صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِطَابَةِ · حديث 1417
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ، وَلَا غَائِطٍ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا» قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: «فَقَدِمْنَا الشَّامَ، فَإِذَا مَرَاحِيضُ قَدْ صُنِعَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ» وَقَالَ النُّعْمَانُ: فَإِذَا مَرَافِيقُ قَدْ صُنِعَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: «فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ». [1: 28] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلَهُ: «شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا» لَفْظَةُ أَمْرٍ تُسْتَعْمَلُ عَلَى عُمُومِهِ فِي بَعْضِ الْأَعْمَالِ، وَقَدْ يَخُصُّهُ خَبَرُ ابْنِ عُمَرَ بِأَنَّ هَذَا الْأَمْرَ قُصِدَ بِهِ الصَّحَارِي دُونَ الْكُنُفِ وَالْمَوَاضِعِ الْمَسْتُورَةِ، وَالتَّخْصِيصُ الثَّانِي الَّذِي هُوَ مِنَ الْإِجْمَاعِ أَنَّ مَنْ كَانَتْ قِبْلَتُهُ فِي الْمَشْرِقِ أَوْ فِي الْمَغْرِبِ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَسْتَقْبِلَهَا وَلَا يَسْتَدْبِرَهَا بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، لِأَنَّهَا قِبْلَتُهُ، وَإِنَّمَا أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ أَوْ يَسْتَدْبِرَ ضِدَّ الْقِبْلَةِ عِنْدَ الْحَاجَةِ
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "پیشاب یا پاخانہ کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رُخ یا پیٹھ نہ کرو بلکہ (مدینہ منورہ کے حساب سے) مشرق یا مغرب کی طرف رُخ کرو"۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم شام آئے، تو وہاں ایسے بیت الخلاء تھے جو قبلہ کی سمت میں بنے ہوئے تھے۔ نعمان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں وہ ایسے بیت الخلاء تھے جو قبلہ کی سمت میں بنے ہوئے تھے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، تو ہم (قبلہ سے) دوسری طرف منہ موڑ لیتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان "تم مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرو" اس میں لفظی طور پر حکم دیا گیا ہے اور بعض اعمال میں اس کے عموم پر عمل کیا جائے گا، جبکہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے سے منقول روایت اس کے حکم کو مخصوص کر دیتی ہے کہ یہ حکم صحرا سے تعلق رکھتا ہے۔ بیت الخلاء یا پوشیدہ مقامات اس حکم میں داخل نہیں ہیں اور دوسری تخصیص وہ ہے، جو اجماع سے ثابت ہوتی ہے کہ جس شخص کا قبلہ مشرق یا مغرب کی سمت ہواس شخص پر لازم ہے کہ وہ پاخانہ یا پیشاب کرتے ہوئے اس طرف رُخ یا پیٹھ نہ کرے کیونکہ وہ اس کا قبلہ ہے اور آدمی کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ قضائے حاجت کرتے وقت قبلہ کی بجائے کسی دوسری طرف رخ یا پیٹھ کرے۔
اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٍ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، ← وُهَيْبٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى
Hadith 1417
