صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي النِّيَاحَةِ وَنَحْوِهَا · حديث 3145
اَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْسیٰ بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ حَفْصَۃ ، عَنْ اُمِّ عَطِیَّۃَ ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ ( اِذَا جَائَکَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ) (الممتحنۃ :12) اِلٰی قَوْلِہِ (وَلَا یَعْصِینَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ) (الممتحنۃ :12) قَالَتْ :کَانَ مِنْہُ النِّیَاحَۃُ ،فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَّا آلَ فُلَانٍ ، فَاِنَّھُمْ قَدْ کَانُوْا اَسْعَدُونِیْ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ ، فَلَابُدَّ لِی مِنْ اَنْ اُسْعِدَ ھُمْ ، فَقَالَ : اِلَّا آلَ فُلَانٍ
سیّدہ اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی۔ "جب مومن خواتین تمہارے پاس بیعت کرنے کے لیے آئیں۔" یہ آیت یہاںتک ہے" اور وہ معروف کے بارے میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی۔" سیّدہ اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ان میں سے ایک چیز نوحہ کرنا ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ مجھے صرف فلاں خاتون کے ساتھ نوحہ کرنے کی اجازت دے دیں ، کیونکہ اس نے زمانا جاہلیت میں میرا ساتھ دیا تھا اس لیے میرے لیے یہ ضروری ہے کہ میں بھی اس کا ساتھ دوں، تو نبی اکرم ﷺ نے فر مایا:صرف ان کے لیے ( تم نوحہ کر لینا)
أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ، ← عَاصِمٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ
Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in wanah and its like · Hadith 3145
