Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2072

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُو الرَّبِیعِ الزَّھْرَانِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ شِھَابٍ ھُوَ عَبْدُ رَبِّہِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ اِدْرِیسَ بْنِ یَزِیْدَ الْاَوْدِیِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا یُصَلِّ اَحَدُکُمْ وَھُوَ یُدَافِعُہُ الْاَخْبَثَانِ ۔ (6:1)

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ کوئی بھی شخص ایسی حالت میں نماز ادا نہ کرے جبکہ وہ پیشاب یا پاخانہ کو روکے ہوئے ہو۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اِدْرِیسَ بْنِ یَزِیْدَ الْاَوْدِیِّ، ← اَبُوْ شِھَابٍ ھُوَ عَبْدُ رَبِّہِ بْنُ نَافِعٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2072

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2073

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُو الطَّاھِرِ بْنُ السَّرحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ، عَنْ یَّعْقُوْبَ بْنِ مُجَاھِدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَاہُ، اَنَّ عَائِشَۃَ، حَدَّثَتْھُمَا قَالَت: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: لَا یَقُوْمُ اَحَدُکُمْ اِلَی الصَّلَاۃِ وَھُوَ بِحَضْرَۃِ الطَّعَامِ وَلَا ھُوَ یُدَافِعُہُ الْاَخْبَثَانِ الْغَائِطُ وَالْبَوْلُ ۔ (6:1)

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ’’ کوئی بھی شخص ایسی حالت میں نماز کے لئے کھڑا نہ ہو‘ اس کا کھانا آچکا ہو یا جب وہ خبیث چیزوں پاخانہ یا پیشاب کو روکے ہوئے ہو۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَاہُ، اَنَّ عَائِشَۃَ، حَدَّثَتْھُمَا ← يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 2073

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2074

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ الشَّیْبَانِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَھْلٍ الْجَعْفَرِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ، عَنْ اَبِی حَزْرَۃَ الْمَدِینِیِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: کَانَ بَیْنَ عَائِشَۃَ وَبَیْنَ بَعْضِ بَنِیْ اَخِیھَا شَیْءٌ، فَدَخَلَ عَلَیْھَا فَلَمَّ جَلَسَ جِیءَ بِالطَّعَامِ، فَقَامَ اِلَی الْمَسْجِدِ فَقَالَتْ لَہٗ: اجْلِسْ غُدَرُ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: لَا یُصَلِّیْ اَحَدُکُمْ بِحَضْرَۃِ الطَّعَامِ، وَلَاوَھُوَ یُدَافِعُہُ الْاَخْبَثَانِ ۔ (47:2)

قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں: سیّدہ عائشہ صدیقہؓ اور ان کے کسی بھانجے کے درمیان کوئی ناراضگی تھی۔ وہ بھانجے سیّدہ عائشہؓ کے پاس آئے جب وہ بیٹھے تو کھانا آگیا وہ اٹھ کر مسجد کی طرف جانے لگے‘ تو سیّدہ عائشہؓ نے ان سے کہا: او نالائق بیٹھے رہو۔ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ’’ کوئی شخص کھانے کی موجودگی میں نماز ادا نہ کرے اور اس وقت نماز ادا نہ کرے جب وہ خبیث چیزوں یعنی پیشاب اور پاخانے کو روکے ہوئے ہو۔‘‘

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← اَبِی حَزْرَۃَ الْمَدِینِیِّ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْجَعْفَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Hadith 2074

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2075

اَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَیْبَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، اَنَّ مَحْمُوْدَ بْنَ الرَّبِیعِ الْاَنْصَارِیَّ، حَدَّثَہُ اَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ، مِمَّنْ شَھِدَ بَدْرًا مِنَ الْاَنْصَارِ اَتَی رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللہِ اِنِّیْ قَدْ اَنْکَرْتُ بَصَرِی وَاَنَا اُصَلِّی لَقَوْمِی، وَاِذَا کَانَ الْاَمْطَارُ سَالَ الْوَادِی الَّذِی بَیْنِیْ وَبَیْنَھُمْ وَلَمْ اَسْتَطِعْ اَنْ اَتِیَ مَسْجِدَھُمْ فَاُصَلِّیَ بِھِمْ وَدِدْتُ اَنَّکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ تَاْتِیْ فَتُصَلِّیْ فِیْ بَیْتِیْ حَتّٰی اَتَّخِذَہُ مُصَلًّی، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: سَاَفْعَلُ قَالَ عِتْبَانُ: فَغَدَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَبُوْبَکْرٍ الصِّدِّیقُ حِیْنَ ارتَفَعَ النَّھَارُ، فَاسْتَاْذَنَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَاَذِنْتُ لَہٗ، فَلَمْ یَجْلِسْ حِیْنَ دَخَلَ الْبَیْتَ، ثُمَّ قَالَ: اَیْنَ تُحِبُّ اَنْ اُصَلِّیَ مِنْ بَیْتِکَ؟ قَالَ: فَاَشَرْتُ اِلٰی نَاحِیَۃٍ مِنَ الْبَیْتِ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَکَبَّرَ فَقُمْنَا وَرَائَہٗ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ: وحَبَسْنَاہُ عَلٰی خَزِیرَۃٍ صَنَعْنَاھَا لَہٗ۔

حضرت محمود بن ربیع انصاریؓ بیان کرتے ہیں: حضرت عتبان بن مالکؓ جو غزوہ بدر میں شریک ہو چکے تھے۔ ان کا تعلق انصار سے تھا‘ وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! میری نگاہ کمزور ہو چکی ہے۔ میں اپنی قوم کی امامت کرتا ہوں جب بارش آتی ہے نشیبی علاقے میں پانی بھر جاتا ہے‘ جو میرے اور ان لوگوں کے درمیان ہے‘ تو میں ان کی مسجد تک نہیں آسکتا‘ تاکہ ان کو نماز پڑھاؤں۔ اس لئے یہ چاہتا ہوں‘ یا رسول اللہ(ﷺ)! آپ تشریف لائیں میرے گھر میں نماز ادا کریں‘ تو میں اس جگہ کو جائے نماز بنالوں۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں ایسا کروں گا۔ حضرت عتبان بیان کرتے ہیں: اگلے دن نبی اکرمﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ دن چڑھ جانے کے بعد تشریف لائے نبی اکرمﷺ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ میں نے آپ کی خدمت میں اجازت پیش کی گھر میں داخل ہونےکے بعد نبی اکرمﷺ تشریف فرما نہیں ہوئے۔ آپ نے دریافت کیا‘ تم اپنے گھر میں کہاں یہ چاہتے ہو میں وہاں نماز ادا کروں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے گھر کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا‘ تو نبی اکرمﷺ وہاں کھڑے ہوئے آپ نے وہاں تکبیر کہی۔ ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ نبی اکرمﷺ نے دو رکعات ادا کرنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے آپ کو خزیرہ کھانے کے لئے روک لیا جو ہم نے آپ کے لئے تیار کیا تھا۔

ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيَّ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 2075

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2076

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوْسٰی السُّلَمِیُّ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ ھُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ وَجَدَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ بَرْدًا شَدِیْدًا، فَاَذِنَ مَنْ مَعَہٗ فَصَلُّوْا فِیْ رِحَالِھِمْ وَقَالَ: اِنِّیْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ( اِذَا کَانَ مِثْلُ ھٰذَا اَمَرَ النَّاسَ اَنْ یُصَلُّوْ فِیْ رِحَالِھِمْ ۔ (6:1)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے‘( سفر کے دوران) ایک رات انہیں شدید سردی محسوس ہوئی تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ اجازت دی‘ وہ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لیں اور ہمیں یہ بات بتائی‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا ہے‘جب اس طرح کا معاملہ ہوتا تو آپ لوگوں کو یہ حکم دیتے تھے وہ اپنے رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لیں۔

نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى السُّلَمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2076

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2077

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحَبَابِ، حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ نَافِعٍ اَنَّ ابْنَ عُمَرَ نَزَلَ بَضَجْنَانَ لَیْلَۃً بَارِدَۃً، فَاَمَرَھُمْ اَنْ یُصَلُّوْا فِی الرِّحَالِ، وَحَدَّثَنَا اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا نَزَلَ فِیْ مَوْضِعٍ فِی اللَّیْلَۃِ الْبَارِدَۃِ اَمَرَھُمْ اَنْ یُصَلُّوْا فِی الرِّحَالِ۔ (7:1)

نافع بیان کرتے ہیں: شدید سرد رات میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے ضجنان کے مقام پر پڑاؤ کیا‘ اور لوگوں کو یہ ہدایت کی‘ وہ اپنی رہائش والی جگہ پر ہی نماز ادا کر لیں۔ انہوں نے ہمیں یہ بات بتائی‘ نبی اکرمﷺ جب سرد رات میں کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے‘ تو آپ لوگوں کو یہ حکم دیتے تھے وہ اپنی رہایشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لیں۔

أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 2077

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2078

اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ اِدْرِیْسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ اَبِیْ بَکْرٍ الزُّھْرِیُّ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ اَذَّنَ بِالصَّلَاۃِ فِیْ لَیْلَۃٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِیحٍ وَقَالَ: اَلَا صَلُّوْا فِی الرِّحَالِ، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَاْمُرُ الْمُؤَذِّنَ اِذَا کَانَتْ لَیْلَۃٌ ذَاتُ بُرْدٍ وَمَطَرٍ یَقُوْلُ اَلَا صَلُّوْا فِیْ الرِّحَالِ۔ (6:1)

نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے ایک سرد اور ہوا والی رات میں نماز کے لئے اذان دی اور یہ کہا: ’’ خبردار اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو‘‘ پھر انہوں نے یہ بات بتائی: نبی اکرمﷺ مؤذن کو یہ حکم دیتے تھے‘ جب رات ٹھنڈی یا بارش والی ہو‘ تو وہ یہ کہے خبردار اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔‘‘

أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ثُمَّ ← ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ اَذَّنَ بِالصَّلَاۃِ فِیْ لَیْلَۃٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِیحٍ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← اَحْمَدُ اَبِیْ بَکْرٍ الزُّھْرِیُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ،

Hadith 2078

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2079

اَخْبَرَنَا شَبَّابُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا وَھْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ، اَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ، عَنْ اَبِی الْمَلِیْحِ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَاَصَابَنَا مَطَرٌ لَمْ یَبُلَّ اَسَافِلَ نِعَالِنَا، فَنَادٰی مُنَادِی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ صَلُّوْا فِیْ رِحَالَکُمْ۔ (7:1)

ابوملیح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حدیبیہ کے زمانہ میں ہم نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے۔ ہمیں بارش نے آلیا وہ اتنی بارش تھی‘ جس سے ہمارے جوتے کے نیچے والا حصہ بھی گیلا نہیں ہوا‘ لیکن نبی اکرمﷺ کی طرف سے اعلان کرنے والے نے یہ اعلان کیا تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ،

Hadith 2079

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2080

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ اَذَّنَ بَضَجْنَانَ فِی لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ، وَقَالَ لِاَصْحَابِہٖ: صَلُّوْا فِیْ رِحَالِکُمْ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَاْمُرُ اللْمُؤَذِّنُ فِی اللَّیْلَۃِ الْمَطِیرَۃِ اَوِالْبَارِدَۃِ وَیَاْمُرُ اَصْحَابَہُ اَنْ صَلُّوْا فِیْ رِحَالِکُم۔ (6:1)

نافع‘ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں: ایک سرد رات میں انہوں نے ضجنان کے مقام پر اذان دی اور اپنے ساتھیوں سے یہ کہا‘ تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو کیونکہ نبی اکرمﷺؑ اپنے مؤذن کو یہ ہدایت کرتے تھے‘ ہو بارش والی رات میں‘ یا سرد رات میں اذان دے اور آپ اپنے ساتھیوں کو یہ ہدایت کرتے تھے‘ تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔

ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ اَذَّنَ بَضَجْنَانَ فِی لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ، ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2080

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2081

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السَّامِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَبِی الْمَلِیحِ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: اَصَابَنَا مَطَرٍ بِحُنَیْنٍ فَنَادٰی مُنَادِی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَنْ صَلُّوْا فِی الرِّحَالِ۔

ابوملیح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں‘ حنین میں ہمیں بارش نے آلیا تو نبی اکرمﷺ کی طرف سے اعلان کرنے والے نے یہ اعلان کیا’’ تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔‘‘

اَصَابَنَا مَطَرٍ بِحُنَیْنٍ فَنَادٰی مُنَادِی رَسُوْلِ اللہِ اَنْ صَلُّوْا فِی الرِّحَالِ۔ ← أَبِيهِ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 2081

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2082

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیْفَۃَ فِیْ عَقِبِہٖ قَالَ: حَدَّثَنَا زُھَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ سَفَرٍ فَمُطِرْنَا فَقَالَ: لَیُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْکُمْ فِیْ رَحْلِہٖ۔ (6:1) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّھْلِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ نُعَیْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُھَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے بارش ہو گئی تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص چاہے اپنی جگہ پر ہی نماز ادا کر لے۔ یہی روایت امام ابن خزیمہ نے بھی اپنی سند کے ساتھ نقل کی ہے۔

زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ ← كنا مع رسول الله في سفر فَمطرنا ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَبُو خَلِيفَةَ فِي عَقِبِهِ،

Hadith 2082

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2083

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوْسٰی، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ، قَتَادَۃَ، عَنْ اَبِی الْمَلِیْحِ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَیْبِیَۃِ، فَاَصَابَنَا سَمَاءٌ لَمْ تَبُلَّ اَسَافِلَ نِعَالِنَا، فَاَمَرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُنَادِیَہُ: اَنْ صَلُّوْا فِیْ رِحَالِکُمْ۔ (6:1)

ابوملیح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ حدیبیہ کے موقع پر ہم نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے۔ وہاں ہم پہ بارش ہو گئی جو اتنی تھی‘ ہمارے جوتوں کا نیچے والا حصہ بھی مکمل طور پر گیلا نہیں ہو اتھا۔ نبی اکرمﷺ نے اپنے اعلان کرنے والے کو یہ حکم دیا ( کہ وہ یہ اعلان کرے) ’’ تم لوگ اپنے رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔‘‘

أَبِيهِ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2083

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr