Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 166

اَخْبَرَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْحَنْظَلِیُّ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ حَدَّثَنَا سُھَیْلُ بْنُ اَبِیْ صَالِحِ عَبْدِاللہِ بْنِ دِیْنَارِ عَنْ اَبِیْ صَالِحِ عَنْ اَبی ھریرۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اْلاِیمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَۃً اَوْبِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ شُبْعَۃً فَاَرْ فَعُھَا لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَدْنَاھَا اِمَا طَۃُ الْاَذَی عَن الطریق والحیا ءشوبۃ من الایمان۔(1:1)

حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ایمان کے ساٹھ سے کچھ ریادہ شعبے ہیں‘‘ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ’’ ستر سے کچھ زیادہ شعبے ہیں جن میں سب سے بلند ترین ’’ لاالہٰ الا اللہ‘‘ پڑھنا ہے ‘ اور سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے‘ اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے‘‘۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں) نبی اکرم ﷺ نے اس روایت میں اس چیز کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جو تمام مخاطب لوگوں پر تمام حالتوں میں فرض ہے‘ اور آپ نے اسے ایمان کا بلند ترین درجہ قراردیاہے۔ پھر نبی اکرمﷺ نے اس چیز کی طرف اشارہ کیا ہے‘ جو مخاطب لوگوں کے لئے تمام اوقات میں نقل ہے‘ اور آپ نے اسےایمان کا سب سے نیچےکا درجہ قرار دیا ہے۔ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ چیز جو مخاطب لوگوں پر تمام حالتوں میں فرض کی گئی ہے‘ وہ ہر وہ چیز جو بعض مخاطب لوگوں پر بعض حالتوں میں فرض کی گئی ہے‘ اور ہر وہ چیز جو مخاطب لوگوں کے لئے ہر حالت میں نفل ہے یہ سب ایمان کا حصہ ہیں۔ جہاں تک دو عددوں میں سے ایک کے بارے میں شک کا تعلق ہے‘ تو یہ شک سہیل بن ابو صالح نامی راوی کو اس روایت میں ہو ا ہے۔ یہ بات معمر نے سہیل کے حوالے سے اسی طرح بیان کی ہے‘ اور سلیمان بن بلال نے اسے عبداللہ بن دینار کے حوالے سے ابوصالح کے حوالے سے مرفوٖغ حدیث کے طور پر نفل کیاہے۔ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ’’ ایمان کے ستر اور کچھ شعبے ہیں‘‘ انہوں نے کسی شک کے بغیر یہ بات ذکر کی ہے۔ ہم نے اس جگہ پر سلیمان بن بلال کی نفل کر دہ ورایت کو پرے کردیا ہے ‘ اور سہیل بن ابو صالح کی نفل کر دہ روایت پر اکتفا کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے : تاکہ ہم یہ بات بیان کردیں کہ روایت کے الفاظ میں شک نبی اکرمﷺ کے کلام کا حصہ نہیں ہے بلکہ یہ سہیل بن ابو صالح کا کلام ہے جیسا کہ ہم نے یہ بات ذکر کی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُھَیْلُ بْنُ اَبِیْ صَالِحِ عَبْدِاللہِ بْنِ دِیْنَارِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ

Hadith 166

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 167

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَ زْدِیُّ حَدَّثَنَا اَبُوْ قُدَامَۃَ عُبَیْدُاللہِ بْنُ سَعِیْدٍ حَدَّثَنَا اَبُوْ عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنْ اَبِیْ صَالِحِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اْلاِیمَانُ بِضْعٌ وستون شعبۃ والحیاء شعبۃ من الایمان ۔ (1:1)

حضرت ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نفل کرتے ہیں : ’’ایمان کے ساٹھ سے زیادہ شعبے ہیں اور حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے‘‘ (امام ابن حبان فرماتے ہیں :) سلیمان بن بلال نے اس روایت کو مختصر کیا ہے انہوں نے سب سے بلند اور سب سے نیچے والے شعبے کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے ستر کی بجائے صر ف ساٹھ کا ذکر کرنے پراکتفا کیا ہے‘ جبکہ رورایت میں ستر اور کچھ شعبے بھی منقول ہے۔ اور یہ ایسی رویت ہے‘ جو تفصیلی ہے‘ اور صحیح اس کے ثبوت میں کو ئی شک نہیں ہے۔ سلیمان بن بلال کی نفل کردہ رویت مختصر ہے‘ اور تفصیلی نہیں ہے جہاں تک لفظ ’’ بضع ‘‘ اور کچھ) کا تعلق ہے‘ تو یہ ایک ایسا اسم ہے‘ جو اعداد کے اجزا ء میں سے کسی ایک پرواقع ہوتا ہے‘ کیونکہ حساب کی بنیاد تین چیزوں پر ہے۔اعداد پر‘ فصول پر اور ترکیب پر۔ جہاں تک اعداد کا تعلق ہے‘ تو وہ ایک سے لے کر نو تک ہوتے ہیں جہاں تک فصول کا تعلق ہے‘ تو وہ دیائیاں‘ سینکڑے اور ہزار ہوتے ہیں ۔ جہاں تک ترکیب کا تعلق ہے‘ تو وہ اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے ‘ جس کا ہم نے ذکر کیا ہے(وہ ترکیب ہے) میں ایک طویل عرصے تک اس روایت کے مفہوم کی تحقیق کرتارہا اس کی وجہ یہ ہے : ہمارا مذہب یہ ہے: نبی اکرم ﷺ نے بھی بات کی ہے وہ کسی فائدے کی وجہ سے کی ہو گی۔ اورآپ کے طریقے میں کو ئی ایسی چیز نہیں ہے‘ جس کامفہوم معلوم نہ ہو ‘ تو میں نے ایمان میں سے نیکیوں کو گننا شروع کیا‘ تو وہ اس تعداد سے کہیں زیادہ تھیں پھر میں نے سنت کی طرف رجوع کیا اور میں نے تمام نیکوں کو گننا شروع کیا جنہیں نبی اکرمﷺ نے ایمان کے حصے کے طور پر شمار کیا ہے‘ تو یہ ستر اور اس کی تعداد سے کچھ کم تھیں ۔ پھر میں نے دوجلدوں کے درمیان پروردگار کے کلام کی طرف رجوع کیا میں نے ایک ایک آیت کو غور سے پڑھا اور ہراس نیکی کو شمارکیا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ایمان کے حوالے سے کیا ہے ‘ تو وہ بھی ستر اور اس سے کچھ کم تھیں۔ پھر میں نے کتاب کو سنت کے ساتھ ملایا اور ان میں سے تکرار کے ساتھ آنے والی ہر چیزوں کو ساقط کردیا‘ تو ہر وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کا حصہ اپنی کتاب میں شمار کیا ہے۔ اور ہر وہ نیکی جسے نبی اکرم ﷺ نے ایمان کا حصہ اپنی سنت میں قراردیا ہے وہ 79شعبے تھے۔نہ اس سے زیادہ تھے نہ اس سے کم تھے۔ تو مجھے پتہ چل گیا کہ نبی اکرمﷺ کی اس روایت میں مراد یہ ہے : ایمان کے ستر اور کچھ شعبے کتاب و سنت میں منقول ہیں ‘تو میں نے یہ مسئلہ مکمل طور پر ایمان کے شعبوں کے تذکرے کے ہمراہ کتاب ایمان کی صفت اور اس کے شعبے میں ذکر کردیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس میں غور و فکر کرنیوالےشخص کے لئے کفایت ہو جائے گی اور اب مجھے اس بحث کو یہاں دوبارہ ذکرکرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس بات کی دلیل کہ ایمان کے شعبوں کے حوالے سے اجزاء ہوتے ہیں۔نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان ہے‘ جو عبداللہ بن دینار حوالے سے منقول روایت میں ہے۔ ’’ایمان کے ستر اور کچھ شعبے ہوتے ہیں ‘ جن میں سب سے بلند اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ایمان کے شعبوں کے اجزا ءمیں سے ایک جز کا ذکر کیا ہے‘ جو سارے کا سارا تمام مخاطب لوگوں پر تمام حالتوں میں فرض ہے‘ کیونکہ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ۔ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ‘ یا فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر یا جنت پر یا جہنم پر اور اس جیسی دیگر چیزوں پر ایمان رکھنا اس شعبے کے اجزاء میں سے ایک ہے ۔ بلکہ نبی اکرمﷺ نے ان میں سے صرف ایک جز پر اکتفاکیا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا ہے:اس کا بلند ترین شعبہ ’’ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘‘ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتے ہےکہ یہ تمام اجزاء:اس شعبے سے تعلق رکھتے ہے یہ تمام کے تمام ایمان کا حصہ ہیں پھر آپ نے عطف کیا اور لفظ ’’ استعمال کیا اور فرمایا :اس میں سے سب سے کمتر راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا نا ہے ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اس کےشعبوں میں سے ایک جز کا ذکر کیا ہے ‘ جو نفل ہے‘ اور یہ تمام اوقات میں مخاطب لوگوں کے لئے نفل کی حیثیت رکھتا ہے‘ اور یہ چیز اس بات پردلالت کرتی ہے کہ وہ تمام اجزاء‘ جو اس شعبے سے تعالق رکھتے ہیں ‘ اور ان دوذکر شدہ اجزاء کے درمیان موجود شعبوں کے تمام اجزاءمیں سے ہر ایک جز ۔ اس کا تذکرہ ان دوروایات میں ہے‘ جو ایمان کا بلند تر مرتبہ اور کمترین مر تبہ ہیں۔ یہ سب کے سب ایمان کا حصہ ہے ۔ جہاں تک نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا تعلق ہے۔ ’’حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے‘‘ تو یہ ایسے الفاظ ‘جن کا اطلاق کسی چیز پر اس کے سبب کے کنارے کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس کی صورت یوں ہے کہ جیسا ایک جبلت ہے‘ جو انسان میں موجود ہوتی ہے ‘تو کچھ لوگ ایسے ہیں‘ جن میں یہ زیادہ ہوتی ہے ‘ اور کچھ میں یہ کم ہوتی ہے‘تو یہ اس چیز کی صحیح دلیل ہے کہ ایمان زیادہ بھی ہوتا ہے‘ اور اس میں کمی بھی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے :تمام لوگ حیا کے اعتبار سے ایک ہی مرتبے کے نہیں ہوتے ہیں‘تو جب ایمان کے ایک مرتبے کےبارے میں ان لوگوں کا برابر ہونا ناممکن ہے‘تو یہ بات درست ہوگی کہ جس میںیہ زیادہ پائی جائے گی اس کا یمان زیادہ ہو گا ‘اور جس میں یہ کم پائی جائیگی اس کا ایمان کم ہوگا۔ تو اس کا یمان ناقص ہو گا ‘ اور حیا اپنے وجود کے اعتبار سے ایک ایسی چیز ہے‘ جو آدمی اور اس چیز کے درمیان رکاوٹ بن جات ہے‘ جو چیز آدمی کو اس کے پروردگار سے دور کرتی ہے‘اور ممنوعہ چیزوں سے تعلق رکھتی ہے ‘ تو گویا کہ اللہ کے نبی حضرت محمدﷺ نے ممنوعہ چیزوں کو ترک کرنے کو ایمان کا ایک شعبہ قراردیا ہے‘ اور اس کے لئے آپ نے لفظ حیا استعمال کیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے یہ بات ذکر کی ہے۔

اْلاِیمَانُ بِضْعٌ وستون شعبۃ والحیاء شعبۃ من الایمان ← اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ النَّبِیِّ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدِاللہِ بْنِ دِیْنَارٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← اَبُوْ قُدَامَۃَ عُبَیْدُاللہِ بْنُ سَعِیْدٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَ زْدِیُّ

Hadith 167

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 168

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْھَالِ الضَّرِیْرُحَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعِ حَدَّثَنَا کَھْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ یَّحْیَی بْنِ یَعْمَرَ قَالَ خَرَ جْتُ اَنَا َو حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحِمْیَرِیُّ حَاجَّیْنِ اَوْ مُعْتَمِرَیْنِ وَقُلْنَا لَعَلَّنَا لَقِیْنَا رَجُلًا مِنْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فسالہ عن القدر فلقینا بن عُمَرَ فَظَنَنْتُ اَنَّہٗ یَکِلُ الْکَلَامَ اِلَیَّ فَقُلْنَا :یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَدْ ظَھَرَ عِنْدَنَا أناس یقرؤون الْقُرْاَنَ یَتَقَفَّرُوْنَ الْعِلْمَ تَقَفُّرً ایَزْعُمُوْنَ اَنْ الَا قَدَرَ وَاَنَّ الْاَ مْرَ اُنُفٌ قَالَ:فَاِنْ لَقِیْتَھُمْ فَاَ عْلِمْھُمْ اَنِّیْ مِنْھُمْ بَرِی ءٌ وَھُمْ مِنِّیْ بَرِاَ ءُ الذی یحلف بہ بن عُمَرَ لَوْ اَنَّ اَحَدَھُمْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحُدٍ ذَھَبًا ثُمَّ لَمْ یُؤْمِنْ بِالْقَدَرِ لَمْ یُقْبَلْ مِنْہُ ثُمَّ قَالَ :حَدَّ ثَنَیْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ :بَیْنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ جَالِسًا اِذْ جَاءَ شَدِیدُ سَوَادِ اللِّحْیَۃِ شَدِیدُ بَیَاضِ الثِّیَاب فَوَضَعَ رُکْبَتَہٗ عَلٰی رُکْبَۃِ النِّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ مَا الْاِ سْلَامُ قَالَ:شَھَادَۃِ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاِقَامِ اصَّلَاۃِ وَاِیتَاءُ الزَّکَاۃِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ وَحَجُّ الْبَیْتِ قَالَ : صَدَقْتَ فَعَجِبْنَا مِنْ سُؤَ الِہٖ اِیَّاہُ قَالَ:فَاَ خْبِرْنِیْ مَا الْاِیمَانُ ؟ قَالَ:اَنْ تومن باللہ وملای ئکتہ و کتبہ ورسلہ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْقَدَرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہِ حُلْوِہِ قَالَ:صَدَقْتَ قَالَ :فَعَجِبْنَا مِنْ سُؤَالِہٖ ایاہ وَتَصْدِ یْقِہٖ اِیَّاہُ قَالَ:فَاَخْبِرْنِیْ مَاالْاِحْسَانُ ؟ قَالَ: اَنْ تَعْبُدَاللہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ قَالَ فَاَخْبِرْنِیْ مَتَی السَّاعَۃُ قَالَ: مَا الْمَسْؤُولُ بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ قَالَ: فَمَا اَمَارَتُھَا ؟ قَالَ: اَنْ تَلِدَالْاَمَۃُ رَبَّتَھَا وَاَنْ تَرَی الْحُفَا ۃَ الْعُرَاۃَ رِعَاءَ الشَّاءِ یَتَطَاوَلُوْنَ فِی الْبُنْیَان قَالَ: فَتَوَلّٰی وَذَھَبَ فَقَالَ عُمَرُ فَلَقِیَنِی النَّبِی صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَالِثَۃٍ فَقَالَ :یَا عُمَرُ اَتَدْرِیْ مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ :ذَاکَ جِبْرِیْلُ اَتَا کُمْ یعلمکم دینکم ۔ (3:30)

یحیٰ بن یعمر بیان کرتے ہیں : میں اور حمید بن عبدالرحمنٰ حمیری حج کرنے کے لئے یا شاید عمرہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے۔ ہم نے یہ سوچا : ہو سکتا ہے‘ ہماری ملاقات نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کسی شخص سے ہو جائے ‘ تو ہم ان سے تقدیر کے بارے میں دریافت کر لیں گے۔ پھر ہماری ملاقات حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ہوئی۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ میرا سا تھی یہ چاہے گا کہ اس بات کا آغاز میں کروں ہم نے عرض کی: اے ابو عبدالرحمٰن ! ہمارے ہاں کچھ لوگ پیدا ہوئے ہیں ‘ جو قرآن پڑھتے ہیں اور علم حاصل کرتے ہیں ‘ لیکن وہ یہ گمان رکھتے ہیں ‘ تقدیر کہ کو ئی حیثیت نہیں ہے۔ اور معاملہ ( کسی گزشتہ تقدیر کے بغیر ) نئے سرے سے شروع ہوتا ہے۔ تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا : اگر تمہاری ان لوگوں سے ملا قات ہو‘ تو انہیں بتا دینا کہ میران سے کو ئی تعلق نہیں ہے‘اور ان کا میر ے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس ذات کی قسم ! جس کا نا م لے کر عبداللہ بن عمر قسم اٹھاتا ہے ‘ اگر ان لوگوں میں سے کوئی ایک شخص احد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے اور ہو تقدیر پر ایمان نہ رکھتا ہو ‘ تو اس کا یہ عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔ پھر حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بتایا : حضرت عمربن خطاب ؓ نے مجھے یہ بات بنائی ہے‘وہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے۔ اسی دوران ایک شخص وہاں آیاجس کی داڑھی انتہائی سیاہ تھی اور اس کے کپڑے انتہائی سفید تھے ۔ اس نے اپنا گھٹنا نبی اکرم ﷺ کے گھٹنے کے ساتھ ملادیا اور عرض کی : اے محمدﷺ! اسلام سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالٰ کے علاوہ اور کو ئی معبود نہیں ہے ‘نماز قائم کرنا‘ زکوٰۃ ادا کرنا ‘رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کی حج کرنا۔ اس شخص نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے۔ حضرت عمر ؓ کہتے ہیں : ہمیں اس شخص کے نبی اکرمﷺ سے سوال کرنے پر اور آپ کی بات کی تصدیق کرنے پر حیرت ہوئی۔ اس شخص نے کہا : آپ مجھے بتایے کہ ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ ‘ اس کے فرشتوں ‘ اس کی کتابوں ‘ اس کے رسولوں ‘ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور تقدیر پر ایمان رکھو‘ خواہ وہ اچھی ہو یا بری ہو۔ میٹھی ہو ‘ یا کڑوی ہو۔ اس شخص نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ہے۔حضرت عمر ؓکہتے ہیں : ہمیں اس شخص کے نبی اکرم ﷺ سے سوال کرنے پر اور آپ کے جواب کی تصدیق کرنے پر حیرت ہوئی ۔اس شخص نے کہا :آپ مجھے بتائیےاحسان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:یہ کہ تم اللہ تعالیٰ یوں عبادت کرو جیسے اسے دیکھ رہے ہو ‘ اور اگر تم اسے نہیں تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ اس شخص نے کہا :آپ مجھے بتائیے کہ قیامت کب آے گی؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ؛ اس بارے میں جس شخص سوال کیا گیا ہے ‘ وہ سوال کرنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا۔ اس شخص نے دریافت کیا : اس کی نیشانیاں کیا ہیں؟نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ؛ یہ کہ کنیز اپنے آقا کو جنم دے گی۔ یہ کہ تم برہنہ پاوں ‘ برہنہ جسم یعنی نا کافی لباس والے بکریوں کے چرواہوں کو دیکھو گے ۔وہ ایک دوسرے کے مقابیل میں بلند عمارات تعمیر کریں گے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ شخص مڑکر چلا گیا۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں : تین دن بعد میری ملاقات نبی اکرمﷺ سے ہوئی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے عمر!تم جانتے ہو وہ شخص کون تھا؟ میں نے عرض کی: جی نہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : وہ حضرت جبرائیل ؑ تھے۔ وہ تمہارے پاس اس لئے آے تھے تاکہ تمہیں تمہارے دین کی تعلیم دیں۔

یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عبدِاللهِ بنِ بريدةَ، ← کهمس بن الحسن ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 168

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 169

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ زُھَیْرٍ حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ بِسْطَامٍ حَدَّثَنَا اَبُوْ دَاوٗدَ حَدَّثَنَاشُعْبَۃُ عَنِ الْاَعْمَشِ وَحَبِیْبِ بْنِ اَبِیْ ثَابِتٍ وَعَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ رُفَیْعِ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَھْبِ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ؟: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اللہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ فَقُلْتُ :وَاِنْ زَنَی وَاِنْ سَرَقَ قَالَ: وَاِنْ زَنَی وَاِنْ سرق۔(3:26)

حضرت ابو ذر غفاری ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص لاالہ الا اللہ پڑ لے وہ جنت میں داخل ہو گا۔‘‘ میں نے عرض کی : اگرچہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو‘ اگر چہ اس نے چوری کی ہو ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اگرچہ اس نے زناکیا ہو ‘ اگرچہ اس نے چوری کی ہو ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ وَحَبِیْبِ بْنِ اَبِیْ ثَابِتٍ وَعَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ رُفَیْعِ ← اَبُوْ دَاوٗدَ حَدَّثَنَاشُعْبَۃُ ← اِبْرَاھِیْمُ بْنُ بِسْطَامٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ،

Hadith 169

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 170

اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَبْدِاللہِ بْنِ یَزِیْدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّۃِ حَدَّثَنَا ھِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا عِیْسَی بْنُ یُوْنُسَ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَھْبٍ قَالَ: اَشْھَدُ لَسَمِعْتُ اَبَاذَرِّ بِالرَّبَذَۃِ یَقُوْلُ : کُنْتُ اَمْشِیْ مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِحَرَّۃِ الْمَدِیْنَۃِ فَاسْتَقْبَلَنَا اُحُدٌ فَقَالَ :یَا اَبَا ذَرٍّ مَا یَسُرُّنِیْ اَنَّ اُحُدً الِیْ ذَھَبَا اُمْسِیْ وَعِنْدِیْ مِنْہُ دِیْنَارٌ اِلَّا اَصْرِفُہُ لِدَیْنٍ ثُمَّ مَشٰی وَمَشَیْتَ مَعَہٗ فَقَالَ :یَا اَبَاذَرٍّ‘ قُلْتُ: لَبَّیْکَ یَارَسُوْلَ اللہِ وَسَعْدَیْکَ فَقَالَ: اِنَّ الْاَ کْثَرِیْنَ ھُمُ اْلَاقَلُّونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُمَّ قَالَ: یَا اَبَا ذَرٍّ لَا تَبْرَحْ حَتّٰی اٰتِیَکَ؟ ثُمّ َانْطَلَقَ حَتّٰی تَوَاریٰ فَسَمِعْتُ صَوْتًا فَقُلْتُ اَنْطَلِقُ ثُمَّ زَکَرْتُ قَوْلَ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِیْ فَلَبِثْتُ حَتّٰی جَاءَ فَقُلْتُ یَارَسُوْلَ اللہِ اِنِیْ سَمِعْتُ صَوْتًا فَاَرَدْتُ اَنْ اُدْرِکَکَ فَذَکَرْتُ قَوْلَکَ لِیْ فَقَالَ: ذٰلِکَ جِبْرِیْلُ اَتَانِیْ فَاَخْبَرَنِیْ اَنَّہٗ مَنْ مَّاتَ مِنْ اُمَّتِیْ لَایُشْرِکُ بِاللہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللہِ وَاِنْ سَرَقَ ؟ قَالَ: وَاِنْ زنی وان سرق۔

زید بن وہیب بیان کرتے ہیں: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ربذہ کے مقام پر حضرت ابوذر غفاریؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ کی پتھریلی زمین پر نبی اکرمﷺ کے ہمراہ چلتا ہوا جارہاتھا۔ ہمارے سامنے ’’ پہاڑ آگیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابو ذر !مجھے یہ بات پسند نہیں ہے میرے پاس اُحد پہار جتنا سونا ہو‘ اور پھر شام کے وقت ان میں سے ایک دینار میرے پاس باقی رہے۔ ماسوائے اس کے ‘ جسے میں نے قرض کی ادئیگی کے لئے رکھا ہو ۔ پھر نبی اکرمﷺ چلتے رہے۔آپ کےہمراہ میں بھی چلتا رہا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اے ابوذر میں نے عرض کی : یارسول اللہ میں حاضر ہوں ۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا: (دنیا میں مال و دلت کے اعتبار سے) کثرت رکھنے والے لوگ قیامت کے دن ( اجروثواب سے کے اعتبار سے) قلت والے ہوں گے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم یہیں رہنا جب تک میں تمہارے پاس نہ آ جاتا۔ پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ‘ یہاں تک کہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئے پھر میں نے ایک آ واز سنی میں نے سوچا میں آگے جاتا ہوں۔ لیکن پھر مجھے نبی اکرم ﷺ کا فرمان یاد آگیا‘ جو اآپ نے مجھ سے فرمایا تھا‘ تو میں وہاں ٹھہرار ہا‘ یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ تشریف لے آے تھے۔ میں نے عرض کی : یارسول اللہ!میں نے آواز سنی تھی۔ پہلے میں نے ارادہ کیا کہ میں آپ کے پاس آتا ہوں ‘ پھر مجھے آپ کا فرمان یاد آگیا ۔جو آپ نے مجھ دے فرمایا تھا۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ جبرائیل ؑ تھے ‘ جو میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت کا جو بھی شخص اس حالت میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو‘ تو وہ شخص جنت میں داخل ہوگا۔ (حضرت ابوذؓ ر کہتے ہیں)میں نے عرض کی: یارسول اللہ! اگر چہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو‘ اور اگرچہ ا س نے چوری کی ہو؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو‘ اگرچہ اس نے چوری کی ہو۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوذر داءؓکے حوالے سے منقول ہے۔

زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَیْنُ بْنُ عَبْدِاللہِ بْنِ یَزِیْدَ الْقَطَّانُ

Hadith 170

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 171

:اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَہَ حَدَّثَنَا اَبُوْ خَالِدٍ الْاَحْمَرُ عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ الْاَشْجَعِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ اَبِیْ یَقُوْلُ: رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَنْ وَحَّدَ اللہَ وَکَفَرَ بِمَا یُعْبَدُ مِنْ دُوْنِہٖ حرم مالہ ودمہ وحسابہ علی اللہ۔(3:26)

ابو مالک اسجعی بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوے سنا ہے ‘ وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺکو یہ بات ارشاد فرماتے ہوے سنا ہے۔ ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کرے اور اس کے علاوہ جتنی چیزوں کی عبادت کی جاتی ہے‘ ان کا انکار کرے ‘ تو اس شخص کا مال اور جان قابل احترام ہوں گے اور اس شخص کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہوگا۔‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 171

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 172

اخبرنا عمر بن محمد الھمدانی حدثنا محمد بن بشار حدثنا محمد بن جعفرحدثنا شعبۃ عن ابی جمرۃ قال: کُنْتُ اُتَرْجِمُ بَیْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَیْنَ النَّاسِ فَاَتَتْہُ امْرَاَۃٌ تَسْاَلُہٗ عَنْ نَبِیذِ الْجَرِّ فَقَالَ :اِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَیْسِ اَتَوْا رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :مَنِ الْوَفْدُ اَوْ مَنِ الْقَوْمُ؟ قَالُوْا: رَبِیْعَۃُ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ اَوْ بِالْوَفْدَ غَیْرَ خَزَایَا وَالَا نَدَامَی قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللہ ِاِنَّا نَاْتِیْکَ مِنْ شُقَّۃٍ بَعِیْدَۃٍ اِنَّ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ ھٰذَا الْحَیُّ مِنْ کُفَّارِ مُضَرَ وَاِنَّا لَا نَسْتَطِیْعُ اَنْ نَاْتِیَکَ الَا فِیْ شَھْرٍ حَرَامٍ فَمُرْنَا بِاَمْرٍ نُخْبِرُ بِہٖ مَنْ وَرَاءَ نَا وَنَدْ خُلُ بِہِ الْجَنَّۃَ قَالَ: فَاَمَرَ ھُمْ بِاَرْبَعِ وَنَھَا ھُمْ اَرْبَعِ اَمَرَھُمْ بِا لْاِیمَانِ بِاللہ ِوَحْدَہٗ وَقَالَ: ھَلْ تَدْرُوْنَ مَاالْاِیمَانُ بِاللہِ وَحْدَ ہٗ؟ قَالُوْا: اَللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ قَالَ: شَھَادَۃُ اَنْ لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًارَسُوْلُ اللہُ وَاِقَامِ الصَّلَاۃِ وَاِیتَاءِ الزَّکَاۃِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ وَاَنْ تُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ وَنَھَا ھُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ شُعْبَۃُ وَرُبَّمَا قَالَ وَالنَّقِیرِ وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَیَّرِ وَقَالَ احْفَظُوہُ وَاَخْبِرُوْہُ من ورا ء کم ۔(3:26)

ابو حمزہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کے فرائض سر انجام دیتا تھا ۔( یعنی جب حضرت عبداللہ بن عباس ؓ گورنر تھے تو میں ان کا سیکرٹری تھا) ایک مرتبہ ایک خاتون ان کے پاس آئی وہ ان سے مٹکے کی نبیذ کے بارے میں دریافت کرنا چاہتی تھی‘ تو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے بتایا : عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : یہ کہاں کا وفد ہے‘اور کون سی قوم ہے؟ انہوں نے جواب دیا :ربیعہ ( قبیلے سے ہمارا تعلق ہے)۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس قوم (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں )اس وفد کو خوش آمدید جو کسی رسوائی اور ندامت کے بغیر ہو۔ ان لوگوں نے عرض کی : یارسو ل اللہ ! ہم دوردراز کے علاقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہو ے ہیں۔ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے کفار کا قبیلہ حائل ہے۔ اس لئے ہم صرف حرمت والے مہینوں میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ آپ ہمیں کسی ایسی چیز کا حکم دیجئے ‘ جسے ہم اپنے پیچھےوالوں کو بتا دیں اور اس کہ وجہ سے ہم لوگ جنت میں داخل ہو سکیں۔ حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺنے انہیں چارباتوں کا حکم دیا اور انہیں چار چیزوں سے منع کیا ۔ آپ نے انہیں ’’صرف اللہ تعالیٰ پر ‘‘ ایمان رکھنے کا حکم دیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟’’صرف اللہ تعالیٰ پر ‘‘ ایمان رکھنے سے مراد کیا ہے؟ تو ان لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی ٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ اور بے شک حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں (مزیداحکام یہ ہیں ) نماز قائم کرہ ‘ زکوٰۃ اداکرنا‘ رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم مال ِغنیمت میں سے خمس ادا کرو۔ ( حضرات ابن عباس ؓ کہتے ہیں ) نبی اکرم ﷺ نے انہیں دباٖء ‘ حنتم ‘ مزفت اور نقیر ( استعمال کرنے سے منع کیا ) یہاں شعبہ نامی راوی بعض اوقات لفظ نقیرنقل کرتے ہیں اور بعض اوقات لفظ مقیر نقل کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ان باتوں کو یاد کرلو اور اپنے پیچھے موجودلوگوں کو ان کے بارے میں بتادینا۔

نَبِيذِ الْجَرِّ» ← کُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْأَلُهُ ← أَبِي جَمْرَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 172

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 173

اَخْبَرَنَا مَحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا یُوْسُفُ بْنُ وَاضِحِ الْھَاشِمِیُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیَمَانَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ یَّحْیَی بْنِ یَعْمَرَ قَالَ قُلْتُ :یَااَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ یَعْنِیْ لِا بْنِ عُمَرَ اِنَّ اَقْوَامًا یَزْ عُمُوْنَ اَنْ لَیْسَ قَدَرٌ قَالَ: ھَلْ عِنْدَ نَا مِنْھُمْ اَحَدٌ ؟ قُلْتُ :لَا قَالَ: فَاَبْلِغْھُمْ عَنِّیْ اِذَا لَقِیْتَھُمْ اِنَّ ابْنَ عُمَرَ یَبْرَاُ اِلَی اللہِ مِنْکُمْ وَاَنْتُمْ بُرَآءُ مَنْہُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْسنُ الْخَطَّابِ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیْ اُنَاسِ اِذْجَاءَ رَجُلٌ لَیْسَ عَلَیْہِ سَحْنَا ءُ سَفَرٍ وَلَیْسَ مِنْ اَھْلِ یَتَخَطَّی حَتّٰی وَرَکَ فَجَلَسَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ مَا الْاِسْلَامُ ؟ فَقَالَ :الْاِسْلَامُ اَنْ تَشْھَدَ اَنْ لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاَنَّ محمد رَسُوْلُ اللہِ وَاَنْ تُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ وَتَحُجَّ وَتَعْتَمِرَوَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَاَنْ تُتِمَّ الْوُضُوْءَوَ تَصُومَ رَمَضَانَ قَالَ: فَاِ ذَا فَعَلْتُ ذٰلِکَ فَاَنَا مُسْلِمٌ؟ نَعَمْ قَالَ: صَدَقْتَ قَالَ: یَا مُحَمَّدُ مَا الْاِیمَانُ ؟ قَالَ: اَنْ تُؤْمِنَ بِاللہِ وَمَلَائِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَتُؤْمِنَ بِالْجَنَّۃِ وَالنَّارِ وَالْمِیْزَانِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہِ قَالَ: فَاِذَا فَعَلْتُ ذٰلِکَ فَاَنَا مُؤْمِنَ؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ: صَدَقْتَ قَالَ: یَامُحَمَّدُ مَا الْاِحْسَانُ ؟ قَالَ: الْاِحْسَانُ اَنْ تَعْمَلَ لِلہِ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنَّکَ اِنْ لَاتَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ قَالَ: فَاِذَافَعَلْتُ ھٰذَافَاَنَا مُحْسِنٌ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: صَدَقْتَ قَالَ: فَمَتَی السَّاعَۃُ؟قَالَ: سُبْحَانَ اللہِ مَاالْمَسْؤُولُ عَنْھَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَلکِنْ اِنْ شِئْتَ نَبَّاْتُکَ عَنْ اَشْرَاطِھَا قَالَ: اَجَلْ قَالَ: وَاِذَا رَاَیْتَ الْعَالَۃَ الْحُفَاۃَ الْعُرَاۃَ یَتَطَاوَلُوْنَ فِی الْبِنَاءِ وَکَانُوْا مُلُوکًا قَالَ :مَاالْعَالَۃُ الْحُفَاۃُ الْعُرَاۃُ قَالَ: الْعُرَیْبُ قَالَ: وَاِذَارَاَیْتَ الْاَ مَۃَ تَلِدُ رَبَّتَھَا فَذٰلِکَ مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَۃِ قَالَ: صَدَقْتَ ثُمَّ نَھَضَ فَوَلّٰی فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :عَلَیَّ بِالرَّجُلِ فَطَلَبْنَاہُ کُلَّ مَطْلَبٍ فلم نقدرعلیہ فقال رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ وَسَلَّمَ: ھَلْ تَدْرُوْنَ مَنْ ھٰذَا؟ ھٰذَا جَبْرِیْلُ اَتَا کُمْ لَیُعَلِّمَکُمْ دِیْنکُمْ خُذُوْا عَنْہُ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا شُبِّہِ عَلَیَّ مُنْذُ اَتَانِیْ قَبْلَ مَرَّتِیْ ھٰذِہِ وَمَا عَرَفْتُہٗ حَتّٰی وَلَّی۔(1:1)

یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن !( یعنی انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے یہ کہا) کچھ لوگ ہیں ‘ جو اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں تقدیر کی حقیقت نہیں ہے ‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے دریافت کیا : کیا ہمارے ہاں ان لوگوں میں سے کوئی شخص ہے؟ انہوں نے جواب دیا:جی نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا : جب تمہاری ان لوگوں کے ساتھ ملاقات ہو ‘ تو تم میری طرف سے انہیں یہ پیغام پہنچا دینا کہ عبداللہ بن عمر ؓ کہ بارگاہ میں تم سے بری الذمہ ہونے کا اعتراف کرتا ہے ۔ اور تمہارا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے ہمیں یہ بات بیان کی تھی۔ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوے تھے ۔ اسی دوران ایک شخص آیا جس پر سفر کی کوئی علامت اور ہو شہر کا رہنے والا بھی نہیں تھا۔ وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے آ کر نبی اکرم ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس نے عرض کی : اے حضرت محمد ﷺ ! اسلام سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسلام یہ ہے ‘ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور بے شک حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ‘ تم نماز قائم کرو ‘تم زکوٰۃ ادا کر‘ تم حج ‘ عمرہ کرو‘ تم غسل جنابت کرو وضو مکمل کرو اور تم رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے دریافت کیا : جب میں ایسا کروں گا ‘ تو کیا میں مسلمان ہوں گا؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں ۔ اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا ہے۔ اس نے کہا : اے حضرت محمدﷺ !ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ ‘ اس کے فرشتوں ‘ اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو۔ تم جنت ‘ جہنم اور میزان پر ایمان رکھو۔ تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان رکھو۔ تم تقدیر پر ایمان رکھو ‘ خواہ وہ اچھی ہو‘ یابری ہو۔ اس نے دریافت کیا : اے حضرت محمد ﷺ ! احسان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: احسان یہ ہے ‘ تم عمل کو اللہ تعالیٰ کے لئے اس طرح کو کہ تم اسے دیکھ رہے ہو ‘ اور اگرتم اسے نہیں دیکھ رہے‘ تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ اس نے دریافت کیا :قیامت کب آے گی؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ ! اس بارے میں جس سے سوا ل کیا گیا ہے ‘ وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیںاس کی نیشانیوں کے بارے میں بتادیتا ہوں ۔ اس نے کہا : ٹھیک ہے‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم غریب ‘ ننگے پاؤں اور نامناسب لباس والے لوگوں کو دیکھو کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں بلند عمارتیں تعمیر کریں اور وہ بادشاہ بن جائیں‘ تو اس نے دریافت کیا : ننگے پاؤں اور نامناسب لباس والے لوگوں سے مراد کیا ہے‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : عریب ( یعنی نچلے طبقے کے عرب) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم کنینز کو دیکھو کہ وہ اپنے آ قا کو جنم دے ‘ تو وہ قیامت کی نیشانیوں میں سے ایک ہوگی‘ تو اس نے کہا : آپ نے سچ کہاہے۔ پھر وہ واپس چلا گیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس شخص کو میرے پاس لے آئے ۔ ( راوی کہتے ہیں ) ہم نے اسے ہر جگہ تلاش کیا لیکن ہو ہمیں نہیں ملا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو یہ کون ہے؟ یہ جبرئیل علیہ السلام تھے ‘ جو تمہارے پاس اس لئے آئے تھے‘ تاج کہ تمہیں تمہارے دین کی تعلیم دیں ‘ تو تم اس سے حاصل کرلو۔ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ۔ .اس ایک مرتبہ سے پہلے کبھی مجھے اسے پہچاننے میں وقت نہیں ہوئی ‘ لیکن اس مرتبہ میں نے اسے اس وقت پہچانا‘ جب وہ واپس چلا گیا۔ امام ابن حبان ؑ فرماتے ہیں : سلیمان تیمی نامی راوی روایت کے یہ الفاظ نقل کرنے ،میں منفرد ہیں ۔ ’’ تم اس سے حاصل کر لو۔‘‘ اور یہ الفاظ بھی ’’اور یہ کہ تم عمرہ کرو اور تم غسل کرو اور تم وضو مکمل کرو‘‘

قُلْتُ :یَااَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ یَعْنِیْ لِا بْنِ عُمَرَ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← یُوْسُفُ بْنُ وَاضِحِ الْھَاشِمِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 173

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 174

اس بات کے بیان کا تذکرہ کہ نبی اکرم ﷺ جو بھی تعلیمات لے کر آئے ہیں ان پر ایمان رکھنا‘ ایمان کا حصہ ہے اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْالَااِلٰہَ اِلَّااللہُ فَاِذَا شَھِدُوااَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ فَاِذَا شَھِدُوااَنْ لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ وَآمَنُوْ ابِیْ وَبِمَا جِئْتُ بِہٖ عَصَمُوا مِنِّیْ دِمَاءَ ھُمْ وَاَمْوَ الَھُمْ اِلَّا بِحَقِّھَا وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللہِ۔ تفردبہ الدر اور دی قالہ لشیخ۔(1:1)

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے ‘ میں اس وقت تک ان کے ساتھ جنگ کرتارہوں ‘ جب تک وہ یہ اعتراف نہ کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے‘ جب وہ اس بات کی گواہی دے دیں ‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘اور جو کچھ میں لے آیا ہوں اس پر ایمان لے آئیں‘ تو وہ اپنی جان ومال کو مجھ سے محفوظ کرلیں گے ‘ البتہ اسلام کے حق کا معاملہ مختلف ہے‘ اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا۔‘‘ اس روایت کو نقل کرنے میں دراور دی نامی راوی منفرد ہے ۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔

Hadith 174

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 175

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُشَنّٰی بِالْمَوْصِلِ حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَۃَ حَدَّثَنَاحَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ حدثناشعبۃ عن واقد بن محمد عن أبیہ عَنَ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَمَ اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوا اَنْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللہُ وَاَنِّی رَسُوْلُ اللہِ وَیُقِیْمُوا الصَّلَاۃَّوَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُو مِنّیِ دِمَاءَ ھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ الْاِبِحَقِّ الْاِسْلَامِ وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللہِ۔(1:1)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے ‘میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ ج کرتا رہوں‘جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘ اور میں اللہ کا رسول ہوں اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ‘ جب وہ ایسا کرلیں گے ‘ تو اپنی جانوں اور اپنے اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے ‘ البتہ اسلام کے حق کا معاملہ محتلف ہے‘ اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰٰ کے ذمہ ہوگا‘‘۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں :) اس روایت کو نقل کرنے میں شعبہ نامی راوی منفردہے‘ اوراس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجو د ہے کہ ایمان کے اجزاء اور شعبے ہوتے ہیں ‘جو اس بارے میں مخاطب لوگوں کے احوال کے حوالے سے مختلف ہوتے ہیں‘ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے اس روایت میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے۔ ’’یہاں تک کہ وہ لوگ اس بات کی گواہی دیں گے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں ‘‘۔ تو اس میں اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے کہ یہ وہ شعبہ ہے ‘ جو تمام مخاطب لوگوں پر تمام حالتوں میں فرض ہے۔ پھر آپ نے یہ فرمایا اور وہ نماز قائم کریں ‘تو نبی اکرمﷺ نے اس چیز کا تذکرہ کیا ہے‘ جو مخاطب لوگوں پر بعض حالتوں میں فرض ہوتی ہے۔ تو یہ بات اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تمام نیکیوں‘ جو ان تین چیزوں کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے‘ جس کا آپ نے اس روایت میں ذکر کیا ہے یہ سب ایمان کا حصہ ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← واقد بن محمد ← اِبْرَاھِیْمُ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَۃَ حَدَّثَنَاحَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ حدثناشعبۃ ← اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُشَنّٰی بِالْمَوْصِلِ

Hadith 175

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 176

اَخْبَرَ نَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْ سَی بْنِ مُجَا شِعِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ ھِشَامٍ الدَّسْتُوَائِیِّ عَنْ یَّحْیَی بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ جَدِّہِ (متن حدیث): عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ یَارَسُوْلَ اللہِ مَا الْاِیمَانُ قَالَ: اِذَاسَرَّتْکَ حَسَنَاتُّکَ وَسَاءَتْکَ سَیّئَاتُکَ فَاَنْتَ مُؤْمِنٌ قَالَ :یَارَسُوْلَ اللہِ فَمَا الْاِثْمُ ؟ قَالَ: اِذَا حاک فی قلبک شیءفدعہ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ یَارَسُوْلَ اللہِ مَا الْاِیمَانُ قَالَ: اِذَاسَرَّتْکَ حَسَنَاتُّکَ وَسَاءَتْکَ سَیّئَاتُکَ فَاَنْتَ مُؤْمِنٌ قَالَ :یَارَسُوْلَ اللہِ فَمَا الْاِثْمُ ؟ قَالَ: اِذَا حاک فی قلبک شیءفدعہ

حضرت ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یارسول اللہ ! ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تمہاری نیکیاں تمہیں اچھی لگیں اور تمہاری برائیاں تمہیں بری لگیں ‘ تو تم مومن ہو۔ اس نے عرض کی : یارسول اللہ ! گناہ کیا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’ جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے ‘ تو تم اسے چھوڑ دو‘‘۔

اِذَا حاک فی قلبک شیءفدعہ ← :یَارَسُوْلَ اللہِ فَمَا الْاِثْمُ ← اِذَاسَرَّتْکَ حَسَنَاتُّکَ وَسَاءَتْکَ سَیّئَاتُکَ فَاَنْتَ مُؤْمِنٌ ← رَجُلٌ یَارَسُوْلَ اللہِ مَا الْاِیمَانُ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← اِذَا حاک فی قلبک شیءفدعہ ← :یَارَسُوْلَ اللہِ فَمَا الْاِثْمُ ← اِذَاسَرَّتْکَ حَسَنَاتُّکَ وَسَاءَتْکَ سَیّئَاتُکَ فَاَنْتَ مُؤْمِنٌ ← رَجُلٌ یَارَسُوْلَ اللہِ مَا الْاِیمَانُ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← جَدِّہِ (متن حدیث): ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوْ سَی بْنِ مُجَا شِعِ ← اَخْبَرَ

Hadith 176

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 177

اَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْسَی بْنِ مُجَاشِعِ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا اَبِیْ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَامِرٌ بْنِ السِّمْطِ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ اِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَۃَ قَاَل حَدَّثَنِیْ ثُمَّ اسْتَکْتَمَنِیْ اَنْ اُحَدِّتَ بِہٖ مَا عَاشَ مُعَاوِیَۃُ فَذَکَرَ عَامِرٌ قَالَ سَمِعْتُہٗ وَھُوَ یَقُوْلُ حَدَّثَنِیْ عَطَا ءُ بْنُ یَسَارٍ وَھُوَ قَاضِی الْمَدِیْنَۃِ قال: سمعت بن مَسْعُوْدٍ وَھُوَ یَقُوْلُ :قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: سَیَکُوْنُ اُمَرَاءُمِنْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَایَفْعَلُوْنَ وَ یَفْعَلُوْنَ مَالَایقولون فَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِیَدِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِلِسَانِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِقَلْبِہٖ فَھُوَ مُؤْ مِنٌ لَا اِیمَانَ بَعْدَہٗ ۔ قَالَ عَطَا ءُ :فَحِیْنَ سَمِعْتُ الْحَدِیْثَ مِنْہُ انْطَلَقْتُ بِہٖ اِلٰی عَبْدِاللہِ بْنِ عُمَرَ فَاَخْبَرْتُہٗ فَقَالَ اَنْتَ سَمِعْتَ بن مَسْعُوْدٍ یَقُوْلُ ھٰذَا ؟ کَالْمُدْ خَلِ عَلَیْہِ حَدِیِثْہِ قَالَ عَطَاءٌ فَقُلْتُ ھُوَ مَرِیضٌ فَمَا یَمْنَعُکَ اَنْ تَعُوْدَہٗ قَالَ فَا نْطَلِقْ بِنَا اِلَیْہِ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ مَعَہٗ فَسَاَلَہٗ عَنْ شَکْوَاہُ ثُمَّ سَاَلَہٗ عن الحدیث قال فخرج بن عُمَرَوَھُوَ یُقَلِّبُ کَفَّہُ وَھُوَ یَقُوْ لُ مَا کاابن اُمِّ عَبْدٍ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔(3:49)

عطا ء بن یسار ‘ جو مدینہ منورہ کے قاضی ہیں‘ وہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ مسعود ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے‘ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہی: عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے ‘ جو وہ بات کہیں گے جو وہ کرتے نہیں ہو ں گے ‘ اور وہ لوگ ایسے کام کریں گے جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا ہوگا۔ توجوشخص اپنے ہاتھ کے دریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا‘ وہ مومن ہوگا اور جو اپنی زبان کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا ‘وہ مومن ہو گا اور جو شخص اپنی زبان کے ساتھ جہاد کے گا‘ وہ مومن ہو گا اور جو شخص اپنے دل کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا ‘ وہ مومن ہوگا۔اس کے بعد ایمان نہیں ہو گا۔ عطاء نامی راوی کہتے ہیں : جب میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی زبانی یہ حدیث سنی‘ تو میں یہ رویت لے کر حضرت ابن عمر ؓ کے پاس گیا اورمیں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے خود سنا ہے؟ عطا ء کہتے ہیں : میں نےکہا: وہ بیمار ہیں ۔ کیاوجہ ہے‘آپ ان کی عبادت کے لئے نہیں جاتے تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا: تم ہمیں ان کے پاس لے جاو۔ جب حضرت عبداللہ بن عمرؓ وہاں تشریف لے گئے ‘ تو ان کے ساتھ میں بھی گیا حضرت عبداللہ عمر ؓ نے ان سے ان کی بیماری کے بارے میں دریافت کیا : پھران سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا ۔ راوی کہتے ہیں :جب حضرت عبداللہ بن عمر ؓ وہاں سے نکلے ‘ تو وہ اپنے ہتھیلی پلٹ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے:ابن اُم عبد ( یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ) نبی اکرمﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کرسکتے۔

بن مَسْعُوْدٍ وَھُوَ ← عَطَا ءُ بْنُ یَسَارٍ وَھُوَ قَاضِی الْمَدِیْنَۃِ ← وَھُوَ ← ثُمَّ اسْتَکْتَمَنِیْ اَنْ اُحَدِّتَ بِہٖ مَا عَاشَ مُعَاوِیَۃُ فَذَکَرَ عَامِرٌ ← مُعَاوِیَۃَ بْنِ اِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَۃَ ← عَامِرٌ بْنِ السِّمْطِ ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 177

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr