Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2162

اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ مَعْشَرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْرٍوالْبَجَلِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُھَیْرُبْنُ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ: سَاَلْتُ الْاَعْمَشَ، عَنْ حَدِیْثِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ فِی الصُّفُوفِ الْمُقدَّمَۃِ فَحَدَّثَنَا ، عَنِ الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَلا تَصُفُّنَ کَمَا تَصُفُّ الْمَلَائکَۃُ عِنْدَ رَبِّھَا؟ قَالَ: قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللہِ ، وَکَیْفَ یَصُفُّونَ الْمَلَائکَۃُ عِنْدَ رَبِّھِمْ؟ قَالَ: یُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْمُقَدِّمَۃَ وَیَتَرَاصُّونَ فِی الصَّفِّ۔ (53:3)

زہیر بن معاویہ بیان رکرتے ہیں: میں نے اعمش سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا: جو پہلی صفوں کے بارے میں حضرت جابر بن سمرہؓ سے منقول ہے، تو انہوں نے اپنی سند کے ساتھ حضرت جابر بن سمرہؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کیا: تم لوگ اس طرف صفیں کیوں نہیں بناتے ہو، جس طرح فرشتے اپنے پرودگار کی بارگاہ میں صف بناتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)! فرشتے اپنے رب کی بارگاہ میں کیسے صف بناتے ہیں؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ آگے کی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور پیچھے کی صفوں میں کشادگی رکھتے ہیں۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← حَدِیْثِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ فِی الصُّفُوفِ الْمُقدَّمَۃِ فَحَدَّثَنَا ← سَاَلْتُ الْاَعْمَشَ، ← زُھَیْرُبْنُ مُعَاوِیَۃَ، ← عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْرٍوالْبَجَلِیُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2162

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2163

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ بِعَسْلَانَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰی ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، اَخْبَرَنِیْ اُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائشَۃَ ، عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّ اللہَ وَمَلَائکَتَہٗ یُصَلُّونَ عَلَی الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ الصُّفُوفَ۔ (2:1)

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت نازل کرتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں۔

اِنَّ اللہَ وَمَلَائکَتَہٗ یُصَلُّونَ عَلَی الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ الصُّفُوفَ۔ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ بِعَسْلَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2163

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2164

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ شَاذَانَ الْمُقْرِءُ اَبُو الْقَاسِمِ بِالرِّیِّ، حَدَّثَنَا الرَّحْمٰنِ بْنُ عُمَرَ رُسْتَۃُ، حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللہَ وَمَلَائکَتَہٗ یُصَلُّونَ عَلَی الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ الصُّفُوفَ۔ (2:1)

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت نازل کرتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← حُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ ← الرَّحْمٰنِ بْنُ عُمَرَ رُسْتَۃُ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ شَاذَانَ الْمُقْرِءُ اَبُو الْقَاسِمِ بِالرِّیِّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2164

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2165

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ، اَنَّہٗ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ، یَقُوْلُ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُسَوِّی الصَّفَّ حَتّٰی یَجْعَلَہٗ مِثْلَ الْقِدْحِ اَوِ الرُّمْحِ فَرَاَی صَدْرَ رَجُلٍ نَاتِئًا فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : عِبَادَ اللہِ سَوُّوا صُفُوفَکُمْ اَوْ لَیُخَالِفَنَّ اللہُ بَیْنَ وُجُوْھِکُمْ۔ (73:1)

حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ صف کو درست کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ اسے تیریانیزے کی مانند بنا دیتے تھے۔ جب آپ کسی شخص کے سینے کو آگے نکلا ہو ا دیکھتے تھے، تو نبی اکرمﷺ ارشاد فرماتے تھے۔ اللہ کے بندو! اپنی صفوں کو درست رکھو، اور نہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّهُ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2165

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2166

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْاَزْھَرِ السِّجْزِیُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، حَدَّثَنَا اَبَانُ، وَشُعْبَۃُ، قَالَا: حَدَّثَنَا ، قَتَادَدۃُ، عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: رُصُّوا فَکُمْ وَقَارِبُوا بَیْنَھَا وَحَاذُوا بِالْاَکْتَافِ ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ اِنِّیْ لَاَرَی الشَّیْطَانَ یَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ کَاَنَّھَا الْحَذَفُ۔ (73:1)

حضرت انس ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: تم اپنی صفوں کو درست رکھو۔ ایک دوسرے کے قریب رہواور اپنے کندھوں کو برابر رکھو۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ میں شیطان کو دیکھا ہوں، وہ صف کے درمیان خالی جگہ میں یوں داخل ہوتا ہے، جسے وہ بکری کا بچہ ہو۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَدۃُ، ← اَبَانُ، وَشُعْبَۃُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْاَزْھَرِ السِّجْزِیُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2166

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2167

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْھَدٍ، حَدَّثَنَا یَحْیٰی، حَدَّثَنَا ھِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ یُوْنُسَ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللہِ الرَّقَاشِیِّ اَنَّ الْاَشْعَرِیَّ صَلّٰی بِاَصْحَابِہٖ، فَلَمَّا جَلَسَ فِیْ صَلَاتِہٖ قَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ: اُقِرَّتِ الصّلَاۃُ بِالْبِرِّ وَالزَّکَاۃِ؟ فَلَمَّا قَضَی الْاَشْعَرِیُّ صَلَاتَہٗ اَقْبَلَ عَلَی الْقَوْمِ فَقَالَ: اَیُّکُمُ الْقَائلُ کَلِمَۃَ کَذَا کَذَا؟ فَاَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ: لَعَلَّکَ یَاحِطَّانُ قُلْتُھَاقَالَ: وَاللہِ مَاقُلْتُھَا وَلَقَدْ وَلَقَدْ خِفْتُ اَنْ تَبْکَعَنِیْ بِھَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ : اَنَا قُلْتُھَا وَمَا اَرَدْتُ بِھَا اِلَّا الْخَیْرَ، فَقَالَ الْاَشْعَرِیُّ: اَمَا تَعْلَمُوْنَ مَا تَقُوْلُوْنَ فِیْ صَلَاتِکُمْ؟ اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا وَبِیَّنَ لَنَا صَلَاتَنَا فَقَالَ: اِذَا اُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَاَقِیمُوْا صُفُو فَکُمْ وَلْیَؤُمَّکُمْ اَحَدُکُمْ، فَاِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا، وَاِذَا قَالَ: (وَلَا الضَّالِّینَ) (الفاتحۃ:1) فَقُوْلُوْا: آمِیْنَ یُجِبْکُمُ اللہُ، ثُمَّ اِذَا کَبَّرَ فَرَکَعَ فَکَبِّرُوْا وَارْکَعُوا، فَاِنَّ الْاِمَامَ یَرْکَعْ قَبْلَکُمْ وَیَرْفَعُ قَبْلَکُمْ قَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَتِلْکَ بِتِلْکَ، وَاِذَا قَالَ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ فَقُوْلُوْا: اللھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ فَاِنَّ اللہَ جَلَّ وَعَلَا قَالَ عَلٰی لِسَانِ نَبِیّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ، ثُمَّ اِذَا کَبَّرَ وَسَجَدَ فَکَبِّرُوْا وَاسْجُدُوا، فَاِنَّ الْاِمَامَ یَسْجُدُ قَبْلَکُمْ وَیَرْفَعُ قَبْلَکُمْ قَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلّیْہِ وَسَلَّمَ: فَتِلْکَ بِتِلْکَ، فَاِذَا کَانَ عِنْدَ الْقَعْدَۃِ فَلْیَکُنْ مِنْ قَوْلِ اَحَدِکُمُ التَّحِیَّاتُ الصَّلَوَاتُ لِلہِ السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ۔ (78:1)

حطان عبد اللہ رقاشی بیان کرتےہیں: اشعری نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی جب وہ نماز میں بیٹھے تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا نماز کو نیکی اور زکوٰۃ کے ہمراہ قرار دیا گیا ہے، جب اشعری نے اپنی نماز مکمل کی تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا: فلاں بات تم میں سے کس نے کہی ہے، تو لوگ خاموش رہے۔ اشعری نے کہا: اے حطان شاید تم نے یہ بات کہی ہے۔ حطان نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ بات نہیں کہی لیکن مجھے اندیشہ تھا، آپ اس حوالے سے مجھے مجرم قرار دیں گے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب بولے: میں نے یہ بات کہی ہے۔ میں نے اس کے ذریعے صرف بھلائی کا ارادہ کیا تھا تو اشعری نے کہا: کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے؟ تمہیں اپنی نماز کے درمیان کیا پڑھنا چاہئے۔ بے شک اللہ کے رسول نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے سنت کی تعلیم دی اور آپ نے نماز کا طریقہ ہمارے سامنے بیان کیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جب نماز قائم کی جائے، تو تم اپنی صفوں کو درست کرواور تم میں سے کوئی ایک شخص تمہاری امامت کرے جب وہ تکبیر کہے ، تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ والا الضالین کہے، توتم آمین کہو اللہ تعالیٰ تمہاری دعا کو قبول کرے گا پھر جب وہ تکبیر کہے اور رکوع میں جائے تو تم بھی تکبیر کہتے ہوئے رکوع میں جاؤ۔امام کو تم سے پہلے رکوع میں جانا چاہئے اور تم سے پہلے (رکوع سے سر کو) اٹھانا چاہئے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ یوں ہو جائےگا، جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ پڑھے تو تم لوگ اللھم ربنا ولک الحمد پڑھو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی کی زبانی یہ بات ارشاد فرمائی ہے، پھر جو شخص اس کی حمد بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو سن لیتا ہے، پھر جب امام تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں جائے، تو تم بھی تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں جاؤ امام کو تم سے پہلے سجدے میں جانا چاہئے اور تم سے پہلے اٹھنا چاہئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:یہ یوں ہو جائےگا، پھر جب قعدہ آئے، تو تم یہ پڑھو۔ تمام زبانی اور جسمانی عبادتیں اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک حضرت محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2167

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2168

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْھَدٍ، وَعَلِیُّ بْنُ الْمَدِنِیِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ الْاَسْوَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، قَالَ: جِئْتُ فَقَعَدْتُ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ خَبَّابٍ: جَاءَ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ فَقَعَدَ مَکَانَکَ ھٰذَا فَقَالَ: تَدْرُوْنَ مَا ھٰذَا الْعُوْدُ؟ قُلْنَا: اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا قَامَ اِلَی الصَّلَاۃِ اَخَذَ بِیَمِیْنِہٖ، ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ: اعْتَدِ لُوْا سَوُّوا صُفُوفَکُمْ ثُمَّ اَخَذَ بِیَسَارِہِ ، ثُمَّ قَالَ: اعْتَدِ لُوْا سَوُّوا صُفُوفَکُمْ فَلَمَّا ھُدِمَ الْمَسْجِدُ فُقِدَ فَالْتَمَسَہٗ عُمَرُ رِضْوَانُ اللہِ عَلَیْہِ، فَوَجَدَہٗ قَدْ اَخَذَہُ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَجَعَلُوہُ فِیْ مَسْجِدِھِمْ فَانْتَزَعَہٗ فَاَعَادَہٗ (8:5)

مصعب بن ثابت بیان کرتے ہیں: میں آیا اور آکر بیٹھ گیا تو محمد بن مسلم نے بتایا: حضرت انس بن مالک ؓ تشریف لائے اور تمہاری اس جگہ پر بیٹھ گئے انہوں نے فرمایا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو، یہ لکڑی کیا ہے ہم نے جواب دیا: جی نہیں، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرمﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوئے تھے ، تو آپ اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے پکڑ لیتے تھے، پھر آپ متوجہ ہوتے اور ارشاد فرماتے : اعتدال اختیار کرو اور اپنی صفوں کو درست کرو پھر آپ اسے اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑ لیتے اور ارشاد فرماتے: اعتدال اختیار کرو اور اپنی صفوں کو درست کرو، پھر جب مسجد منہدم ہوگئی تو یہ لکڑی گم ہوگئی۔

تَدْرُوْنَ مَا ھٰذَا الْعُوْدُ؟ قُلْنَا: ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ خَبَّابٍ: جَاءَ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ فَقَعَدَ مَکَانَکَ ھٰذَا ← جِئْتُ فَقَعَدْتُ ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْھَدٍ، وَعَلِیُّ بْنُ الْمَدِنِیِّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2168

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2169

اَخْبَرَنَا عَلِیّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ سُلَیْمَانَ، بَالْفُسْطَاطِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ھِشَامِ بْنِ اَبِیْ خَیْرَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ھَارُوْنَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مِسْعَرُ بْنُ کِدَامٍ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُسَوِّی الصُّفُوفَ کَاَنَّمَابِھَا الْقِدَاحُ۔ (8:5)

حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ صفیں یوں درست کرتے تھے جیسے تیر ہو۔

کَانَ رَسُوْلُ اللہِ یُسَوِّی الصُّفُوفَ کَاَنَّمَابِھَا الْقِدَاحُ۔ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكٍ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خِيَرَةَ2 ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2169

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2170

اَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ، حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلَانَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِیِّ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبْ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الرُّبِیْرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ عُمَرَ، لَمَّا زَادِفِی الْمَسْجِدِ غَفَلُوْا عَنِ الْعُوْدِ الَّذِی کَانَ فِی الْقِبْلَۃِ قَالَ اَنَسٌ: اَتَدْرُوْنَ لِاَیِّ شَیْءٍ جُعِلَ ذٰلِکَ الْعُوْدُ؟ فَقَالُوْا: لَا فَقَالَ: اِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا اُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ اَخَذَ الْعُوْدَ بِیَدِہِ الْیُمْنَی ، ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ: اعْدِلُوْا صُفُوفَکُمْ وَاسْتَوُوا ثُمَّ اَخَذَ بیَدِہِ الْیُسْریٰ ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ : اعْدِلُوْا صُفُوفَکُمْ۔ (78:1)

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: جب حضرت عمر ؓ نے مسجد نبوی میں، تو سیع کی تو لوگ اس لکڑی سے غافل ہوگئے جو قبلہ کی سمت میں موجود تھی۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو، اس لکڑی کو کیوں رکھا گیا تھا؟ لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرمﷺ نماز کے لئے اقامت کہے جانے کے بعد اس لکڑی کو اپنے دائیں دست اقدس میں لیتے تھے اور پھر(دائیں طرف) متوجہ ہو کر ارشاد فرماتے تھے: تم اپنی صفوں کو ٹھیک اور برابر کرو پھر آپ اسے اپنے بائیں دست اقدس میں لے کر (پھر بائیں طرف) متوجہ ہو کر ارشاد فرماتے تھے : تم اپنی صفوں کو ٹھیک کرو۔

اَنَسٌ: اَتَدْرُوْنَ لِاَیِّ شَیْءٍ جُعِلَ ذٰلِکَ الْعُوْدُ؟ فَقَالُوْا: لَا فَقَالَ: ← الْعُوْدِ الَّذِی کَانَ فِی الْقِبْلَۃِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ عُمَرَ، لَمَّا زَادِفِی الْمَسْجِدِ غَفَلُوْا ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ خَبَّابٍ، ← مُصْعَبْ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الرُّبِیْرِ، ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2170

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2171

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْاَعْلٰی، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَتِمُوْا صُفُوْفَکُمْ، فَاِنَّ تَسْوِیَۃَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاۃِ۔ (78:1)

حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں:نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنی صفوں کو درست کرنا نماز کی تکمیل کا حصہ ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2171

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2172

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ اَبِیْ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ اللَّیْثِیِّ، عَنْ اَبِیْ مَعْمَرٍ، عَنْ اَبِیْ مَسْعُودٍ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَمْسَحُ مَنَاکِبَنَا فِی الصَّلَاۃِ وَیَقُوْلُ: اسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُکُمْ لِیَلِیَنِّیْ مِنْکُمْ اُولُو الْاَحْلَامِ وَالنُّھَی، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ قَالَ اَبُوْ مَسْعُوْدٍ: وَاَنْتُمُ الْیَوْمَ اَشَدُّ اخْتِلَافْا۔ (102:1)

حضرت ابو مسعودؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نماز (شروع کرنے سے ) پہلے ہمارے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے: تم (صفوں کو) درست رکھو اور آپس میں اختلاف نہ رکھو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف آجائے گا اور تم میں سے سمجھ دار اور تجرب کار لوگ میرے قریب کھڑے ہوں پھر اس کے بعد ان کے بعد کے مرتبے کے لوگ ہوں اور پھر اس کے بعد ان کے بعد کے مرتبے کے لوگ ہوں۔ حضرت ابو مسعودؓ فرماتے ہیں:آج تمہارے درمیان شدید اختلاف پائے جاتے ہیں۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي مَعْمَرٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيثِي ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2172

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2173

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السَّامِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّدثَنِیْ حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: اَقْبَلَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِوَجْھِہِ حِیْنَ قَامَ اِلَی الصَّلَاۃِ قَبْلَ اَنْ یُکَبِّرَ فَقَالَ: اَقِیمُوْا صُفُوفَکُمْ وَتَرَاصُّوا ، فَاِنِّیْ اَرَاکُمْ مِنْ وَّرَاءِ ظَھْرِی۔ (24:5)

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جب نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تھے، تو آپ تکبیر کہنے سے پہلے ہماری طرف رُخ کرتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے: صفیں قائم کرو اور ان کے درمیان خلانہ چھوڑ و، کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے بھی دیکھ لیتا ہوں۔

«أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي» ← أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ بِوَجْهِهِ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حَدَّدثَنِیْ حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2173

chevron_left Previous
1…567…12
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr