صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2126
اَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ، حَدَّثَنَا اَبُوْ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوْسٰی ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیْدِ بْنِ جَعْفَرِ، عَنْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ، عَنْ عَطَاءٍ، مَوْلٰی اَبِیْ اَحْمَدَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْثًا وَھُمْ نَفَرٌ فَدَعَاھُمْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَاذَا مَعَکُمْ مِنَ الْقُرْآنِ؟ فَاسْتَقْرَ اَھُمْ حَتّٰی مَرَّعَلٰی رَجُلٍ مِنْھُمْ ھُوَ مِنْ اَحْدَثِھِمْ سِنًّا فَقَالَ: مَاذَا مَعَکَ یَافُلَانُ؟ قَالَ مَعِی کَذَا وَکَذَا وَسُورَۃُ الْبَقَرَۃِ قَالَ: مَعَکَ سُورَۃُ الْبَقَرَۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْھَبْ فَاَنْتَ اَمِیرُھُمْ فَقَالَ رَجُلٌ مِّنْ اَشْرَفِھِمْ وَالَّذِی کَذَا وَکَذَا یَا رَسُوْلَ اللہِ مَا یَمْنَعُنِیْ اَنْ اَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ اِلَّا خَشْیَۃَ اَنْ لَّا اَقُوْمَ بِہٖ، قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: تَعَلَّمِ الْقُرْآنَ وَاقْرَاْہُ وَارْقُدْ، فَاِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَہٗ فَقَرَاَہُ وَقَامَ بِہٖ کَمِثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْکًا یَفُوْحُ رِیحُہُ عَلٰی کُلِّ مَکَانٍ، وَمَنْ تَعَلَّمَہٗ فَرْقَدَ وَھُوَ فِیْ جَوْفِہِ کَمَثَلِ جِرَابٍ وُکِیْءَ عَلٰی مِسْکٍ
حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک مہم روانہ کی وہ کچھ افراد تھے۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں بلایا اور دریافت کیا: تمہیں کتنا قرآن آتا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے ان سے تلاوت سنی یہاں تک کہ آپ ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ان میں سے سب سے کم سن تھا۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اے فلاں تمہیں کتنا قرآن آتا ہے۔ اس نے جواب دیا: مجھے فلاں اور فلاں وسورۃ اور سورۃ البقرہ بھی آتی ہے آپ نے دریافت کیا: کیا تمہیں سورۃ البقرہ آتی ہے؟ اس نے عرض کی : جی ہاں۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم جاؤ تم ان لوگوں کے امیر ہو، تو اس گروہ کے معزز افراد میں سے ایک آدمی نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس میں یہ یہ خوبی ہے۔ یا رسول اللہ(ﷺ)! میں نے قرآن کا علم صرف اس لئے حاصل نہیں کیا، مجھے یہ اندیشہ تھا، میں نوافل میں اس کی تلاوت نہیں کروں گا، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم قرآن کا علم حاصل کر کے اس کی تلاوت کرتے ہے اسے نوافل میں ادا کرتا ہے۔ اس کی مثال ایک ایسی تھیلی کی مانند ہے، جس میں مشک موجود اور اس کا منہ کھلا ہوا ہو۔ اس کی خوشبو ہر جگہ پھیل رہی ہو اور جو شخص قرآن کا علم حاصل کر کے سویا رہتا ہے، لیکن وہ قرآن اس کے ذہن میں ہوتا ہے اس کی مثال ایسی تھیلی کی مانند ہے، جس میں مشک موجود ہو اور اس کا منہ بند ہو۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،
Hadith 2126
