Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2690

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ أَبَا عُبَيْدِ (1) اللَّهِ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلُوا مَنْزِلًا تَفَرَّقُوا فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ» ، قَالَ: فَلَمْ يَنْزِلُوا بَعْدُ مَنْزِلًا إِلَّا انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ حَتَّى لَوْ بُسِطَ عَلَيْهِمْ ثَوْبٌ لَعَمَّهُمْ (2) . [2: 56]

حضرت ابو ثعلبہ خشنی ؓ بیان کرتے ہیں : لوگ جب کسی جگہ پڑاؤ کرتےتھے تو وہ گھاٹیوں اور نشیبی علاقوں میں مختلف جگہ بکھر جاتے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارا اس طرح گھاٹیوں اور نشیبی علاقوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد لوگ جب بھی کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے تو وہ ایک جگہ یوں اکٹھے رہتے تھے اگر ان پر کوئی کپڑا بچھا یا جائے تو وہ ان سب پر آجائے۔

رَسُولُ اللَّهِ «إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ» ← كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلُوا مَنْزِلًا تَفَرَّقُوا فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ، ← أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ ← مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ أَبَا عُبَيْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، أَنَّهُ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← إسماعيل بن عبد الله بن خالد القرشي ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2690

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2691

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانُوا يَحُجُّونَ وَلَا يَتَزَوَّدُونَ» ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى} [البقرة: 197] (1) . [4: 27]

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: پہلے لوگ حج پر جاتے تھے تو زاد راہ ساتھ لے کر نہیں جاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: اور تم زاد راہ بھی ساتھ رکھو بے شک سب سے بہتر زاد راہ پر ہیز گاری ہے۔

«كَانُوا يَحُجُّونَ وَلَا يَتَزَوَّدُونَ» فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى} [البقرة: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← وَرْقَاءُ ← شَبَابَةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2691

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2692

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ (1) ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ (2) وَهُوَ يُرِيدُ سَفَرًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ» ، حَتَّى إِذَا أَدْبَرَ الرَّجُلُ قَالَ: «اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» (3) . [5: 12]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ سفر پر جانا چاہتا تھا اس نے نبی اکرمﷺ کو سلام کیا نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی اور ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے اللہ اکبر کہنے کی تلقین کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرمﷺ نے دعا کی : اے اللہ! اس کے لئے زمین کو لپیٹ دے اور اس کے لئے سفر کو آسان کر دے۔

اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ وَهُوَ يُرِيدُ سَفَرًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ← أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2692

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2693

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغَوْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الْعِرَاقِ أَنَا وَرَجُلٌ مَعِي، فَشَيَّعَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُفَارِقَنَا، قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ مَعِي شَيْءٌ أُعْطِيكُمَا، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا اسْتَوْدَعَ اللَّهُ شَيْئًا حَفِظَهُ، وَإِنِّي أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمَا وَأَمَانَتَكُمَا، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكُمَا» (1) . [1: 2]

مجاہد بیان کرتے ہیں: میں عراق کےلئے روانہ ہونے لگا تھا میرے ساتھ ایک اور شخص تھا حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہمیں رخصت کرنے کے لیے ہمارے ساتھ آئے جب وہ ہم سے جدا ہونے لگے تو انہوں نے فرمایا: میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو میں تمہیں دوں لیکن میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے۔ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو کوئی چیز و دیعت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے تو میں تمہارے دین تمہاری امانت اور تم دونوں کےعمل کے خاتمے کو اللہ تعالیٰ کو ودیعت کرتا ہوں۔

«إِذَا اسْتَوْدَعَ اللَّهُ شَيْئًا حَفِظَهُ، وَإِنِّي أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمَا وَأَمَانَتَكُمَا، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكُمَا» ← رَسُولِ اللَّهِ ← إِنَّهُ لَيْسَ مَعِي شَيْءٌ أُعْطِيكُمَا، وَلَكِنْ ← وَرَجُلٌ مَعِي، فَشَيَّعَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُفَارِقَنَا، ← خَرَجْتُ إِلَى الْعِرَاقِ ← مُجَاهِدٍ ← الْمُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ، ← أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2693

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2694

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ (2) حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى ظَهْرِ كُلِّ بَعِيرٍ شَيْطَانٌ، فَإِذَا رَكِبْتُمُوهَا فَسَمُّوا اللَّهَ، وَلَا تَقْصُرُوا عَنْ حَاجَاتِكُمْ» (1) . [1: 95]

حضرت حمزہ بن عمر واسلمی ؓ روایت کرتے ہیں بنی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: ہر اونٹ کی پشت پر شیطان ہوتا ہے جب تم اس پر سوار ہو تو اللہ کام نام لو اور اپنی حاجت کے حوالے سے کوئی کو تاہی نہ کرو۔

أَنَّ أَبَاهُ1 حَمْزَةَ ← أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2694

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2695

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ (2) ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ} [الزخرف: 13] ، يَقْرَأُ الْآيَتَيْنِ ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِي سَفَرِي هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ، وَاطْوِ لَنَا الْأَرْضَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا فَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا» ، وَكَانَ إِذَا رَجَعَ قَالَ: «آيِبُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» (3) . [5: 12]

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ سفر پر روانہ ہونے کے وقت جب اپنی سواری پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ تکبیر کہتے تھے پھر یہ پڑھتے تھے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے اس (سواری کو) مسخر کردیا ورنہ ہم اس پر قابو پانے والے نہیں تھے۔نبی اکرمﷺ دو آیات تلاوت کرتے تھے اور پھر یہ کہتے تھے۔ اے اللہ! میں اپنے اس سفر کے دوران نیکی اور پرہیز گاری کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور ایسے عمل کا بھی جس سے تو راضی ہو جائے۔ اے اللہ! ہمارے لئے سفر کو آسان کر دے اور ہمارے لئے زمین کو لپیٹ دے۔ اے اللہ ! تو ہی سفر میں ساتھی ہے اور (ہماری غیر موجودگی میں)گھر والوں کا نگران ہے۔ اے اللہ! تو ہمارے اس سفر میں ہمارے ساتھ رہنا اور ہمارے گھر والوں کا بھی خیال رکھنا۔ نبی اکرمﷺ جب واپس آتے تھے تو یہ کہتے تھے ہم رجوع کرنے والے ہیں اور تو بہ کرنے والے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2695

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2696

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو (1) الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا الْأَسَدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلَاثًا، وَقَالَ: {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ} [الزخرف: 13] ، «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ (2) ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلَدِ» ، فَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ، وَزَادَ فِيهِنَّ: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» (3) . [5: 12]

علی اسدی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے انہیں یہ تعلیم دی نبی اکرمﷺ جب سکی سفر پر روانہ ہونے کے وقت اپنی سواری پر سوار ہوتے تو آپ تین مرتبہ تکبیر کہتے اور پھر یہ پڑھتے تھے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے (اس سواری کو) ہمارے لئے مسخر کیا ورنہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہیں تھے۔ اے اللہ! ہم تجھ سے اس سفر میں نیکی اور پرہیز گاری کا سوال کرتے ہیں اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جس سے تو راضی ہو جائے۔اے اللہ ! ہمارے لئے اس سفر کو آسان کر دے ہمارے لئے اس کی مسافت کو سمیٹ دے۔ اے اللہ! سفر میں تو ہی ساتھی ہے اور گھر والوں کا تو ہی نگران ہے اے اللہ! میں سفر کی مشقت (سفر کی دوران یا واپسی پر ) کسی ناپسندیدہ منظر کو دیکھنے اور واپسی پر اپنے اہل خانہ مال یا اولاد کے بارے میں کسی برے منظر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرمﷺ واپس تشریف لاتے تھے تو یہی کلمات پڑھتے تھے اور ان میں یہ الفاظ زائد پڑھتے تھے۔(ہم) رجوع کرنے والے ہیں تو بہ کرنے والے ہیں عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔

أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُ، ← أَنَّ عَلِيًّا الْأَسَدِيَّ ← ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2696

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2697

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نَوْفَلٍ عَلِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ (1) ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: رَكِبَ عَلِيٌّ دَابَّةً، فَقَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ» ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا، قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَنَا، وَحَمَلَنَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، وَرَزَقَنَا مِنَ الطَّيِّبَاتِ، وَفَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَهُ تَفْضِيلًا: {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: 14] » ، ثُمَّ كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرُكَ» ، ثُمَّ قَالَ: «فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا، وَأَنَا رِدْفُهُ» (2) . [5: 12]

علی بن ربیعہ اسدی بیان کرتے ہیں: حضرت علیؓ سواری پر سوار ہوں گے تو آپ نے بسم اللہ پڑھی تو جب آپ اس پر سوار ہو گئے تو آپ نے یہ پڑھا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے ہمیں عزت عطا کی ہمیں خشکی اور سمندری راستوں پر چلنے کا موقع دیا۔ ہمیں پاکیزہ رزق عطا کیا اور ہمیں اپنی مخلوق میں سے بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ۔ پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے (اس سواری کو) مسخر کیا ورنہ ہم تو اسے قابو میں نہیں کر سکتے تھے۔ بے شک ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔ پھر انہوں نے تین مرتبہ تکبیر کہی پھریہ کہا: اے اللہ! تو میری مغفرت کردے بے شک تیرے علاوہ کوئی اور گناہوں کی مغفرت نہیں کر سکتا۔ پھر حضرت علی ؓ نے بیان کیا ایک مرتبہ نبی اکرمﷺنے بھی ایسا کیا تھا میں اس وقت آپ کے پیچھے سوار تھا۔

عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، ← أَبُو نَوْفَلٍ عَلِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2697

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2698

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي (1) إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ} إِلَى قَوْلِهِ: {وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} ، ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا، اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا، سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ثُمَّ ضَحِكَ، قُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ ثُمَّ ضَحِكَ، فَقُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِنَّ رَبَّكَ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، قَالَ: عَلِمَ عَبْدِي أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي» (2) . [5: 12]

لی بن ربیعہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت حضرت علیؓ کے پاس موجود تھا جب ایک جانور لایا گیا تاکہ وہ اس پر سوار ہوں جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو بسم اللہ پڑھی جب وہ اس جانور کی پشت پر سیدھے بیٹھ گئے تو انہوں نے تین مرتبہ الحمد اللہ کہا پھر یہ پڑھا: پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے (اس سواری کو) مسخر کیا ورنہ ہم اس پر قابو نہیں پاسکتے تھے یہ آیت یہاں تک ہے۔ بے شک ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے۔ پھر انہوں نے تین مرتبہ الحمداللہ پھر تین مرتبہ اللہ اکبر کہا(اے اللہ) تو پاک ہے میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے تو میری مغفرت کر دے گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے۔ پھر وہ مسکرادیئے میں نے دریافت کیا: امیرالمومنین آپ کس بات پر مسکرائے ہیں تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا آپ نے اسی طرح کیا جس طرح میں نے کیا ہے۔ پھر آپ مسکر ادیئے تو میں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ ! آپ کس بات پر مسکرائے ہیں تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارا پروردگار اس بندے سے خوش ہوتا ہے جب وہ یہ کہتا ہے اے میرے پر وردگار تو میری مغفرت کردے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہےمیرا بندہ یہ بات جانتا ہے میرے علاوہ کوئی اور گناہوں کی مغفرت نہیں کر سکتا۔

عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2698

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2699

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ» (1) . [1: 2]

امام محمد الباقر ؒ حضرت ابوہریرہؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: تین طرح کی دعاؤں کے مستجاب ہونے کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے۔ مظلوم کی دعا مسافر کی دعا اور والد کی اپنی اولاد کےلئے کی گئی دعا۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) امام ابو جعفر نامی راوی کا نام محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابو طالب ہے یعنی (یہ امام باقر ہیں)

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي جَعْفَرٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2699

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2700

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، وَالْحَارِثَ بْنَ يَعْقُوبَ حَدَّثَاهُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا نَزَلَ أَحَدُكُمْ مَنْزِلًا فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ» (1) . [1: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، وَالْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، وَالْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ هُوَ وَالِدُ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ مِصْرِيٌّ»

۔حضرت سعد بن ابی وقاص سیدہ خولہ بنت حکیم ؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جب کوئی شخص کسی جگہ پر پڑاؤ کرے اور یہ کلمات نماز پڑھ لے جاتا میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا ہے۔ (نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں) تو جب تک وہ شخص وہاں سے روانہ نہیں ہوا اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) یعقوب بن عبداللہ نامی راوی بکیر بن عبداللہ بن اشج کے بھائی ہیں۔ اور حارث نامی راوی حارث بن یعقوب بن عبداللہ بن اشج ہے حارث بن یعقوب نامی راوی عمروبن حارث مصری کا باپ ہے۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2700

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2701

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَافَرَ وَجَاءَ سَحَرًا (1) يَقُولُ: «سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَحُسْنِ بَلَائِهِ، رَبَّنَا صَاحِبْنَا، فَأَفْضِلْ عَلَيْنَا عَائِذٌ (2) بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» (3) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جب سفر کرتے اور سحری کے وقت آپ تشریف لاتے تو یہ کہتے تھے۔ سننے والے نےاللہ تعالیٰ کی حمد کو سن لیا اور اس کی آزمائش کی خوبی کو بھی۔ اے ہمارے پروردگار ! تو ہمارے ساتھ رہ اور ہم پر اپنا فضل کر! ہم جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَافَرَ وَجَاءَ سَحَرًا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2701

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr