 3145

اَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْسیٰ بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ حَفْصَۃ ، عَنْ اُمِّ عَطِیَّۃَ ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ ( اِذَا جَائَکَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ) (الممتحنۃ :12) اِلٰی قَوْلِہِ (وَلَا یَعْصِینَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ) (الممتحنۃ :12) قَالَتْ :کَانَ مِنْہُ النِّیَاحَۃُ ،فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَّا آلَ فُلَانٍ ، فَاِنَّھُمْ قَدْ کَانُوْا اَسْعَدُونِیْ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ ، فَلَابُدَّ لِی مِنْ اَنْ اُسْعِدَ ھُمْ ، فَقَالَ : اِلَّا آلَ فُلَانٍ

سیّدہ اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی۔ "جب مومن خواتین تمہارے پاس بیعت کرنے کے لیے آئیں۔" یہ آیت یہاںتک ہے" اور وہ معروف کے بارے میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی۔" سیّدہ اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ان میں سے ایک چیز نوحہ کرنا ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ مجھے صرف فلاں خاتون کے ساتھ نوحہ کرنے کی اجازت دے دیں ، کیونکہ اس نے زمانا جاہلیت میں میرا ساتھ دیا تھا اس لیے میرے لیے یہ ضروری ہے کہ میں بھی اس کا ساتھ دوں، تو نبی اکرم ﷺ نے فر مایا:صرف ان کے لیے ( تم نوحہ کر لینا)

أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ، ← عَاصِمٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in wanah and its like · Hadith 3145

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي النِّيَاحَةِ وَنَحْوِهَا · حديث 3146

أخبرنا بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ حَيْثُ بَايَعَهُنَّ أَنْ لَا يَنُحْنَ فَقُلْنَ1: يَا رَسُولَ اللَّهِ إن نساء أسعدننا في الْجَاھِلِیَّۃِ ، فَنُسْعِدُ ھُنَّ فِی الْاِسْلَامِ ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَا اِسْعَادَ فِی الْاِسْلَامِ ، وَلَا شِغَارَ فِی الْاِسْلَامِ ، وَلَا عَقْرَفِی الْاِسْلَامِ ، وَلَا جَلَبَ وَمَنِ انْتَھَبَ فَلَیْسَ مِنَّا

حضرت انس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ خواتین سے بیعت لیتے ہوئے یہ عہد بھی لیتے تھے کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی خواتین نے عر ض کی: یار سول اللہ ﷺ ! زمانہ جاہلیت میں کچھ خواتین نے ہمارا ساتھ دیا تھا ، تا کہ ہم اسلام قبول کرنے کے بعد ان کا ساتھ دیں، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اسلام میں (نوحہ کرنے میں) ساتھ دینے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اسلام میں شغار کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اسلام میں عقر (یعنی مرحو مین کی قبروں پر اونٹ قربان کرنے ) کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور جلب اور جنب کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور جو شخص کوئی چیز اچک لے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

أَخَذَ النَّبِيُّ عَلَى النِّسَاءِ حَيْثُ بَايَعَهُنَّ أَنْ لَا يَنُحْنَ فَقُلْنَ1: ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in wanah and its like · Hadith 3146

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي النِّيَاحَةِ وَنَحْوِهَا · حديث 3147

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِحَرَّانَ قَالَ: حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْحُزْنُ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ هَذِهِ نِسَاءُ جَعْفَرٍ يَنُحْنَ عَلَيْهِ وَقَدْ أَكْثَرْنَ بُكَاءَهُنَّ قَالَ: فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُنَّ فَمَكَثَ شَيْئًا ثُمَّ رَجَعَ فَذَكَرَ أَنَّهُ نَهَاهُنَّ فَأَبَيْنَ أَنْ يُطِعْنَهُ فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَنْهَاهُنَّ قَالَ فَذَكَرَ أَنَّهُ قَدْ غَلَبْنَهُ قَالَ: "فَاحْثُ فِي وُجُوهِهِنَّ التُّرَابَ"، قَالَتْ عَمْرَةُ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ عِنْدَ ذَلِكَ: أَرْغَمَ اللَّهُ بِآنَافِهِنَّ وَاللَّهِ مَا تَرَكْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَنْتَ بفاعل1. [21:2]

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہہ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہہ کے انتقال کی اطلاع آئی، تو نبی اکرم ﷺ تشریف فرما ہوئے آپ ﷺ کے چہرے پر غم کے اثرات نمایاں تھے اور ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: حضرت جعفر رضی اللہ عنہہ کے گھر کی خواتین ان پر نوحہ کر رہی ہیں اور بہت زیادہ رو رہی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ خواتین کو اس سے منع کر دے کچھ دیر بعد وہ شخص واپس آیا اور یہ بات ذکر کی کہ اس نے انہیں منع کیا ہے، لیکن ان خواتین نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے دوبارہ یہ ہدایت کی کہ وہ انہیں منع کر دے۔ راوی کہتے ہیں: پھر اس نے آ کر یہ بات ذکر کی کہ وہ خواتین اس پر غالب آگئی ہیں ، تو نبی اکر مﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ان کے چہرے پر مٹی ڈال دو۔ عمرہ نامی خاتون کہتی ہیں اس موقع پر سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرمایا: اللہ تعالیٰ ان خواتین کی ناک خاک آلود کر ے اللہ کی قسم ! تم اللہ کے رسول کو چھوڑتے بھی نہیں ہو اور جو (وہ تمہیں حکم دے رہے ہیں) اس پر عمل بھی نہیں کرتے۔

فأمره ← هَذِهِ نِسَاءُ جَعْفَرٍ يَنُحْنَ عَلَيْهِ وَقَدْ أَكْثَرْنَ بُكَاءَهُنَّ ← جَعْفَرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْحُزْنُ فَأَتَاهُ رَجُلٌ ← لَمَّا جَاءَ نَعْيُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← النُّفَيْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in wanah and its like · Hadith 3147

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي النِّيَاحَةِ وَنَحْوِهَا · حديث 3148

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنُ الْمُثَنّٰی ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارِ بْنِ الرَّیَّانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃِ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْھَادِ، عَنِ اَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَیْسٍ ، اَنَّھَا قَالَتْ: لَمَا اُصِیْبَ جَعْفَرُ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ اَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَسَلَّمِی ثَلَاثًا ، ثُمَّ اصْنَعِی بَعْدُ مَا شِئْتِ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَسَلَّمِی ثَلَاثًا لَفْظَۃُ اَمْرٍ قُرِنَتْ بِعَدَدٍ مَوْصُوفٍ قُصِدَ بِہٖ الْحَسْمُ عَمَّا لَا یَحِلُّ اسْتِعْمَالٌ فِیْ ذٰلِکَ الْعَدَدِ، قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اصْنَعِی بَعْدُ مَاشِئْتِ لَفْظَۃُ اَمْرٍ قُصِدَ بِہِ اِلِا بَاحَۃُ فِیْ ظَاھِرِ الْخَطَّابِ ، مُرَادُ ھَا الزَّجْزُ عَنِ اسْتِعْمَالِ مَا اَمَرَ بِہٖ ، یُرِیْدُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِہٖ مَا وَصَفْتُ التَّسْلِیْمَ لِاَمْرِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا فِی الْاَیَّامِ الثَّلَاثِ وَقَبْلَھَا وَبَعْدَھَا

سیّدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہہ شہید ہو گئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: تم سونپ دو، اس کے بعد تم جو چاہو کرو۔ا؎ ا؎ کتاب کے متن میں اسی طرح تحریر ہے، تا ہم حافظ ابن حجر نے یہ بات بیان کی ہے: یہ لفظ غلط نقل ہوا ہے، اصل میں لفظ تسلمی نہیں ہے بلکہ تسلبی ہے۔ جس کا مطلب عورت کا سوگ کا لباس پہننا ہے، تاہم امام ابن حبان نے جو لفظ تسلمینقل کیا ہے اس کا مطلب انہوں نے یہ بیان کیا ہے: تم اپنے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر چھوڑ دو۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان: "تم تین دن تک سونپ دو" اس میں لفظی طور پر امر کا صیغہ ہے، جو ایک عدد کے ساتھ موصوف ہے۔ اس چیز کے ذریعے مراد یہ ہے: اتنی تعداد میں جس چیز کا استعمال جائز نہیں ہے اس سے منع کیا جائے اورنبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان:" تم اس کے بعد جو چاہو کرو"۔ یہاں پر الفاظ امر کے ہیں۔ اس سے بظاہر یہ لگتا ہے: یہ اباحت کے لئے ہیں لیکن اس سے مراد اس چیز پر عمل کرنے سے منع کرنا ہے جس کا حکم دیا گیا ہے، تو ان الفاظ کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ ہے: تم ان تین دنوں میں اور اس سے پہلے ان تمام امور کو اللہ تعالیٰ کے حکم کو سونپ دو۔

"تَسَلَّمِي ثَلَاثًا، ثُمَّ اصْنَعِي بَعْدُ مَا شِئْتِ" ← لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ← أسماء بنت عميس أنها ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in wanah and its like · Hadith 3148

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي النِّيَاحَةِ وَنَحْوِهَا · حديث 3149

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية" 1. [61:2]

اس بات کی ممانعت کا تذکرہ کہ جسے مصیبت لاحق ہو( یعنی جس کے ہاں فوتگی ہو جائے) وہ گال پیٹے یا زمانہ جاہلیت کا ساعمل کرے

بن مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← عبيدة بن حميد ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in wanah and its like · Hadith 3149

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي النِّيَاحَةِ وَنَحْوِهَا · حديث 3150

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ عَنْ أَبِي حَرِيزٍ أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا مُوسَى حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ: إذا انطلقتم بِجَنَازَتِی ، فَاَسْرِعُوا الْمَشْیَ وَلَا تُتْبِعُونِیْ بِجَجْرٍ ، وَلَا تَجْعَلُوْا عَلٰی لَحْدِی شَیْئًا یَحُولُ بَیْنِییْ وَبَیْنَ التُّوَابِ ، وَلَا تَجْعَلُوْا عَلٰی قَبْرِی بِنَاءً ، وَاُشْھِدُ کُمْ اَنِّیْ بَرِیءٌ مِنْ کُلِّ حَالِقَۃٍ اَوْ سَالِقَۃٍ اَوْ خَارِقَۃٍ ، قَالُوْا : سَمِعْتَ فِیْہِ شِیْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

ابو بردہ بیان کرتے ہیں : جب ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہہ کا آخری وقت قریب آیا ، تو انہوں نے ارشاد فرمایا : جب تم میرے جنازے کو لے کر چلو، تو اسے تیزی سے لے کر چلنا اور اس کےساتھ آگ نہ لے جانا اور میری لحد پر کوئی چیز نہ رکھنا جو میرے اور مٹی کے درمیان حائل ہو اور میری قبر پر کوئی عمارت تعمیر نہ کرنا اور میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر یہ کہہ رہا ہوں کہ میں سر مونڈ نے والی عورت اور چیخ و پکار کرنے والی عورت اور (گریبان پھاڑنے والی عورت سے لاتعلق ہوں) لوگوں نے دریافت کیا: کیا آپ نے اس بارے میں کوئی چیز سن رکھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں نبی اکرم ﷺ کی زبانی (سن رکھی ہے)

أَبِي حَرِيزٍ، ← عَلَى الْفُضَيْلِ، ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in wanah and its like · Hadith 3150

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي النِّيَاحَةِ وَنَحْوِهَا · حديث 3151

اَخْبَرَنَا زَکَرِیَّا بْنُ مُسْلِمٍ بِفَرْھَاذْ جِرْدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْجُعْفِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْاَحْدَبِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَ اَبُوْ مُوْسیٰ ، صَاحُوا عَلَیْہِ فَقَالَ : قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَیْسَ مِنَّا مَنْ سَلَقَ ، وَلَا خَرَقَ وَلَا حَلَقَ

صفوان بن محرز بیان کرتے ہیں: جب حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہہ کا آخری وقت قریب آیا اور لوگوں نے ان پر چیخ کر رونا شروع کیا، تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: " وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو (مصیبت کے وقت ) چیخ و پکار کر ے اور جو ( گریبان ) کو پھاڑے اور جو سر منڈ وائے۔"

لَمَّا حَضَرَ اَبُوْ مُوْسیٰ صَاحُوا عَلَیْہِ فَقَالَ ← صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ← خَالِدٍ الْاَحْدَبِ ← عَوْفٌ، ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْجُعْفِیُّ ← زَکَرِیَّا بْنُ مُسْلِمٍ بِفَرْھَاذْ جِرْدَ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in wanah and its like · Hadith 3151

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي النِّيَاحَةِ وَنَحْوِهَا · حديث 3152

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى قَالَ: وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعَلَ يُغْمَى عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ فَصَاحَتِ امْرَأَةٌ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: أنا بريء ممن بريء مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بريء من الحالقة والسالقة والشاقة1. [54:2]

ابو بردہ بن حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: جب حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہہ بیمار ہو گئے اور ان پر بے ہوشی طاری ہوئی، تو اس وقت ان کا سر اپنی بیوی کی گود میں تھا اس خاتون نے چیخ کر رونا شروع کیا حضرت اب موسیٰ رضی اللہ عنہہ اسے کچھ نہیں کہہ سکے۔ جب ان کی طبیعت ذرا سنبھلی ، تو انہوں نے فرمایا: میں اس سے لا تعلق ہوں جس سے نبی اکرم ﷺ لا تعلق ہیں اور نبی اکرم ﷺ سر منڈوانے والی عورت ، (مصیبت کے وقت ) چیخ و پکار کرنے والی عور ت اور (گریبان ) چاک کرنے والی عورت سے لا تعلق ہیں۔

أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَی ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in wanah and its like · Hadith 3152

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي النِّيَاحَةِ وَنَحْوِهَا · حديث 3153

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَوْفٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عُتَيٍّ قَالَ: رَأَيْتُ أُبَيًّا رَأَى رَجُلًا تَعَزَّی بِعَزَاءِ الْجَاھِلِیَّۃِ ، فَاَعَضَّہُ وَلَمْ یَکُنْ ، ثُمَّ قَالَ : قَدْ اَرَی فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ فِیْ نَفْسِکَ اِنِّیْ لَمْ اَسْتَطِعْ اِذَا سَمِعْتُھَا اَنْ لَّا اَقُوْلَھَا ، سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : مَنْ تَعَزَّی بِعَزَاءِ الْجَاھِلِیَّۃِ فَاَعِضُّوْہُ وَلَا تَکْنُوْا

عتی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ابی رضی اللہ عنہہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک شخص کو زمانہ جاہلیت کے سے انداز میں چیخ و پکار کرتے ہوئے سنا، تو اسے سختی سے روکا، حالانکہ وہ ایسا نہیں کیا کرتے تھے پھر انہوں نے فرمایا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ تمہیں اس حوالے سے کچھ الجھن ہوئی ہے، لیکن جب میں نے اسے سنا، تو میں یہ کہنے سے نہیں رک سکا، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ " جو شخص زمانہ جاہلیت کی طرح چیخ و پکار کرے، تو تم لوگ اسے سختی سے روکو اور اشارے سے نہ روکو۔"

عُتَيٍّ1 ← الْحَسَنِ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in wanah and its like · Hadith 3153

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي النِّيَاحَةِ وَنَحْوِهَا · حديث 3154

اَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْسیٰ بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَھْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ ، قَالَ اَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ دَاوٗدَ بْنِ اَبِیْھِ ھِنْدَ ، عَنْ اَبِیْ حَرْبِ بْنِ اَبِی الْاَسْوَدِ ، عَنْ الْاَعْلَی النَّخْعِیِّ، اَنَّ اَبَا مُوْسیٰ الْاَشْعَرِیَّ ، قَالَ : یَا اُمَّ عَبْدِ اللہِ اَلَا اُخْبِرْکِ بِمَا لَعَنَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : بَلٰی ، قَالَ : لَعَنَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَقَ ، اَوْخَرَقَ ، اَوْ سَلَقَ

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: اے اُمّ عبداللہ! کیا میں نے تمہیں یہ نہیں بتایا تھا کہ نبی اکرمﷺ نے کس پر لعنت کی؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ، تو حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ نے اس پر لعنت کی ہے ، جو سر منڈوائے یا (گریبان ) پھاڑ دے یا چیخ وپکار کرے۔

لَعَنَ رَسُوْلُ اللہِ مَنْ حَلَقَ اَوْخَرَقَ اَوْ سَلَقَ ← بَلٰی ← یَا اُمَّ عَبْدِ اللہِ اَلَا اُخْبِرْکِ بِمَا لَعَنَ رَسُوْلُ اللہِ ← الْاَعْلَی النَّخْعِیِّ، اَنَّ اَبَا مُوْسیٰ الْاَشْعَرِیَّ ← أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ← دَاوٗدَ بْنِ اَبِیْھِ ھِنْدَ ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in wanah and its like · Hadith 3154

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي النِّيَاحَةِ وَنَحْوِهَا · حديث 3155

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ یَّحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ ، عَنْ عَمْرَۃَ ، اَنَّھَا سَمَعْتُ عَائِشَۃَ ، یَقُوْلُ: لَمَّا جَاءَ نَعْیُ جَعْفَرِ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ ، وَزَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ ، وَعَبْدِ اللہِ بْنِ رَوَاحَۃَ ، جَلَسَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یُعْرَفُ فِیْ وَجْھِہٖ الْحُزْن ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَاَنَا اَطَّلَعُ مِنْ شَقِّ الْبَابِ ، فَاَتَاہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ قَدْ کَثُرَ بُکَاؤْ ھُنَّ ، فَاَمَرَہُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّنْھَا ھُنَّ ، قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَذَھَبَ الرَّجُلُ ، ثُمَّ جَاءَ : فَقَالَ : قَدْ نَھَیْتُھُنَّ وَاِنَّھُنَّ لَمْ یَطِعْنَنِیْ ، حَتّٰی کَانَ فِی الثَّالِثَۃِ ، فَزَعَمَتْ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : احْتُ فِیْ اَفْوَاھِھِنَّ التُّرَابَ ، قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَقُلْتُ : اَرْعَمَ اللہُ بِاَنْفِکَ ، مَا اَنْتَ بِفَاعِلٍ مَا یَذْکُرْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

سّیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہہ، حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہہ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہہ کی شہادت کی اطلاع آئی، تو نبی اکرم ﷺ تشریف فرما ہوئے شدید غم آپ ﷺ کے چہرے سے پہچانا جا سکتا تھا سّیدہ عائشہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتی ہیں: میں دروازے کی جھری میں سے جھانک رہی تھی ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! حضرت جعفر رضی اللہ عنہہ کے گھر کی خواتین بکثرت رو رہی ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان خواتین کو ایسا کرنے سے روکے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: وہ شخص چلا گیا پھر وہ آیا اور بولا: میں نے انہیں منع کیا ہے، لیکن وہ میرے بات نہیں مان رہی ہیں۔ ایسا تین مرتبہ ہوا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ان کے منہ پر مٹی ڈال دو۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے (دل ہی دل میں) کہا اللہ تعالیٰ تمہاری ناک کو خاک آلود کرے اللہ کے رسولﷺ جو فرما رہے ہیں تم وہ کرتے کیوں نہیں ہو۔

اَطَّلَعُ مِنْ شَقِّ الْبَابِ فَاَتَاہُ رَجُلٌ ← عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ رَوَاحَۃَ جَلَسَ رَسُوْلُ اللہِ یُعْرَفُ فِیْ وَجْھِہٖ الْحُزْن ← زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ← لَمَّا جَاءَ نَعِيُّ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ أَنَّهَا ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in wanah and its like · Hadith 3155

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي النِّيَاحَةِ وَنَحْوِهَا · حديث 3156

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بن الثنى قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ قَالَ: حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا بن جَابِرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ وَغَيْرُهُ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَعَنَ الْخَامِشَۃَ وَجْھَھَا ، وَالشَّاقَّۃَ جَیْبَھَا ، وَالدأَاعِیَۃَ بِالْوَیْلِ

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنے چہرے کو نوچنے والی ، اپنے گریبا ن کو چیرنے والی اور بربادی کی چیخ و پکار کرنے والی عورت پر لعنت کی ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← مَكْحُولٌ وَغَيْرُهُ ← بن جَابِرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بن الثنى

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in wanah and its like · Hadith 3156

chevron_left Previous
1…181920…26
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr