Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2666

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ، فَلْيَقُلْ فِي نَفْسِهِ: كَذَبْتَ، حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا بِأُذُنِهِ، أَوْ يَجِدَ رِيحًا بِأَنْفِهِ» (1) . [1: 66]

حضرت ابو سعید خدری ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب شیطان تم میں سے کسی ایک کے پاس آئے اور یہ کہے تم بے وضو ہوگئے ہو تو اسے اپنے ذہن میں یہ کہنا چاہئے تم جھوٹ کہہ رہے ہو جب تک آدمی اپنے کان کے ذریعے (ہوا خارج ہونے کی )آواز نہیں سنتا یا اپنی ناک کے ذریعے اس کی بو کو محسوس نہیں کرتا (اس وقت تک اسے دو بارہ وضو نہیں کرنا چاہئے)

«إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ ← النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ هِلاَلٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2666

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2667

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُلْقِ الشَّكَّ، وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، فَإِنِ اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً، وَالسَّجْدَتَانِ نَافِلَةً، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ تَمَامًا بِصَلَاتِهِ، وَالسَّجْدَتَانِ تُرْغِمَانِ أَنْفَ الشَّيْطَانِ» (1) . [5: 18]

حضرت ابو سعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہوجائے تو وہ شک کو ایک طرف رکھے اور یقین پر بنیاد قائم کرے جب اسے نماز مکمل ہونے کا یقین ہوجائے تو دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے اگر اس کی نماز مکمل ہوگی تو وہ ایک رکعت نفل ہوگی دو سجدے بھی نفل ہوں گے اور اگر اس کی نماز ناقص تھی تو وہ رکعت اس کی نماز کو مکمل کردے گی اور دو سجدے شیطان کی ناک کو خاک آلود کردیں گے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2667

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2668

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً، وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ السَّلَامِ، فَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ، وَإِنْ كَانَتْ خَامِسَةً شَفَعَتْهَا السَّجْدَتَانِ» (2) . [5: 18] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «وَهِمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ الدَّرَاوَرْدِيُّ حَيْثُ قَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَكَانَ إِسْحَاقُ يُحَدِّثُ مِنْ حِفْظِهِ كَثِيرًا، فَلَعَلَّهُ مِنْ وَهْمِهِ أَيْضًا»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نبی ا کرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب کوئی شخص نماز ادا کرے اور اسے یہ پتہ نہ چل سکے اس نے تین رکعات ادا کی ہیں یا چار ادا کی ہیں تو اسے ایک رکعت ادا کرنی چاہئے اور سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کرلینا چاہئے اگر وہ چوتھی رکعت ہوگی تو دو سجدےشیطان کو رسوا کردیں کے اور وہ پانچویں رکعت ہوگی تو دو سجدے اسے جفت بنا دیں گے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) دراور دی نامی راوی کو اس کی سند میں وہم ہوا ہے۔ انہوں نے یہ کہا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے منقول ہے۔ حالانکہ یہ روایت حضرت ابو سعید خدری ؓ کے حوالے سے منقول ہے۔ سعد بن ابراہیم نامی راوی کیونکہ اکثر اپنے حافظے کے حوالے سے احادیث بیان کیا کرتے تھے تو ہو سکتا ہے کہ یہ ان کو وہم ہوا ہو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2668

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2669

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا، فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَ بِالسَّجْدَتَيْنِ، وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى أَرْبَعًا كَانَتِ السَّجْدَتَانِ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ» (1) . [5: 18] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «خَبَرُ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، مِمَّا قَدْ يُوهِمُ عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّ التَّحَرِّيَ فِي الصَّلَاةِ وَالْبِنَاءَ عَلَى الْيَقِينِ وَاحِدٌ، وَحُكْمَاهُمَا مُخْتَلِفَانِ، لِأَنَّ فِي خَبَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي ذِكْرِ التَّحَرِّي أَمَرَ بِسَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ، وَفِي خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي الْبِنَاءِ عَلَى الْيَقِينِ: أَمَرَ بِسَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ، وَالْفَصْلُ بَيْنَ التَّحَرِّي وَالْبِنَاءِ عَلَى الْيَقِينِ: أَنَّ الْبِنَاءَ عَلَى الْيَقِينِ هُوَ أَنْ يَشُكَّ الْمَرْءُ فِي صَلَاتِهِ، فَلَا يَدْرِي ثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ وَهُوَ الثَّلَاثُ، وَيُتِمَّ صَلَاتَهُ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ، وَأَمَّا التَّحَرِّي: فَهُوَ أَنْ يَدْخُلَ الْمَرْءُ فِي صَلَاتِهِ، ثُمَّ اشْتَغَلَ بِقَلْبِهِ بِبَعْضِ أَسْبَابِ الدِّينِ أَوِ الدُّنْيَا حَتَّى مَا يَدْرِي أَيَّ شَيْءٍ صَلَّى أَصْلًا، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ تَحَرَّى عَلَى الْأَغْلَبِ عِنْدَهُ، وَيَبْنِي عَلَى مَا صَحَّ لَهُ مِنَ التَّحَرِّي مِنْ صَلَاتِهِ، وَيُتِمُّهَا، وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ حَتَّى يَكُونَ مُسْتَعْمِلًا لِلْخَبَرَيْنِ مَعًا»

حضرت ابو سعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: جب کسی شخص کو شک ہوجائے اور اسے یہ پتہ نہ چلے اس نے تین رکعات ادا کی ہیں یا چار ادا کی ہیں تو اسے اٹھ کر ایک رکعت ادا کرنی چاہئے اس میں رکوع اور سجدے کو مکمل ادا کرے پھر جب وہ بیٹھا ہوا ہو تو دو مرتبہ سجدہ سہو کرلے اگر اس نے پانچ رکعات ادا کی تھیں تو دو سجدے انہیں جفت بنا دیں گے اور اگر وہ چار رکعات ادا کر چکا تھا تو یہ دو سجدے شیطان کو رسواکردیں گے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ کے حوالے سے منقول روایت وہ روایت ہے جس نے عالم شخص کو اس غلط فہمی کا شکار کیا کہ نماز کے دوران تحری کر نا اور یقین پر بناء قائم کرنا ایک ہی چیز ہے۔ حالانکہ ان دونوں کا حکم مختلف ہے۔ کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے منقول روایت میں تحری کا حکم ہے جس میں نبی اکرمﷺ نے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کے حوالے سے منقول روایت میں یقین پر بناء کرنے کا حکم ہے جس میں نبی اکرمﷺ نے سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کرنے کا حکم دیا ہے۔ تو تحری کرنے اور یقین پر بناء قائم کرنے کے درمیان فرق ہے۔ کیونکہ یقین پر بناء قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ جس شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہوجائے اور اس کو یہ پتہ نہ چل سکے کہ اس نے تین رکعات ادا کی ہیں کہ چار رکعات؟ جب اس طرح کی صورت حال درپیش ہو۔ پھر وہ اس چیز پر بناء قائم کر ے گا جس کا اس کو یقین ہو۔ اور وہ تین رکعات ہوں۔ پھر وہ اپنی نماز کو مکمل کرے پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے گا جہاں تک تحری کا تعلق ہے۔ تو اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی نماز شروع کرتا ہے پھر اس کا ذ ہن کسی دنیا وی یا دینی معاملے میں مشغول ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اسے یہ پتہ نہیں چل پاتا کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے؟ جب اس طرح کی صورت حال درپیش ہو تو وہ غالب گمان کے مطابق تحری کرلے گا اور تحری کے نتیجے میں جو چیز اس کے لیے ثابت ہوگی اس پر بناء قائم کرے اور پھر اپنی نماز کو مکمل کر کے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ کرے گا۔ اس صورت میں ان دونوں روایات پر ایک ساتھ عمل ہو جائے گا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2669

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2670

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ بِالْبَصْرَةِ، أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ» (1) . تَفَرَّدَبِہِ الْاَنْصَارِیُّ ، مَا رَویٰ ابْنُ سِیْرِیْنَ ، عَنْ خَالِدٍ غَیْرَ ھٰذَا الْحَدِیْثِ ، وَخَالِدٌ تِلْمِیذُہُ

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔ آپ نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا پھر آپ نے تشہد پڑھا اور سلام پھیردیا۔ اس روایت کو نقل کرنے میں انصاری نامی راوی منفرد ہے ابن سیرین نے خالد کے حوالے سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی روایت نہیں کی ہے ویسے خالد ان کے شاگر د ہیں۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَشْعَثَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ، ← عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ بِالْبَصْرَةِ، أَبُو سَعِيدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2670

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2671

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، فَقَالَ لَهُ الْخِرْبَاقُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصَدَقَ الْخِرْبَاقُ؟ » فَقَالُوا: نَعَمْ. فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَةً، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے عصر کی نماز میں تین رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیردیا تو حضرت خرباقؓ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ بھول گئے ہیں؟ یا پھر نماز مختصر ہوگئی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا خرباق ٹھیک کہہ رہاہے؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں ! آپ کھڑے ہوئے آپ نے ایک رکعت ادا کی آپ نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا پھر سلام پھیردیا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2671

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2672

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ الْحُصْرِيُّ (1) ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ» (2) . [5: 18]

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے انہیں نماز پڑھانے ہوئے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا آپ نے تشہد پڑھا پھر سلام پھیردیا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَشْعَثَ، ← الْأَنْصَارِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ الْحُصْرِيُّ ← عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2672

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2673

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ خَتَنُ الْمُقْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: «أَكَذَلِكَ؟» قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى رَكْعَةً، ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ (3) . [5: 18]

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ظہر یا عصر کی نماز میں تین رکعات پڑھائیں (اور سلام پھیردیا) آپ کی خدمت میں اس بارے میں گزارش کی گئی تو آپ نے دریافت کیا: کیا اسی طرح ہے لوگوں نے عرض کی : جی ہاں۔ نبی اکر مﷺ نے ایک رکعت پڑھی پھر تشہد پڑھا اور سلام پھیردیا۔ پھر آپ نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا پھر سلام پھیرا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ خَتَنُ الْمُقْرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2673

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2674

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ (1) ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، فَسَهَا فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ» ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ سَهَوْتَ فَسَلَّمْتَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، «فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَتَمَّ تِلْكَ الرَّكْعَةَ» ، وَسَأَلْتُ النَّاسَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ سَهَوْتَ، فَقِيلَ لِي: تَعْرِفُهُ؟ فَقُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ أُرَاهُ، وَمَرَّ بِي رَجُلٌ، فَقُلْتُ: هُوَ هَذَا، فَقَالُوا: هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ (2) . [5: 18]

حضرت معاویہ بن حدیج ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کی ۔ نبی اکرمﷺ کو سہو ہوا اور آپ نے دو رکعات ادا کرنے کے بعد سلام پھیردیا۔ آپ نے نماز مکمل کی تو ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کو سہو ہو گیا ہے آپ نے دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیردیا ہے تو آپ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی پھر نبی اکرمﷺ نے اس ایک رکعت کو مکمل کیا۔میں نے لوگوں سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا: جس نے یہ عرض کی تھی : یا رسول اللہﷺ آپ کو سہو ہوا گیا ہے۔ مجھ سے دریافت کیا گیا: آپ اسے جانتے ہیں میں نے جواب دیا: جی نہیں ۔ اگر میں انہیں (دیکھوگا تو پہچان جاؤں گا) تو پھر ایک صاحب میرے پاس سے گرزے تو میں نے بتایا: یہ وہ صاحب ہیں۔ انہوں نے بتایا : یہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ ہیں۔

لَهُ رَجُلٌ: ← «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ الْمَغْرِبَ، فَسَهَا فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ» ← مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ: ← سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2674

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2675

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا (1) إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ (2) الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ - وَأَظُنُّ أَنَّهَا الظُّهْرُ - رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهَا، إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، وَقَالُوا: قُصِرَتِ الصَّلَاةُ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا، فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ، قَالَ: وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ إِمَّا قَصِيرُ الْيَدَيْنِ - وَإِمَّا طَوِيلُهُمَا - يُقَالُ لَهُ: ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ وَلَمْ أَنَسَ» ، فَقَالَ: بَلْ نَسِيتَ، فَقَالَ: «أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟» فَقَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ قَالَ: وَنُبِّئْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ: «ثُمَّ سَلَّمَ» (1) . [5: 18] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «هَذِهِ الْأَخْبَارُ الثَّلَاثَةُ قَدْ تُوهِمُ غَيْرَ الْمُتَبَحِّرِ فِي صِنَاعَةِ الْعِلْمِ أَنَّهَا مُتَضَادَّةٌ، لِأَنَّ فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ ذَا الْيَدَيْنِ هُوَ الَّذِي أَعْلَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، وَفِي خَبَرِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ الْخِرْبَاقَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، وَفِي خَبَرِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ لَهُ ذَلِكَ، وَلَيْسَ بَيْنَ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ تَضَادٌّ وَلَا تَهَاتُرٌ، وَذَلِكَ أَنَّ خَبَرَ ذِي الْيَدَيْنِ: سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، وَخَبَرَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّهُ سَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، وَخَبَرَ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ: أَنَّهُ سَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، فَدَلَّ مِمَّا وَصَفْنَا عَلَى أَنَّهَا ثَلَاثَةُ أَحْوَالٍ مُتَبَايِنَةٍ فِي ثَلَاثِ صَلَوَاتٍ لَا فِي صَلَاةٍ وَاحِدَةٍ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ہمیں دو پہر کی نماز میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی ۔ میرا خیال ہے وہ ظہر کی نماز تھی۔ آپ نے اس میں دو رکعات پڑھائیں (اور پھر سلام پھیردیا) پھر مسجد میں قبلہ کی سمت رکھی ہوئی لکڑی کے پاس آکر کھڑے ہوئے تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دیے ان دونوں میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر تھا جلد باز لوگ (مسجد) سے باہر چلے گئے وہ یہ کہہ رہے تھے نماز مختصر ہوگئی ہے ۔ حاضرین میں حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمرؓ موجود تھے لیکن انہوں نے رعب کی وجہ سے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں گزارش نہیں کی۔ راوی بیان کرتے ہیں : حاضرین میں سے ایک صاحب تھے۔ جن کے ہاتھ شاید چھوٹے تھے یا شاید لمبے تھے۔ انہیں ذوالیدین کہاجاتا تھا۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ ! کیا نماز مختصر ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: نماز مختصر نہیں ہوئی اور میں بھی بھولا نہیں ہوں۔ انہوں نے عرض کی : شاید آپ بھول گئے ہیں۔نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا ذوالدین ٹھیک کہہ رہا ہے لوگوں نے عرض کی :جی ہاں تو نبی اکرمﷺ نے ہمیں دورکعات پڑھائیں پھر آپ نے سلام پھیرا پھر آپ نے تکبیر کہی اور آپ نے اپنے عام سجدوں کی مانندیا شائد اس سے کچھ طویل سجدہ یا پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا پھر آپ نے تکبیر کہی اور اپنے عام سجدوں کی مانند تھا یا شاید اس سے کچھ طویل سجدہ کیا پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ راوی بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات بتائی گئی ہے حضرت عمران بن حصین ؓ کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: پھر آپ نے سلام پھیر دیا (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) یہ تینوں روایات اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتی ہیں۔ جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ اس بات کا قائل ہے کہ یہ دوسرے کی متضاد ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات ہےکہ حضرت ذوالیدینؓ نے نبی اکرمﷺ کو اس بات کی اطلاع دی تھی جبکہ حضرت عمران بن حصین ؓ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ حضرت خرباقؓ نے یہ بات کہی تھی۔ جبکہ حضرت معاویہ بن خدیج ؓ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات ہے کہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے نبی اکرمﷺ کو اس بارے میں بتایا تھا۔ حالانکہ ان روایات میں کوئی تضاد اور کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ذوالیدین ؓ کے بارے میں منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرمﷺ نے طہر یا عصر کی نماز میں دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تھا۔جبکہ عمران بن حصین ؓ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ظہر یا عصرکی نماز میں تیسری رکعت پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تھا جبکہ حضرت معاویہ بن حدیجؓ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرمﷺ نے مغرب کی دو رکعت پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تھا ۔ تو جو چیز ہم نے ذکر کی ہے وہ اس بات کی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ تین مختلف مواقع پر تین مختلف نمازوں کے واقعات ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک ہی نماز کے بارے میں یہ تینوںروایات مذکور ہیں۔

أظن ← صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2675

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2676

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، فَقَامَ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ» (1) . [5: 18]

حضرت عبداللہ بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ہمیں ظہر نماز پڑھائی (دو رکعات ادا کرنے کے بعد)جب آپ پربیٹھنا لازم تھا تو آپ بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہوگئے نماز کے آخر میں جب آپ بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ: ← الْأَعْرَجِ ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2676

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ سُجُوْدِ السَّھْوِ · حديث 2677

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا جَلَسَ فِي أَرْبَعٍ انْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ، كَبَّرَ ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ ثُمَّ سَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ» (2) . [5: 18]

حضرت ابن بحینہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے ۔ لوگ بھی آپ کے ہمراہ کھڑے ہوگئے جب آپ چار رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھے اور لوگ آپ کے سلام پھیرنے کے منتظر تھے آپ نے تکبیرکہی پھر سجدے میں چلے گئے پھر آپ نے تکبیرکہی پھر آپ سجدے میں چلے گئے ایسا آپ کے سلام پھیرنے سے پہلے ہوا۔

ابْنِ بُحَیْنَۃَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of prostration for negligence · Hadith 2677

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr