Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2186

أَخْبَرَنَا ابْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ثَابِتٍ يَعْلَى بْنُ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خَالِفُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ فِي خفافهم، ولا في نعالهم" 1.

ابوثابت یعلیٰ بن شداد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔ ’’ یہودیوں اور عیسائیوں کے برخلاف کرو‘ وہ لوگ موزوں اور جوتوں میں نماز ادا نہیں کرتے ہیں۔‘‘

أَبِيهِ ← أَبُو ثَابِتٍ يَعْلَى بْنُ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ← ابْنُ قَحْطَبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2186

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2187

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ، فَلْيَجْعَلْهُمَا1 بَيْنَ رِجْلَيْهِ، وَلَا يُؤْذِ بِهِمَا غَيْرَهُ"2. [1: 95] 1 في "الإحسان": "فليخبطهما"، والمثبت من هامش "الإحسان". 2 إسناده صحيح على شرط مسلم. وهو مكرر "2183".

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’جب کوئی شخص نماز ادا کرتے ہوئے جوتے اتارے تو انہیں اپنے دونوں پاؤں کے درمیان رکھ لے اور اسے ان کے ذریعے کسی دوسرے کو تکلیف نہیں پہنچانی چاہئے۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2187

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2188

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أبو عامر الخزاز، عن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلَا يَضَعْ نَعْلَهُ عَنْ يَمِينِهِ، وَلَا عَنْ يساره ،فَیَکُوْنُ عَنْ یَّمِیْنِ غَیْرِہِ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ عَنْ یَّسَارِہِ اَحَدٌ وَلْیَضَعْھُمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ ۔ (43:2)

۔ حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جب کوئی شخص نماز ادا کرے تو وہ اپنے جوتے کو اپنے دائیں طرف یا اپنے بائیں طرف نہ رکھے ورنہ وہ کسی دوسرے شخص کے دائیں طرف ہو جائے گا البتہ اگر اس کے بائیں طرف کوئی شخص موجود نہ ہو‘ تو پھر( وہ اس طرف رکھ سکتا ہے ) یا پھر اسے ( جوتوں کو ) اپنے پاؤں کے درمیان رکھ لینا چاہیے۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2188

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2189

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدِيثًا يَرْفَعْهُ إِلَى أَبِي سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: حَضَرْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ الْفَتْحِ، وَصَلَّى فِي الكعبة، فخلع نَعْلَیْہِ فَوَضَعَھُمَا عَنْ یَّسَارِہِ ، ثُمَّ افْتَتَحَ سُورَۃَ الْمُؤْمِنِیْنَ ، فَلَمَّا بَلَغَ ذِکْرَ عِیسیٰ اَوْ مُوْسیٰ اَخَذَتْہُ سَعْلَۃٌ فَرَکَعَ ۔ (8:5)

حضرت عبداللہ بن سائبؓ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر میں بھی نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھا۔ آپ نے خانہ کعبہ میں نماز ادا کی۔ آپ نے اپنے جوتے اتارے اور انہیں اپنے بائیں طرف رکھ لیا پھر آپ نے سورہ مومنون کی تلاوت شروع کی‘ جب آپ حضرت عیسٰی یا شاید حضرت موسٰی کے ذکر تک پہنچے تو آپ کو کھانسی آگئی تو آپ رکوع میں چلے گئے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدِيثًا يَرْفَعْهُ إِلَى أَبِي سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2189

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2190

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَغَيْرُهُمَا2 قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ3 بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يسار، نَعْلَیْہِ فَوَضَعَھُمَا عَنْ یَّسَارِہِ ، ثُمَّ افْتَتَحَ سُورَۃَ الْمُؤْمِنِیْنَ ، فَلَمَّا بَلَغَ ذِکْرَ عِیسیٰ اَوْ مُوْسیٰ اَخَذَتْہُ سَعْلَۃٌ فَرَکَعَ ۔ (8:5) اِذَا اَخَذَ الْمُؤَذِّنُ فِی الْاِقَامَۃِ فَلَا صَلَاۃَ اِلَّا الْمَکْتُوْبَۃَ ۔ (89:2)

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جب مؤذن اقامت کہنا شروع کرے تو ( اس کے بعد ) صرف فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے۔‘‘

يَسَارِهِ، ثُمَّ افْتَتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ، فَلَمَّا بَلَغَ ← عَطَاءِ بْنِ يسار، نَعْلَیْہِ فَوَضَعَھُمَا ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← زياد بن عبد الله ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَغَيْرُهُمَا،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2190

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2191

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ بَعْدَمَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَخَلَ الصَّفَّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بِأَيَّتِهِمَا اعْتَدَدْتَ، أَوْ بِأَيَّتِهِمَا احْتَسَبْتَ؟ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا أَوِ الَّتِي صَلَّيْتَ وَحْدَكَ؟ ». [2: 89]

حضرت عبداللہ بن سرجسؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص اقامت ہو جانے کے بعد مسجد میں داخل ہوا نبی اکرمﷺ نماز ادا کر رہے تھے۔ اس شخص نے دو رکعات ادا کی پھر اس کے بعد صف میں شامل ہوا جب نبی اکرمﷺ نے نماز ادا کر لی‘ تو آپ نے دریافت کیا: تم نے ان دونوں میں سے کس کو شمار کیا ہے۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) ان دونوں میں سے کس کے ذریعے تو اب کی امید رکھی ہے۔ وہ نماز جو تم نے ہمارے ساتھ ادا کی ہے یا وہ نماز جو تم نے تنہا ادا کی ہے۔

«بِأَيَّتِهِمَا اعْتَدَدْتَ، أَوْ بِأَيَّتِهِمَا احْتَسَبْتَ؟ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا أَوِ الَّتِي صَلَّيْتَ وَحْدَكَ؟ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ بَعْدَمَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2191

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2192

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى الْفَجْرَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَصَلَّى خَلْفَهُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ دَخَلَ مَعَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَاتَهُ قَالَ لِلرَّجُلِ: "أَيُّهُمَا جَعَلْتَ صَلَاتَكَ الَّتِي صَلَّيْتَ وَحْدَكَ، أو التي صليت معنا؟ " 1. [2: 89]

حضرت عبداللہ بن سرجس جنہوں نے نبی اکرمﷺ کا زمانہ پایا ہے۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے۔ نبی اکرمﷺ فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ اسی دوران ایک شخص آیا اس نے آپ کے پیچھے دو رکعت ادا کی پھر وہ حاضرین کے ساتھ ( باجماعت نماز ) میں شامل ہو گیا جب نبی اکرمﷺ نے اپنی نماز مکمل کی تو آپ نے اس سے فرمایا: تم نے کون سی نماز کو اپنی نماز قرار دیا ہے۔ وہ نماز جو تم نے تنہاادا کی تھی یا وہ نماز جو تم نے ہمارے ساتھ ادا کی ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيِّ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2192

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2193

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِذَا اُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ ، فَلَا صَلَاۃَ اِلَّا الْمَلْکْتُوْبَۃَ ۔ (89:2)

حضرت ابوہرہؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جب نماز کے لئے اقامت کہہ دی جائے‘ تو صرف فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2193

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2194

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ، قَالَ: فَرَكَعْتُ دُونَ الصَّفِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "زادك الله حرصا ولا تعد" 1. [1: 33]

حسن بیان کرتے ہیں: حضرت ابوبکرؓ مسجد میں داخل ہوئے نبی اکرمﷺ اس وقت رکوع میں تھے‘ تو وہ بھی رکوع میں چلے گئے اور پھر چلتے ہوئے آکر صف میں شامل ہوگئے نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری حرص میں اضافہ کرے دوبارہ ایسا نہ کرنا۔

فَرَكَعْتُ دُونَ الصَّفِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ "زادك الله حرصا ولا تعد" ← أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَالنَّبِيُّ رَاكِعٌ، ← الْحَسَنِ، ← زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2194

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2195

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ، قَالَ: فَرَكَعْتُ دُونَ الصَّفِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ». [1: 33] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الضَّرْبِ الَّذِي ذَكَرْتُ فِي كِتَابِ فُصُولِ السُّنَنِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ يَنْهَى عَنْ شَيْءٍ فِي فِعْلٍ مَعْلُومٍ وَيَكُونُ مُرْتَكِبُ ذَلِكَ الشَّيْءِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ مَأْثُومًا بِفِعْلِهِ ذَلِكَ إِذَا كَانَ عَالِمًا بِنَهْيِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، وَالْفِعْلُ جَائِزٌ عَلَى مَا فَعَلَهُ كَنَهْيِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ أَوْ يَسْتَامَ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، فَإِنْ خَطَبَ امْرُؤٌ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ بَعْدَ عِلْمِهِ بِالنَّهْيِ عَنْهُ كَانَ مَأْثُومًا، وَالنِّكَاحُ صَحِيحٌ، فَكَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرَةَ: «زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ»، فَإِنْ عَادَ رَجُلٌ فِي هَذَا الْفِعْلِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ وَكَانَ عَالِمًا بِذَلِكَ النَّهْيِ كَانَ مَأْثُومًا فِي ارْتِكَابِهِ الْمَنْهِيَّ، وَصَلَاتُهُ جَائِزَةٌ؛ وَلِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاحَ هَذَا الْقَدْرَ لِأَبِي بَكْرَةَ مُسْتثْنًى مِنْ جُمْلَةِ مَا نَهَاهُ عَنْهُ فِي خَبَرِ وَابِصَةَ كَالْمُزَابَنَةِ وَالْعَرِيَّةِ وَلَوْ لَمْ تَجُزِ الصَّلَاةُ بِهَذَا الْوَصْفِ لِأَبِي بَكْرَةَ لَأَمَرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِعَادَةِ الصَّلَاةِ، وَقَوْلُهُ: «وَلَا تَعُدْ» أَرَادَ بِهِ لَا تَعُدُ فِي [ص:571] إِبْطَاءِ الْمَجِيءِ إِلَى الصَّلَاةِ لَا أَنَّهُ أَرَادَ بِهِ أَنْ لَا تَعُودَ بَعْدَ تَكْبِيرِكَ فِي اللُّحُوقِ بِالصَّفِّ

حضرت ابوبکرؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ مسجد میں داخل ہوئے‘ تو نبی اکرمﷺ اس وقت رکوع کی حالت میں تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں صف سے پیچھے ہی رکوع میں چلا گیا( اور پھر صف میں آکر شامل ہوا ) تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری حرص میں اضافہ کرےدوبارہ ایسا نہ کرنا۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) یہ روایت اس قسم سے تعلق رکھتی ہے جس کے بارے میں نے کتاب اصول سنن میں یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرمﷺ بعض اوقات کسی متعین فعل کے حوالے سے کسی چیز سے منع کرتے ہیں۔ اور اس ممنوعہ فعل کا مرتکب شخص اس کے سرانجام دینے پر گناہگار شمار ہوتا ہے۔ جبکہ وہ شخص نبی اکرمﷺ کی ممانعت سے واقف ہو۔ لیکن آدمی کا کیا ہوا وہ فعل جائز ہوتا ہے۔ جس طرح نبی اکرمﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا ‘ پیغام بھیج دے۔ یا اپنے بھائی کی بولی پر بولی لگا دے۔ تو جو شخص نبی اکرمﷺ کی اس حوالے سے ممانعت کا علم ہونے کے باوجود اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام بھیج دیتا ہے تو وہ گناہگار ہوتا ہے۔ لیکن( اس پیغام کے نتیجے میں کیا جانے والا) نکاح درست شمار ہوگا۔ اسی طرح نبی اکرمﷺ کا حضرت ابوبکرؓ سے یہ کہنا۔ ’’ اللہ تعالیٰ تمہاری حرص میں اضافہ کرے تو تم دوبارہ ایسا نہ کرنا‘‘ تو اگر کوئی شخص دوبارہ اس ممنوعہ فعل کا مرتکب ہوتا ہے اور وہ اس کی ممانعت سے واقف بھی ہو تووہ اس ممنوعہ فعل کے ارتکاب پر گناہگار شمار ہوگا۔ لیکن اس کی نماز جائز ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ نبی اکرمﷺ نے اتنی مقدار کو حضرت ابوبکرؓ کے لئے مباح قرار دیا تھا کہ یہ اس عمومی حکم سے مستشنٰی ہو جائے گا جو نبی اکرمﷺ نے اس سے منع کیا تھا۔ جس کا ذکر حضرت وابصہؓ کی نقل کردہ روایت میں ہے۔ اس کی مثال مزابنہ اور عریہ کی مانند ہو جائے گی۔ اگر حضرت ابوبکرؓ کے لئے اس صفت کے ہمراہ نماز ادا کرنا جائز نہ ہوتا۔ تو نبی اکرمﷺ ان کو نماز دہرانے کاحکم دیتے تاہم نبی اکرمﷺ کا یہ حکم ’’ تم دوبارہ ایسا نہ کرنا‘‘ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ نماز کے لیے آتے ہوئے تم دوبارہ تیزی نہ دکھانا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرمﷺ یہ کہنا چاہتے ہوں کہ تم تکبیر کہنے کے بعد صف میں آکر شامل نہ ہونا۔

أَبُو حَاتِمٍ هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الضَّرْبِ الَّذِي ذَكَرْتُ فِي كِتَابِ فُصُولِ السُّنَنِ ← فَرَكَعْتُ دُونَ الصَّفِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ "زادك الله حرصا ولا تعد" ← أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَالنَّبِيُّ رَاكِعٌ، ← الْحَسَنِ، ← زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2195

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2196

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنْ اَبِیْہِ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بِتُّ عِنْدُ خَالَتِیْ مَیْمُوْنَۃَ ، فَقَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ فَقُمْتُ اُصَلِّیْ فَقُمْتُ عَنْ یَّسَارِۃِ فَاَخَذَ بِرَاْسِی فَاَقَامَنِیْ عَنْ یَّمِیْنِہٖ ۔ (8:5)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے اپنی خالہ سیّدہ میمونہؓ کے ہاں رات بسر کی نبی اکرمﷺ اٹھ کر نماز ادا کرنے لگے‘ تو میں بھی نماز ادا کرنے کے لئے اٹھا میں آپ کی بائیں طرف آکر کھڑا ہوا‘ تو آپ نے میرے سر کو پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف کھڑا کر لیا۔

یَّمِیْنِہٖ ← یَّسَارِۃِ فَاَخَذَ بِرَاْسِی فَاَقَامَنِیْ ← ابْنُ عَبَّاسٍ بِتُّ عِنْدُ خَالَتِیْ مَیْمُوْنَۃَ فَقَامَ النَّبِیُّ یُصَلِّیْ فَقُمْتُ اُصَلِّیْ فَقُمْتُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبُو الْأَشْعَثِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2196

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2197

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، [ص:573] قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا عَشِيَّةً وَدَنَوْنَا مِنْ مِيَاهِ الْعَرَبِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَجُلٌ يَتَقَدَّمُنَا فَيَرِدُ الْحَوْضَ فَيَشْرَبُ وَيَسْقِينَا؟ » قَالَ جَابِرٌ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: هَذَا رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّ رَجُلٍ مَعَ جَابِرٍ؟ » فَقَامَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْبِئْرِ فَنَزَعْنَا فِي الْحَوْضِ سَجْلًا أَوْ سَجْلَيْنِ، ثُمَّ مَدَرْنَاهُ، ثُمَّ نَزَعْنَا فِيهِ حَتَّى أَفْهَقْنَاهُ، فَكَانَ أَوَّلَ طَالِعٍ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَتَأْذَنَانِ؟ » قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَشْرَعَ نَاقَتَهُ فَشَرِبَتْ، ثُمَّ شَنَقَ لَهَا فَبَالَتْ، ثُمَّ عَدَلَ بِهَا فَأَنَاخَهَا، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَوْضِ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ، ثُمَّ قُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ مِنْ مُتَوَضَّأِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ يَقْضِي حَاجَتَهُ، وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ، وَكُنْتُ أُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا فَلَمْ تَبْلُغْ لِي وَكَانَتْ لَهَا ذَبَاذِبُ [ص:574] فَنَكَّسْتُهَا ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِي، فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَجَاءَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ جَاءَ فَقَامَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَنَا بِيَدَيْهِ جَمِيعًا فَدَفَعَنَا حَتَّى أَقَامَنَا مِنْ خَلْفِهِ وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لَا أَشْعُرُ، ثُمَّ فَطِنْتُ فَقَالَ: هَكَذَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ شُدَّ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا جَابِرُ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «إِذَا كَانَ ثَوْبُكَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حَقْوِكَ». [5: 8]

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے‘ یہاں تک کہ جب شام کا وقت ہوا تو ہم پانی کے علاقے کے قریب پہنچے‘ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کون شخص ہم سے آگے جا کر حوض پر پہنچے گا اور خود بھی پانی پئے گا اور ہمیں بھی پلائے گا۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں میں کھڑا ہوا۔ میں نے عرض کی: یہ شخص یا رسول اللہ ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جابر کے ساتھ کون شخص ہوگا‘ تو حضرت جبار بن صخرؓ کھڑے ہوئے پھر ہم دونوں چلتے ہوئے کنویں کے پاس آئےآپ نے اس میں سے ایک یا شاید دو ڈول نکالے پھر ہم نے اسے بھر دیا‘ پھر ہم نے اس میں سے پانی نکالا‘ یہاں تک کہ ہم نے اسے بھر دیا۔ سب سے پہلے نبی اکرمﷺ ہمارے سامنے آئے آپ نے دریافت کیا: کیا تم دونوں اجازت دیتے ہو ہم نے عرض کی: جی ہاں‘ یا رسول اللہ(ﷺ)! پھر نبی اکرمﷺ نے اپنی اونٹنی کو پانی پلانا شروع کیا۔ اس نے پانی پی لیا پھر نبی اکرمﷺ نے اسے موقع دیا‘ تو اس نے پیشاب کیا‘ پھر نبی اکرمﷺ نے اسے باندھ دیا‘ پھر نبی اکرمﷺ حوض کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے اس سے وضو کیا‘ پھر میں کھڑا ہوا۔ نبی اکرمﷺ کے وضو کے پانی سے میں نے بھی وضو کیا‘ پھر حضرت جبار بن صخرؓ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے پھر نبی اکرمﷺکھڑے ہوئے اور نماز ادا کرنے لگے مجھ پر ایک چادر تھی جسے میں نے مخالف سمت میں اوڑھا ہوا تھا وہ مجھے پوری نہیں آتی تھی۔ اس کے کچھ کنارے تھے جنہیں میں نے باندھ لیا مخالف سمت میں اوڑھ لیا۔ پھر میں آیا اور نبی اکرمﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہوا نبی اکرمﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا مجھے گما کر اپنی دائیں طرف کھڑا کر لیا پھر حضرت جبار بن صخر آئے۔ انہوں نے وضو کیا‘ پھر وہ آئے اور نبی اکرمﷺ کے بائیں طرف کھڑے ہو گئے‘ تو نبی اکرمﷺ نے ہم دونوں کو دونوں ہاتھوں کے ذریعے پکڑا اور ہمیں اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔ نبی اکرمﷺ ہمارا جائزہ لیتے رہے مجھے اس کا اندازہ نہیں ہو سکا پھر مجھے اندازہ ہوگیا۔ آپ نے فرمایا: اے جابر! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! میں حاضر ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تمہارا کپڑا کشادہ ہو‘ تو تم اسے مخالف سمت میں اوڑھ لو لیکن جب وہ تنگ ہو‘ تو پھر اسے تہبند کے طور پر باندھ لو۔‘‘

سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا عَشِيَّةً وَدَنَوْنَا مِنْ مِيَاهِ الْعَرَبِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، [ص:573] ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2197

chevron_left Previous
1…789…12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr