Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2222

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیٰی ، عَنْ حَجَّاجِ الصَّوَّافِ ، عَنْ یَّحْیَی بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ اِبِیْ قَتَادَۃَ ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِذَا اُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَلَا تَقُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْنِیْ ۔(9:2)

عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ’’ جب نماز کے لئے اقامت کہہ دی جائے تو تم لوگ س وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے دیکھ نہیں لیتے۔‘‘

اِذَا اُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَلَا تَقُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْنِیْ ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2222

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2223

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إذا اُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَلَا تَقُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْنِیْ قَدْ خَرَجْتُ اِلَیْکُمْ ۔ ( 9:2)

عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ’’ جب نماز کے لئے اقامت کہہ دی جائے‘ تو تم لوگ اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے دیکھ نہیں لیتے کہ میں تمہاری طرف آگیا ہوں۔‘‘

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2223

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2224

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاَنَا مَعَہٗ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوکَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَعَدَلْتُ مَعَہٗ ، فَنَانَاخَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَبَرَّزَ ثُمَّ جَائِنِیْ فَسَکَبْتُ عَلٰی یَدَیْہِ مِنَ الْاِدَاوَۃِ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْھَہُ ، ثُمَّ حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَیْہِ فَضَاقَ کُمُّ جُبَّتِہٖ فَاَدْخَلَ یَدَیْہِ فَاَخْرَ جَھُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّۃِ ، فَغَسَلَھُمَا اِلَی الْمِرْفَقِ وَمَسَحَ بِرَاْسِہٖ ، ثُمَّ تَوَضَّاَ عَلٰی خُفَّیْہِ ، ثُمَّ رَکِبَ فَاَقْبَلْنَا نَسِیْرُ حَتّٰی نَجْدَ النَّاسَ فِی الصَّلَاۃِ قَدَّمُوْا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ فَصَلّٰی بِھِمْ حِیْنَ کَانَ وَقْتُ الصَّلَاۃِ وَوَجَدْنَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ قَدْرَکَعَ بِھِمْ رَکْعَۃُ مِنْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ وَرَاءَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ فَصَلَّی الرَّکْعَۃَ الثَّانِیَۃَ مِنْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ ، ثُمَّ سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ فَقَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُتِمُّ صَلَاتَہٗ فَفَزِعَ الْمُسْلِمُوْنَ وَاَکْثَرُوْا التَّسْبِیحَ لِاَنَّھُمْ سَبَقُوا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَھُمْ: احْسَنْتُمْ اَوْقَدْ اَصَبْتُمْ ۔ (4:5)

عروہ بن مغیرہ بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد ( حضرت مغیرہ بن شعبہؓ ) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرمﷺ غزوہ تبوک کے موقع پر فجر سے پہلے راستے سے ہٹ گئے۔ آپ کے ہمراہ میں بھی ہٹ گیا۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی سواری کو بٹھایا اور آپ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے پھر آپ میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے آپ کے دونوں ہاتھوں پر برتن سے پانی انڈیلا آپ نے دونوں ہاتھوں کو دھویا پھر آپ نےاپنے چہرے کو دھویا پھر آپ نے اپنی کلائی کو باہر نکالنے کی کوشش کی لیکن جبے کی آستین تنگ تھی‘ تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اندر داخل کئے اور جبے کے نیچے سے باہر نکالے پھر آپ نے انہیں کہنیوں تک دھویا۔ آپ نے اپنے سر کا مسح کیا‘ پھر آپ نے اپنے موزوں پر وضو کای ( یعنی مسح کیا ) پھر آپ سوار ہوئے کچھ یہ دور چلنے کے بعد ہم لوگوں تک پہنچ گئے جو نماز ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو آگے کیا تھا اور وہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے۔ اس وقت جب نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ ہم نے حضرت عبدالرحمٰن ؓ کو ایسی حالت میں پایا‘ وہ ان لوگوں کو فجرکی نماز کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ نبی اکرمﷺ مسلمانوں کے ساتھ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ نے فجر کی نماز ادا کی دوسری رکعت ادا کی جب حضرت عبدالرحمٰن ؓ نے سلام پھیرا تو نبی اکرمﷺ اپنی نماز مکمل کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ مسلمان اس پر گھبرا گئے انہوں نے بکثرے سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا کیونکہ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے آگے نکلنے کی کوشش کی تھی جب نبی اکرمﷺ نے سلام پھیرا تو آپ نے ان سے ارشاد فرمایا: تم لوگوں نے اچھا کیاہے۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) تم لوگوں نے ٹھیک کیاہے۔

عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2224

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2225

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ وَعُرْوَةَ ابْنَيِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِمَا الْمُغِيرَةِ، قَالَ: تَبَرَّزَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ كُمُّ جُبَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ صُوفٌ رُومِيَّةٌ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي فُرُوجٍ كَانَ فِي خَصْرِهَا فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ وَأَنَا مَعَهُ، فَوَجَدَ النَّاسَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الصَّفِّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَؤُمُّهُمْ، فَأَدْرَكْنَاهُ، وَقَدْ صَلَّى رَكْعَةً فَصَلَّيْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الثَّانِيَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فأتم صلاته، ففرغ النَّاسُ لِذَلِكَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: "قَدْ أَصَبْتُمْ وَأَحْسَنْتُمْ، إِذَا احْتَبَسَ إِمَامُكُمْ، وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَدِّمُوا رجلا يؤمكم" 1. [1: 78]

حضرت مغیرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ قضائے حاجت کےلئے تشریف لے گئے پھر آپ تشریف لائے‘ تو میں نے برتن میں سے آپ پر پانی انڈیلا۔ آپ نے اپنے چہرے کو دھویا پھر آپ اپنی کلائیاں باہر نکالنے لگے تو جبے کی آستین تنگ تھی۔ وہ اون کا بنا ہوا رومی جبہ تھا۔ نبی اکرمﷺ نے اپنا دست مبارک اس جگہ سے باہر نکالا جو کھلی تھی اور آپ کے پہلو کے پاس تھی۔ آپ نے دونوں بازو کہنیوں تک دھوئے آپ نے اپنے سر کا مسح کیا‘ اور دونوں موزوں پر مسح کیا‘ پھر آپ تشریف لائے میں آپ کے ساتھ تھا۔ نبی اکرمﷺ نے لوگوں کونماز کی حالت میں پایا تو نبی اکرمﷺ بھی صف میں کھڑے ہو گئے۔حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ ان لوگوں کی امامت کر رہے تھے۔ ہم نے انہیں ایسی حالت میں پایا‘ وہ ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے حضرت عبدالرحمٰن ؓ کی اقتداء میں دوسری رکعت ادا کی جب انہوں نے سلام پھیرا تو نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے اور اپنی نماز مکمل کی تو لوگ اس بات پر گھبرا گئے‘ جب نبی اکرمﷺ نے اپنی نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں نے ٹھیک کیا ہے۔ تم نے اچھا کیا ہے‘ جب تمہارا امام نہ آسکے اور نماز کا وقت ہو جائے‘ تو تم کسی شخص کو آگےکر دو جو تمہیں نماز پڑھائے۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ( جعفر بن برقان نے اس روایت کی سند کو مختصر کیا ہے۔ انہوں نےاس سند میں عباس بن زیاد کا تذکرہ نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ زہری نے یہ روایت عباس بن زیادؓ کے حوالے سے عروہ بن مغیرہ کے حوالے سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت حمزہ بن مغیرہ کے حوالے سے ان کے والد سے بھی سنی ہے۔ یہ بہت امام ابوحاتم نے بیان کی ہے۔

أَبِيهِمَا الْمُغِيرَةِ، ← حَمْزَةَ وَعُرْوَةَ ابْني الْمُغيرَة بن شُعْبَة ← الزُّهْرِيِّ، ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2225

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2226

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَبُو إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِي قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ -وَكَانَ غَيْرَ كَذُوبٍ- أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا صَلُّوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامُوا قِيَامًا حَتَّى يَرَوْهُ قد سجد، ثم يسجدون1. [4: 50]

حضرت براءؓ بیان کرتے ہیں: اور انہوں نے غلط بیانی نہیں کی وہ کہتے ہیں‘ صحابہ کرامؓ جب نبی اکرمﷺ کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے ( تو رکوع ) سے سر اٹھانے کے بعد کھڑے رہتے تھے‘ یہاں تک کہ جب وہ آپ کو دیکھتے‘ آپ سجدے میں چلے گئے ہیں‘ تو پھر وہ لوگ سجدے میں جاتے تھے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2226

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2227

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، وكاملُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ -وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ- قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ نَزَلْ قِيَامًا حَتَّى نَرَاهُ قَدْ سَجَدَ، ثُمَّ نسجد1. [4: 50]

حضرت براءؓ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے پیچھے جب نماز ادا کرتے تھے‘ تو (رکوع سے سر اٹھانے ) کے بعد اس وقت تک کھڑے رہتے تھے جب تک آپ کو سجدے میں گیا ہوا نہیں دیکھ لیتے تھے ‘ پھر ہم سجدے میں جاتے تھے۔

الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، وكاملُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2227

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2228

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْإِفْرِيقِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "سَيَأْتِي أَقْوَامٌ أَوْ يَكُونُ أَقْوَامٌ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ، فَإِنْ أَتَمُّوا، فَلَكُمْ وَلَهُمْ، وَإِنْ نَقَصُوا، فَعَلَيْهِمْ وَلَكُمْ" 1. [3: 66] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الله تعالى عَنْهُ: أَبُو أَيُّوبَ الْإِفْرِيقِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بن علي، من ثقات أهل الكوفة.

حضرت ابوہرہرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے ( راوی کو شک ہےشاید یہ الفاظ ہے) ایسے لوگ ہوں گے‘ جو نماز ادا کریں گے اگر وہ نماز کو مکمل ادا کریں گے تو تمہیں بھی ثواب ملے گا انہیں بھی ملے گا اور اگر وہ اس میں کمی کریں گے تو اس کا وبال ان پر ہو گا اور تمہیں ثواب مل جائے گا۔‘‘ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابو ایوب افریقی نامی راوی کا نام عبداللہ بن علی ہے اور یہ کوفہ سے تعلق رکھنے والے ثقہ راوی ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← أَبِي أَيُّوبَ الْإِفْرِيقِيِّ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2228

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2229

حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ [ص:608] الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُبَادِرُونِي بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛ فَإِنِّي مَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا سَجَدْتُ وَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا سَجَدْتُ تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ». [2: 43]

حضرت معاویہ بن ابوسفیانؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ تم لوگ مجھ سے پہلے رکوع یا سجدے میں جانے کی کوشش نہ کرو کیونکہ میں تم سے پہلے جتنی دیر کےلئے رکوع میں جاؤں گا تم مجھے اس وقت اس حالت میں پا لو گے جب میں سجدے میں جاؤں گا اور تم سے پہلے سجدے میں جتنی دیر پہلے جاؤں گا‘ تو تم مجھے اس وقت پا لو گے جب میں سر اٹھاؤں گا۔ اس کی وجہ یہ ہے‘ میرا وزن زیادہ ہو چکا ہے۔‘‘

مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ← ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ [ص:608] الْقَطَّانُ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2229

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2230

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، سَمِعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ، وَلَا بِالسُّجُودِ، فَإِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ، وَإِنِّي مَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ حِينَ أَرْكَعُ، تُدْرِكُونِي بِهِ حِينَ أَرْفَعُ، وَمَا سَبَقْتُكُمْ بِهِ حين أسجد، تدركوني به حين أرفع" 1. [2: 3]

حضرت معاویہؓ نےمنبر پر یہ بات بیان کی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’ تم لوگ مجھ سے پہلے رکوع یا سجدے میں جانے کی کوشش نہ کرو کیونکہ میرا وزن زیادہ ہو گیا ہے۔ رکوع میں جاتے ہوئے میں تم سے پہلے جاؤں گا‘ تو تم مجھے اس وقت پا لو گے جب میں رکوع سے سر اٹھاؤں گا اور تم سے پہلے‘ جب میں سجدے میں جاؤں گا ‘ تو تم مجھے اس وقت پا لو گے۔ جب میں ( سجدے سے سر کو ) اٹھاؤں گا۔‘‘

مُعَاوِيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ ← ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2230

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2231

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : اَیُّھَا النَّاسُ ، اِنِّیْ قَدْ بَدَّنْتُ اَوْ بَدَّنْتُ فَلَا تَسْبِقُوْنِیْ بِالرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ وَلٰکِنِّیْ اَسْبِقُکُمْ ، اِنَّکُمْ تُدْرِکُوْنَ مَا قَاتَکُمْ ۔

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ اے لوگو! میرا وزن زیادہ ہو گیا ہے تو تم لوگ مجھ سے پہلے رکوع یا سجدے میں نہ جاؤ بلکہ میں تم سے پہلے جاؤں گا تم لوگ وہاں تک پہنچ جاؤ گے‘ جو پہلے گزر جائے گا۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← عَمِّي، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2231

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2232

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، بالتكبير2.

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: مجھے تکبیر ( کی آواز ) کے ذریعے نبی اکرمﷺ کی نماز ختم ہونے کا پتہ چل جاتا تھا۔

كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ بالتكبير2. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو مَعْبَدٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2232

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2233

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا «أَنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ إِذَا سَلَّمْنَ مِنَ الصَّلَاةِ قُمْنَ وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ صَلَّى مَعَهُ مِنَ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ الرِّجَالُ». [5: 94]

یّدہ ام سلمہؓ جو نبی اکرمﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں خواتین سلام پھیرنے کے ساتھ ہی اٹھ جاتی تھیں جبکہ نبی اکرمﷺ اور آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنے والے مرد حضرات‘ جب تک اللہ کو منظور ہوتا تھا‘ بیٹھے رہتے تھے‘ پھر جب نبی اکرمﷺؑ اٹھتے تھے‘ تو مرد حضرات بھی اٹھتے تھے۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2233

chevron_left Previous
1…9101112
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr