صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 166
اَخْبَرَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْحَنْظَلِیُّ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ حَدَّثَنَا سُھَیْلُ بْنُ اَبِیْ صَالِحِ عَبْدِاللہِ بْنِ دِیْنَارِ عَنْ اَبِیْ صَالِحِ عَنْ اَبی ھریرۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اْلاِیمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَۃً اَوْبِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ شُبْعَۃً فَاَرْ فَعُھَا لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَدْنَاھَا اِمَا طَۃُ الْاَذَی عَن الطریق والحیا ءشوبۃ من الایمان۔(1:1)
حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ایمان کے ساٹھ سے کچھ ریادہ شعبے ہیں‘‘ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ’’ ستر سے کچھ زیادہ شعبے ہیں جن میں سب سے بلند ترین ’’ لاالہٰ الا اللہ‘‘ پڑھنا ہے ‘ اور سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے‘ اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے‘‘۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں) نبی اکرم ﷺ نے اس روایت میں اس چیز کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جو تمام مخاطب لوگوں پر تمام حالتوں میں فرض ہے‘ اور آپ نے اسے ایمان کا بلند ترین درجہ قراردیاہے۔ پھر نبی اکرمﷺ نے اس چیز کی طرف اشارہ کیا ہے‘ جو مخاطب لوگوں کے لئے تمام اوقات میں نقل ہے‘ اور آپ نے اسےایمان کا سب سے نیچےکا درجہ قرار دیا ہے۔ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ چیز جو مخاطب لوگوں پر تمام حالتوں میں فرض کی گئی ہے‘ وہ ہر وہ چیز جو بعض مخاطب لوگوں پر بعض حالتوں میں فرض کی گئی ہے‘ اور ہر وہ چیز جو مخاطب لوگوں کے لئے ہر حالت میں نفل ہے یہ سب ایمان کا حصہ ہیں۔ جہاں تک دو عددوں میں سے ایک کے بارے میں شک کا تعلق ہے‘ تو یہ شک سہیل بن ابو صالح نامی راوی کو اس روایت میں ہو ا ہے۔ یہ بات معمر نے سہیل کے حوالے سے اسی طرح بیان کی ہے‘ اور سلیمان بن بلال نے اسے عبداللہ بن دینار کے حوالے سے ابوصالح کے حوالے سے مرفوٖغ حدیث کے طور پر نفل کیاہے۔ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ’’ ایمان کے ستر اور کچھ شعبے ہیں‘‘ انہوں نے کسی شک کے بغیر یہ بات ذکر کی ہے۔ ہم نے اس جگہ پر سلیمان بن بلال کی نفل کر دہ ورایت کو پرے کردیا ہے ‘ اور سہیل بن ابو صالح کی نفل کر دہ روایت پر اکتفا کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے : تاکہ ہم یہ بات بیان کردیں کہ روایت کے الفاظ میں شک نبی اکرمﷺ کے کلام کا حصہ نہیں ہے بلکہ یہ سہیل بن ابو صالح کا کلام ہے جیسا کہ ہم نے یہ بات ذکر کی ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُھَیْلُ بْنُ اَبِیْ صَالِحِ عَبْدِاللہِ بْنِ دِیْنَارِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ
Hadith 166
