صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2096
اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانٍ، اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہٖ، لَقَدْ ھَمَمْتُ اَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَیُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاۃِ فَیُؤَذَّنَ لَھَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَیَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ اُخَالِفَ اِلٰی رِجَالٍ فَاُحَرَّقَ عَلَیْھِمْ بُیُوتَھُمْ، وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہٖ، لَوْ یَعْلَمُ اَحَدُھُمْ اَنَّہٗ یَجِدُ عَظْمًا سَمِیْنًا اَوْ مِرْمَاتَیْنِ حَسَنَتَیْنِ لَشَھِدَ الْعِشَاءَ۔ (34:3)
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ میں نے یہ ارادہ کیا‘ میں لکڑیوں کے بارے میں حکم دوں انہیں اکٹھا کیا جائے پھر میں نماز کے لئے حکم دوں۔ اس کے لئے اذان دی جائے پھر میں کسی شخص کو یہ حکم دوں‘ وہ لوگوں کی امامت کرے اور پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں اور انہیں ان کے گھر سمیت آگ لگا دوں ( جو باجماعت نماز شریک نہیں ہوئے) اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر ان میں سے کسی ایک کو یہ پتہ چل جائے‘ اسے ایک گوشت والی ہڈی ملے گی یا دوا اچھے پائے ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور شریک ہو‘‘۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of the front and the intercourse · Hadith 2096
