Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 215

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانِ قَالَ اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ عَنْ مَّالِکَ عَنْ اَبِیْ الزِّنَادِ عَنِ الْاَعْرَجِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَضْحَکُ اللہُ اِلٰی رَجُلَیْنِ یَقْتُلُ اَحَدُ ھُمَا الْاٰخَرَ وَکِلَا ھُمَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ یُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ فَیُقْتَلُ ثُمَّ یَتُوبُ اللہُ عَلَی الْقَاتِلِ فَیُقَاتِلِ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ فَیُسْتَشْھَدُ۔ (3:67)

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’اللہ تعالیٰ ایسے دو آدمیوں پر مسکر دیتا ہے ‘ جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے ‘ اور وہ دونوں جنت میں داخل ہوں گے۔ ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے قتل ہو جاتا ہے‘ پھر اللہ تعالیٰ قاتل کو توبہ کی توفیق دیتاہےُ اور وہ بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر لیتا ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 215

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 216

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ الْفَضْلِ الْکَلَاعِیُّ بِحِمْصَ حَدَّثَنَا عَمْرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِیْدٍ حَدَّثَنَا اَبِیْ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ اَبِیْ حَمْزَۃَ عَنِ الزُّھْرِیِّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ اللہِ اَنَّ اَبَا ھُرَیْرَۃَ قَالَ لَمَّا تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَانَ أبو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بَعْدَہٗ وَکَفَرَ مَنْ کَفَرَ مِنَ الْعِرَبِ قَالَ عُمَرُ: یَااَبَا بَکْرٍ کَیْفِ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ فَمَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا للہُ عَصَمَ مِنِّیْ مَالَہٗ وَنَفْسَہٗ اِلَّا بِحَقِّہِ وَحِسَابُہٗ عَلَی اللہِ ؟ قَالَ أبا بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: وَاللہِ لَاُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ فَاِنَّ الزَّکَاۃَ مِنْ حَقِّ الْمَالِ وَوَاللہِ لَوْ مَنَعُوْبِیْ عَنَاقًا کَانُوْا یُؤَدُّونَہٗ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقَا تَلْتُھُمْ عَلٰیِ مَنْعِھَا قَالَ عُمَرٌ: فَوَاللہِ مَاھُوَ اِلَّا اَنْ رَاَیْتُ اَنَّ اللہَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أبی بکر لقتال عرفت أنہ الحق۔ (3:7)

عبید اللہ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو ہریرہؓ نے یہ بات بیان کی ہے : جب نبی اکرمﷺ کا وصال ہو گیا اور آپ کے بعد حضرت ابو بکر ؓ خلیفہ بنے ‘ تو عربوں سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے کفر کیا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : اے حضرت ابو بکر! ّآپ لوگوں کو ساتھ کیسے جنگ کریں گے ؟ جبکہ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے‘ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں ‘ جب تک وہ یہ اعتراف نہ کر لیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو شخص یہ کہہ دے : اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘ تو وہ اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے‘ البتہ اس کے حق کا معاملہ مختلف ہے ‘اس کا حساب اللہ کے ذمے ہو گا‘‘۔ حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا : اللہ کی قسم! میں ایسے شخص کے ساتھ جنت کروں گا‘ اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے گا۔بے شک زکوٰۃمال کا حق ہے اللہ کی قسم ! اگر وہ مجھے کوئی ایسا بکری کا بچہ دینے سے انکار کریں ‘ جو وہ نبی اکرمﷺ کو ادا کیا کرتے تھے ‘ تو میں ان کے اس انکار کرنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ حضرت عمر ؓ کہتے ہیں : میں نے اندازہ لگا لیا کہ جنگ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر ؓ کو شرح صدر عطا کیا ہے‘ اور مجھے یہ پتہ چل گیا کہ یہی بات درست ہے۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِیْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 216

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 217

اَخْبَرَنَا الْحَدَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قّتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْتُ عَنْ عَقِیْلِ عَنِ الزُّھْرِیِّ اَخْبَرَنِیْ عُبَیْدُ اللہِ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ عنَ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ لَمَّا تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ اَبُوْ بَکْرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وَکَفَرَ مَنْ کَفَرَ مِنْ الْعَرَبِ قَالَ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ لِاَبِیْ بَکْرٍ: کَیْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ فَمَنْ قَالَ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ عَصَمَ مِنِّیْ مَالَہٗ وَنَفْسَہٗ اِلَّا بحقہ وَحِسَابُہٗ عَلَی اللہِ قَالَ اَبُوْ بَکْرٍ رَضِیَ اللہ تعالی عَنْہُ: وَاللہِ لَاُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ فَاِنَّ الزَّکَاۃَ حَقُّ الْمَالِ وَاللہِ لَوْ مَنَعُوْنِیْ عِقَالًا کَانُوْا یُؤَدُّونَہٗ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقَا تَلْتُھُمْ عَلٰی مَنْعِہِ۔ قالَ عُمَرُ: فَوَاللہِ مَاھُوَ اِلَّا اَنْ رَاَیْتُ اللہَ شَرَحَ صَدْرَ اَبِیْ بَکْرٍ لِلْقِتَالِ عرفت أنہ الحق۔ (3:7)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرمﷺ کا وصال ہو گیا اور حضرت ابو بکر ؓ خلیفہ بن گئے اور عربوں سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے کفر کیا ‘ تو حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے کہا : آپ ان لوگوں کے ساتھ کیسے جنگ کریں گے ؟ جب کہ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے ‘ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں ‘ جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ جو شخص یہ کہہ دے : اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے محفوظ کر لے گا‘ البتہ اس کے حق کامعاملہ مختلف ہے۔ اور اس شخص کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا‘‘۔ حضرت ابو بکر ؓ نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! میں ایسے شخص کے ساتھ ٖضرور جنگ کروں گا‘ جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے گا۔ بے شک زکوٰۃ مال کا حق ہے ۔ اللہ کے قسم ! اگر وہ مجھے کوئی ایسی رسی دینے سے انکار کر دیں ‘ جو وہ نبی اکرمﷺ کو ادا کیا کرتے تھے ‘ تو میں ان کے اس انکار کرنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ حضرت عمر ؓ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے اندازہ لگا لیا کہ اللہ تعالیٰ نے جنگ کے حوالے سے حضرت ابو بکر ؓ کو شرح صدر عطا کیا ہے ‘ اور مجھے یہ پتہ چل گیا کہ یہ موقف درست ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَقِیلٍ ← اللَّیْتُ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَدَنُ بْنُ سُفْیَانَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 217

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 218

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ الْفَضْلِ الْکَلَاعِیُّ بِحِمْصَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُّثْمَانَ حَدَّثَنَا اَبِیْ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ اَبِیْ حَمْزَۃَ عَنِ الزُّھْرِیِّ اَخْبَرَنِیْ شَعِیْدُ بْنُ الْمُشَیِّبِ اَنَّ اَبَا ھُرَیْرَۃَ اَخْبَرَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ فَمِنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّیْ نَفْسَہٗ وَمَالَہٗ اِلَّا بِحَقِّہِ وَحِسَابُہٗ عَلَی اللہِ ۔ وَاَنْزَلَ اللہُ فِیْ کِتَابِہٖ فَذَاکَرَ قَوْمًا اسْتَکْبَرُوْا فَقَالَ: (اِنَّھُمْ کَانُوْا اِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ یَسْتَکْبِرُوْنَ) وَقَالَ( اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ قُلُوبِھِمُ الْحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الْجَاھِلَیَّۃِ فَاَنْزَلَ اللہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَلْزَمَھُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوَی ) الفتح : 23)وَھِیَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَمُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللہُ وَمُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللہِ استکبر عنھا المشرکون یوم الحدیبیۃ۔ (3:7)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’مجھے اس بات کا حکم دیا گیاہے ‘ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں ‘ جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبودد نہیں ہے‘ جو شخص یہ کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ وہ اپنی جان اور اپنے مال کو مجھ سے محفوظ کر لے گا‘ البتہ اس کے حق کا معاملہ مختلف ہے‘ اوراس شخص کا حساب اللہ تعالیٰ کےذمے ہو گا‘‘۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آیت نازل کی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کا تذکرہ کیا جنہوں نے تکبر اختیار کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’بے شک یہ وہ لوگ ہیں‘ جب ان سے یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘ تو یہ لوگ تکبر کرتے ہیں ‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: (اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ قُلُوبِھِمُ الْحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ فَاَنْزَلَ اللہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَلْزَمَھُمْ کَکِمَۃَ التَّقْوَی ) (الفتح :26) ’’جن لوگوں کے دلوں میں کفر تھا‘ جب انہوں نے وہ ہٹ دھرمی اختیار کی جو زمانہ جاہلیت کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر سکینت نازل کی او ر انہیں نقویٰ کے کلمے پا لازم کر دیا‘‘۔ (حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہٰیں : ) یہاں تقویٰ کے کلمے سے مراد یہ کہنا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘ اور حضرت محمد ‘ اللہ کے رسول ہیں۔ مشرکین نے حدیبیہ کے موقع پر اس بارے میں تکبر کا اظہار کیا تھا۔

شَعِیْدُ بْنُ الْمُشَیِّبِ اَنَّ اَبَا ھُرَیْرَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 218

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 219

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُبْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی حَدَّثَنَا اِبْرَھِیْمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَۃَ حَدَّثَنَا حَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوا اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ وَیُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوا مِنِّیْ دِمَاءَ ھُمْ وَاَمْوَا لَھُمْ اِلَّا بحق الاسلام وحسابھم علی اللہ (3:7)

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے ‘ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں ‘ جب تک وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘ اور میں اللہ کا رسول ہوں اور وہ نماز قائم کریں ‘ اور زکوٰۃ ادا کریں جب وہ ایسا کر لیں گے ‘ تو وہ اپنی جانیں اور مال مجھ سے محفوظ کر لیں گے‘ البتہ اسلام کے حق کا معاملہ مختلف ہے‘ اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا‘‘۔

بن عُمَرَ ← أَبِيهِ ← واقد بن محمد ← شُعْبَةُ، ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← اِبْرَھِیْمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَۃَ ← اَحْمَدُبْنُ عَلِیِّ بْنُ الْمُثَنّٰی

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 219

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 220

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا اَحْمَدُل بْنُ عَبْدَۃَ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَمَنُوْا بِیْ وَبِمَا جنت بہ فإذا فعلوا عَصَمُوا مِنِّیْ دمَاءَ ھُمْ وَاَمْوَا لَھُمْ اِلَّا بِحَقِّھَا وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللہِ۔ (3:7)

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’مجھے اس بات کا حق دیا گیا ہے‘ میں ان لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں ‘ جب تک وہ یہ اعتراف نہیں کر لیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ وہ لوگ مجھ پر اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس پر ایمان نہیں کے آتے ‘جب وہ ایسا کریں گے ‘ تو وہ اپنی جانیں اور اپنے مال محفوظ کر لیں گے‘ البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے‘ اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کےذمے ہو گا‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← اَحْمَدُل بْنُ عَبْدَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 220

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 221

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَھِیْمَ حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ وَمُحَمَّدُ بْنُ شُعَیْبٍ عَنِ الْاَوْزَاعِیِّ حَدَّثَنِی الْمُلطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ عَمْرَۃَ الْاَنْصَارِیِّ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ کُمَّامَعَ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ غَزْوَۃٍ فَاَصَابَ النَّاسَ مَخْمَصَۃٌ شَدِیدَۃٌ فَاسْتَاْذَنُوْا رَسُوْلَ اللہِ فِیْ نَحْرِ بَعْضِ ظَھْرِ ھِمْ فَقَالَ عُمَرُ یَا رَسُوْلَ اللہِ اَنْ تَدْعُوَا لنَّاسَ بِبَقِیَّۃِ اَزْوِدَتِھِمْ فَجَاؤُ وا بِہٖ یَجِیءُ الرَّجُلُ بِالْحِفْنَۃِ مِنَ الطَّعَامٍ وَفَوْقَ ذٰلِکَ وَکَانَ اَعْلَا ھُمُ الَّذِیْ جَاءَ بِالصَّاعِ مِنَ التَّمْرِ فَجَمَعَہٗ عَلٰی نِطَعِ ثُمَّ دَعَا اللہَ بِمَاشَاءَ اللہُ اَنْ یَّدْعُوَ ثُمَّ دَعَا النَّاسَ بِاَوْعِیَتِھِمْ فَمَا بَقِیَ فِی الْجَیْشِ وِعَاءٌ اِلَّا مَمْلُوءٌ وَبَقِیَ مِثْلُہٗ فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی دَدَتْ نَوَاجِذُہٗ ثُمَّ قَالَ: اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنِّیْ رسول اللہِ وَاَشْھَدُ عِنْدَ اللہِ لَا یَلْقَاہُ عَنْدٌ مُؤْمِنٌ بِھِمَا اِلَّا حَجَبَتَاہُ عَنِ النَّارِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ اَبُوْ عَمْرَۃَ الْاَنْصَارِیُّ ھٰذَا اسْمُہُ ثَعْلَبَۃُ مب عمرو بن محصن۔(3:41)

عبد الرحمٰن بن ابو عمرہ انصاری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم ایک غزوہ میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے‘ لوگوں کو شدید بھوک لاحق ہو گئی۔ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے اجازت مانگی کہ وہ اپنے سواری کے بعض جانور قربان کر دیں۔ تو حضرت عمر ؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! اگر ہم بھوک کے عالم میں پیادہ ہو کر دشمن کا سامنا کریں گے‘ تو پھر ہمارا کیا بنے گا۔ یا رسول اللہ ! اگر آپ مناسب سمجھیں ‘تو آپ لوگوں کو کہیں ‘ ان کے پاس جو کچھ بھی کھانے پینے کی چیز بچی ہوئی ہے‘ وہ لے آئیں ۔ (نبی اکرمﷺ نے بہ حکم دے دیا ) تو لوگ وہ چیزیں لانے لگے‘ ایک شخص نے مٹھی اناج یا اس سے زیادہ لے آیا۔ جو شخص سب سے زیادہ لے کر آیا تھا‘ وہ ایک صاع کھجور لے کر آیا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے اس سب کو ایک دستر خوان پر جمع کروایا : پھر جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا‘ وہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی ‘ پھر آپ نے لوگوں کو بلایا کہ اپنے برتن لے آئیں اور آپ نے وہ اناج ان میں ڈالنا شروع کیا‘ تو لشکر میں موجود کوئی برتن ایسا باقی نہیں رہا‘ جو بھر نہ گیا ہو‘ اور وہ اناج پھر اتنا ہی باقی تہ گیا۔ تو نبی اکرمﷺ مسکرا دئیے یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے آپ ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی: ’’میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور میں اس بات کو گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ جو مومن بندہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان دو باتوں کے ہمراہ حاضر ہو گا‘ تو یہ دونوں چیزیں اس شخص کے لئے قیامت کے دن جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائیں گی‘‘۔ حضرت ابو عمرہ انصاری کا نام ثعلبہ بن عمر و بن محصن ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ← الْمُلطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَھِیْمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 221

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 222

اَخْبَرَنَا وَصِیفُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْحَافِظُ بِاَنْطَاکِیَۃَ حَدَّثَنَا الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی حدثنا بن وَھْبٍ عَنْ مَّالِکٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی الْمَازِنِیِّ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: یَدْخُلُ اَھْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ وَیَدْخُلُ اَھْلُ النَّارِ النَّارَ ثُمَّ یَقُوْلُ جَلَّ وَعَلَا انْظُرُوْا مَنْ وَجَدْتُمْ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ مِّنَ الْاِیمَانِ فَاَخْرِجُوْہُ قَال فَیَخُرُجُونَ مِنْھَا حمما بعد ما امْتَحَشُوا فَیُلْقَوْنَ فِیْ نَھْرِ الْحَیَاۃِ فَیَنْبُتُونَ فِیْہِ کَمَاتَبْبُتُ لاْحِبَّۃُ اِلٰی جَانِبِ السَّیْلِ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَلَمْ تروھا کیف تخرج صفراء ملتوبۃ(3:41)

حضرت ابو سعید خدریؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’اہل جنت ‘جنت میں داخل ہو جائیں گے ‘ اہل جہنم ‘جہنم میں داخل ہو جائیں گے ‘ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم ان لوگوں کا جائزہ لو جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان تمہیں مل جائےاسے (جہنم میں سے ) نکال دو۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : تو وہ لوگ جہنم سے یوں نکلیں گے کہ وہ جلنے کے بعد کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ انہیں نہر حیات میں ڈالا جائے گا‘ تو وہ اس میں سے یوں پھوٹ پڑیں گے ‘ جس طرح سیلابی پانی کے کنارے پر دانہ پھوٹ پڑتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم نے اسے دیکھا نہیں ہے‘ وہ کسی طرح زرد رنگ کا ہوتا ہے‘ اور ادھر اُدھر لہرا رہا ہوتا ہے؟

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی ← وَصِیفُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْحَافِظُ بِاَنْطَاکِیَۃَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 222

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 223

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حرملۃ بن یحیی حدثنا بن وھب أَخْبَرْنَا یونس عَنِ ابْنِ شِھَابٍ اَنَّ مُحْمُوْدَ بْنَ الرَّبِیْعِ الْاَنْٓصَارِیَّ اَخْبَرَہُ اَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ وَھُوَ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَھِدَ بَدْرًا مِنَ الْاَنْصَارِ اَتَی رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَا رسول اللہِ اِنِّیْ اَنْکَرْتُ بَصَرِیْ وَاَنَا اُصَلِّیَ لَقَوْمِی وَاِذَا کَانَ الْامْطَارُ سَالَ الْوَادِیْ الَّذِیْ بَیْنِیْ وَبَیْنَھُمْ وَلَمْ اَسْتَطِعْ اَنْ اٰتِیَ مَسْجِدَھُمْ فَاُصَلِّیَ لَھُمْ وَدِدْتُ اَنَّکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ تَاْتِیْ فَتُصَلِّی فِیْ بَیْتِیْ اَنَّخِذُہٗ مُصَلًّی قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: سَاَفْعَلُ قَالَ عِتْبَانُ: فَغَدَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَبُوْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقُ حِیْنَ ارْتَفَعَ النَّھَارُ فَاسْتَاْذَنَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَذِنْتُ لَہٗ فَلَمْ یَجْلِسْ حَتّٰی دَخَلَ الْبَیْتَ ثُمَّ قَالَ: اَیْنَ تُحِبُّ اَنْ اُصَلِّیَ مِنْ بَیْتِکَ؟ قَالَ: فَاَشَرْتُ اِلٰی نَاحِیَۃٍ مِّنَ الْبَیْتِ فَقَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَبَّرَ وَقُمْنَا وَرَاءَہُ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ وَحَیَسْنَاہُ عَلٰی خَزِیْرَۃٍ صَنَعْنَا ھَا لَہٗ قَالَ: فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ اَھْلِ الدَّارِ حَوْلَہٗ حتی اجتمع فی البیت رجال قَالَ ابْنُ شِھَابٍ: ثُمَّ سَاَلْتُ الْحُصَیْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْاَنْصَارِیَّ وَھُوَ اَحَدُ بَنِیْ سَالِمٍ وَھُوَ مِنْ سَرَاتِھِمْ عَنْ حَدِیْثِ مَحْمُوْدِ بْنِ الرَّبِیْعِ فصدقہ بذلک۔(3:9) ذَوُو عَدَدٍ قَالَ قَائلٌ مِنْھُمْ اَیْنَ مَالِکُ بْنُ الدُّخْشُنِ ؟ فَقَالَ بَعْضُھُمْ : ذَاکَ مُنَافِقٌ وَلَا یُحِبُّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُلْ لَہٗ ذٰلِکَ اَلَا تَرَاہُ قَدْ قَالَ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ یُزِیْدُ بِذٰلِکَ وَجْہٗ اللہِ قَالُوْا: اَللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ اِنَّمَا نَرٰی وَجْھَہٗ وَنَصِیحَتَہٗ لِلْمُنَافِقِیْنَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللہَ جَلَّ وَعَلَا حَرَّمَ عَلَی النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ یبتغی بہ وجہ اللہ

حضرت محمود بن ربیع انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ کے صحابی حضرت عتبان بن مالکؓ ‘ ان کا تعلق انصار سے ہے‘ اور انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے‘ وہ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری بینائی کمزور ہو گئی ہے۔ میں اپنے محلے کے لوگوں کو نماز پڑھاتا ہوں ‘ جب بارش ہوتی ہے‘ تو نشیبی حصے میں میرے اور ان لوگوں کے درمیان پانی بہنے لگتا ہے‘ تو میں ان کی مسجد تک نہیں آ سکتا کہ انہیں جا کر نماز پڑھاؤں اس لئے یا رسول اللہ ! میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ (میرے ہاں ) تشریف لائیں اور میرے گھر میں کسی جگہ نماز ادا کریں ‘ تاکہ میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : میں عنقریب ایسا کروں گا۔ حضرت عتبانؓ بیان کرتے ہیں : اگلے دن نبی اکرمﷺ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ دن چڑھنے کے بعد تشریف لائے۔ نبی اکرمﷺ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ میں نےآپ کی خدمت میں اجازت پیش کی‘ نبی اکرمﷺ گھر میں داخل ہونے کے بعد پہلے تشریف فرما نہیں ہوئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا : تم اپنے گھر میں کہاں یہ پسند کرتے ہو کہ میں وہاں نماز ادا کروں ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے گھر کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا ‘ تو نبی اکرمﷺ وہاں کھڑے ہوئے آپ نے تکبر کی۔ ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ نبی اکرمﷺ نے دور کعات نماز پڑھائی اور آپ نے سلام پھیر دیا۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے آپ کو خزیرہ (مخصوص قسم کا کھانا ) کھانے کے لئے روک لیا‘ جو ہم نے آپ کے لئے تیار کیا تھا۔ روای کہتے ہیں ‘ محلے کےکچھ لوگ بھی نبی اکرمﷺ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے۔ یہاں تک کہ گھر میں متعدد افراد اکٹھے ہو گئے۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا: مالک بن دخشن کہاں ہے؟ تو کسی دوسرے نے کہا: وہ منافق ہے‘ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا ۔ نبی اکرمﷺ نے اس شخص سے فرمایا: تم اس کے بارے میں یہ بات نہ کہو‘ کیا تم نے اسے دیکھا نہیں ہے‘ ا س نے یہ کہا ہے ’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے یہ کلمہ پڑھا ہے۔ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نوٹ کی ہے ‘ اس کی توجہ اور اس کی خیر خواہی منافقین کے لئے ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص پر جہنم کو حرام قرار دے دیا ہے‘ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے حصول کے لئے ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ پڑھتا ہے‘‘۔ ابن شہاب کہتے ہیں : میں نےحصین بن محمد انصاری سے سوال کیا : یہ بنو سالم سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ہیں ‘ اور ان کے اکابرین میں سےہیں۔ ان سے میں نے حضرت محمود بن بیعؓ کی روایت کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے اس روایت کی تصدیق کی۔

ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيَّ، ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 223

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 224

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللہِ الزُّبَیْرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْھِرٍ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اَحَدٌ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ مِّنْ کِبْرٍ وَلَا یَدْخُلُ النَّارَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ حَبَّۃُ خَرْدَلٍ من إیمان ْ (3:79)

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’جنت میں ایسا کوئی شخص داخل نہیں ہو گا‘ جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا تکبر ہوگا اورجہنم میں وہ شخص داخل نہیں ہو گا‘ جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا ایمان ہو گا‘‘۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 224

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 225

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْجُنَیْدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ اَخْبَرَنَا اللَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ عَامِرُ بْنُ یَحْیَی عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْمَعَافِرِیِّ الْحُبُلِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إن اللہ سیخلص رجل من أمتی علی رؤوس الْخَلَائقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیَنْشُرُ عَلَیْہِ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ سِجَلْا کُلُّ سِجِلٍّ مَدُّ الْبَصَرَ ثُمَّ یَقُوْلُ لَہٗ اَتُنْکِرُ شَیْئًا مِنْ ھٰذَا اَظَلَمَکَ کَتَبَیِی الْحَافِظُونَ فَیَقُوْلُ: لَا یَا رَبِّ فَیَقُوْلُ: اَفَلَکَ عُذْرٌ اَوْحَسَنَۃٌ فَیُبْھَتُ الرَّجُلُ وَیَقُوْلُ: لَا یَارَبِّ فَیَقُوْلُ: بَلٰی اِنَّ لَکَ عِنْدَنَا حَسَنَۃً وَاِنَّہٗ لَا ظُلْمَ عَلَیْکَ الْیَوْمَ فَیُخْرِجُ لَہٗ بِطَاقَۃً فِیْھَا: اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ فَیَقُوْلُ احْضُرْ وَزْنَکَ فَیَقُوْلُ یَارَبِّ مَا ھٰذِہِ الْبِطَاقَۃُ مَعَ ھٰذِہِ السِّجِلَّاتِ فَیَقُوْلُ: اِنَّکَ لَا تُظْلَمُ قَالَ: فَتُوْضَعُ السِّجِلَّاتُ فِیْ کِفَّۃٍ وَالْبِطَاقَۃُ فِیْ کِفَّۃٍ فَطَاشَتَ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتُ الْبِطَاقَۃُ قَالَ: فَلَا یَثْقُلُ اسْمَ اللہِ شیء۔(3:74)

حضرت عبدا للہ بن عمروبن العاص ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک فرد کو تمام مخلوق میں سے الگ کرے گا ‘ پھر اس کے سامنے ننانوے رجسٹر کھول دے گا۔ ان میں سے ہر ایک اتنا بڑا ہو گا جہاں تک نگاہ کام کرتی ہے۔ پھر ارشاد فرمائے گا: کیا تم اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ کیا نوٹ کرنے والے محافظ فرشتوں نے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے؟ وہ جواب دے گا: جی نہیں۔ اے میرے پروردگار ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تمہارے پاس کوئی عذر ہے یا نیکی ہے؟ تو وہ شخص مبہوت ہو جائے گا اور عرض کرے گا: اے میرے پروردگار ! جی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جی ہاں ! تمہاری ایک نیکی ہمارے پاس ہے ‘ اور آج کے دن تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ پھر اس شخص کے سامنے کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جائےگا ‘ جس میں یہ تحریر ہو گا۔ ’’میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور بے شک حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میزان کے پاس آ جاؤ ‘ وہ بندہ عرض کرے گاُ اے میرے پروردگار ! ان رجسٹروں کے مقابلے میں اس کاغذ کی کیا حیثیت ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : تو وہ تمام رجسٹر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ کاغذ کا ٹکڑا دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا‘ تو رجسٹروں والا پلڑا اوپر چلا جائے گا اور کاغذ کے ٹکڑے والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا( یا شاید نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی یا شاید کسی راوی کے یہ الفاظ ہیں ) ’’اللہ تعالیٰ کے اسم سے زیادہ وزنی اور کوئی چیز نہیں ہے‘‘۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْمَعَافِرِیِّ الْحُبُلِیِّ ← عَامِرُ بْنُ یَحْیَی ← اللَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْجُنَیْدِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 225

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 226

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَکِّیُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ عَنْ شَرِیْکٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ رُفَیْعِ عَنِ الْمَعْرُورِبْنِ سُوَیْدٍ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : قال اللہ تبارک وتعالی: یا بن اٰدَمَ لَوْ لَقِیْتَنِیْ بِمِثْلِ الْاَرْضِ خَطَایَا لَا تشرک بی شیئا لقیتک بملء الارض مغفرۃ۔ (3:68)

حضرت ابوذر غفاریؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : اے آدم کے بیٹے! اگر تم زمین جتنی خطائیں لے کر میری بارگاہ میں حاضر ہو‘ لیکن تم کسی کو میر ے ساتھ شریک نہ ٹہراتے ہو‘ تو میں زمین جتنی مغفرت کے ہمراہ تم سے ملاقات کروں گا‘‘۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِبْنِ سُوَیْدٍ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← شَرِيکٍ ← حَمَّادُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 226

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr