صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 804
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: أَخَذَ الْقَوْمُ فِي عَقَبَةٍ أَوْ ثَنِيَّةٍ، فَكُلَّمَا عَلَاهَا رَجُلٌ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَةٍ يَعْرِضُهَا فِي الْجَبَلِ (1) ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا» ، ثُمَّ، قَالَ: «يَا أَبَا مُوسَى، أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟» ، قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (2) . 2: 59 قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا» ، لَفْظَةُ إِعْلَامٍ عَنْ هَذَا الشَّيْءِ، مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالدُّعَاءِ
حضرت موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں : لوگ یعنی ( صحابہ کرام) جب بھی کسی گھاٹی پر چڑھتے تھے ‘ تو جب آدمی اوپرپہنچ جاتا تھا ‘ تو لا الٰہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہتا تھا نبی اکرمﷺ اس وقت اپنے خچر پر سوار تھے۔ جب آپ اس کےساتھ پہاڑ پر پہنچے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگوں ! تم کسی بہرے یا غیر موجود ( معبو ) کو نہیں پکار رہے ‘ پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوموسیٰ ! ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) اے عبد اللہ بن قیس ! کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے خزانے کی طرف نہ کروں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ‘ یا رسول اللہ! نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ( و ہ یہ کلمہ ہے ) لا حول ولا قوۃ الا باللہ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں:) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان ’’ تم کسی بہرے یا غیر موجود کو نہیں پکار رہے ہو ‘‘ لفظی طور پر اس بات کی اطلاع ہے ‘ لیکن اس سے مراد دعا کرتے ہوئے آواز لند کرنے کی سے منع کرنا ہے۔
اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِيرِيُّ،
Hadith 804
