Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 816

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: سَيَعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ الْيَوْمَ مَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ» ، فَقِيلَ: مَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: «أَهْلُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ فِي الْمَسَاجِدِ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آج کے دن اہل دولت جان لیں گے کہ کون معزز ہیں ‘ تو دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! کون معزز ہیں، نبی اکرمﷺ نے فرمایا: مسجد میں منعقد کی جانے ولای محفل ذکر کے افراد ’’ معزز ‘‘ ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 816

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 817

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَكْثِرُوا ذِكْرَ اللَّهِ حَتَّى يَقُولُوا: مَجْنُونٌ» (2) . [1: 2]

حضرت ابو سعید خدریؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ تم اللہ تعالیٰ کا اتنی کثرت سے ذکر کرو کہ لوگ یہ کہیں : یہ پاگل ہیں ‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 817

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 818

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكَيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟، قَالَ: «أَنْ تَمُوتَ وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ» (1) . [1: 2]

حضرت معاذ بن جبلؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ سے سوال کیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کو ن سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم اس حالت میں مرو کہ تمہاری زبان اللہ تعالیٰ کا ذکر سے تر ہو۔

اللہُ ← «أَنْ تَمُوتَ وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟، ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← مَكْحُولٌ ← أَبِيهِ ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← الْوَلِیْدُ ← مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكَيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ،

Hadith 818

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 819

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ، وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ، وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ» (1) . [1: 2]

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ’’جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہو اور داخلے کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور کھانے کے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے ‘ تو شیطان ( اپنے ساتھیوں سے) یہ کہتا ہے تمہیں یہاں رہنے کے لئے جگہ بھی نہیں ملے گی اور کھانا بھی نہیں ملے گا اور جب کوئی شخص گھر میں داخلے کے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا ‘ تو شیطان یہ کہتا ہے کہ تمہیں یہاں جگہ مل جائے گی اور جب کوئی شخص کھانے کے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا ‘ تو شیطان کہتا ہے تمہیں یہاں رہنے کی جگہ بھی مل جائے گی او ر کھانا بھی مل جائے گا۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Hadith 819

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 820

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُوْلَ اللہِ ، فَقَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ ۔(2:1)

حضرت ابوذر غفاریؓ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کے پیچھے چل رہا تھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابو ذر ! کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے ایک خزانے کی طرف نہ کروں۔ میں نے عرض کی : جی ہاں! یا رسول اللہ! نبی اکرمﷺ نے فرمایا: لا حول ولا قوۃ الا باللہ ( جنت کا خزانہ ہے )

كُنْتُ أَمْشِي خَلْفَ النَّبِيِّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيُّ، ← محمد بن السائب بن بركة، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 820

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 821

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ عَلَى إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ لِجِبْرِيلَ: مَنْ مَعَكَ يَا جِبْرِيلُ؟، قَالَ جِبْرِيلُ: هَذَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ أُمَّتَكَ أَنْ يُكْثِرُوا غِرَاسَ الْجَنَّةِ، فَإِنَّ تُرْبَتَهَا طَيِّبَةٌ، وَأَرْضُهَا وَاسِعَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِبْرَاهِيمَ: «وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ؟» ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ (1) . [1: 2]

سالم بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ کے اصحابی حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے مجھے یہ بات بتائی کہ جس رات نبی اکرمﷺ کو معراج کروائی گئی آپ کا گزر حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کے پاس سے ہوا ‘ تو حضرت ابراہیمؑ نے حضرت جبرائیل ؑسے دریافت کیا : اے جبرائیل آپ کے ساتھ کون ہے ؟ حضرت جبرائیل نے بتایا یہ حضرت محمد ﷺ ہیں ‘ تو حضرت ابراہیمؑ نے کہا : اے محمد ﷺ آپ اپنی امت کو یہ ہدایت کریں کہ وہ جنت میں زیادہ درخت لگائے ‘ کیونکہ اس کی مٹی پاکیزہ ہے اور اس کی زمین کشادہ ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے حضرت ابراہیم ؑ سے دریافت کیا : جنت میں درخت لگانے سے مرا د کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا : لا حول ولا قوۃ الا باللہ ( پڑھنا)

أَبُو صَخْرٍ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← الْمُقْرِئُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 821

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 822

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ، فَقَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَيُقَالُ لَهُ: حَسْبُكَ قَدْ كُفِيتَ وَهُدِيتَ وَوُقِيتَ؛ فَيَلْقَى الشَّيْطَانُ شَيْطَانًا آخَرَ فَيَقُولُ لَهُ: كَيْفَ * لَكَ بِرَجُلٍ قَدْ كُفِيَ وَهُدِيَ وَوُقِيَ» (1) . [1: 2]

حضرت انس بن مالک ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جب کوئی شخص اپنےگھر سے نکلتے ہوئے یہ پڑھتا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا اور اللہ کی مدد کےبغیر کچھ نہیں ہو سکتا‘‘۔ تو اس شخص سے یہ کہا جاتا ہے تمہارے لئے ااتنا کافی ہےتمہاری کفایت کر دی گئی تمہاری رہنمائی کی گئی اور تم کو بچا لیا گیا پھر شیطان دوسرے شیطان سے ملتا ہے ۔ اس سے کہتا ہے :ایسے شخص کے ساتھ تم کیا کر سکتے ہو ‘ جس کی کفایت بھی کر لی گئی ہو رہنمائی بھی کر دی گئی ہو اور اسے بچا بھی لیا گیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج، ← يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Hadith 822

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 823

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْبُخَارِيِّ بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الصُّوَرِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ أَنْ يَنْفُخَ؟» ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا نَقُولُ يَوْمَئِذٍ؟، قَالَ: «قُولُوا: حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» (1) .

حضرت ابو سعید خدریؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’میں کیسے نعمت میں رہ سکتا ہوں جبکہ ( صور میں ) پھونک مارنے والےنے اپنا منہ صور کے ساتھ لگایا ہوا ہے اور اس نے اپنی پیشانی کو اس بات کے انتظار میں تیا ر رکھا ہوا ہے کب اسے پھونک مانے کا حکم ہوتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں پھر اس دن کیا کہنا چاہئے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم یہ کہون : حَسْبُنَا اللہُ وَنِعمَ الْوَکِیْلُ ( ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے وہ بہترین کار ساز ہے ) ‘‘ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابو یعلیٰ نے انی سند کے ساتھ اسی کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نےیہ الفاظ نقل کئے ہیں ۔ حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ، عَلَی اللہِ تَوَکَّلْنَا ’’ تم لوگ یہ کہو ہمارے لئے اللہ تعالیٰٰ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے اور ہم اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کرتے ہیں‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْبُخَارِيِّ بِبَغْدَادَ،

Hadith 823

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 824

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا نَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَرْنَا عَلَى قَبْرَيْنِ، فَقَامَ، فَقُمْنَا مَعَهُ، فَجَعَلَ لَوْنُهُ يَتَغَيَّرُ حَتَّى رَعَدَ كُمُّ قَمِيصِهِ، فَقُلْنَا: مَا لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟، قَالَ: «مَا تَسْمَعُونَ مَا أَسْمَعُ؟» قُلْنَا: وَمَا ذَاكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟، قَالَ: «هَذَانِ رَجُلَانِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا عَذَابًا شَدِيدًا فِي ذَنْبٍ هَيِّنٍ» ، قُلْنَا: مِمَّ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟، قَالَ: «كَانَ أَحَدُهُمَا لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ، وَكَانَ الْآخَرُ يُؤْذِي النَّاسَ بِلِسَانِهِ، وَيَمْشِي بَيْنَهُمْ بِالنَّمِيمَةِ» فَدَعَا بِجَرِيدَتَيْنِ مِنْ جَرَائِدِ النَّخْلِ، فَجَعَلَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، قُلْنَا: وَهَلْ يَنْفَعُهُمَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: «نَعَمْ، يُخَفِّفُ عَنْهُمَا مَا دَامَا رَطْبَتَيْنِ» (1) . [5: 9]

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ساتھ جا رہے تھے ۔ ہمارا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا۔ نبی اکرمﷺ ٹھہر گئےہم بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گئے نبی اکرمﷺ کی رنگت تبدیل ہو گئی ‘ یہاں تک کہ آپ کے قمیض کی آستین کپکپانے لگی۔ ہم نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ کو کیا ہوا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : جو میں سن رہا ہوں کیا تم بھی وہ سن رہے ہو۔ ہم نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! وہ کیا چیز ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ان دو لوگوں کو ان کی قبروں میں دو ہلکے گناہ کی وجہ سے شدید عذاب ہو رہا ہے ۔ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ان میں سے ایک شخص پیشاب سے بچتا نہیں تھا ‘ اور دوسرا شخص اپنی زبان کے ذریعے لوگوں کو اذیت پہنچاتا تھا ‘ اور ان کے درمیان چغلی کیا کرتا تھا۔ پھر نبی اکرمﷺ نے کھجور کی شاخوں میں سے دو شاخیں منگوئی اور آپ نے ہر ایک کی قبر پر اسے گاڑ دیا۔ہم نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! کیا ان دونوں کو اس کا کوئی فائدہ ہو گا؟ نبی اکرمﷺ نے جواب دیا: جی ہاں۔ جب تک یہ دونوں خشک نہیں ہو جاتیں ان کے عذاب میں تخفیف رہے گی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 824

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 825

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيَعْجَزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْتَسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ» ؟ فَسَأَلَهُ نَاسٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: وَكَيْفَ يَكْتَسِبُ أَحَدُنَا (1) يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟، قَالَ: «يُسَبِّحُ اللَّهَ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ، فَيَكْتُبُ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ حَسَنَةٍ، وَيَحُطُّ (2) عَنْهُ أَلْفَ سَيِّئَةٍ» (3) . [1: 2]

مصعب بن سعد اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے ارشاد فرمایا : کیا کوئی شخص یہ کر سکتا ہے کہ روزانہ ایک ہزار نیکیاں کمایا کرے ‘ تو آپ کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں نے آپ سے دریافت کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی شخص روازانہ ایک ہزار نیکیاں کیسے کما سکتا ہے۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا: وہ سبحان اللہ سو مرتبہ پڑھے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھ لے گا وہ اس کے ایک ہزار گناہوں کو مٹا دے گا۔

كنا جلوسا عند رسول الله ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← مُوسَى الْجُهَنِيَّ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 825

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 826

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، غُرِسَتْ لَهُ بِهِ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ» (2) . [1: 2]

حضرت جابرؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص سبحان اللہ وبحمدہ پڑھتا ہے اس کے لئے جنت میں کھجور کا درخت لگایا جاتا ہے ‘‘۔

سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، غُرِسَتْ لَهُ بِهِ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ» ← مَنْ ← النَّبِيِّ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 826

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 827

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ السَّعْدِيُّ بِمَرْوَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، غُرِسَ لَهُ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ» (1) . [1: 2]

حضرت جابر ؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرت ہیں: ’’ جو شخص سبحان اللہ العظیم پڑھتا ہے اس کے لئے جنت میں درخت لگا دیا جاتا ہے ‘‘۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ السَّعْدِيُّ بِمَرْوَ،

Hadith 827

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr