Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2114

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُو بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ ، عَنْ اَبِیْ سُفْیَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: صُرِعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ لَہٗ فَوَقَعَ عَلٰی جِذْعِ نَخْلَۃٍ، فَانْفَکَّتْ قَدْمُہُ فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ نَعُوْدُہُ وَھُوَ یُصَلِّیْ فِیْ مَشْرُبَۃٍ لِعَائشَۃَ جَالِسًا فَصَلَّیْنَا بِصِلَاتِہٖ وَنَحْنُ قِیَامٌ، ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَیْہِ مَرَّۃً اُخْریٰ وَھُوَ یُصَلِّیْ جَالِسًا فَصَلَّیْنَا بِصَلَاتِہٖ وَنَحْنُ قِیَامٌ فَاَوْمَاَاِلَیْنَا اَنِ اجلِسُوا فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: اِنَّمَا جُعِلَ الْاِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہٖ، فَاِذَا صَلّٰی قَائمًا فَصَلُّوْا قِیَامًا، وَاِنْ صَلّٰی جَالِسًا فَصَلُّوْا جُلُوْسًا وَلَا تَقُوْمُوْا وَھُوَ جَالِسٌ کَمَا یَصْنَعُ اَھْلُ فَرِسٍ بِعُظَمَا ئھَا۔ (5:1)

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ گھوڑے سے گرگئے۔ آپ کھجور کے تنے پر گرے تھے جس کی وجہ سے آپ کے پاؤں پر چوٹ آئی ہم آپ کی عیادت کے لئےآپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ اس وقت سیدہ عائشہ ؓ کے بالا خانہ میں بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے۔ ہم نے آپ کی نماز کی پیروی شروع کی ہم کھڑے ہوئے تھے، پھر جب ہم دوبارہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے۔ ہم نے آپ کی نماز کی پیروی کی ہم اس وقت بھی کھڑے ہوئے تو آپ نے ہمیں اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ جب آپ نے نماز مکمل کرلی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: امام کو اس لئے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ کھڑا ہوکر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔ وہ بیٹھا ہواہو، تو تم لوگ کھڑے نہ ہو ، جس طرح اہل فارس اپنے بادشاہوں کے لئے کرتے ہیں۔

صُرِعَ النَّبِيُّ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2114

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2115

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، بِبَیْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْییٰ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبِ ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ اَبِیْ یُوْنُسَ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَال: اِنَّمَا الْاِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہٖ ، فَاِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا ، وَاِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا، وَاِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَاِذَا قَالَ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ فَقُوْلُوْا: اللھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ، وَاِذَصَلّٰی قَائمًا فَصَلُّوْا قِیَامًا، وَاِذَا صَلّٰی قَاعِدًا فَصَلُّوْا قُعُوْدًا اَجْمَعُوَ۔ (5:1)

حضرت ابو ہریرہ ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: امام کو اس لئے مقرر کیا گیا ہے ، تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ تکبیر کہے، تو تم بھی کہو جب وہ رکوع میں جائے ، تو تم بھی رکوع میں جاؤ جب وہ (رکوع سے سر) کو اٹھائے ،تو تم بھی اٹھاؤ جب وہ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِیدَہٗ پڑھے تم اللھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ پڑھو جب وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم لوگ کھڑے ہو کر نماز ادا کرو جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ یُوْنُسَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Hadith 2115

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2116

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ شَیْبَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ مُّوسَی بْنِ اَبِیْ عَائِشَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ فَقُلْتُ لَھَا: اَلا تُحَدِّثِنِیْ عَنْ مَرَضِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بَلٰی ، ثَقُلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اَصَلَّی النَّاسُ؟ فَقُلْتُ: لَا ھُمْ یَنْتَظِرُوْنَکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ قَالَ: مَاءً فِی الْمِخْضَبِ قَالَتْ: فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ لِیَنْوِیَ فَاُغْمِیَ عَلَیْہِ، ثُمَّ اَفَاقَ، فَقَالَ: اَصَلَّی النَّاسُ؟ فَقُلْتُ: لَاھُمْ یَنْتَظِرُوْنَکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ وَالنَّاسُ عُکُوفُ فِی الْمَسْجِدِ یَنْتَظَرُوْنَ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِصَلَاۃِ الْعِشَاءِ الْاٰخِرَۃِ، قَالَتْ: فَاَرْسَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیقِ اَنْ صَلِّ بِالنَّاسِ فَاَتَاہُ الرَّسُوْلُ فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَاْمُرُکَ اَنْ تُصَلِّیَ بَالنَّاسِ فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ وَکَانَ رَجُلًا رَقِیقًا : یَا عُمَرُ صَلِّ بَالنَّاسِ ، فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ : اَنْتَ اَحَقُ بِذِلِکَ، قَالَ: فَصَلّٰی بِھِمْ اَبُوْ بَکْرٍ تِلْکَ الْاَیَّامَ، قَالَتْ : ثُمَّ اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِہِ خِفَّۃً فَخَرَجَ بَیْنَ رَجُلَیْنِ لِصَلَاہِ الظُّھْرِ وَاَبُوْ بَکْرٍ یُصَلِّیْ بَالنَّاسِ، قَالَتْ : فَلَمَّا رَآہُ اَبُوْبَکْرٍ ذَھَبَ لِیَتَاَخَّرَ ، فَاَوْمَاَاِلَیْہ، اَنْ لَّا یَتَاَخَّرَ، وَقَالَ لَھُمَا: اَجْلِسَانِیْ جَنْبِہٖ فَاَجْلَسَاہُ اِلٰی اَبِیْ بَکْرٍفَجَعَلَ اَبُوْ بَکْرٍ یُصَلِّیْ وَھُوَ قَائِمٌ بِصَلَاۃِ النَّبِیّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ یُصَلُّونَ بِصَلَاۃِ اَبِیْ بَکْرٍ وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ قَالَ عُبِیْدُ اللہِ : فَدَخَلْتُ عَلٰی عَبْدِ اللہَ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: اَلا اَعْرِضُ عَلَیْکَ مَا حَدَّثَتْنِیْ عَائشَۃُ، عَنْ مَرَضِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: ھَاتِ فَعَرَضْتُ حَدِیْثَھَا عَلَیْہِ، فَمَا اَنْکَرَمِنْہُ شَیْئًا۔ (5:1)

عبید اللہ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں : میں سیدہ عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے گزارش کی، آپ مجھے نبی اکرمﷺ کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی؟انہوں نے فرمایا:جی ہاں نبی اکرمﷺ کی طبیعت خراب ہوگئی۔آپ نے دریافت کیا: کیالوگوں نے نماز ادا کرلی ہے؟ میں نے عرض کی: جی نہیں ، یا رسول اللہ (ﷺ)! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میرے لئے کسی ٹب میں پانی رکھو سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہے ہم نے ایسا ہی کیا نبی اکرمﷺ نے غسل کیا، پھر آپ اٹھنے لگے، تو آپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی جب آپ کو ہوش آیا، تو آپ نے دریافت کیا: کیا لوگوں نے نماز ادا کرلی۔میں نے عرض کی :جی نہیں ، یا رسول اللہ(ﷺ)! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ لوگ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے عشاء کی نماز کے لئے نبی اکرمﷺ کا انتظار کر رہے تھے۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں:نبی اکرمﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو پیغام بھجوایا، تم لوگوں کو نماز پڑھادو، پیغام رساں شخص حضرت ابو بکر ؓ کے پاس آیا۔ اللہ کے رسول نے آپ کو حکم دیا ہے، آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، تو حضرت ابو بکر ؓ جو ایک نرم دل آدمی تھے۔ انہوں نے فرمایا:اے عمر! تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو حضرت عمر ؓ نے ان سے کہا: آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان دنوں میں حضرت ابوبکر ؓ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں:نبی اکرمﷺ کو اپنی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی تو آپ دو آدمیوں کے درمیان چلتے ہوئے ظہر کی نماز کے لئے تشریف لے گئے حضرت ابو بکر ؓ اس وقت لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں:حضرت ابوبکر ؓ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ آپ پیچھے نہ ہٹیں۔ نبی اکرمﷺ نے ان دونوں صاحبان سے فرمایا مجھے اس کے پہلو میں بٹھا دو۔ ان دونوں حضرات نے آپ کو حضرت ابو بکر ؓ کے پہلو میں بٹھادیا، پھر حضرت ابو بکرؓ نماز ادا کرنے لگے وہ کھڑے ہو کر نبی اکرمﷺ کی نماز کی پیروی کررہے تھے اور لوگ حضرت ابو بکر ؓ کی نماز کی پیروی کررہے تھے حالانکہ نبی اکرمﷺ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ عبید اللہ نامی راوی کہتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا:کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش کروں جو نبی اکرمﷺ کی بیماری کے بارےمیں سیدہ عائشہ ؓ نے مجھے بیان کی ہے۔ انہوں نے فرمایا: پیش کرو۔ میں نے وہ حدیث ان کے سامنے بیان کی تو انہوں نے اس کی کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا۔

بَلٰی ثَقُلَ رَسُوْلُ اللہِ فَقَالَ: اَصَلَّی النَّاسُ؟ فَقُلْتُ: لَا ھُمْ یَنْتَظِرُوْنَکَ ← مَرَضِ رَسُوْلِ اللہِ ← دَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ فَقُلْتُ لَھَا: اَلا تُحَدِّثِنِیْ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← اَبُوْ بَکْرِ بْنُ شَیْبَۃَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2116

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2117

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ا،سْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَسَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ مُّوسَی بْنِ اَبِیْ عَائشَۃَ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عَائشَۃَ: اَنَّ اَبَا بَکْرٍ صَلّٰی بِالنَّاسِ وَرَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الصَّفِّ خَلْفَہُ۔ (5:1)

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان رکرتی ہیں: حضرت ابو بکر ؓ نے لوگوں کو نماز پڑھائی جبکہ نبی اکرمﷺ ان کے پیچھے صف میں موجود تھے۔

عَائشَۃَ: اَنَّ اَبَا بَکْرٍ صَلّٰی بِالنَّاسِ وَرَسُوْلُ اللہِ فِی الصَّفِّ خَلْفَہُ۔ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← شُعْبَةُ، ← بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَسَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ ا،سْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ،

Hadith 2117

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2118

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْن، اِبْرَاھِیْمَ مَوْلٰی ثَقِیْفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَہَ الْعَبْسِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائدَۃَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ شَقِیقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائشَۃَ، قَالَتْ: اُغْمِیَ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اَقَاقَ فَقَالَ : اَصَلَّی النَّاسُ؟ قُلْنَا: لَاقَالَ: مُرُوْا اَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِلنَّاسُ؟ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللہِ اِنَّ اَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ اَسِیفٌ اِذَا قَامَ مَقَامَکَ لَمْ یَسْتَطِعْ اَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ ، قَالَ عَاصِمٌ: وَالْاَسِیفُ الرَّقِیقُ الرَّحِیْمُ۔ قَالَ: مُرُوْااَبَابَکْرِ اَنْ یُصَلِّیَ بَالنَّاسِ قَالَ ذٰلِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ کُلُّ ذٰلِکَ اَرُدُّ عَلَیْہِ قَالَتْ: فَصَلّٰی اَبُوْ بَکْرٍ بَالنَّاسِ ، ثُمَّ اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّۃً مِنْ نَفْسِہِ فَخَرَجَ بِیْنَِ بَرِیْرَۃَ وَنُوْبَۃَ اِنِّیْ لَاَنْظُرُ اِلَی نَعْلَیْہِ تَخُطَّانِ فِی الْحَصَا وَاَنْظُرُ اِلٰی بُطُونِ قَدَمَیْہِ، فَقَالَ لَھُمَا: اَجْلِسَانِیْ اِلٰی جَنْبِ اَبِیْ بَکْرٍ فَلَمَّا رَآہُ اَبُوْ بَکْرٍ ذَھَبَ یَتَاَخَّرُ، فَاَوْمَاَ اِلَیْہِ اَنِ اثْبُتْ مَکَانَکَ فَاَجْلَسَاہُ اِلٰی جَنْبِ اَبِیْ بَکْرٍ ، قَالَتْ: فَکَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ وَھُوَ جَالِسٌ وَاَبُوْ بَکْرٍقَائمٌ یُصَلِّیْ بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ یُصَلُّونَ بِصَلَاۃِ اَبِیْ بَکْرٍ۔ (5:1)

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ پر بے ہوشی طاری ہوگئی جب آپ کو ہوش آیا ، تو آپ نے دریافت کیا، کیا لوگوں نے نماز ادا کرلی ہے؟ میں نے عرض کی : جی نہیں آپ نے فرمایا: ابو بکر سے کہو، وہ لوگوں کو نماز پڑھادے ۔ میں نےعرض کی : یا رسول اللہ(ﷺ ): حضرت ابوبکرؓ ایک نرم دل آدمی ہیں جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو وہ لوگوں کو نماز نہیں پڑھاسکیں گے۔ عاصم نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے۔ روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ اسیف سے مراد نرم دل اور مہربان ہونا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ابو بکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھادے یہ بات نبی اکرمﷺ نے تین مرتبہ کہی اور ہر مرتبہ میں نے بھی وہی جواب دیا: سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: پھر حضرت ابو بکر ؓ نے لوگوں کو نماز پڑھائی پھر نبی اکرمﷺ کو طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی تو آپ بریرہ اور نوبہ (نامی کنیزوں) کے درمیان (یعنی ان کے ساتھ ٹیک لگا کر چلتے ہوئے) تشریف لے گئے یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ آپ کے نعلین شریفین کنکریوں پر لکیر بنارہے تھے اور میں آپ کے پاؤں کے تلوے کو دیکھ رہی تھی۔ نبی اکرمﷺ نے ان دونوں سے فرمایا: تم مجھے ابو بکر کےپہلو میں بٹھا دو جب حضرت ابو بکر ؓ نے آپ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، نبی اکرمﷺ نے انہیں اشارہ کیا، اپنی جگہ پر رہواور ان دونوں نے آپ کو حضرت ابو بکر ؓ کے پہلوں میں بٹھا دیا۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ بیٹھ کر نماز ادا کرتے رہے۔ حضرت ابو بکر ؓ کھڑے ہو کر نبی اکرمﷺ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرتے رہے اور لوگ حضرت ابو بکر ؓ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرتے رہے۔

اُغْمِیَ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ ثُمَّ اَقَاقَ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← شَقِيقٍ، ← عَاصِمٍ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 2118

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2119

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ خَلْفَ اَبِیْ بَکْرٍقَاعِدًا۔ (5:1)

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے اپنی اس بیماری کے دوران حضرت ابو بکر ؓ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی جس بیماری کے دوران آپ کا وصال ہوا۔

صَلّٰی رَسُوْلُ اللہِ فِیْ مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ خَلْفَ اَبِیْ بَکْرٍقَاعِدًا۔ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← شُعْبَةُ، ← شَبَابَةُ ← اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2119

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2120

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَیْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَاسَلْمُ بْنُ جُنَادَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْاَعْمَسِ ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنِ الْاَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: لَمَّا مَرِضَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَضَہُ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ جَائَہٗ بِلَالٌ یُؤْذِنُہُ بِالصَّلَاۃِ، فَقَالَ: مُرُوْا اَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللہِ، اِنَّ اَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ اَسِفٌ وَمَتَی یَقُمْ مَقَامَکَ یَبْکِ فَلَوْ اَمَرْتَ عُمَرَ اَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ قَالَ: مُرُوْا اَبَا بَکْرٍ لِیُصَلِّیَ بَالنَّاسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَاِنَّکُنَّ صَوَاحِبَابُ یُوسُفَ، قَالَتْ: فَاَرْسَلْنَا اِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ فَصَلّٰی بِالنَّاسِ فَوَجَدَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِہِ خِفَّۃً فَخَرَجَ یُھَادیٰ بِیْنَ رَجُلَیْنِ وَرِجْلَاہُ تَخُطَّان، فِی الْاِرْضِ، فَلَمَّا حَسَّ بِہٖ اَبُوْ بَکْرٍ ذَھَبَ یَتَاَخَّرُ، فَاَوْمَاَ اِلَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ مَکَانَکَ قَالَ: فَجَاءَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ اِلٰی جَنْبِ اَبِیْ بَکْرٍ فَکَانَ اَبُوْ بَکْرٍ یَاْتَمُّ بِالنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ یَاْتَمُّونَ بِاَبِیْ بَکْرٍ۔ (5:1)

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کا وصال ہوا تھا تو حضرت بلالؓ آپ کو نماز کے لئے بلانے کے لئے آئے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ابو بکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھادے۔ ہم نے عرض کی :یا رسول اللہ(ﷺ)! حضرت ابو بکر ایک نرم دل آدمی ہیں۔ وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوگئے ، تو رونے لگ جائیں گے اگر آپ حضرت عمرؓ کو یہ ہدایت کریں، وہ لوگوں کو نماز پڑھادیں (تو یہ مناسب ہوگا) ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:؛ ابو بکر سے کہو، لوگوں کو نماز پڑھادے یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر فرمایا:تم حضرت یوسفؑ کے زمانے کی خواتین کی طرح ہو۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہے۔ ہم نے حضرت ابو بکر ؓ کو پیغام بھجوایا۔ انہوں نے لوگوںکو نماز پڑھانا شروع کی۔ نبی اکرمﷺ کو اپنی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی تو آپ دو آدمیوں کے درمیان ٹیک لگا کر تشریف لے گئے۔ آپ کے پاؤں زمین پر لکیر بنا رہے تھے حضرت ابو بکر ؓ کو آپ کی آہٹ محسوس ہوئی تو وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ تشریف لائے اور حضرت ابوبکر ؓ کے پہلو میں بیٹھ گئے ، تو حضرت ابو بکر ؓ نبی اکرمﷺ کی اقتداء کرتے رہے اور لوگ حضرت ابوبکر ؓ کی اقتداء کرتے رہے۔

مُرُوْا اَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللہِ، ← لَمَّا مَرِضَ النَّبِیُّ مَرَضَہُ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ جَائَہٗ بِلَالٌ یُؤْذِنُہُ ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَسِ ← وَكِيعٌ، ← حَدَّثَنَاسَلْمُ بْنُ جُنَادَۃَ، ← عمر بن محمد بن بجیر ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 2120

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2121

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُمَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الْاَعْمَشِ ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ ، عَنِ الْاَسْوَدِ، عَنْ عَائشَۃَ، قَالَتْ: لَمَّا وَجَدَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِہِ خِفَّۃً جَاءَ حَتّٰی جَلَسَ عَنْ یَّسَارِ اَبِیْ بَکْرٍ وَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ قَاعِدًا وَاَبُوْ بَکْرٍ قَائمًا۔(5:1)

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں:نبی اکرمﷺ کو اپنی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی توآپ تشریف لائے اور حضرت ابو بکرؓ کے بائیں طرف آکربیٹھ گئے۔ نبی اکرمﷺ بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھارہے تھے اور حضرت ابو بکر ؓ کھڑے ہو کر (نماز پڑھارہے تھے)

یَّسَارِ اَبِیْ بَکْرٍ وَکَانَ النَّبِیُّ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ قَاعِدًا وَاَبُوْ بَکْرٍ قَائمًا۔(5:1) ← لَمَّا وَجَدَ رَسُوْلُ اللہِ مِنْ نَفْسِہِ خِفَّۃً جَاءَ حَتّٰی جَلَسَ ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2121

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2122

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ مَوْھِبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی اللَّیْثُ سَعْدٍ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرِ، قَالَ: اشْتَکَی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلَّیْنَا وَرَائَہٗ وَھُوَ قَاعِدٌ وَاَبُوْ بَکْرٍ یُکَبِّرُ یُسْمِعْ النَّاسَ تَکْبِیرَ ہُ قَالَ: فَالْتَفَتَ اِلَیْنَا فَرَآنَا قِیَامًا، فَاَشَارَ اِلیْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّیْنَا بِصَلَاتِہٖ قُعُوْدًا، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: کِدْتُمْ اَنْ تَفْعَلُوْا فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومَ یَقُوْمُوْنَ عَلٰی مُلُوکِھِمْ وَھُمْ قُعُوْدٌ فَلَاتَفْعَلُوْا ائْتَمُّوا بِاِمَامِکُمْ اِنْ صَلّی قَائمًا فَصَلُّوْا قِیَامًا، وَاِنْ صَلّٰی قَاعِدًا فَصَلُّوْا قُعُوْدًا۔(5:1)

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ بیمار ہوگئے۔ ہم نے آپ کے پیچھے نماز ادا کی آپ بیٹھ کر نماز ادا کررہے تھےاور حضرت ابوبکرؓ آپ کی تکبیر کی آواز لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ہماری طرف توجہ کی تو آپ نے ہمیں کھڑے ہوئے ملاحظہ کیا آپ نے اشارہ کیا، تو ہم بیٹھ گئے اور ہم نے بیٹھ کر وہ نماز ادا کی آپ نے سلام پھیرا اور ارشاد فرمایا: قریب تھاکہ تم وہ عمل کرتے جو اہل فارس اور اہل روم کرتے ہیں۔ وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں تم ایسا نہ کرو تم اپنے امام کی پیروی کرو اگر وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّیْثُ سَعْدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 2122

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2123

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الَحَسَنُ بْنُ سَھْلٍ الْجَعْفَرِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حُمَیْدٍ اَبُوْ عَوْفٍ الرُّؤَاسِیُّ ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاۃَ الظُّھْرِ وَھُوَ جَالِسٌ وَاَبُوْبَکْرٍ خَلْفَہٗ، فَاِذَا کَبَّرَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَبَّرَ اَبُوْ بَکْرٍ یُسْمِعُنَا، قَالَ: فَنَظَرَنَا قِیَامًا فَقَالَ: اجْلِسُوا اَوْمَاَبِذٰلِکَ اِلَیْھِمْ قَالَ: فَجَلَسْنَا فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ قَالَ: کِدْتُمْ تَفْعَلُوْا فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومَ بِعُظَمَائھِمِ ائْتَمُّوا بِاَئمَّتِکُمْ، فَاِنْ صَلُّوْا جُلُوْسًا فَصَلُّوْا جُلُوْسًا، وَاِنْ صَلُّوْا قِیَامًا فَصَلُّوْا قِیَامًا۔ (5:1)

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی ۔آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی حضرت ابوبکر ؓ آپ کے پیچھے تھے۔ جب نبی اکرمﷺ نے تکبیر کہی تو حضرت ابو بکرؓ نے بلند آواز میں تکبیر کہی تاکہ ہم تک آواز آئے۔ راوی کہتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ نے ہمیں کھڑا ہوا دیکھا تو فرمایا تم لوگ بیٹھ جاؤ۔ آپ نے لوگوں کی طرف اس کا اشارہ کیا(کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ) راوی کہتے ہیں: ہم بیٹھ گئے، جب نبی اکرمﷺ نے نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم ایسا طرز عمل اختیار کرنے لگے تھے جو اہل فارس اور اہل روم اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں تم لوگ اپنے آئمہ کی پیروی کرو اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کریں، تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو اگر وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کریں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَبِيهِ ← حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ أَبُو عَوْفٍ الرُّؤَاسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْجَعْفَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2123

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2124

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُعَیْمُ بْنُ اَبِیْ ھِنْدَ، عَنْ اَبِیْ وَائلٍ، اَحْسَبُہُ عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائشَۃَ، اَنَّھَا قَالَتْ: اُغْمِیَ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا اَفَاقَ قَالَ: ھَلْ نُودِیَ بَالصَّلَاۃِ؟ فَقُلْنَا: لَا فَقَالَ: بِلَا لًا فَلْیُبَادِرْ بِا لصَّلَاۃِ وَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ اَبُوْ بَکْرٍ قَالَتْ : فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللہِ اِنَّ اَبَابَکْرٍ رَجُلٌ اَسِیفٌ لَا یَسْطِیعُ اَنْ یَّقُوْمَ مَقَامَکَ قَالَتْ: فَنَظَرَ اِلَیَّ حِیْنَ فَرَغَ مِنْ کَلَامِہٖ، ثُمَّ اُغْمِیَ عَلَیْہِ فَلَمَّا اَفَاقَ قَالَ: ھَلْ نُودِیَ بِالصَّلَاۃِ؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: مُرِی بَلَالًا فَلْیُنَادِ بِالصَّلَاۃِ وَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ اَبُوْ بَکْرٍ قَالَتْ: فَاَوْمَاَتْ اِلٰی حَفْصَدۃَ فَقَالَتْ: یَانَبِیَّ اللہِ اِنَّ اَبَابَکْرٍ رَجُلٌ رَقِیقٌ لَا یَسْتَطِیعُ اَنْ یَّقْرَ اَلَّا یَبْکِی قَالَ: فَنَظَرَ اِلَیْھَا حِیْنَ فَرَغَتْ مِنْ کَلَامِھَا، ثُمَّ اُغْمِیَ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اَفَاقَ قَالَ: ھَلْ نُودِیَ بِالصَّلَاۃِ؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: لَا فَقَالَ: مُرِی بِلَالًا فَلْیُنَادِ بِالصَّلَاۃِ وَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ اَبُو بَکْرٍ، فَاِنَّکُنَّ صَوَاحِنَاتُ یُوسُفَ ، ثُمَّ اُغْمِیَ عَلٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: فَاَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاۃَ وَصَلٰی بِالنَّاسِ اَبُو بَکْرٍ، ثُمَّ اَفَاقَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بِنُوْبَۃَ ، وَبَرِیْرَۃَ فَاحْتَمَلَاہُ قَالَتْ عَائشَۃُ: فَکَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰی اَصَابِعِ قَدَمَیْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَخُطُّ فِی الْاَرْضِ قَالَتْ: فَلَمَّا اَحَسَّ اَبُوْبَکْرٍ بِمَجِیءِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَرَادَ اَنْ یَّسْتَاْخِرَ فَاَوْمَاَ اِلَیْہِ اَنْ یَّثْبُتَ قَالَتْ: وَجِیءَ بِنَبِیِّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوْضِعَ بِحِذَاءِ اِبِیْ بَکْرٍ فِی الصَّفِّ۔(5:1)

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ پر بے ہوشی طاری ہوگئی ۔ جب آپ کو ہوش آیا، تو آپ نے دریافت کیا:کیا نماز کے لئے اذان دے دی گئی ہے۔ ہم نے عر ض کی : جی نہیں۔ بنی اکرمﷺ نے فرمایا : بلال سے کہو، وہ نماز کے لئے جلدی کرے اور ابو بکر لوگوں کو نماز پڑھادے۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ(ﷺ)! حضرت ابو بکر ؓ ایک نرم دل آدمی ہیں وہ آپ کی جگہ پر کھڑے نہیں ہو سکیں گے۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے میری طرف دیکھا جب آپ کلام کر کے فارغ ہوئے تو، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی جب آپ کو ہوش آیا، تو آپ نے دریافت کیا: کیا نماز کے لئے اذان ہوگئی ہے۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں۔ میں نے عرض کی :جی نہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:بلال سے کہو ، نماز کے لئے اذان دے اور ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھادے۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں۔ میں نے حفصہ کی طرف اشارہ کیا، تو انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ! حضرت ابوبکرؓ ایک نرم دل آدمی ہیں۔ وہ قرأت نہیں کر سکیں کے اور روتے رہیں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ان کی بات ختم ہونے پر ان کی طرف دیکھا پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی جب آپ کو ہوش آیا، تو آپ نے دریافت کیا: کیا نماز کے لئے اذان دے دی گئی ہے۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں۔ میں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: بلال سے کہو نماز کے لئے اذان دے اور ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھادے تم حضرت یوسف کے زمانے کی خواتین کی طرح ہو پھر نبی اکرمﷺ پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ حضرت بلالؓ نے اذان کے لئے اقامت کہی پھر حضرت ابوبکر ؓ نے لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کی جب نبی اکرمﷺ کو ہوش آیا، تو آپ نوبہ اور بریرہ کے ساتھ تشریف لے گئے۔ ان دونوں نے آپ کو ٹیک دی ہوئی تھی۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں۔ نبی اکرمﷺ کے دونوں پاؤں کی انگلیوں کا منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے ، وہ زمین پر نشان بنا رہی تھی۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: جب حضرت ابوبکر ؓ کو نبی اکرمﷺ کی آمد محسوس ہوئی تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرمﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ پر رہیں۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں:نبی اکرمﷺ کو لاکر حضرت ابو بکر ؓ کے ساتھ صف میں بٹھا دیا گیا۔

فَقُلْتُ: ← بِلَا لًا فَلْیُبَادِرْ بِا لصَّلَاۃِ وَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ اَبُوْ بَکْرٍ ← ھَلْ نُودِیَ بَالصَّلَاۃِ؟ فَقُلْنَا: لَا ← اُغْمِیَ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ فَلَمَّا اَفَاقَ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← مَسْرُوقٍ ← اَبِیْ وَائلٍ، اَحْسَبُہُ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2124

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2125

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ سُوَیْدٍ الرَّمْلِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَیُّوْبُ بْنُ سُلَیْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیْلِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَابِیِّ ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: آخِرُ صَلَاۃٍ صَلَّاھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَعَ الْقَوْمِ فِیْ ثَوْبِ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًابِہٖ یُرِیْدُ قَاعِدًا خَلْفَ اَبِیْ بَکْرٍ۔ (5:1)

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے لوگوں کے ساتھ جو آخری نماز ادا کی تھی وہ آپ نے ایک کپڑے میں ادا کی تھی جسے آپ نے تو شیح کے طور پر اوڑھا ہوا تھا۔ آپ نے حضرت ابوبکرؓ کے پیچھے بیٹھ رک نماز ادا کی تھی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَابِیِّ ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أبوبكرِ بنُ أبي أُويسٍ، ← أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ سُوَیْدٍ الرَّمْلِیُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 2125

chevron_left Previous
1234…12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr