Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 203

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُبن مسرھد عَنِ ابْنِ اَبِیْ عَدِیٍّ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ قَالَ: أَخْبِرْنِیْ حُمَیْدُ بْنُ ھِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ ھِصَّانُ بْنُ کَاھِنٍ قَالَ جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِیْہِ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَمُرَۃَ وَلَا اَعْرِفُہُ فَقَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا عَلَی الْاَرْضِ نَفْسٌ تَمُوتُ لَا تُشْرِکُ بِاللہِ شَیْئًا وَتَشْھَدُ انِّیْ رَسُوْلُ اللہِ یَرْجِعُ ذٰلِکَ اِلٰی قَلْبٍ مُوقِنٍ اِلَّا غُفِرَ لَھَا قُلْتُـ: اَنْتَ سَمِیْتَہٗ مِنْ مُعَاذٍ قَالَ فَعَنَفَنِی الْقُوْمُ فَقَالَ دَعُوْہُ فَاِنَّہٗ لم یسیء الَقَوْلَ نَعَمْ سَمِعتُہٗ مِنْ مُعَاذٍ زَعَمَ اَنَّہٗ سَمِعَہٗ مِنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : (1:2)

حضرت معاذ بن جبلؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’زمین پر بسنے والا جو بھی شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ گا شریک نہ ٹھہراتا ہو ‘ اور وہ اس بات کی گواہی دے کہ میں اللہ گا رسول ہوں‘ اور یہ بات یقین رکھنے والے دل کی طرف لوٹتی ہو ‘ تو اس شخص کی مغفرت ہو جاتئی ہے ‘‘۔ (راوی کہتے ہیں ) میں نے دریافت کیا : کی اآپ نے حضرت معاذؓ کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ راوی کہتے ہیں ‘ تو حاضرین نے مجھے گھور کر دیکھا لیکن انہوں نے کہا : تم لوگ اسے چھوڑ دو‘ اس نے غلط بات نہیں کی ہے۔ جی ہاں ! میں نے حضرت معاذؓ کی زبانی یہ بات سنی ہے۔ حضرت معاذؓ نے یہ بات بتائی تھی ‘ انہوں نے نبی اکرمﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِیْہِ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَمُرَۃَ وَلَا اَعْرِفُہُ فَقَالَ: ← ھِصَّانُ بْنُ کَاھِنٍ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُسَدَّدُبن مسرھد ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 203

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 204

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِیْدٌ عَنْ قَتَادَۃٗ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ حُمْرَانَ بْنِ اَبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عفَّانَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنِّیْ لَاعْلَمُ کَلِمَۃً لَا یَقُوْلُھَا عَبْدٌ حَقًّامِنْ قَلْبِہٖ فَیَمُوتُ عَلٰی ذٰلِکَ اِلَّا حَرَّمَہُ اللہُ عَلَی النَّارِ لَا اِلٰہَ اللہ۔(1:2)

حضرت عثمان غنیؓ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں ایک ایسے کلمے کے بارےمیں جانتا ہوں ‘جو بھی بندہ سچے دل کے ساتھ اس کلمے کو پڑھ لے گا اور وہ اس پر مرے گا‘ تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام قرار دے گا‘‘۔ (وہ کلمہ یہ ہے ) ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← حُمْرَانَ بْنَ اَبَانَ ← مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 204

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 205

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمِ قَالَ حَدَّثَنَا ھَارُوْنُ بْنُ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَھَّابِ عَنْ مِسْعَرِ بْنِ کِدَامٍ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَبِیْ خَالِدٍ عَنِ الشَّمعْبِیِّ عَنْ یَّحْیَی بْنِ بَلْحَۃَ عَنْ اُمِّہٖ سُعْدَی الْمُرِّیَّۃِ قَالَتْ مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِطَلْحَۃَ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَالَکَ مُکْتَئبًا اَسَاءَتْکَ اِمْرَۃُ بْنِ عَمِّکَ ؟ قَالَ: لَا وَلَکِنَّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: اِنِّیْ لَاَعْلَمُ کَلِمَۃً لَا یَقُوْلُھَا عَبْدٌ عِنْدَ مَوْتَہٖ اِلَّا کَانَتْ لَہٗ نُورًا لِصَحِیفَتِہٖ وَاِنَّ جَسَدَہٗ وَرُوحَہُ لَیَجِدَانِ لَھَا رَوْحًا عِنْدً الْمَوْتِ فَقُبِضَ وَلَمْ اَسْاَلْہُ فَقَالَ: مَا اَعْلَمُہُ اِلَّا الَّتِیْ اَرَادَ عَلَیْھَا عَمَّہُ وَلَوْ عَلِمَ اَنَّ شیئا أنجی لہ منھا لامرہ۔(1:2)

سعدی بن امریہ بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نبی اکرمﷺ کے وصال کے بعد حضرت طلحہ ؓ کے پاس گزرے‘ تو دریافت کیا : کیا وجہ ہے ‘ آپ پریشان ہیں ؟ کیا آپ کو اپنے چچا زاد کی حکومت پسند نہیں ہے ؟ تو حضرت طلحہؓ نے جواب دیا : جی نہیں ! لیکن میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’میں ایک ایسے کلمے کے بارے میں جانتا ہوں کہ جو بھی بندہ مرتے وقت اس کلمے کو پڑھے گا‘ تو ہ کلمہ اس کے صحیفے میں ‘ اس کے لئے نور کی حیثیت رکھے گا۔ اور اس شخص کا جسم اور اس شخص کی روح مرنے کے وقت اس کلمے کی وجہ سے راحت محسوس کریں گے‘‘۔ (حضرت طلحہؓ نے بیان کیا ) پھر نبی اکرمﷺ کا وصال ہو گیا ‘ لیکن میں آپ سے اس کلمے کے بارے میں دریافت نہیں کر سکا۔ تو حضرت عمرﷺ نے فرمایا : میرے خیال میں یہ وہی کلمہ ہو گا‘ جو نبی اکرمﷺ اپنے چچا (جناب ابو طالب) کو پڑھانا چاہتے تھے۔ اور اگر نبی اکرمﷺ کو اس بات کا علم ہوتا کہ کوئی اور کلمہ‘ اس کلمے سے زیادہ بہتر طور پر آپ کے چچا کے لئے نجات کا باعث بن سکتا ہے ‘ تو آپ ﷺ انہیں وہ کلمہ پڑھنے کا حکم دیتے۔

لَا، وَلَكِنِّي ← مَالَکَ مُکْتَئبًا اَسَاءَتْکَ اِمْرَۃُ بْنِ عَمِّکَ ← مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِطَلْحَۃَ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُوْلِ اللہِ ← اُمِّہٖ سُعْدَی الْمُرِّیَّۃِ ← یَّحْیَی بْنِ بَلْحَۃَ ← الشَّمعْبِیِّ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 205

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 206

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیفَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا حَفْضُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃّ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنِ الْبَرَاءِ اَنَّ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُ اِذَا شَھِدَ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَعَرَفَ مُحَمَّدًا رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ قَبْرِہٖ فَذٰلِکَ قَوْلُ اللہِ جَلَّ وَعَلَا (یُشَبِّتُ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ) (براھیم:27)۔(1:2)

حضرت براءؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’مومن اپنی قبر میں جب اس بات کی گواہی دے دیتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کےعلاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘ اور اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کو پہچان لیتا ہے‘ تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے۔ ’’اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر ثابت قدم رکھے گا‘دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی‘‘۔

الْبَرَاءِ، ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← شُعْبَةُ، ← حَفْضُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِیُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 206

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 207

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَنُ بْنُ صَالِحِ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ عَنِ ابْنِ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ عُمَیْرُ بْنُ ھَانِیْءٍ حَدَّثَنِیْ جُنَادَۃُ بْنُ اَبِیْ اُمَیَّۃَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ شَھِدَ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ وَاَنَّ عِیْسیٰ عَبْدُ اللہِ وَرَسُوْلُہٗ وَکَلِمَتُہٗ اَلْقَاھَا اِلٰی مَرْیَمَ وَرُوحٌ مِنْہُ وَاَنَّ الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ حَقٌّ اَدْخَلَہُ اللہُ مِنْ اَیِّ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ الثَّمَانِیَۃِ شاء(1:2)

حضرت عبادہ بن صامت ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’‘جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی ایک معبود ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں ہے‘ اور حضرت محمد ؓ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ‘ ا س کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں ‘جو اس نے سیدہ مریمؓ کی طرف القاء کی طرف سے آنے والی روح ہیں‘ جنت اور جہنم حق ہیں‘ تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا کہ وہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ‘ جس میں سے چاہے‘ جنت میں دخل ہو جائے‘‘۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، ← عُمَیْرُ بْنُ ھَانِیْءٍ ← ابْنِ جَابِرٍ ← الْوَلِیْدُ ← صَفْوَنُ بْنُ صَالِحِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 207

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 208

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ مَوْھَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا بن وَھْبِ قَالَ حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ اَیُّوْبَ عَنْ اَبِیْ ھَانِیْءٍ عَنْ اَبِیْ عَلِیِّ الْجَنْبِیِّ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَللّٰھُمَّ مَنْ اٰمَنَ بِکَ وَشَھِدَ اَنِّیْ رَسُوْلُکَ فَحَبِّبْ اِلَیْہِ لِقَاءَ کَ وَسَھِّلْ عَلَیْہِ قَضَاءَکَ وَاَقْلِلْ لَہٗ مِنَ الدُّنْیَا وَمَنْ لَمْ یُؤْمِنْ بِکَ وَلَمْ یَشْھَدْ اَنِّیْ رَسُوْلُکَ فَلَا یُحَبِّبْ اِلَیْہِ لِقَاءَکَ وَلَا تُسَھِّلْ عَلَیْہِ قَضَاءَکَ وَاَکْثِرْ لَہٗ مِنَ الدُّنْیَا ۔(5:12)

حضرت فضالہ بن عبیدؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’اے اللہ ! جو شخص تجھ پر ایمان لائے‘اور اس بات کی گواہی دے کہ میں تیرا رسول ہوں‘ تو اپنی بارگاہ میں حاضری اس کے لئے محبوب کر دے اور اپنے فیصلے (یعنی موت کو ) اس کے لئے آسان کر دے اور دنیا کو اس کے لئے تھوڑا کر دے اور جو شخص تجھ پر ایمان نہ لائے‘اور اس بات کے گواہی نہ دے کہ میں تیرا رسول ہوں ‘ تو اپنی بارگاہ میں حاضری کو اس کے نزدیک محبوب نہ کرنا اور تو اپنے فیصلے (یعنی اس شخص کی موت) کو اس کے لئے آسان نہ کرنا اور اس کے لئے ( دنیا کی ) پریشانیاں اور مشکلات کو زیادہ کر دینا‘‘۔

فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← اَبِیْ عَلِیِّ الْجَنْبِیِّ ← اَبِیْ ھَانِیْءٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← بن وَهْبٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 208

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 209

اَخْبَرَنَا وَصِیفُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْحَافِظُ بِاَنْطَاکِیَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا الرَّبِیْعُ بْنُ سلَیْمَانَ قَال حَدَّثَنَااَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ اقَالَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ اَبِیْ حَازِمِ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اَھْلَ الْجَنَّۃِ یَرَوْنَ اَھْلَ الْغُرَفِ کَمَاتَرَوْنَ الْکَوْکَبَ الدُّرِّیَّ الْغَابِرَ فِی الْاُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَیْنَھُمَا قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللہِ تِلْکَ مَنَازِلُ الْاَنْبِیَاءِ لَا یَبْلُغُھَا غَیْرُ ھُمْ قَال: بَلٰی وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بَیَدِہٖ فجال اٰمنوا باللہ وصدقوا المرسلین۔(1:2)

حضرت سہل بن سعد ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فامایا ہے : ’’اہل جنت بالا خانے میں (یعنی اپنے سے اوپر کے مرتبے میں رہنے والے لوگوں ) کو یوں دیکھیں گے‘ جس طرح تم لوگ مشرق یا مغرب کے اُفق میں چمکتے ہوئے ستارے کو دیکتے ہو‘ اس کی وجہ یہ ہے‘ ان دونوں درجات میں رہنے والے لوگوں کے درمیان اتنا فرق ہوگا‘‘۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ انبیاء کی مخصوص منازل ہوں گی؟ جہاں کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکے گا۔ نبی اکرمﷺ نے جواب دیا: جی ہاں ۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں‘ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں گے اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق کی ہو گی۔ (تو انہیں اس کا یہ افر و ثواب ملے گا)

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← مَالِكٍ، ← حَدَّثَنَااَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ اقَالَ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← وَصِیفُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْحَافِظُ بِاَنْطَاکِیَۃَ

Hadith 209

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 210

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِیِّ قَالَ حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مَنْصْوْرٍ زَاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ قَالَ اَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَیْمُوْنِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا حَقُّ اللہِ عَلَی الْعِبَادِ ؟ قَالُوْا: اللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ ، قَالَ: اَنْ یَّعْبُدُوہُ وَلَا یُشْرِکُوا بِہٖ ، قَالَ: فَمَا حَقُّھُمْ عَلَی اللہِ اِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ ؟ قَالُوْا اللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ ، قَالَ: یَغْفِرُ لَھُمْ ولا یعذبھم۔(1:2)

حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھرائیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جب وہ لوگ ایسا کریں ‘ پھر ان لوگوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: (یہ کہ) اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کر دے اور ان کو عذاب نہ دے۔ (اماام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں : ) اس وقت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ وہ روایات جنہیں ہم اس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں وہ مختٖصر ہیں وہ تفصیلی نہیں ہیں کہ جب آدمی ان کا ارتکاب کرتا ہے ‘ تو تمام اوقات میں اس کے لئے جنت واجب نہیں ہوتی ۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ نبی اکرمﷺ نے بندوں پر اللہ حق قرار دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور اللہ کی عبادت زبان کے ذریعے اقرار‘ دل کے ذریعے تصدیق اور اعضاء کے ذریعے عمل ہے۔ پھر مسلمانوں نے ‘ جب نبی اکرمﷺ سے اللہ تعالیٰ پر اپنے حق کا بارے میں دریافت کیا انہوں نے دریافت کیا ان لوگوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا جب وہ ایسا کریں۔ ان لوگوں نے یہ نہیں کہا : ان لوگوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا جب وہ یہ کہہ دے۔ اور نبی اکرمﷺ نے ان الفاظ کا انکار بھی نہیں کیا ۔ تو ہم نے جو یہ بات بیان کی ہے ‘ اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ جنت اس شخص کے لئے واجب نہیں ہوتی ہے ‘ جو ایمان کے کچھ شعبوں کو تمام حالتوں میں بجا لاتا ہے بلکہ ہر روایت کا اپنا عموم ہوتا ہے ‘ اور اس کے حکم کا مخصوص پس منظر ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← اَحْمَدُ بْنُ مَنْصْوْرٍ زَاجٌ ← اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِیِّ

Hadith 210

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 211

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِیَاثٍ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ عَوَاَنَہٗ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَبِیْ الْمَلِیحِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ عَرَّسَ بِنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَافْتَرَشَ کُلُّ رَجُلٍ مِّنَّ ذِرَاعَ رَاحِلَتِہٖ قَالَ فَانْتَبَھْتُ فِیْ بِعْضِ اللَّیْلِ فَاِذَا نَاقَۃُ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْسَ قُدَّا مَھَا اَحَدٌ فَانْطَلَقْتُ اَطْلُبُ رسول اللہ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاِذَا مُعَاذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَعَبْدُ اللہِ بْنُ قَیْسٍ قَاِئمَانِ فَقُلْتُ: اَیْنَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَا: لَا نَدْرِیْ غَیْرَ اَنَّا سَمِعْنَ اصَوْتًا بِاَعْلَی الْوادِیُّ فَاِذَا مِثْلُ ھَدِیْرِ الرَّحٰی قَالَ فَلَبِشْنَا یَسِیْرًا ثُمَّ اَتَانَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اِنَّہٗ اَتَانِیْ مِنْ ربی اٰت فیخبرنی بِاَنْ یَّدْخُلَ نِصْفُ اُمَّتِی الْجَنَّۃَ وَبَیْنَ الشَّفَاعَۃِ وَاِنِّیْ اخْتَرْتُ الشَّفَاعَۃَ فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللہِ نَنْشُدُکَ بِاللہِ وَالصُّحْبَۃِ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ اَھْلِ شَفَاعَتِکَ قَالَ: فَاَنْتُمْ مِنْ اَھْلِ شَفَاعَتِیْ قَالَ: فَلَمَّا رَکِبُوا قَالَ فِاِنِّیْ اُشْھِدُ مَنْ حَضَرَ اَنَّ شَفَاعَتِیْ لِمَنْ مَّاتَ لَا یُشْرِکُ بِاللہِ شیئا من أمتی۔

حضرت عوف بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے رات کے وقت پڑاؤ کیا ‘ ہم میں سے ہر شخص نے اپنی سواری کی بازو کو بچھا لیا ( یعنی آرام کرنے لگا ) راوی کہتے ہیں : رات کے کسی حصے میں ‘ میں بیدار ہوا‘ میں نے دیکھا کہ نبی اکرمﷺ کی اونٹنی کے سامنے کوئی موجود نہیں ہے۔ میں نبی اکرمﷺ کو تلاش کرنے کے لئے نکلا تو مجھے حضرت معاذ بن جبل ؓ اور حضرت عبد اللہ بن قیس ؓ کھڑے نظر آئے۔ میں نے دریافت کیا : اللہ کے رسول کہاں ہیں ؟ ان دونون نے جواب دیا : ہمیں نہیں معلوم ‘ البتہ ہم نے وادی کے بالائی حصے کی طرف سے ایک آواز سنی ہے۔ وہ چکی چلنے کی آواز کی مانند تھی۔ راوی کہتےہیں : ہم کچھ دیر وہیں ٹھہرے رہے‘ پھر نبی اکرمﷺ ہمارے پاش تشریف لائے آپ نے ارشاد فر مایا : میرے پروردگار کی طرف سے ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور اس نےمجھے میری اُمت کے نصف حصے کے حساب اور شفاعت کے بغیر جنت میں داخل ہو جائے (یا مطلق طور پر مجھے ) شفاعت کرنے کے بارے میں اختیار دیا‘ تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا۔ لوگوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر ‘ اپنے ساتھ کا واسطہ دے کر یہ گزارش کرتے ہیں ‘آپ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کر لیں ‘ جو آپ کی شفاعت کے اہل ہوں گے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم لوگ میری شفاعت کے اہل ہو گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب وہ لوگ سوار ہوئے‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’میں یہاں موجود تمام لوگوں کو اس بات کاگواہ بناتا ہوں کہ میری شفاعت میری اُمت کے ہر فرد کو نصیب ہو گی‘ جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ سمجھتا ہو‘‘۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِي الْمَلِيحِ ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 211

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 212

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَھِیْمَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْاَوْزَاعِیُّ قَالَ حَدَّثَنِیْ یَحْیَی بْنُ اَبِیْ کَثِیْرٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ ھِلَالُ بْنُ اِبِیْ مَیْمُونَۃَ قَالَ حَدَّثَنِیْ عَطَاءُ بْنُ یَسَارٍ قَالَ:ُحَدَّثَنِیْ رِفَاعَۃُ بْنُ عَرَابَۃَالْجُھَنِیُّ قَالَ ): صَدَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ مَّکَّۃَ فَجَعَلَ نَاسٌ یَسْتَاْذِنُونَ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ یَاْذَنْ لَھُمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا بَالُ شِقِّ الشَّجَرَۃِ الَّتِیْ تَلِیْ رَسُوْلَ اللہِ اَبْغَضَ اِلَیْکُمْ مِنَ الشِّقِّ الْاٰخَرِ قَالَ: فَلَمْ نَرَ مِنَ الْقَوْمِ اِلَّا بَاکِیًا قَالَ یَقُوْلُ اَبُوْ بَکْرِ اِنَّ الَّذَہْ یَسْتَاْذِنُکَ بَعْدَ ھٰذَا لَسَفِیْہٌ فِیْ نَفْسِیْ فَقَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللہَ وَاَثْنَی عَلَیْہِ وَکَانَ اِذَا حَلَفَ قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ اَشْھَدُ عِنْدَ اللہِ مَا مِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ یُؤْمِنُ بِاللہِ ثُمَّ یُسَدِّدُ اِلَّا سُلِکَ بِہٖ فِی الْجَنَّۃِ وَلَقَدْ وَعَدَنِیْ رَبِّی اَنْ یُّدْخِلَ مِنْ اُمَّتِی الْجَنَّۃَ سَبْعِیْنَ اَلْفًا بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ وَاِنِّیْ لَاَرْجُو اَنْ لَا یَدْخُلُوھَا حتی تتبوؤوا اَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَذَرَارِبِّکُمْ مَسَاکِنَ فِی الْجَنَّۃِ ثُمَّ قَال: اِذَا مَضَی شَطْرُ اللَّیْلِ اَوْثُلُثَاہُ یَنْزِلُ اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اِلَی السَّمَاءِ الدُّنْیَا فَیَقُوْلُ لَا اَسْاَلُ عَنْ عِبَادِیْ غَیْرِیْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَسْاَلُنِیْ فَاُعْطَیَہٗ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَسْتَغْفِرُنِیْ فَاَغْفِرَلَہٗ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَدْعُوْنِیْ فَاَسْتَجِیْبَ لَہٗ حَتّٰی یَنْفَجِرَ الصبح۔ (3:66)

حضرت رفاعہ بن عرابہ جہنی ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرمﷺ کےہمراہ مکہ سے واپس آ رہے تھے۔ لوگوں نے نبی اکرمﷺ سے اجازت لینی شروع کی۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں اجازت عطا کرنا شروع کی‘ پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’کیا وجہ ہے ‘ اللہ کے رسول کی طرف والا درخت کا حصہ‘ تمہارے نزدیک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ نا پسندیدہ ہے ‘‘۔(یعنی تم لوگ میرے ساتھ نہیں چلنا چاہ رہے ) راوی کہتے ہیں : حاضرین میں سے ہر شخص مجھے روتا ہوا نظر آیا۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابو بکرؓ نے یہ کہنا شروع کہا : میرے خیال میں اس کے بعد آپ سے جو شخص اجازت مانگے گا‘ وہ بے وقوف ہو گا۔ پھر نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے‘ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی۔ آپ جب بھی قسم اٹھاتے تھےُ تو یہ کہتے تھے: اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے‘‘۔ (آپ نے فرمایا ) : ’’میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس با کی گواہی دیتا ہوں کہ تم میں سے جو شخص بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو اس کے بعد وہ ٹھیک رہے۔ (یعنی اسلامی احکام پر عمل کرتا رہے) تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا۔ میرے پرور دگار نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے‘ وہ میری اُمت کے ستر ہزار افرا کو حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور مجھے یہ اُمید ہے ‘ وہ لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے‘ جب تک تم لوگ اور تمہارے نیک بیوی بچے جنت میں اپنے ٹھکانوں پر پہنچ نہیں جاتے ‘‘۔ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی: ’’جب نصف رات۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) جب رات ہو جاتی ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ آسمان ددنیا کی طرف نزول کرتا ہے ‘ اور فرماتا ہے: میں اپنے بندوں نے اپنے علاوہ کسی اور کے بارے میں دریافت نہیں کرتا ۔ کون شخص ہے جو مجھ سے مانگتا ہے ‘ تو میں اسے عطا کروں۔ کون شخص ہے ‘ جو مجھ سے مغفرت طلب کرے ‘ تو میں اس کی مغٖفرت کر دوں ۔ کون شخص ہے ‘ جو مجھ سے دعا کرتا ہے‘ تو میں اس کی دعا قبول کروں ‘‘۔ (نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں: ) ایسا صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے۔

رِفَاعَۃُ بْنُ عَرَابَۃَالْجُھَنِیُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،قَالَ: ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَھِیْمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 212

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 213

اَخْبَرَنَا محمد بن الحسن بْنِ مُکْرِمٍ الْبَزَّارُ بِالْبَصْرَۃِ حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ اَسْلَمَ حَدَّثَنَا النَّصْرُ بْنُ شُمَیْلِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حَبَیْبِ بْنِ اَبِیْ ثَابِتٍ وَسُلَیْمَانَ وَعَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ رُفَیْعِ قَالُوْا سَمِعْنَا زَیْدَ بْنَ وَھْبٍ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَتَانِیْ جِبْرِیْلُ فَبَشَّرَنِیْ اَنَّہٗ مَنْ مَّاتَ مِنْ اُمَّتِیْ لَا یُشْرِکُ بِاللہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَاِنْ زَنَی وَاِنْ سَرَقَ۔ قَالَ سُلَیْمَانُ: فَقُلْتُ لِزَیْدٍ: اِنَّمَا یُرْوَی ھٰذَا عَنْ اَبِیْ الدَّرْدَاءِ۔ (3:42)

حضرت ابو ذر غفاری ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ مری اّمت کا جو بھی شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھراتا ہو ‘ اگرچہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو‘ اور اس نے چوری کی ہو‘‘۔ سلیمان نامی راوی کہتے ہیں : میں نے زید نامی راوی سے کہا : یہ روایت تو حضرت ابودرداء ؓ کے حوالے سے نقل کی گئی ہے۔ (امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ یا یہ فرمان : ’’میری امت کا جو شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھراتا ہو‘ تو وہ جنت میں داخل ہو گا‘‘۔ اس سےمراد یہ ہے : اس نے کسی ایسی چیز کا ارتکاب نہ کیا ہو گا ‘ جس کے حوالے سے میں نے جہنم میں داخل ہونے کی وعید سنائی ہو۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہو گا کہ جو شخص کسی کو اللہ کا شریک نہیں نہیں ٹھہراتا اور وہ اس حالت میں مر جاتا ہے وہ لامحالہ طور پر جنت میں داخل ہو گا‘ اگرچہ اس کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے اسے ایک متعین مدت تک عذاب دیا جائے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← حَبَیْبِ بْنِ اَبِیْ ثَابِتٍ وَسُلَیْمَانَ وَعَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ رُفَیْعِ ← شُعْبَةُ، ← النَّصْرُ بْنُ شُمَیْلٍ، ← خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ، ← محمد بن الحسن بْنِ مُکْرِمٍ الْبَزَّارُ بِالْبَصْرَۃِ

Hadith 213

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 214

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ اْمُثَنّٰی قَالَ حدثنا علی بن الجعد قال أَکْبَرْنَا بن ثَوْبَانَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ مَّکْحُولٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَعَنْ عُمَیْرِ بْنِ ھَانِیْءٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنْمِ اَنَّہٗ سَمِعَ مُعَاذَ بن جبل عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ: حَدِّثْنِیْ بِعَمَلِ یُدْخِلُنِی الْجَنَّۃَ قَالَ بَخِ بَخِ سَاَلْتَ عَنْ اَمْرٍ عَظِیْمٍ وَھُوَ یَسِیْرٌ لِمَنْ یَّسَّرَہُ اللہُ بِہٖ تُقِیْمُ الصَّلَاۃَ الْمَکْتُوبَۃَ وَتُؤْتِی الزَّکَاۃَ الْمَفْرُوضَۃَ وَلَا تُشْرِکُ بِاللہِ شَیْئًا ۔ (1:11) توضیح مصنف: قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہ تعالی عَنْہُ: قَوْلُہٗ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا تُشْرِکْ بِاللہِ شَیْئًا، اَرَادَ بِہٖ الْاَمْرَبِتَرْکِ الشِّرْکِ

عبد الرحمٰن بن غنم بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو نبی اکرمﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہوئے سنا ‘ حضرت معاذ ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : آپ مجھے ایسے کسی عمل کے بارے میں بتائیے ‘ جو مجھے جنت میں داخل کر دے ‘ تو نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: تم نے بڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے اور یہ اس کے لئے آسان ہے‘ جس کے لئے اللہ تعالیٰ اسے آسان کردے۔ ’’تم فرض نمازیں ادا کرو ‘ زکوٰۃ ادا کرو اور (کسی کو ) اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ (امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ‘‘ اس سے مراد شرک کو ترک کرنے کا حکم دینا ہے۔

«بَخٍ، بَخٍ سَأَلْتَ ← بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، ← قُلْتُ ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عبد الرحمن بن غنم أنه ← عُمَیْرُ بْنُ ھَانِیْءٍ ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← مَكْحُولٌ ← أَبِيهِ ← أَکْبَرْنَا بن ثَوْبَانَ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ اْمُثَنّٰی

Hadith 214

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr