Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 852

أَخْبَرَنَا ابْنُ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُصْبِحَ» (2) . [1: 2]

حضرت عثمان غنیؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص صبح کے وقت یہ پڑھ لے‘‘: ’’ اس اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جس کے اسم کے ہمراہ کوئی چیز زمین اور آسمان میں نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے‘‘۔ تو شام تک اسے کوئی اچانک آزمائش درپیش نہیں ہو گی اور اگر وہ شام کے وقت انہیں پڑھ لے گا تو صبح تک اسےکوئی آزمائش درپیش نہیں ہو گی۔

عُثْمَانَ، ← أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، ← أَبِي مَوْدُودٍ، ← أَبُو ضَمْرَةَ، ← قُتَيْبَةُ، ← ابْنُ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ،

Hadith 852

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 853

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً، وَمَا مَشَى أَحَدٌ مَمْشًى لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً، وَمَا أَوَى أَحَدٌ إِلَى فِرَاشِهِ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے: ’’ جب کوئی شخص کسی محفل میں اللہ کا ذکر نہیں کرتے ‘ تو وہ ان کے لئے حسرت کا طاعث ہو گی جب کوئی شخص کسی راستے پر چلتا ہے اور وہ اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا ‘تو وہ اس کے لئے حسرت کاباعث ہو گی اور جب کوئی شخص اپنے بستر پر جاتا ہے اور وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتا ‘ تو یہ اس کے لئے حسرت کا باعث ہو گی‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 853

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 854

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَثَلُ الْبَيْتِ الَّذِي يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ، وَالْبَيْتِ الَّذِي لَا يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ وہ گھر جس میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہےاور وہ گھر جس میں اللہ کا ذکر نہیں کیا جاتا ‘ ان کی مثال زندہ اور مردہ شخص جیسی ہے‘‘۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 854

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 855

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَغَرِّ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «مَا جَلَسَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ، إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ» (1) . [1: 2]

اغر کہتے ہیں: حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہؓ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ ان دونوں حضرات نے نبی اکرمﷺ کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات کی ہے۔نبی اکرمﷺ نے یہ ارشاد فرمائی ہے: ’’ جب کچھ لوگ اللہ کا ذکر کرتے ہیں‘ تو فرشتے ان کو ڈھانپ لیتے ہیں اور ان پر رحمت نازل ہوتی ہے اور ان لوگوں پر سکنیت نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں موجود ( فرشتوں ) میں ان کا تذکرہ کرتے ہیں ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← الْأَغَرِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 855

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 856

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً فُضُلًا (2) عَنْ كُتَّابِ (3) النَّاسِ، يَمْشُونَ فِي الطُّرُقِ، یَکْتَمِسُوْنَ الذِّکْرِ ، فَاِذَا رَاَوْا اَقْوَامًا یَذْکُرُوْنَ اللہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی تَنَادَوْا: ھَلُمُّوْا اِلٰی حَاجَاتِکُمْ ، فَیَحُفُّوْنَ بِاَجْنِحَتِھِمْ اِلَی السَّمَاءِ ، فَیَسْاَلُھُمْ رَبُّھُمْ جَلَّ وَعَلَا ، وَھُوَ اَعْلَمْ بِھِمْ ، فَیَقُوْلُ: عِبَادِیْ مَا یَقُوْلُوْنَ ؟ فَیَققُوْلُوْنَ: یَا رَبِّ ، یُسَبِّحُوْنَکَ وَیَحْمَدُ وْنَکَ ، فَیَقُوْلُ: ھَلْ رَاَوْنِیْ ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: لَا ، فَیَقُوْلُ: کَیْفَ لَوْ رَاَوْنِیْ ؟ فَیَقُولُوْنَ : لَوْ رَاَوْکَ لَکَانُوْا اَشَدَّ تَسْبِیْحًا وَتَمْجِیْدًا وَتَکْبِیرًا وَتَحْمِیْدًا ، فَیَقُوْلُ: مَاذَا یَسْاَلُوْنَ ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: یَسْاَلُوْنَکَ یَا رَبِّ الْجَنَّۃَ ، فَیَقُوْلُ لَھُمْ: ھَلْ رَاَوْھَا ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: لَا ، فَیَقُوْلُ :کَیْفَ لَوْرَاَوْھَا ؟ فَیَقُوْلُونَ: لَوْقَدْ رَاَوْھَا کَانُوْا اَشَدَّ طَلَبًا وَاَشَدَّ حِرْصًا ، فَیَقُوْلُ: فَمِمَّ یَتَعَوَّذُوْنَ ؟ فَیَقُوْلُونَ: یتَعَوَّذُوْنَ بِکَ مِنَ النَّارِ ، فَیَقُوْلُ: فَھَلْ رَاَوْھَا ؟ فَیَقُوْلُونَ: لَا، فَیَقُوْلُ :کَیْفَ لَوْ رَاَوْھَا ؟ فَیَقُوْلُونَ: لَوْ قَدْ رَاَوْھَا کَانُوْا اَشَدَّ تَعَوُّذًا ، فَیَقُوْلُ: فَاِنِّیْ اُشْھِدُکُمْ اَنِّیْ قَدْ غَفَرْتُ لَھُمْ ۔(2:1)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو لوگوں کے اعمال نوٹ کرنے کے علاوہ ہیں ‘ وہ راستوں میں چلتے پھرتے ہیں اور ذکر کو تلاش کرتے رہتے ہیں جب وہ کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہو ں ‘ تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں ۔ اپنے مقصود کی طرف آجاؤ پھر وہ آسمان تک اپنے پروں سے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں۔ ان کا پروردگار ان سے دریافت کرتا ہے ‘ حالانکہ وہ ان سے زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ وہ فرماتا ہے :میرے بندے کیا کہتے ہیں ‘ تو فرشتے عرض کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! وہ تیری تسبیح اور تیری حمد بیان کرتے ہیں : پروردگار دریافت کرتا ہے : کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے فرشتے جواب دیتے ہیں : جی نہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیتے ‘ تو کیا ہوتا ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اگر وہ تجھے دیکھ لیتے تو وہ زیادہ شدت کے ساتھ تیری تسبیح ‘ تیری کبریائی ‘ وہ تیری حمد بیان کرتے۔ پروردگار دریافت کرتا ہے : وہ کیا چیز ہے مانگتے ہیں ۔ فرشتے جواب دیتے ہیں : اے ہمارے پروردگار! وہ تجھ سے جنت مانگتے ہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے : کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟وہ جواب دیتے ہیں :جی نہیں، پروردگار فرماتا ہے :اگر وہ اسے دیکھ لیتے ‘ تو فرشتے عرض کرتے ہیں اگر وہ اسے دیکھ لیتے‘ تو زیادہ شدت کے ساتھ اسے طلب کرتے اور زیادہ شدت کے ساتھ اس کے اصول کے خواہش مند ہوتے ۔ پروردگار دریافت کرتا ہے : وہ کس چیز سے پناہ مانگتےہیں فرشتے عرض کرتے ہیں وہ جہنم سے تیری پناہ مانگتے ہیں ۔ پروردگار دریافت کرتا ہے : کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے فرشتے جواب دیتے ہیں :جی نہیں پروردگار دریافت کرتا ہے ا؛اگر وہ اسے دیکھ لیتے ‘ تو کیا ہوتا ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں : اگر وہ اسے دیکھ لیتے ‘ تو وہ زیادہ شدت کے ساتھ اس سے پناہ مانگتے ‘ تو پروردگار فرماتا ہے : میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان لوگوں کی مغفرت کر دی ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Hadith 856

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 857

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً فُضُلًا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ، يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ، يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَى حَاجَتِكُمْ، فَيَحُفُّونَ بِهِمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ، فَيَقُولُ: مَا يَقُولُ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: يُكَبِّرُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ وَيُسَبِّحُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ، فَيَقُولُ: هَلْ رَأَوْنِي؟ فَيَقُولُونَ: لَا، فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا لَكَ أَشَدَّ عِبَادَةً وَأَكْثَرَ تَسْبِيحًا وَتَحْمِيدًا وَتَمْجِيدًا، فَيَقُولُ: وَمَا يَسْأَلُونِي؟، قَالَ: فَيَقُولُونَ: يَسْأَلُونَكَ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: فَهَلْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا عَلَيْهَا أَشَدَّ حِرْصًا وَأَشَدَّ طَلَبًا، وَأَعْظَمَ فِيهَا رَغْبَةً، فَيَقُولُ: وَمِمَّ يَتَعَوَّذُونَ؟ فَيَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ، فَيَقُولُ: وَهَلْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا لَكَانُوا مِنْهَا أَشَدَّ فِرَارًا، وَأَشَدَّ هَرَبًا، وَأَشَدَّ خَوْفًا، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، قَالَ:، فَقَالَ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ: إِنَّ فِيهِمْ فُلَانًا لَيْسَ مِنْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ، قَالَ: فَهُمُ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى جَلِيسُهُمْ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو لوگوں کے اعمال نوٹ کرنے کے علاوہ ہیں۔ وہ راستوں میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ اہل ذکر کو تلاش کرتے ہیں۔ جب انہیں کچھ لوگ ملتے ہیں جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوں‘ تو وہ ( ایک دوسرےکو ) بلاتے ہیں۔ اپنے مقصود کی طرف آجاؤ پھر وہ آسمان دنیا تک اپنے پروں سے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں۔انکا پروردگار ان سے دریافت کرتاہے ‘حالانکہ وہ ان سےزیادہ بہتر جانتا ہے پروردگار فرماتا ہے ۔ میرے بندے کیا کہتے ہیں ۔فرشتے جواب دیتے ہیں : وہ تیری کبریائی تیری تکبیر تیری پاکی اور تیری حمد بیان کرتے ہیں : پروردگار دریافت کرتا ہے :کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے فرشتے جواب دیتے ہیں: جی نہیں پروردگار دریافت کرتا ہے : اگر وہ مجھے دیکھ لیت ‘ تو کیا ہوتا ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں : اگر وہ تجھے دیکھ لیتے ‘ تو زیادہ شدت کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتے۔ زیادہ حمد اور بزرگی بیان کرتےزیادہ حمد اور بزرگی بیان کرتے ، پروردگار دریافت کرتا ہے : وہ لوگ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: وہ تجھ سےجنت مانگتے ہیں ۔ پروردگار فرماتے ہیں کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں : جی نہیں اللہ کی قسم ! ( اے پروردگار انہوں نے اسے نہیں دیکھا) پروردگار فرماتا ہے : اگر وہ اسے دیکھ لیتے ‘ تو کیا ہوتا ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں :اگر وہ ا سے دیکھ لیتے ‘ تو وہ اس کے حصول کی زیادہ خواہش کرتے اور زیادہ شدت کے ساتھ اس کی رغبت کرتے پروردگار فرماتا ہے : وہ لوگ کس چیز سےپناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: وہ جہنم سے پناہ مانگتے ہیں ۔پروردگار دریافت کرتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں:جی نہیں ، اللہ کی قسم! اسے ہمارے پروردگار ( انہوں نے اسے نہیں دیکھا ) پروردگار فرماتا ہے : اگر وہ اسےدیکھ لیتے ‘ تو کیا ہوتا؟ فرشتےجواب دیتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے ‘ تو اس سے زیادہ دور بھاگتے ‘ شدت سے بھاگتے اور اس سے زیادہ خوف زدہ ہوتے ‘ تو پروردگار فرشتوں سے فرماتا ہے :میں تم لوگوں کو گواہ بنا کےکہتا ہوں میں نے ان لوگوں کی مغفرت کر دی ہے۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں: ان فرشتوں میں سےایک فرشتہ عرض کرتا ہے‘ ان میں فلاں شخص تھا جو ان میں سے نہیں تھا وہ اپنے کام کے سلسلے میں وہاں آیا تھا پروردگار فرماتا ہے :وہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم نہیں ہوتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 857

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 858

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَمَرَّ عَلَى جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ: جُمْدَانَ، فَقَالَ: «سِيرُوا هَذَا جُمْدَانُ، سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ، سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُفَرِّدُونَ؟، قَالَ: «الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ» (3) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ مکہ کے راستے میں سفر کر رہے تھے۔ آپ کا گزر ایک پہاڑ کے پاس سے ہوا جس کا نام ’’ جمدان ‘‘ تھا۔ آپ نے فرمایا : اس ’’جمددان‘‘ کی طرف چلو ’’ مفردون‘‘ سبقت لے گئے ہیں لوگوں نے عرض کی : وہ کون ہیں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے ذکر کرنے والی خواتین۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 858

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 859

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، مِائَةَ مَرَّةٍ، وَإِذَا أَمْسَى مِائَةَ مَرَّةٍ، غُفِرَتْ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جو شخص صبح کے وقت سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمد ہ پڑھتا ہے اور شام کےوقت بھی سو مرتبہ یہ کلمات پڑھتا ہے ‘ تو اس شخص کے گناہوں کے مغفرت ہو جاتی ہے۔ اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہوں‘‘َ

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 859

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 860

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ، وَإِذَا أَمْسَى كَذَلِكَ، لَمْ يُوَافِ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ بِمِثْلِ مَا وَافَى» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جو شخص صبح کے وقت 100 مرتبہ اور شام کے وقت بھی اسی طرح ( 100 مرتبہ ) سبحان اللہ العظیم و بحمدہ پڑھتا ہے ‘ تو مخلوق میں سے کسی کا ( عمل ) اس کے برابر نہیں ہوتا‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← سُهَيْلٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 860

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 861

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ رَبِيعَةُ الرَّأْيِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَنْبَسَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (2) ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ قَالَ حِیْنَ یُصْبِحُ: اَللّٰہُمَّ مَا اَصْبَحَ بِیْ مِنْ نِعْمَۃً ، اَوْ بِاَحَدٍ مِّنْ خَلْفِکَ ، فمِنْکَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ ، فَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ ، فَقَدْ اَدّٰی شُکْرَ ذٰلِکَ الْیَوْمَ۔(2:1)

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ‘ نبی ارکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص صبح کےوقت یہ پڑھتا ہے: ’’ اےاللہ ! آج کےدن مجھے جو بھی نعمت حاصل ہو ‘ تیری مخلوق میں سے جس کسی کو جو بھی نعمت حاصل ہو وہ تیری طرف سے ہے‘ تو ایک ہے تیرا کوئی شریک نہیں، حمد تیرے لئے مخصوص ہے اور شکر بھی تیرےلئے ہے‘‘۔ ( نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ) و ہ شخص اس دن کے شکر کو ادا کر دیتا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَنْبَسَةَ، ← رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ رَبِيعَةُ الرَّأْيِ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 861

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 862

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ (1) بْنُ عِيسَى، يَعْنِي الْبِسْطَامِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُمْسِيَ، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُصْبِحَ» . [1: 2] وَقَدْ كَانَ أَصَابَهُ الْفَالِجُ فَقِيلَ لَهُ: أَيْنَ مَا كُنْتَ تُحَدِّثُنَا بِهِ؟، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حِينَ أَرَادَ بِي مَا أَرَادَ أَنْسَانِيهَا (2) . وَقَدْ کَانَ اَصَابَہُ الْفَالِجُ فَقِیْلَ لَہٗ :اَیْنَ مَا کُنْتَ تُحَدِّثُنَا بِہٖ ؟ قَالَ: اِنَّ اللہَ حِیْنَ اَرَادَ بِیْ مَا اَرَادَ اَنْسَانِیْھَا۔

حضرت عثمان غنیؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ یہ کلمات پڑھتا ہے : ’’ اس اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جس کا نام کے ہمراہ زمین اور آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں دیتی ہے اور وہ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے‘‘۔ تو شام تک اسے کوئی اچانک مصیبت لا حق نہیں ہوتی جو شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لیتا ہے‘ تو صبح تک اسے چانک کوئی مصیبت لا حق نہیں ہوتی ۔ راوی بیان کرتا ہے : اسے فالج ہو گیا ‘ تو انہیں کہا گیا آپ نے ہمیں وہ حدیث سنائی اس پر خود عمل کیوں نہیں کیا ‘ تو انہوں نے بتایا : اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں اس بات کا ارادہ کیا‘ تو مجھے یہ بات یاد نہیں رہی۔ ( یعنی مجھے دعا پڑھنا یاد نہیں رہا)

عُثْمَانَ، ← أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← أَبِي مَوْدُودٍ، ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، يَعْنِي الْبِسْطَامِيَّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 862

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 863

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ التُّجِيبِيُّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَانِئٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، وَأَبُو عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيُّ اسْمُهُ: عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ (1) مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ فِلَسْطِينَ

حضرت ابو سعید خدریؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ‘‘ جو شخص یہ کہے میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد ﷺ کے نبی ہونے سے راضی ہوں ۔ ( یعنی میں ان پر ایمان رکھتا ہوں ) اس شخص کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے ‘‘۔ ( اامام ابن حبانؒ فرماتے ہیں:) ابو ہانی نامی راوی کا نام حمید بن ہانی ہے ۔ یہ مصر سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ابو علی ہمدانی کا نام عمرو بن مالک جنبی ہے۔ یہ فلسطین سے تعلق رکھنے والے ثقہ راوی ہیں ۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّهُ ← أَبُو هَانِئٍ التُّجِيبِيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 863

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr