Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 828

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُسَبِّحُ، ثُمَّ انْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ، فَقَالَ: «مَا زِلْتِ قَاعِدَةً؟» ، قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «أَلَا أُعَلِّمُكِ كَلِمَاتٍ لَوْ عُدِلْنَ بِهِنَّ عَدَلَتْهُنَّ، أَوْ لَوْ وُزِنَّ بِهِنَّ وَزَنَتْهُنَّ؟ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ» (2) [1: 104]

سیدہ جویریہ بنت حارث ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ میرے پاس تشریف لائے میں اس وقت تسبیح پڑھ رہی تھی۔ پھرآپ اپنے کام کے سلسلے میں تشریف لے گئے پھر دوپہر کے وقت آپ واپس تشریف لائے ‘ تو آپ نے دریافت کیا :کیا تم اس وقت سے اب تک بیٹھی ہوئی ہو ؟ سیدہ جویریہؓ بیان کرتی ہیں۔ میں نے جواب دیا۔ جی ہاں! نبی اکرمﷺ نےفرمایا :کیا میں تمہیں ایسی کلمات نہ دو ں اگر ( انہیں تمہارے پڑھے ہوئے کلمات ) ساتھ ملایا جائے ‘ تو وہ زیادہ ہوں اور اگر ان کا وزن ان کے وزن کے ساتھ ملایا جائے‘ تووہ زیادہ وزنی ہوں ( وہ کلمات یہ ہیں : ) ’’ سبحان اللہ عدد خلقہ ‘‘ اللہ تعالیٰ کی میں اتنی پاکی بیان کرتا ہوں جو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر ہو۔ یہ تین مرتبہ پڑھنا ہے سبحان اللہ زینۃ عرشہ میں اللہ تعالیٰ کی اتنی پاکی بیان کرتا ہو ‘ جو اس کے عرش کے وزن جتنی ہو۔ یہ تین مرتبہ پڑھنا ہے ۔ سبحان اللہ رضا نفسہ ( میں اس کی اتنی پاکی بیان کرتا ہوں جو اس کے کلمات کے سیاہی جتنی ہو ) یہ تین مرتبہ پڑھنا ہے۔

قُلْتُ: نَعَمْ، ← «مَا زِلْتِ قَاعِدَةً؟» ← أُسَبِّحُ، ثُمَّ انْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ، ← أَتَى عَلَيَّ رَسُولَ اللَّهِ ← جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبًا ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 828

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 829

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبَجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، حُطَّتْ خَطَايَاهُ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرما ن نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص روزانہ سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہٗ پڑھتا ہے اس کے گناہ ختم کر دیئے جاتے ہیں ‘ اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ

Hadith 829

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 830

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، فَقَالَ: «مَاذَا تَقُولُ يَا أَبَا أُمَامَةَ؟» ، قَالَ: أَذْكُرُ رَبِّي، قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَكْثَرَ أَوْ أَفْضَلَ مِنْ ذِكْرِكَ اللَّيْلَ مَعَ النَّهَارِ وَالنَّهَارَ مَعَ اللَّيْلِ؟ أَنْ تَقُولَ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا فِي الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِلْءَ مَا فِي الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِلْءَ كُلِّ شَيْءٍ، وَتَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو امامہ باہلیؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ ان کے پاس سے گزرے وہ اس وقت اپنے ہونٹوں کو حرکت دے رہے تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : اے ابو امامہ تم کیا پڑھ رہے ہو۔ انہوں نے عرض کی: میں اپنے پروردگار کا ذکر رہا ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمہارے دن کے ہمراہ تمہارے رات بھر ذکر کرنے اور تمہارے رات کے ہمراہ دن بھر ذکر کرنے سے زیادہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) افضل ہو تم یہ پڑھو: ’’ میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتاہوں جو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر ہو۔ میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتاہو ں جو اس کی مخلوق کو بھر دے ، میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو آسمان اور زمین کے درمیان والی جگہ کو بھر دے۔ میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو اتنی تعداد میں ہو ‘ جس کو اس کی کتاب نے گھیرا ہوا ہے اور میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو ہر شے کی تعداد جتنی ہو اور میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو ہر چیز کو بھر دے‘‘۔ ( نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ) الحمد اللہ بھی اس کی مانند پڑھو۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ← مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 830

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 831

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے اشاد فرمایا ہے: ’’ دوکلمات ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں ، رحمان کے نزدیک پسندیدہ ہے میزان میں وہ بھاری ہوں گے وہ سبحانہٗ اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم ہیں ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 831

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 832

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَجُوَيْرِيَةُ جَالِسَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَرَجَعَ حِينَ تَعَالَى النَّهَارُ، فَقَالَ: «لَنْ تَزَالِي جَالِسَةً بَعْدِي؟» ، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «لَقَدْ قُلْتُ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِهِنَّ لَوَزَنَتْهُنَّ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ» (1) . [1: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: جُوَيْرِيَةُ هِيَ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (2) .

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ صبح کی نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ اس وقت حضرت سیدہ جویریہؓ اپنی جائے نماز پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ دن چڑھنے کے بعد جب نبی اکرمﷺ واپس تشریف لائے ‘ تو آپ نے دریافت کیا: تم میرے بعد اسی طرح بیٹھی رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی اکرمﷺ نے فرمایا : میں نے چار کلمات پڑھے تھے۔ اگر ان کا وزن ان کے ساتھ کیا جائے ‘ تو وہ کلمات وزنی ہوں گے۔ ( وہ یہ ہیں:) ’’ میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں اور اس کے ہمراہ اس کی حمد بیان کرتا ہوں جو اس کی مخلوق کی تعداد جتنی ہے اور اس کی کلمات کی سیاہی جتنی اور اس کی ذات کی رضا مندی کے مطابق اور اس کے عرش کے وزن جتنی ہو ‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) جویریہ ( نامی خاتون) جناب حارث بن عبدالمطلب کی صاحبزادی ہیں جو نبی اکرمﷺ کے چچا ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 832

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 833

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ ، وَابْنُ جَابِرٍ قَالَا: حَدَّثَنَا اَبُوْ سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ اَبُوْ سَلْمَی رَاعِیْ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلَقِیْتُہٗ بِالْکُوفَۃِ فِیْ مَسْجِدِھَا ، قَالَ: سَمَعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُوْلُ: بِخِ وَاَشَارَ بِیَدِہٖ بِخَمْسٍ مَا اَثْقَلَھُنَّ فِی القمِیْزَانِ: سُبْحَانَ اللہِ ، وَالْحَمْدُ لِلہِ ، وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ، وَاللہُ اَکْبَرُ ، وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فَیَحْتَبِسُہٗ ۔(2:1)

ابو سلمیٰ جو نبی اکرمﷺ کے چروا ہے ہیں ۔ میری ان سے ملاقات کوفہ کی مسجد میں ہوئی ‘ تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی ۔ وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بہت خوب بہت خوب نبی اکرمﷺ نے اپنے دست مبارک سے پانچ کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ( یہ پانچ چیزیں ) میزان میں کتنی وزنی ہیں ۔ سبحان اللہ ، الحمد اللہ ، لا الٰی الا اللہ اور اللہ اکبر پڑھنا اور یہ کہ کسی مسلمان کا نیک بچہ فوت ہو جائے اور وہ اس پر ثواب کی امید رکھے ‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← اَبُوْ سَلْمَی رَاعِیْ رَسُوْلِ اللہِ وَلَقِیْتُہٗ بِالْکُوفَۃِ فِیْ مَسْجِدِھَا ← أبو سلام، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، وَابْنِ جَابِرٍ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 833

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 834

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ بِأَرْغِيَانَ بِقَرْيَةِ سَبَنْجَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ أَقُولَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ سبحان اللہ والحمد اللہ ولا اللہ الہ اللہ و اللہ اکبر پڑھا لینا میرے نزدیک ہر اس چیز سے زیادہ پسندیدہ ہے ‘ جس پر سورج طلوع ہوتا ہے ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ بِأَرْغِيَانَ بِقَرْيَةِ سَبَنْجَ،

Hadith 834

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 835

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَبَّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» (1) . [1: 104]

حضرت سمرہ بن جندبؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلام چار کلمات ہیں : سبحان اللہ والحمد اللہ، ولا اللہ الہ اللہ واللہ اکبر ‘‘

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 835

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 836

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (2) ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ الْكَلَامِ أَرْبَعٌ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» (3) . [1: 104]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے: ’’ سب سے بہترین کلام چار کلمات ہیں تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ ان میں سے کسی کے ذریعے بھی آغاز کر لو‘‘۔ سبحان اللہ والحمد اللہ ولا اللہ الہ اللہ و اللہ اکبر

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو حَمْزَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ

Hadith 836

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 837

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهَا، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ فِي يَدِهَا نَوًى أَوْ حَصًى تُسَبِّحُ، فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هَذَا وَأَفْضَلُ؟ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ» (1) . [1: 104]

عائشہ بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص ) بیان نقل کرتی ہیں۔ وہ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ ایک خاتون کے پاس تشریف لے گئے جن کے ہاتھ میں گٹھلیاں تھیں۔ جن پر وہ گن کر تسبیحات پڑھ رہی تھیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں بتاؤں جو تمہارے لئے زیادہ آسان اور زیادہ فضیلت والی ہو ( وہ یہ کلمات ہے ) ’’ میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو ان چیزوں کی تعداد کے مطابق ہو جنہیں آسمان میں پیدا کیا میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو ان چیزوں کی تعداد کے مطابق ہو جنہیں زمین میں پیدا کیا پاکی بیان کرتا ہوں ان چیزوں کی تعداد کے برابر جنہیں پیدا کرنا ہے۔ ’’ پھر تم اللہ اکبر بھی اسی کی مانند کہو الحمد للہ بھی اسی کی مانند کہو لا الٰہ الا اللہ الا اللہ بھی اسی کی مانند کہو اور ولا حول ولا قوۃ بھی اسی کی مانند پڑھو ‘‘۔

عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 837

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 838

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأَجْرِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَولَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَتَصَدَّقُونَ بِهِ، كُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ذر غفاریؓ ‘ بیان کرتے ہیں :کچھ صحابہ کرام ؓ نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! صاحب حیثیت لوگ اجر لے گئے ہیں۔ وہ نماز ادا کرتے ہیں جس طرح ہم نماز ادا کرتے ہیں وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں ‘ لیکن وہ اپنے اضافی مال کو صدقہ کر دیتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جسے تم صدقہ کیا کرو۔ سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے۔ اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے ۔ الحمد اللہ کہنا صدقہ ہے لا اللہ الا اللہ پڑھنا صدقہ ہے نیکی کا حکم دیناصدقہ ہے ۔ برائی سے منع کرنا صدقہ ہے۔

لِلنَّبِيِّ ← أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← یَّحْیَی بْنِ عَقِیلٍ ← وَاصِلٌ مَوْلٰی اَبِیْ عُیَیْنَۃَ ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 838

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 839

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الْكَلَامِ أَرْبَعٌ، لَا تُبَالِي بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» (2) . [1: 2]

حضرت سمرو بن جندب ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ سب سے زیادہ فضیلت والا کلام چار کلمات ہیں تم اس بات کی پرواہ نہ کرو کہ کس کے ذریعے آغاز کرتے ہو۔ سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر ‘‘

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 839

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr