Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ · حديث 3051

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فقوموا حتى تخلفكم أو توضع" 1. [96:1]

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ' جب تم جنازے کو دیکھو، تو کھڑے ہو جاو، یہاں تک کہ وہ آگے گزر جائے یا اسے (زمین پر) رکھ دیا جائے۔"

عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on standing up for funeral · Hadith 3051

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ · حديث 3052

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ قَالَ: حدثني الليث بن سعد عن بن شهاب عن سالم عن بن عُمَرَ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: "إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ" 1. [96:1]

حضرت عامر بن ربیعہ عدوی رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب تم جنازے کو دیکھو، تو اس کے لیے کھڑے ہو جاو، یہاں تک کہ وہ آگے گزر جائے۔"

"إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ" ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيِّ ← بن عُمَرَ ← سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on standing up for funeral · Hadith 3052

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ · حديث 3053

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَمُرُّ بِنَا جَنَازَةُ الْكَافِرِ أَفَنَقُومُ لَهَا؟ قال: "نعم فَقُومُوا لَھَا ، فَاِنَّکُمْ لَسْتُمْ تَقُومُوْنَ لَھَا ، اِنَّمَا تَقُومُوْنَ اِعْظَامًا لِلَّذِی یَقْبِضُ الْاَرْوَاحَ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیااس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے پاس سے بعض اوقات کسی کافر کا جنازہ بھی گزرتا ہے، تو کیا ہم اس کے لیے بھی کھڑے ہو جائیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں تم اس کے لیے کھڑے ہو جاو، کیونکہ تم اس میت کے لیے کھڑے نہیں ہو رہے بلکہ تم اس کے احترام میں کھڑے ہو رہے ہو، جو روح کو قبض کرتا ہے۔

سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← الْمُقْرِئُ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on standing up for funeral · Hadith 3053

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ · حديث 3054

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو1 بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ في الجنازة ثم جلس2. [96:1]

-(سند حدیث): حضر ت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: پہلے (نبی اکرم ﷺ کا یہ معمول تھا) آپﷺ جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہو جاتے تھے ( بعد میں آپ ﷺ نے یہ معمول اختیار کیا) کہ آپﷺ بیٹھے رہتے تھے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو1 بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيِّ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on standing up for funeral · Hadith 3054

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ · حديث 3055

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجَنَائِزِ حَتَّى تُوضَعَ ثم قعد1. [96:1]

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہو جاتے تھے، یہاں تک کہ جب اسے (زمین پر) رکھ دیا جاتا تھا پھر آپ ﷺ بیٹھتے تھے۔

قَامَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى الْجَنَائِزِ حَتَّى تُوضَعَ ثم قعد1. ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on standing up for funeral · Hadith 3055

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ · حديث 3056

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ بِوَاسِطَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ کُرَیْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ: شَھِعْتُ جَنَازَۃً فِیْ بَنِیْ سَلِمَۃَ ، فَقُمْتُ ، فَقَالَ لِیْ نَافِعُ بْنُ جُبَیْرٍ ، اجْلِسْ ، فَاِنِّیْ سَاُخْبِرُکَ فِیْ ھٰذَا بِثَبْتٍ ، حَدَّثَنِیْ مَسْعُوْدُ بْنُ الْحَکَمِ ، اَنَّہٗ سَمِعَ عَلِیًّا ، بِرَحْبَۃِ الْکُوفَۃِ یَقُوْلُ لِلنَّاسِ :کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَاْمُرُنَا بِالْقِیَامِ فِی الْجَنَازَۃِِ ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ ذٰلِکَ ، وَاَمَرَ بِالْجُلُوْسِ

واقد بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں بنو سلمہ کے محلے میں ایک جنازے میں شریک ہوا میں کھڑا ہو گیا، تو نافع بن جبیر نے مجھ سے کہا: تم بیٹھ جاو، کیونکہ میں تمہیں اس بارے میں ایک مستند روایت سناتا ہوں، مسعود بن حکم نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے: انہوں نے کوفہ کے میدان میں حضرت علی رضی اللہ عنہہ کولوگوں سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں جنازے کے لیے قیام کرنے کا پہلے حکم دیا تھا اس کے بعد آپ ﷺ( جنازے کو دیکھ کر) بیٹھے رہتے تھے اور (آپ ﷺ نے ہمیں بھی) بیٹھے رہنے کا حکم دیا۔

عَلِيًّا بِرَحْبَةِ الْكُوفَةِ ← مَسْعُوْدُ بْنُ الْحَکَمِ اَنَّہٗ ← لِیْ نَافِعُ بْنُ جُبَیْرٍ اجْلِسْ فَاِنِّیْ سَاُخْبِرُکَ فِیْ ھٰذَا بِثَبْتٍ ← شَھِعْتُ جَنَازَۃً فِیْ بَنِیْ سَلِمَۃَ فَقُمْتُ ← وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ بِوَاسِطَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on standing up for funeral · Hadith 3056

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3057

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ1: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ إِلَى جَنَازَةٍ سَأَلَ عَنْهَا فَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا قَامَ فَصَلَّى وَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا قَالَ لِأَهْلِهَا: "شَأْنُكُمْ بِهَا", وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا2. [4:5] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: تَرْكُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْ وَصَفْنَا نَعَتَهُ كَانَ ذَلِكَ قَصْدَ التَّأْدِيبِ منه صلى الله عليه وسلم لأمته كي لا يرتكبوا مثل ذٰلِکَ الْفِعْلِ ، لَا اَنَّ الصَّلَاۃَ غَیْرُ جَائِزَۃٍ عَلٰی مَنْ اَتٰی مِثْلَ مَا اَتٰی مَنْ لَّمْ یُصَلّ عَلَیْہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

عبداللہ بن ابو قتا دہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ کو کسی جنازے (کی نماز پڑھنے کے لیے ) بلایا جاتا، تو آپ ﷺ ا س کے بارے میں دریافت کرتے تھے، اگر اس کی اچھی تعریف بیان کی جاتی، تو آپﷺ اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے تھے اور اگر اس کی برائی بیان کی جاتی، تو آپ ﷺ اس کےگھر والوں سے کہتے تھے: اسے تم خود سنبھال لو، آپ ﷺ اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کی نمازجنازہ ادا نہیں کی تھی جس کی صفت ہم نے ذکر کی ہے۔ اس سے آ پ کا مقصد یہ تھا کہ آپ اپنےی اُمت کو اس حوالے سے ادب سکھائیں تاکہ وہ اس فعل کے ارتکا ب سے بچیں۔ اس سے یہ مرادنہیں ہے: ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا کرنا جائز ہی نہیں ہوتا جس میں وہ خاصیت پائی جاتی ہو جس خامی کے حامل فرد کی نبی اکرم ﷺ نے نماز جنازہ ادا نہیں کی تھی۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← أَبِيهِ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in prayer over funeral · Hadith 3057

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3058

اَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَبِیْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ھَارُوْنَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ،عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ قَتَادَۃَ ، عَنْ اَبِیْہِ ، قَالَ: اُتِیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بِجَنَازَۃٍ لِیُصَلِّیَ عَلَیْھَا ، فَقَالَ : اَعَلَیْہِ دَیْنٌ ؟ قَالُوْا : نَعَمْ دِینَارَیْنِ۔ قَالَ : تَرَکَ لَھُمَا وَفَاءً ؟ قَالُوْا : لَا۔ قَالَ : فَصَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ قَالَ اَبُوْ قَتَادَۃَ : ھُمَا اِلَیَّ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَصَلّٰی عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

عبداللہ بن ابو قتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جنازہ لایا گیا، تا کہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے، تو آپ ﷺ نے دریافت کیا: کیا اس کے ذمے قرض ہے؟ لو گوں نے جواب دیا: جی ہاں دو دینار ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو۔ حضرت اب قتا دہ رضی اللہ عنہہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ان دونوں کی ادائیگی میرے ذمے ہے، تو نبی اکرمﷺ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔

اَبُوْ قَتَادَۃَ ھُمَا اِلَیَّ ← فَصَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ ← لَا۔ ← تَرَکَ لَھُمَا وَفَاءً ← نَعَمْ دِینَارَیْنِ۔ ← اُتِیَ النَّبِیُّ بِجَنَازَۃٍ لِیُصَلِّیَ عَلَیْھَا فَقَالَ اَعَلَیْہِ دَیْنٌ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبِي ← جَعْفَرُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in prayer over funeral · Hadith 3058

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3059

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا وَقَالَ: "عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " قَالُوا: عَلَيْهِ دِينَارَانِ, فَقَالَ: صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ قَالَ اَبُوْ قَتَادَۃَ : اِلَیَّ یَا رَسُوْلَ اللہِ ھُمَا عَلَیَّ ، فَتَقَدَّمَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰی عَلَیْہِ

حضرت ابو قتا دہ بن ربعی رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک جنازہ لایا گیا، تا کہ آپﷺ اس کی نماز جنازہ ادا کریں آپﷺ نے دریافت کیا: کیا اس کے ذمے قرض ہے۔ لوگوں نے عرض کی: اس کے ذمے دو دینار قرض ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہہ نےعرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ان دونوں (دیناروں) کی ادائیگی میرے ذمے ہے، تو نبی اکرم ﷺ آگے بڑھے اور آپﷺ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔

اَبُوْ قَتَادَۃَ اِلَیَّ ← عَلَيْهِ دِينَارَانِ, فَقَالَ: صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ ← أَتَى رَسُولَ اللَّهِ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا وَقَالَ: "عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ ← أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in prayer over funeral · Hadith 3059

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3060

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا" 1 فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: أَنَا أَكْفُلُ بِهِ قَالَ: "بِالْوَفَاءِ" قَالَ: بِالْوَفَاءِ فَصَلَّى عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا2. [4:5]

عبداللہ بن ابو قتا دہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص (کی میت) کو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا، تا کہ آپﷺ اس کی نماز جنازہ ادا کریں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو، کیونکہ اس کے ذمے قرض ہے، تو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہہ نے عرض کی: میں اس کے ذمے دار بنتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نےدریافت کیا: پوری ادائیگی کا؟ انہوں نے عرض کی: پور ی ادائیگی کا، تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کی نماز جنازہ اد ا کی۔راوی بیان کرتے ہیں: اس شخص کے ذمے اٹھا رہ یا شاید سترہ درہم قرض تھے۔

"بِالْوَفَاءِ" ← أَكْفُلُ بِهِ ← أَبُو قَتَادَةَ ← صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا" ← أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى بِهِ النَّبِيُّ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in prayer over funeral · Hadith 3060

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3061

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ ما كان عليه دين" 1. [24:5]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " مومن کی جان اس وقت تک لٹکی رہتی ہے جب تک اس کے ذمے قرض رہتا ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in prayer over funeral · Hadith 3061

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3062

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِذَا ذَکَرَ السَّاعَۃَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاہُ ، وَاشْتَدَّ غَضَبّہُ ، وَعَلَا صَوْتُہٗ کَاَنَّہٗ مُنْذِرُ جَیْشٍ قَالَ : صُبِّحْتُمْ مُسِّیتُمْ قَالَ : وَکَانَ یَقُوْلُ : اَنَا اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ ، وَمَنْ تَرَکَ مَالًا ، فَلِاَھْلِہِ ، وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا اَوْ ضَیَاعًا ، فَعَلَیَّ وَاِلَیَّ ، فَاَنَا اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ

امام جعفر رضی اللہ عنہہ اپنے والد (امام باقر رضی اللہ عنہہ) کے حوالے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب قیامت کا ذکر کرتے تھے، تو آپ ﷺ کے رخسار سرخ ہو جایا کرتے تھے آپ ﷺ کا جوش زیادہ ہو جاتا تھاآپ ﷺ کی آواز بلند ہو جاتی تھی یوں جیسے آپﷺ کس لشکر سے ڈراتے ہوئے یہ فرما رہے ہیں کہ وہ عنقریب تم پر حملہ کر دے گا۔ نبی اکرم ﷺ یہ فرمایا کرتے تھے: " میں مومنین کی جان سے زیادہ ان کےقریب ہوں جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا وہ اس کے اہل خانہ کو ملے گا اور جو شخص قرض یا بال بچے چھوڑ کر جائے گا اس کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی یا وہ میرے سپرد ہوں گے، کیونکہ میں مومنین کے زیادہ قریب ہوں۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in prayer over funeral · Hadith 3062

chevron_left Previous
1…101112…26
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr