صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 227
اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْجَنَیْدِ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحِ الْھَمْدَانِیِّ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ رَاَیْتُ رَجُلًا مِنْ اَھْلِ خُرَاسَانَ اَتَاہُ فَقَالَ یَااَبَا عَمْرٍو اِنَّ مَنْ قَبْلَنَا مِنْ اَھْلِ خُرَاسَانَ یَقُوْلُوْنَ اِذَا عَتَقَ الرَّجُلُ اَمَتَہٗ ثُمَّ تَزَوَّجَھَا فَھُوَ کَالرَّاکِبِ بَدَنَتَہٗ فَقَالَ الشَّعْبِیُّ حَدَّثَنِیْ اَبُوْ بُرْدَۃَ عَنْ اَبیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَۃٌ یُؤْتَوْنَ اَجْرَھُمْ مَرَّتَیْنِ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اٰمَنَ بِنَبِیّہَ ثُمَّ اَدْرَکَ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَمَنَ بَہٖ وَاتَّبَعَہٗ فَلَہٗ اَجْرَانِ وَعَبْدٌ مَمْلُوکٌ یُؤْدِّی حَقَّ اللہِ جَلَّ وَعَلَا عَلیہ وحق الذی علیہ لمولاہ فلہ اَجْرَنِ وَرَجُلٌ کَانَتْ لَہٗ اَمَۃٌ فَغَذَّا ھَا فَاَحْسَنَ غِذَاءَ ھَا وَاَدَّبَھَا فَاَحْسَنَ اَدَبَھَا ثُمَّ اَعْتَقَھَا وَتَزَوَّجَھَا فلہ أجران۔ (1:2) قَالَ الشَّعْبِیُّ لِلْخُرَاسَانِیِّ: خُذْ ھٰذَا الْحَدِیْثَ بَغَیْرِ شیْءٍ فَقَدْ کَانَ الرَّجُلُ یَرْحَلُ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فیما ھودونہ
صالح ہمدانی ‘ امام شعبی کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں :: میں نے خزاسان سے تعلق رکھن والے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ امام شعبی کے پاس آیا اور بالا : اے ابو عمرو ! ہماری طرف اہل خزاسان اس بات کے قائل ہیں ’ جب کوئی شخص اپنی کنیز کو آزاد کر کے پھر اس کے ساتھ شادی کرے ‘ تو اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے‘ جو اپنے قربانی کے جانور پر سوار ہوتا ہے‘ تو امام شعبی نے بتایا : ابو بردہ ( حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ) کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے‘ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’ تین لوگ ایسے ہیں‘ جنہیں دگنا اجراعطا کیا جائے گا۔ اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان لائے‘ اور پھر وہ نبی اکرمﷺ کا زمانہ پاکر آپ ﷺ پر بھی ایما لے آئے اور آپ کی پیروی کرے‘ تو اسےدگنا اجر ملے گا۔ ایک وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا اپنے ذمے حق ادا کرے اور اپنے ذمے اپنے آقا کا بھی حق ادا کرے اس بھی دگنا اجر ملے گا۔ اور ایک وہ شخص جو کی کوئی کنیز ہو‘وہ اسے اچھی خورا فراہم کرے۔ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرے ‘ پھر اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی کرے‘ تو اس کو دگنا اجر ملے گا‘‘۔ امام شعبی نے خراسان کے رہنے والے اس شخص سے کہا : تم کسی معاوضے کے بغیر اس حدیث کو حاصل کر لو‘ ورنہ پہلے اس سے کم (مضمون والی) روایت کے لئے مدینہ منورہ تک سفر کر کے جانا پڑتا تھا۔
یَااَبَا عَمْرٍو ← رَاَیْتُ رَجُلًا مِنْ اَھْلِ خُرَاسَانَ اَتَاہُ ← الشَّعْبِيِّ، ← صَالِحُ بْنُ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيُّ ← هُشَيْمٌ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،
Hadith 227
