Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1417

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ، وَلَا غَائِطٍ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا» قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: «فَقَدِمْنَا الشَّامَ، فَإِذَا مَرَاحِيضُ قَدْ صُنِعَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ» وَقَالَ النُّعْمَانُ: فَإِذَا مَرَافِيقُ قَدْ صُنِعَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: «فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ». [1: 28] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلَهُ: «شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا» لَفْظَةُ أَمْرٍ تُسْتَعْمَلُ عَلَى عُمُومِهِ فِي بَعْضِ الْأَعْمَالِ، وَقَدْ يَخُصُّهُ خَبَرُ ابْنِ عُمَرَ بِأَنَّ هَذَا الْأَمْرَ قُصِدَ بِهِ الصَّحَارِي دُونَ الْكُنُفِ وَالْمَوَاضِعِ الْمَسْتُورَةِ، وَالتَّخْصِيصُ الثَّانِي الَّذِي هُوَ مِنَ الْإِجْمَاعِ أَنَّ مَنْ كَانَتْ قِبْلَتُهُ فِي الْمَشْرِقِ أَوْ فِي الْمَغْرِبِ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَسْتَقْبِلَهَا وَلَا يَسْتَدْبِرَهَا بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، لِأَنَّهَا قِبْلَتُهُ، وَإِنَّمَا أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ أَوْ يَسْتَدْبِرَ ضِدَّ الْقِبْلَةِ عِنْدَ الْحَاجَةِ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "پیشاب یا پاخانہ کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رُخ یا پیٹھ نہ کرو بلکہ (مدینہ منورہ کے حساب سے) مشرق یا مغرب کی طرف رُخ کرو"۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم شام آئے، تو وہاں ایسے بیت الخلاء تھے جو قبلہ کی سمت میں بنے ہوئے تھے۔ نعمان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں وہ ایسے بیت الخلاء تھے جو قبلہ کی سمت میں بنے ہوئے تھے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، تو ہم (قبلہ سے) دوسری طرف منہ موڑ لیتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان "تم مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرو" اس میں لفظی طور پر حکم دیا گیا ہے اور بعض اعمال میں اس کے عموم پر عمل کیا جائے گا، جبکہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے سے منقول روایت اس کے حکم کو مخصوص کر دیتی ہے کہ یہ حکم صحرا سے تعلق رکھتا ہے۔ بیت الخلاء یا پوشیدہ مقامات اس حکم میں داخل نہیں ہیں اور دوسری تخصیص وہ ہے، جو اجماع سے ثابت ہوتی ہے کہ جس شخص کا قبلہ مشرق یا مغرب کی سمت ہواس شخص پر لازم ہے کہ وہ پاخانہ یا پیشاب کرتے ہوئے اس طرف رُخ یا پیٹھ نہ کرے کیونکہ وہ اس کا قبلہ ہے اور آدمی کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ قضائے حاجت کرتے وقت قبلہ کی بجائے کسی دوسری طرف رخ یا پیٹھ کرے۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٍ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، ← وُهَيْبٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1417

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1418

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «رَقِيتُ فَوْقَ بَيْتِ حَفْصَةَ، فَإِذَا أَنَا بِالَّنَبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَالِسًا عَلٰی مَقْعَدَتِہِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ ، مُسْتَدْبِرَ الشَّامِ ۔(28:1)

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر کی چھت پر چڑھا تو وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ آپ بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف رُخ کرکے اور شام کی طرف پیٹھ کرکے قضائے حاجت کررہے تھے۔

بِالَّنَبِیِّ جَالِسًا عَلٰی مَقْعَدَتِہِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ مُسْتَدْبِرَ الشَّامِ ← «رَقِيتُ فَوْقَ بَيْتِ حَفْصَةَ، فَإِذَا ← ابْنِ عُمَرَ ← عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ← وُهَيْبٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1418

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1419

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا غَوْثُ (1) بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ زِيَادٍ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، فَدَعَا بِطَسْتٍ، وَقَالَ لِلْجَارِيَةِ: اسْتُرِينِي، فَسَتَرَتْهُ، فَبَالَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يَبُولَ أَحَدُكُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ» (2) . [4: 1]

غوث بن سلیمان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ ہم جمعہ کے دن حضرت عبد اللہ بن حارث زبیدہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ایک طشت منگوایا انہوں نے کنیز سے فرمایا تم میرے لئے پردہ کردو۔ اس نے ان کے لئے پردہ کر دیا۔ انہوں نے اس طشت میں پیشاب کیا اور پھر یہ بات بیان کی۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: آپ نے اس بات سے منع کیا ہے، کوئی شخص قبلہ کی طرف رُخ کرکے پیشاب کرے۔

أَبِي ← غَوْثُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ زِيَادٍ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1419

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1420

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَنْهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ أَوْ نَسْتَدْبِرَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ» ، قَالَ: «ثُمَّ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ» (1) . [2: 11]

۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس بات سے منع کیا کرتے تھے کہ جب ہم پانی انڈیلیں تو اپنی شرم گاہوں کے ہمراہ قبلہ کی طرف رُخ کریں، یا پیشاب کریں (یعنی قضائے حاجت کرتے ہوئے ایسا کریں) راوی بیان کرتے ہیں: پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے ایک سال پہلے آپ کو قبلہ کی طرف رُخ کرکے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُجَاهِدٍ ← أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1420

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1421

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حِبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: إِذَا قَعَدْتَ لِحَاجَتِكَ فَلَا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَلَا بَيْتَ الْمَقْدِسِ، لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا «فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ» (1) . [2: 11]

۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگو یہ کہتے ہیں: جب تم قضائے حاجت کے لئے بیٹھو تو قبلہ کی طرف رُخ نہ کرو یا بیت المقدس کی طرف رُخ نہ کرو حالانکہ میں ایک مرتبہ اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف رُخ کرکے قضائے حاجت کرتے ہوئے دیکھا۔

ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ کَانَ ← عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَبَّانَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 1421

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1422

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلَالٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَقْعُدِ الرَّجُلَانِ عَلَى الْغَائِطِ يَتَحَدَّثَانِ، يَرَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَوْرَةَ صَاحِبِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ» (2) . [2: 3]

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "دو آدمی اس طرح بیٹھ کر قضائے حاجت نہ کریں کہ وہ آپس میں بات چیت کر رہے ہوں اور ان میں سے ایک دوسرے کی شرم گاہ کو دیکھ رہا ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات پر ناراض ہوتا ہے"۔

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ الْأَنْصَارِيُّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ سِنَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1422

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1423

أَخْبَرَنَا أَبُو جَابِرِ زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، بِالْمَوْصِلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبُلْ قَائِمًا» (1) . [2: 108] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «أَخَافُ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ نَافِعٍ هَذَا الْخَبَرَ»

۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "تم کھڑے ہوکر پیشاب نہ کرو"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ روایت ابن جریح نے نافع سے نہیں سنی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبُو جَابِرِ زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، بِالْمَوْصِلِ،

Hadith 1423

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1424

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، بِنَسَا، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ» (1) . [2: 108]

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا پھر آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کر لیا۔

حُذَيْفَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا

Hadith 1424

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1425

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:274] أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «عَدَمُ السَّبَبِ فِي هَذَا الْفِعْلِ هُوَ عَدَمُ الْإِمْكَانِ، وَذَاكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى السُّبَاطَةَ وَهِيَ الْمَزْبَلَةُ، فَأَرَادَ أَنْ يَبُولَ فَلَمْ يَتَهَيَّأْ لَهُ الْإِمْكَانُ، لِأَنَّ الْمَرْءَ إِذَا قَعَدَ يَبُولُ عَلَى شَيْءٍ مُرْتَفِعٍ عَنْهُ رُبَّمَا تَفَشَّى الْبَوْلُ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَمَنْ أَجْلِ عَدَمِ إِمْكَانِهِ مِنَ الْقُعُودِ لِحَاجَةٍ بَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا»

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے۔ آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا پھر اپ نے پانی منگوایا اور وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کرلیا۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اس فعل میں سبب کا نہ ہونا۔ امکان کا نہ ہونا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے جو گندگی تھی۔ آپ نے پیشاب کرنے کا ارادہ کیا لیکن (وہاں بیٹھ کر پیشاب کرنا) بھی ممکن نہیں تھا کیونکہ جب آدمی کسی ایسی جگہ بیٹھ کر پیشاب کرتا ہے، جو کچھ بلند ہوتو پیشاب پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے اور آدمی کی طرف واپس آسکتا ہے، تو قضائے حاجت کیلئے بیٹھنے کیلئے ممکن نہ ہونے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا تھا۔

حُذَيْفَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ،

Hadith 1425

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1426

حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حُكَيْمَةُ بِنْتُ أُمَيْمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبُولُ فِي قَدَحٍ مِنْ عِيدَانٍ، ثُمَّ يُوضَعُ تَحْتَ سَرِيرِهِ».

حکیمہ بنت امیمہ، اپنی والدہ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لکڑی سے بنے ہوئے پیالے میں پیشاب کیا کرتے تھے۔ اسے آپ کی چارپائی کے نیچے رکھ دیا جاتا تھا۔

أُمِّهَا أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ: ← حَدَّثَتْنِي حُكَيْمَةُ بِنْتُ أُمَيْمَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ ← أَبُو حَاتِمٍ

Hadith 1426

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1427

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا ، فَدَنَوْتُ مِنْہُ حَتّٰی صِرْتُ عِنْدَ عَقِبِہٖ وَصَبَبْتُ عَلَیْہِ الْمَاءَ ، فَتَوَضَّاَ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ۔(2:4)

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔ میں آپ کے قریب ہوا یہاں تک کہ آپ کے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا۔ میں نے آپ پر پانی انڈیلا تو آپ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کرلیا۔

حُذَيْفَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1427

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1428

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا، فَتَنَحَّيْتُ، فَدَعَانِي فَقَالَ: «ادْنُ» فَدَنَوْتُ حَتَّى قُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ (2) . [4: 2]

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جار ہا تھا آپ کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے اور آپ نے وہاں کھڑے ہوکر پیشاب کیا میں ایک طرف ہٹنے لگا تو آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا قریب ہوجاؤ میں قریب ہوا اور آپ کے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا پھر آپ نے وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کرلیا۔

كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا، فَتَنَحَّيْتُ، فَدَعَانِي ← حُذَيْفَةَ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ،

Hadith 1428

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr