Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2138

اَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ،قَالَ: حَدَّثَنَاالْاَوْزَاعِیُّ، عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ، اَنَّہٗ سَمِعَ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، یَقُوْلُ: مَاصَلَّیْتُ خَلْفَ اِمَامٍ قَطُّ اَخَفَّ صَلَاۃً وَلَا اَتَمَّ مِنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (4:5)

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے کبھی کسی ایسے امام کے پیچھے نماز ادا نہیں کی جو نبی اکرمﷺ سے زیادہ مختصر اور نبی اکرمﷺ سے زیادہ مکمل نماز ادا کرتاہو۔

مَاصَلَّیْتُ خَلْفَ اِمَامٍ قَطُّ اَخَفَّ صَلَاۃً وَلَا اَتَمَّ مِنْ رَسُوْلِ اللہِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ، اَنَّہٗ ← الْوَلِیْدُ،قَالَ: حَدَّثَنَاالْاَوْزَاعِیُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2138

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2139

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْھَالِ الضَّرِیْرُ ، قَالَ: حَدَّثَنَایَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِیْدٌ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنِّیْ لَاَدْخُلُ فِی الصَّلَاۃِ اُرِدْدُ اَنْ اُطِیلَھَا فَاَسْمَعَ بُکَاءَ الصَّبِیِّ، فَاُخَفِّفَ مِمَّا اَعْلَمُ مَنْ شِدَّۃِ وَجْدِ اُمِّہٖ بِہٖ۔ (1:4)

حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: جب میں نماز شروع کرتا ہوں تو بعض اوقات میرا ارادہ ہوتا ہے ، میں طویل نماز ادا کروں گا لیکن پھر میں کسی بچے کی رونے کی آواز سن لیتا ہوں، تو نماز کو مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ مجھے پتہ ہے، اس کی وجہ سے اس کی والدہ کو کتنی پریشانی ہوتی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← حَدَّثَنَایَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2139

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2140

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیْفَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ اَبِیْ عَوْنٍ، عَنْ جَابِرِ، بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ: قَدْ شَکَاکَ اَھْلُ الْکُوفَۃِ فِیْ کُلِّ شَیْءٍ حَتّٰی فِی الصَّلَاۃِ، فَقَالَ: اُطِیلُ الْاُولَیَیْنِ واَحْذِمُ فِی الْاُخْرَیَیْنِ وَمَا آلُو مِنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ذَاکَ الظَّنُّ بِکَ۔ اَبُوْ عَوْنٍ اسْمُہُ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ۔ (8:5)

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں:حضرت عمرؓ نے حضرت سعدؓ سے کہا: اہل کوفہ نے ہر معاملے میں آپ کی شکایت کی ہے ، یہاں تک کہ نماز کے بارے میں بھی کی ہے، تو حضرت سعد ؓ نے کہا: میں پہلی دو رکعات طویل ادا کرتا ہوں اور آخری دو رکعات مختصر ادا کرتا ہوں اور میں نبی اکرمﷺ کے نماز کے طریقے کے حوالے سے کوئی کو تاہی نہیں کرتا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا:آپ کے بارے میں یہی گمان تھا۔ ابو عون نامی راوی کا نام محمد بن عبید اللہ ہے۔

اُطِیلُ الْاُولَیَیْنِ واَحْذِمُ فِی الْاُخْرَیَیْنِ وَمَا آلُو مِنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللہِ ← عُمَرُ لِسَعْدٍ قَدْ شَکَاکَ اَھْلُ الْکُوفَۃِ فِیْ کُلِّ شَیْءٍ حَتّٰی فِی الصَّلَاۃِ، ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← أَبِي عَوْنٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2140

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2141

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ خَیْشَمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ وَاِئلٍ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَطَالَ حَتّٰی ھَمَمْتُ بِاَمْرِ سُوءٍ قَالَ: قِیلَ: وَمَاھَمَمْتَ بِہِ؟ قَالَ ھَمَمْتُ اَنْ اَجْلِسَ وَاَدَعَہُ۔ (1:4)

حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کے پیچھے نماز ادا کی۔ آپ نے طویل نماز ادا کی ، یہاں تک کہ میں نے ایک براخیال دل میں سوچ لیا۔ راوی کہتے ہیں: ان سے دریافت کیا گیا: آپ نے کیا ارادہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ ارادہ کیا تھا، میں بیٹھ جاتا ہوں اور آپ کو نماز ادا کرنے دیتا ہوں۔

ھَمَمْتُ اَنْ اَجْلِسَ وَاَدَعَہُ۔ ← قِیلَ: وَمَاھَمَمْتَ بِہِ؟ ← صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللہِ فَاَطَالَ حَتّٰی ھَمَمْتُ بِاَمْرِ سُوءٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← اَبُوْ خَیْشَمَۃَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2141

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2142

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ مَوْلٰی ثَقِیْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ حَازِمٍ اَنَّ رِجَالًا اَتَوْا سَھْلَ بْنَ سَعْدٍ وَقَدِ امْتَرَوْا فِی الْمِنْبَرِ مِمَّ عُوْدُہُ؟ فَسَاَلُوہُ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ: وَاللہِ لَاَعْرِفُ مِمَّ ھُوَ،وَلَقَدْ رَاَیْتُ اَوَّلَ یَوْمٍ جَلَسَ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَرْسَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی فُلَانَۃً ۔ امْرَاَۃٌ سَمَّاھَا سَھْلٌ۔ اَنْ مُّرِی غُلَامَکِ النَّجَّارَ اَنْ یَّعْمَلَ لِی اَعْوَادًا اَجْلِسُ عَلَیْھَا اِذَا کَلَّمْتُ النَّاسَ، فَاَمَرَتْہُ فَعَمِلَھَامِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَۃِ، ثُمَّ جَاءَ بِھَا فَاَرْسَلَتْ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَاَمَرَبِھَافَاَضَعَتْ ھَاھُنَا، ثُمَّ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلّٰی عَلَیْھَا وَکَبَّرَ وَھُوَ عَلَیْھَا وَرَکَعَ وَھُوَ عَلَیْھَا وَرَفَعَ وَھُوَ عَلَیْھَا وَتَوَلَّی الْقَھْقَرِیَ فَسَجَدَ وَرَقَی عَلَی الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ فَلَمَّا فَرَغَ اَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ: یَااَیُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا صَنَعْتُ ھٰذَا لِتَاْتَمُّمُّوا وَلِتَعْلَمُوْا صَلَاتِیْ۔ (8:5)

ابو حازم بیان کرتے ہیں: کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کے درمیان منبر کے بارے میں بحث ہوگئی تھی کہ وہ کون سی لکڑی سے بنایا گیاتھا۔ ان لوگوں نے اس بارے میں حضرت سہل بن سعد ؓ سے دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم !میں یہ بات جانتا ہوں، یہ کون سی لکڑی سے بنایا گیا تھا اور میں اس دن دیکھ رہا تھا جب آپ پہلی مرتبہ منبر پر تشریف فرماہوئے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فلاں خاتون کی طرف پیغام بھجوایا تھا۔ حضرت سہل نے اس خاتون کا نام بھی بیان کیا تھا۔ (بعد کا کوئی راوی اس کا نام بھول گیا) پیغام یہ تھا، تم اپنے بڑے لڑکے سے کہو وہ ہمارے لئے لکڑیوں سے کوئی چیز بنا دے جس پر میں بیٹھ جایا کروں۔ اس وقت جب میں نے لوگوں سے کلام کرنا ہوتا ہے ، تو اس خاتون نے اس لڑکے کو یہ ہدایت کی، اس نے جنگل کی لکڑیوں سے اسے بنادیا، پھر وہ اس کو لے کر آیا۔ اس خاتون نے یہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں بھجوایا۔ نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت اسے وہاں رکھا گیا پھر میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا، آپ نے اس پر نماز ادا کی۔ آپ نے تکبیر کہی۔آپ اس وقت اس پر موجود تھے جب آپ رکوع میں گئے ، تو آپ اس پر موجود تھے جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا، تو آپ اس پر موجود تھے، تو پھر آپ الٹے قدموں پیچھے ہٹے اور آپ نے (زمیں پر) سجدہ کیا، پھر آپ منبر پر چڑھ گئے پھر آپ نے اسی طرح کیا، اور نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ لوگوں کی متوجہ ہوئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا:اے لوگو! میں نے ایسا اس لئے کیا ہے، تاکہ تم میری پیروی کرو اور تم میری نماز (کے طریقے ) کے بارے میں جان لو۔

أَبُو حَازِمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2142

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2143

اَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنِ الشَّافِعِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ ھَمَّامٍ، قَالَ: صَلّٰی بِنَا حُذَیْفَۃُ عَلٰی دُکَّانٍ مُرْتَفِعٍ فَسَجَدَ عَلَیْہِ فَجَبَذَہُ اَبُوْ مَسْعُوْدٍ فَتَابَعَہٗ حُذَیْفَۃُ، فَلَمَّاقَضَی الصَّلَاۃَ، قَالَ اَبُوْ مَسْعُوْدٍ: اَلَیْسَ قَدْ نُھِیَد عَنْ ھٰذَا؟ فَقَالَ لَہٗ حُذَیْفَۃُ: اَلَمْ تَرَنِیْ قَدْ تَابَعْتُکَ؟ ۔(8:5)

ہمام بیان کرتے ہیں: حضرت حزیفہؓ نے ہمیں نماز ایک بلند چبوترے پر پڑھائی ۔ انہوں نے اس پر سجدہ کیاحضرت ابو مسعود ؓ نے انہیں کھینچ لیا۔ حضرت حزیفہؓ نے ان کی بات مان لی اور نماز مکمل کی جب انہوں نے نماز مکمل کی تو حضرت ابو مسعودؓ نے فرمایا: کیا اس سے منع نہیں کیا گیا؟ تو حضرت حذیفہ ؓ نے ان سے کہا: آپ نے مجھے دیکھا نہیں، میں نے آپ کی بات مان لی ہے۔

هَمَّامٌ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2143

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2144

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُو الْوَلِیْدِ، وَابْنُ کَثِیْرٍ وَالْحَوْضِیُّ، قَالُوْا: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، قَالَ: اَخْبَرَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ اَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَؤُمُّ الْفَوْمُ اَقْرَؤُھُمْ لِکِتَابِ اللہِ، فَاِنْ کَانَتْ قِرَائَتُھُمْ سَوَاءً فَلْیَؤُمَّھُمْ اَقْدَمُھُمْ ھِجْرَۃً، فَاِنْ کَانُوا فِی الْھِجْرَۃِ سَوَاءً فَلْیَؤُمَّھُمْ اَکْبَرُھُمْ سِنًّا وَلَایَؤُمُّ الرَّجُلُ فِیْ بَیْتِہٖ وَلَافِیْ فُسْطَاطِہِ وَلَا یَقْعُدُ عَلٰی تَکْرِمَتِہٖ اِلَّا بِاِذْنِہٖ۔ قَالَ شُعْبَۃُ: فَقُلْتُ لِاِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ: مَاتَکْرِمَتُہُ؟ قَالَ: فِرَاشُہُ، وَلَمْ یَذْکُرُہُ الْحَوْضِیُّ: فَقُلْتُ لِاِسْمَاعِیْلَ ۔ (3:2)

حضرت ابو مسعود بدری ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو اللہ کی کتاب کا سب سے زیادہ علم رکھتا ہو اگر وہ لوگ قرأت کے حوالے سے برابر ہوں تو ان کی امامت وہ شخص کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو اگر وہ ہجرت کے حوالے سے بھی برابر ہو، تو اس کی امامت وہ شخص کرے جو عمر میں زیادہ ہو اور کوئی بھی شخص کسی دوسرے کے گھر میں، یا خیمے میں اس کی امامت نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھے البتہ اس کی اجازت کا حکم مختلف ہیں۔ شعبہ کہتے ہیں اسماعیل سے دریافت کیا: لفظ تقرمہ سے مراد کیاہے۔ انہوں نے جواب دیا: اس کا بچھونا حوضی نامی راوی نے یہ بات نقل نہیں کی ہے، میں نے اسماعیل سے دریافت کیا ہے۔

اَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِیِّ، ← اَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← شُعْبَةُ، ← اَبُو الْوَلِیْدِ، وَابْنُ کَثِیْرٍ وَالْحَوْضِیُّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2144

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2145

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی، حَدَّثَنَا اَبُوْ خَیْثَمَۃَ، حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنِ الرُّھْرِیِّ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا اَتَیْتُمُ الصَّلَاۃَ، فَلَاتَاْتُوھَا تَسْعَوْنَ وَائْتُوھَا وَعَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃُ، فَمَا اَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوْا وَمَافَاتکُمْ فَاقْضُوا۔ (78:1)

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرما ن نقل کرتے ہیں: جب تم نماز کے لئے آؤ تو دوڑتے ہوئے اس کی طرف نہ آؤ بلکہ تم اس حالت میں آؤ، تم پُر سکون ہو جتنی نماز تمہیں ملے اتنی ادا کرلواور جو گزر چکی ہو اس کو بعد میں پوری کرلو۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الرُّھْرِیِّ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2145

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2146

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ، حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، اَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ، وَاَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا اُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَائْتُوھَا وَعَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃُ فَصَلُّوْا مَا اَدْرَکْتُمْ وَمَا سُبِقْتُمْ فَاَتِمُّوا۔ (78:1)

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب نماز کھڑی ہو جائے، تو تم سکون سے اس کی طرف چلتے ہوئے آؤ جتنی نماز تمہیں ملے اسے ادا کرلو اور جو پہلے گزر چکی ہو اسے (بعد ) میں مکمل کرلو۔

اِذَا اُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَائْتُوھَا وَعَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃُ فَصَلُّوْا مَا اَدْرَکْتُمْ وَمَا سُبِقْتُمْ فَاَتِمُّوا۔ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2146

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2147

اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَعْلٰی، حَدَّثَنَا اَبُوْ خَیْثَمَۃَ، حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَیْبَانُ، عَنْ یَّحْیَی بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذْ سَمِعَ جَلَبَۃَ رِجَالٍ، فَلَمَّا صَلّٰی دَعَاھُمْ فَقَالَ: مَاشَاْنُکُمْ؟ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللہِ اسْتَعْجَلْنَا اِلَی الصَّلَاۃِ قَالَ: لَا تَسْتَعْجِلُوْا اِذَا اَتَیْتُمُ الصَّلَاۃَ فَعَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃُ، فَمَا اَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوْا وَمَا سُبِقْتُمْ فَاَتِمُّوا۔ (78:1)

عبد اللہ بن ابو قتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ایک مرتبہ ہم نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے۔ اسی دوران آپ نے کچھ لوگوں کی تیز آہٹ سنی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے انہیں بلوایا اور دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا تھا۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)! ہم نماز کی طرف جلدی آنا چاہ رہے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرو تم نماز کی طرف آؤ تو سکون سے چلتے ہوئے آؤ جتنی نماز تمہیں ملے اسے ادا کرلو اور جو پہلے گزر چکی ہو اسے (بعد ) میں مکمل کرلو۔

جَلَبَۃَ رِجَالٍ، فَلَمَّا صَلّٰی دَعَاھُمْ فَقَالَ: مَاشَاْنُکُمْ؟ ← بَیْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللہِ اِذْ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← شَيْبَانَ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← اَبُوْ عَعْلٰی،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2147

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2148

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ ، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْہِ، وَاِسْحَاقِ اَبِیْ عَبْدِ اللہِ، اَنَّھُمَااَخْبَرَاہُ اَنَّھُمَا سَمِعَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ ، یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا ثُوِّبَ بِا لصَّلَاۃِ، فَلَا تَاْتُوھَا وَاَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَائْتُوھَا وَعَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃُ، فَمَا اَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوْا وَمَا فَاتکُمْ فَاَتِمُّوا، فَاِنَّ اَحَدَکُمْ فِیْ صَلَاۃٍ مَا کَانَ یَعْمِدُ اِلَی الصَّلَاۃِ۔ (94:2)

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے، تو تم دوڑتے ہوئے اس کی طرف نہ آؤ بلکہ سکون سے چلتے ہوئے آؤ جتنی نماز تمہیں مل جائے اسے ادا کرلو اور جس گزر چکی ہو اسے (بعد) میں مکمل کر لو کیونکہ جب کوئی شخص نماز کی طرف جاتا ہے، تو وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتاہے۔

اَبِیْہِ، وَاِسْحَاقِ اَبِیْ عَبْدِ اللہِ، اَنَّھُمَااَخْبَرَاہُ اَنَّھُمَا سَمِعَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2148

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2149

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِیْدٌ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِکَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ: اِذَا تَوَضَّاْتَ ثُمَّ دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ، فَلَا تُشَبِّکَنَّ بَیْنَ اَصَابِعِکَ۔ (7:2)

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے فرمایا: جب تم وضو کر کے مسجد میں داخل ہو جاؤ تو تم اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست نہ کرو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2149

chevron_left Previous
12345…12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr