Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2126

اَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ، حَدَّثَنَا اَبُوْ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوْسٰی ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیْدِ بْنِ جَعْفَرِ، عَنْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ، عَنْ عَطَاءٍ، مَوْلٰی اَبِیْ اَحْمَدَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْثًا وَھُمْ نَفَرٌ فَدَعَاھُمْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَاذَا مَعَکُمْ مِنَ الْقُرْآنِ؟ فَاسْتَقْرَ اَھُمْ حَتّٰی مَرَّعَلٰی رَجُلٍ مِنْھُمْ ھُوَ مِنْ اَحْدَثِھِمْ سِنًّا فَقَالَ: مَاذَا مَعَکَ یَافُلَانُ؟ قَالَ مَعِی کَذَا وَکَذَا وَسُورَۃُ الْبَقَرَۃِ قَالَ: مَعَکَ سُورَۃُ الْبَقَرَۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْھَبْ فَاَنْتَ اَمِیرُھُمْ فَقَالَ رَجُلٌ مِّنْ اَشْرَفِھِمْ وَالَّذِی کَذَا وَکَذَا یَا رَسُوْلَ اللہِ مَا یَمْنَعُنِیْ اَنْ اَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ اِلَّا خَشْیَۃَ اَنْ لَّا اَقُوْمَ بِہٖ، قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: تَعَلَّمِ الْقُرْآنَ وَاقْرَاْہُ وَارْقُدْ، فَاِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَہٗ فَقَرَاَہُ وَقَامَ بِہٖ کَمِثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْکًا یَفُوْحُ رِیحُہُ عَلٰی کُلِّ مَکَانٍ، وَمَنْ تَعَلَّمَہٗ فَرْقَدَ وَھُوَ فِیْ جَوْفِہِ کَمَثَلِ جِرَابٍ وُکِیْءَ عَلٰی مِسْکٍ

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک مہم روانہ کی وہ کچھ افراد تھے۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں بلایا اور دریافت کیا: تمہیں کتنا قرآن آتا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے ان سے تلاوت سنی یہاں تک کہ آپ ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ان میں سے سب سے کم سن تھا۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اے فلاں تمہیں کتنا قرآن آتا ہے۔ اس نے جواب دیا: مجھے فلاں اور فلاں وسورۃ اور سورۃ البقرہ بھی آتی ہے آپ نے دریافت کیا: کیا تمہیں سورۃ البقرہ آتی ہے؟ اس نے عرض کی : جی ہاں۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم جاؤ تم ان لوگوں کے امیر ہو، تو اس گروہ کے معزز افراد میں سے ایک آدمی نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس میں یہ یہ خوبی ہے۔ یا رسول اللہ(ﷺ)! میں نے قرآن کا علم صرف اس لئے حاصل نہیں کیا، مجھے یہ اندیشہ تھا، میں نوافل میں اس کی تلاوت نہیں کروں گا، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم قرآن کا علم حاصل کر کے اس کی تلاوت کرتے ہے اسے نوافل میں ادا کرتا ہے۔ اس کی مثال ایک ایسی تھیلی کی مانند ہے، جس میں مشک موجود اور اس کا منہ کھلا ہوا ہو۔ اس کی خوشبو ہر جگہ پھیل رہی ہو اور جو شخص قرآن کا علم حاصل کر کے سویا رہتا ہے، لیکن وہ قرآن اس کے ذہن میں ہوتا ہے اس کی مثال ایسی تھیلی کی مانند ہے، جس میں مشک موجود ہو اور اس کا منہ بند ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 2126

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2127

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْھَاشِمِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَیْمُوْنِ بْنِ الرَّمَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ اَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْاِنْصَارِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَؤُمُّ الْقَوْمَ اَقْرَؤُھُمْ لِکِتَابِ اللہِ، فَاِنْ کَانُو فِی الْقِرَائَۃِ سَوَاءً فَاَعْلَمُھُمْ بِالسُّنَّۃِ، فِاِنْ کَانُوافِی السُّنَّۃِ سَوَاءً فَاَقْدمُھُمْ ھِجْرَۃً، فَاِنْ کَانُوا فِی الْھِجْرَۃِ سَوَاءً فَاَکْبَرُھُمْ سِنًّا، وَلَا یُؤَمَّ الرَّجُلُ فِیْ سُلْطَانِہٖ وَلَا یُجْلَسَ عَلٰی تَکْرِ مَتِہٖ فِیْ بَیْتِہٖ حَتّٰی یَاْذَنَ لَہٗ۔(3:2)

حضرت ابو مسعود انصاری ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو سنت کا زیادہ علم رکھتا ہو اگر وہ سنت کے علم کے حوالے سے برابر ہوں، تو وہ شخص کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو اگر وہ ہجرت کے حوالے سے برابر ہوں ، تو وہ شخص کرے جس کی عمر زیادہ ہو۔ کسی شخص کی سر بر اہی کی جگہ پر امامت نہ کی جائے اور اس کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھا جائے جب تک وہ شخص اس کی اجازت نہیں دیتا۔

أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ← اَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَیْمُوْنِ بْنِ الرَّمَّاحِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ،

Hadith 2127

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2128

اَخْبَرَنَا شَبَّابُ بْنُ صَالِحٍ الْمُعَدِّلُ، بِوَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَھْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ، قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَا وَصَاحِبٌ لِی فَقَالَ: اِذَا صَلَّیْتُمَا فَاَذِّنَا وَاَقِیمَا وَلْیَؤُ مَّکُمَا اَکْبَرُ کُمَا قَالَ: وَکَانَا مُتَقَارِبِیْنِ۔(14:1)

حضرت مالک بن حویرثؓ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میرے ساتھ میرا ایک دوست بھی تھا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم دونوں نماز ادا کرو تو اذان دو اور اقامت کہو تم دونوں میں سے جو بڑی عمر کا ہو، وہ امامت کرے۔ راوی کہتے ہیں: وہ دونوں ہم عمر تھے۔

وَکَانَا مُتَقَارِبِیْنِ۔(14:1) ← وَصَاحِبٌ لِی فَقَالَ: اِذَا صَلَّیْتُمَا فَاَذِّنَا وَاَقِیمَا وَلْیَؤُ مَّکُمَا اَکْبَرُ کُمَا ← اَتَیْتُ النَّبِیَّ ← مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَّابُ بْنُ صَالِحٍ الْمُعَدِّلُ، بِوَاسِطٍ،

Hadith 2128

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2129

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْھَدٍ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَہٗ وَلِصَاحِبٍ لَہٗ:اِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَاَذِّنَا ثُمَّ اَقِیمَا، ثُمَّ لِیَؤُ مَّکُمَا اَکْبَرُ کُمَا۔ قَالَخَالِدٌ: فَقُلْتُ لِاَ بِیْ قَلَابَۃَ: فَاَیْنَ الْقِرَائَۃَ؟ قَالَ: اِنَّھُمَا کَانَا مُتَقَارِبَیْنِ۔(14:1)

حضرت مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ان سے اور ان کے ساتھی فرمایا جب نماز کا وقت ہو، تو تم دونوں اذان دو اور تم دونوں اقامت کہوپھر تم دونوں میں سے جو عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے۔ خالد نامی راوی کہتے ہیں: میں نے ابو قلابہ نامی راوی سے دریافت کیا: قرأت کا حکم کہاں گیا تو اس نے جواب دا: وہ دونوں اس حوالے سے برابر کی حیثیت رکھتے تھے۔

مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 2129

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2130

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِیُّ، مُنْذُ ثَمَانِیْنَ سَنَۃً، قَالَ: حَدّ ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِی وَلِصَاحِبٍ لِی: اِذَا خَرَجْتُمَا فَلْیُؤَذِّنْ اَحَدَکُمَا وَلْیَقُمْ وَلْیَؤُ مَّکُمَا اَکْبَرُ کُمَا۔ (14:1)

حضرت مالک بن حویرثؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے مجھ سے اور میرے ساتھی سے فرمایا: جب تم روانہ ہو جاؤ تو تم دونوں میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور وہ اقامت کہے اور تم دونوں میں سے جو شخص عمر میں بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔

مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← حَدَّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِیُّ، مُنْذُ ثَمَانِیْنَ سَنَۃً، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2130

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2131

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیْفَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْھَدٍ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ، قَالَ: اِتِیْنَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَۃٌ مُتَقَارِبُوْنَ فَاَقَمْنَا عِنْدَہٗ عِشْرِیْنَ لَیْلَۃً فَظَنَّ اَنَّا اشْتَقْنَا اِلٰی اَھْلِیْنَا شَاَلَنَا عَمَّنْ تَرَکْنَا فِیْ اَھْلِنَا فَاَخْبَرْنَاہُ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَحِیْمًا رَفِیقًا فَقَالَ: ارْجِعُوْا اِلٰی اَھْلِیْکُمْ فَعَلِّمُوْھُمْ وَمُرُوْھُمْ وَصَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ، فَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَلْیُؤَذِّنْ اَحَدُکُمْ وَلْیَؤُمَّکُمْ اَکْبَرُ کُمْ

حضرت مالک بن حویرثؓ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نوجوان ہم عمر لوگ تھے ۔ ہم نے آپ کے پاس بیس دن قیام کیا جب آپ کو یہ اندازہ ہوگیا، ہمارے لئے ہمارے گھر والوں سے علیحدگی دشواری کا باعث ہورہی ہے، تو آپ نے ہم سے اس بارے میں دریافت کیا: ہم اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کے آئے ہیں۔ہم نے آپ کو اس بارے میں بتایا: نبی اکرمﷺ بڑے مہربان اور نرم دل تھے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلے جاؤ ۔ انہیں تعلیم دو انہیں حکم دو اور تم اسی طرح نماز ادا کرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، جب نماز کا وقت آجائے ، تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو شخص عمر میں بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔

کَانَ رَسُوْلُ اللہِ رَحِیْمًا رَفِیقًا ← اشْتَقْنَا اِلٰی اَھْلِیْنَا شَاَلَنَا عَمَّنْ تَرَکْنَا فِیْ اَھْلِنَا ← أَتَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً فَظَنَّ ← مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 2131

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2132

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْھَالِ الضَّرِیْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، وَھِشَامٌ ، عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا کُنْتُمْ ثَلَاثَۃً فِیْ سَفَرٍ فَلْیَؤُمَّکُمْ اَحَدُکُمْ وَاَحَقَّکُمْ بِالْاِمَامَۃِ قَرَؤُکُمْ۔ (14:1)

حضرت ابو سعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: جب تم تین آدمی سفر کر رہے ہو، توتم میں سے کوئی ایک شخص تمہاری امامت کرے اور تم میں سے امامت کا زیادہ حق دار وہ شخص ہوگا، جو زیادہ تلاوت جانتا ہو۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← شُعْبَۃُ، وَھِشَامٌ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2132

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2133

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ شَیْبَۃَ، حَدَّثَنَا اَبُوْ خَالِدٍ الْاَحْمَرُ، عَنِ الْاَعْمَشِ ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ اَوْسِ بْن ضَمْعَجٍ، عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَؤُمُّ الْقَوْمَ اَقْرَؤُھُمْ لِکِتَابِ اللہِ، فَاِنْ کَانُوا فِی الْقِرَائَۃِ سَوَاءً فَاَعْلَمُھُمْ بَالسُّنَّۃِ، فَاِنْ کَانُوا فِی السُّنَّۃِ سَوَاءً فَاَقْدَمُھُمْ ھِجْرَۃً، فَاِنْ کَانُوا فِی الْھِجْرَۃِ سَوَاءً فَاَقْدَمُھُمْ سِنًّا وَلَا یَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِیْ سُلْطَانِہٖ وَلَایَقْعُدُ عَلٰی تَکْرِ مَتِہٖ اِلَّا بِاِذْنِہٖ۔ (10: 3)

حضرت ابو مسعود ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو اللہ کی کتاب کا زیادہ علم رکھتا ہو اگر وہ لوگ قرأت کے حوالے سے برابر کی حیثیت رکھتے ہوں تو وہ شخص کرے جو سنت کا زیادہ علم رکھتا ہو اگر وہ لوگ سنت کے حوالے سے برابر کی حیثیت رکھتے ہوں تو وہ شخص کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو اگر وہ ہجرت کے حوالے سے بھی برابر ہوں تو وہ شخص کرے جس کی عمر زیادہ ہو اور کوئی بھی شخص کسی دوسرے کی سر براہی کی جگہ پر اس کی امامت نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھے۔ البتہ اس کی اجازت ہو، تو حکم مختلف ہے۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← اَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← اَبُوْبَکْرِ بْنُ شَیْبَۃَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2133

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2134

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اُمَیَّۃُ بْنُ بِسْطَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبِیْبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائشَۃَ: اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَفَ ابْنَ اُمِّ مَکْتُومٍ عَلَی الْمَدِینَۃِ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ (10:5)

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے حضرت ابن ام مکتوم ؓ کو مدینہ منورہ میں نائب مقرر کیا تھا وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2134

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2135

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اُمَیَّۃُ بْنُ بِسْطَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبِیْبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائشَۃَ: اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَفَ ابْنَ اُمِّ مَکْتُومٍ عَلَی الْمَدِینَۃِ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ (1:4)

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں:نبی اکرمﷺ نے حضرت ابن ام مکتومؓ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2135

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2136

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَبُوْ سَلَمَۃَ، اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا ھُرَیْرَۃَ، یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ بِالنَّاسِ فَلْیُخَفِّفْ، فَاِنَّ فِی النَّاسِ الضَّعِیفَ وَالسَّقِیمَ وَذَا الْحَاجَۃِ۔ (95:1)

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں:نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: جب کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے، تو اسے مختصر نماز پڑھانی چاہئے، کیونکہ لوگوں میں کمزور، بیمار اور کام کاج والے لوگ بھی ہوتے ہیں۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← اَبُوْ سَلَمَۃَ، اَنَّہٗ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 2136

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2137

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ خَیْثَمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَبِیْ خَالِدٍ، عَنْ قَیْسِ بْنِ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللہِ اِنِّیْ لَاَتَاَخَّرُ عَنْ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ یُطِیلُ بِنَافُلَانٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَا رَاَیْتُہٗ فِیْ مَوْعِظَۃٍ اَشَدَّ غَضَبًا مِنْہُ یَوْمَئذٍ فَقَالَ: اَیُّھَا النَّاسُ اِنَّ مِنْکُمْ مُنَفِّرِیْنَ فَاَیُّکُمْ مَا صَلّٰی بِالنّاسِ فَلْیَتَجَوَّزْ، فَاِنَّ فِیْھِمُ الضَّعِیفَ وَالْکَبِیرَ وَذَا الْحَاجَۃِ۔ (95:1)

حضرت ابو مسعودؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ(ﷺ)! میں صبح کی نماز میں اس لئے شریک نہیں ہوتا، کیونکہ فلاں صاحب ہمیں طویل نماز پڑھاتے ہیں تو نبی اکرمﷺ کھڑے ہوگئے (راوی کہتے ہیں) وعظ کرتے ہوئے میں نے نبی اکرمﷺ کو اس دن سے زیادہ شدید غصے میں کبھی نہیں دیکھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! تم میں سے کچھ لوگ (دوسروں کو) متنفر کرتے ہیں تم میں سے جو بھی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے اسے مختصر نماز پڑھانی چاہئے کیونکہ لوگوں میں کمزور عمر رسیدہ اور بوسیدہ اور کام کاج والے لوگ بھی ہوتے ہیں۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2137

chevron_left Previous
1234…12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr