صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَقَوْلِهَا · حديث 3039
اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَۃَ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا اللَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِیْدِ الْمَقْبُرِیِّ ، عَنْ اَبِیْہِ ، اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا سَعِیْدِ الْخُدْرِیَّ یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَۃُ وَاحْتَمَلَھَا الرِّجَالُ عَلٰی اَعْنَاقِھِمْ ، فَاِنْ کَانَتْ صَالَحَۃً قَالَتْ : قَدِّمُوْنِی ، وَاِنْ کَانَتْ غَیْرَ صَالَحَۃٍ قَالَتْ : یَا وَیْلَھَا اَیْنَ یَذْھَبُوْنَ بِھَا ، یَسْمَعُ صَوْتَھَا کُلُّ شَیْءٍ اِلَّا الْاِنْسَانَ ، وَلَوْ سَمِعَھَا الْاِنْسَانُ لَصَعِقَ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جب جنازہ (چارپائی پر ) رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں اگر وہ نیک ہو، تو یہ کہتا ہے تم مجھے آگے لے جاو اور اگر وہ نیک نہ ہو، تو یہ کہتا ہے: ہائے افسوس یہ لوگ اسے کہاں لے جارہے ہیں، اس کی آواز کو انسان کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے، اگر انسان اسے سن لے، تو بے ہوش ہو کر گر جائے۔"
أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← اللَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ ← عِیسَی بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَۃَ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،
Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in carrying the funeral and its saying · Hadith 3039
