Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2060

اَخْبَرَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ، حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، اَخْبَرَنَا الْمُغِیْرَۃُ بْنُ سَلَمَۃَ الْمَخْزُومِیُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِیْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اَبِیْ عَمْرَۃَ، قَالَ: دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ الْمَسْجِدَ بَعْدَ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ، فَقَعَدَ وَحْدَہٗ وَقَعَدْتُ اِلَیْہِ فَقَالَ: یَا ابْنَ اَخِی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَنْ صَلَّی الْعِشَاءِ فِیْ جَمَاعَۃٍ، فَکَاَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّیْلِ، وَمَنْ صَلَّ الصُّبْحَ فِیْ جَمَاعَۃٍ، فَکَاَنَّمَا صَلَّی اللَّیْلَ کُلَّہُ۔ ( 2:1 )

عبد الرحمٰن بن ابوعمرہ بیان کرتے ہیں: حضرت عثمان غنی ؓ مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں داخل ہوئے اور تنہا بیٹھ گئے میں ان کے پاس آکر بیٹھا تو انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے میں نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ’’ جو شخص عشاء کی نماز باجماعت ادا کرتا ہے گویا وہ نصف نوافل ادا کرتا رہتا ہے اور جو شخص صبح کی نماز بھی باجماعت ادا کرتا ہے گویا وہ رات بھر نوافل ادا کرتا رہتا ہے۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← يَا ابْنَ أَخِي ← دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ الْمَسْجِدَ بَعْدَ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ، فَقَعَدَ وَحْدَہٗ وَقَعَدْتُ اِلَیْہِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ

Hadith 2060

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2061

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی، حَدَّثَنَا اَبُوْ خَیْثَمَۃَ، حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَتَعَاقَبُونَ فِیکُمْ اِذَا کَانَتْ صَلَاۃُ الْفَجْرِ نَزَلَتْ مَلَائِکَۃُ النَّھَارِ، فَشَھِدَتْ مَعَکُمُ الصَّلَاۃَ جَمِیْعًا وَصَعِدَتْ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ وَمَکَشَتْ مَعَکُمْ مَلَائِکَۃُ النَّھَارِ، فَیَسْاَلُھُمْ رَبُّھُمْ وَھُوَ اَعْلَمُ مَا تَرَکْتُمْ عِبَادِی یَصْنَعُونِ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: جِئْنَاھُمْ وَھُم یُصَلُّونَ وَتَرَکْنَاھُمْ وَھُمْ یُصَلُّونَ، (فَاِذَا کَانَ صَلَاۃُ الْعَصْرِ نَزَلَتْ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ، فَشَھِدُوا مَعَکُمُ الصَّلَاۃَ جَمِیعًا، ثُمَّ صَعِدَتْ مَلَائِکَۃُ النَّھَارِ وَمَکَشَتْ مَعَکُمْ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ، قَالَ: فَیَسْاَلُھُمْ رَبُّھُمْ وَھُوَ اَعْلَمُ بِھِمْ فَیَقُوْلُ: مَا تَرَکْتُمْ عِبَادِی یَصْنَعُونَ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ: جِئْنَا وَھُمْ یُصَلُّونَ وَتَرَکْنَاھُمْ وَھُمْ یُصَلُّونَ ) قَالَ: فَحَسِبْتُ اَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ: فَاغْفِرْ لَھُمْ یَوْمَ الدِّینِ۔ (2:1)

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ فرشتے تمہارے درمیان آتے جاتے ہیں۔ فجر کی نماز ہوتی ہے‘ تو دن کے فرشتے نیچے اترتے ہیں( رات اور دن کے ) سارے فرشتے تمہارے ساتھ اس نماز میں شریک ہوتے ہیں پھر رات کے فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں اور دن کے فرشتے تمہارے ساتھ رک جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان فرشتوں سے دریافت کرتا ہے حالانکہ وہ زیادہ علم رکھتا ہے‘ تم نے میرے بندوں کو کیا کرتے ہوئے چھوڑا ہے۔ وہ عرض کرتے ہیں جب ہم ان کے پاس گئے تھے‘ تو وہ نماز ادا کر رہے تھے جب ہم انہیں چھوڑ کے آئے‘ تو بھی وہ نماز ادا کر رہے تھے۔پھر جب عصر کی نماز ہوتی ہے‘ تو رات کے فرشتے نیچے اتر جاتے ہیں اور وہ دن اور رات کے سارے فرشتے تمہارے ساتھ نماز میں شریک ہوتے ہیں پھر دن کے فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں اور رات کے فرشتے تمہارے ساتھ ٹھہر جاتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ان کا پروردگار ان سے دریافت کرتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ وہ فرماتا ہے تم نے میرے بندوں کو کیا کرتے ہوئے چھوڑا ہے۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں وہ فرشتے عرض کرتے ہیں جب ہم ان کے پاس گئے تھے‘ تو وہ نماز ادا کر رہے تھے جب ہم انہیں چھوڑ کر آئے ‘ تو بھی وہ نماز ادا کر رہے تھے‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے ( روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) ’’ وہ فرشتے عرض کرتے ہیں‘ تو قیامت کے دن ان لوگوں کی مغفرت کر دینا۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2061

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2062

اَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَیْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ یُوْنُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ حَفْصٍ الْاَبَّرُ، عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ جُحَادَۃَ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، قَالَ: رَاَی اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ رَجُلًا قَدْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَقَدْ اَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ: اَمَّا ھٰذَا فَقَدْ عَصَی اَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔(24:2)

ابوصالح بیان کرتے ہیں: حضرت ابوہریرہؓ نے ایک شخص کو دیکھا جو مؤذن کے اذان دینے کے بعد مسجد سے باہر چلا گیا تھا تو حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا: اس شخص نے حضرت ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔

اَمَّا ھٰذَا فَقَدْ عَصَی اَبَا الْقَاسِمِ ← رَاَی اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ رَجُلًا قَدْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَقَدْ اَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← اَبُوْ حَفْصٍ الْاَبَّرُ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Hadith 2062

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2063

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُو الرَّبِیعِ الزَّھْرَانِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْقُمِّیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ جَارِیَۃَ، عَنْ ضَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ، قَالَ: جَاءَ ابْنُ اُمِّ مَکْتُومٍ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللہِ، اِنِّیْ مَکْفُوفُ الْبَصَرِ شَاسِعُ الدَّارِ، فَکَلَّمَہٗ فِی الصَّلَاۃِ اَنْ یُرَخِّصَ لَہٗ اَنْ یُصَلِّیَ فِیْ مَنْزِلِہٖ قَالَ: اَتَسْمَعُ الْاَذَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَاتِھَا وَلَوْ حَبْوًا۔(6:1)

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابن ام مکتومؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! میں نابینا ہوں۔ میرا گھر دور ہے۔ انہوں نے نماز کے بارے میں نبی اکرمﷺ سے بات کی کہ آپ انہیں اجازت دیں‘ وہ اپنے گھر میں نماز ادا کر لیا کریں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تم اذان کو سنتے ہو۔ عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر تم ( اس باجماعت نماز ) میں شریک ہو اگرچہ تمہیں گھسٹ کر چل کر آنا پڑے۔

جَاءَ ابْنُ اُمِّ مَکْتُومٍ اِلَی النَّبِیِّ فَقَالَ: ← ضَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ، ← عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، ← یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْقُمِّیُّ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2063

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2064

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیٰی، وَعَبْدُ الْحَمِیْدِ بْنُ بَیَانٍ السُّکَّرِیُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ یُجِبْ، فَلَا صَلَاۃَ لَہٗ اِلَّا مِنْ عُذْرٍ۔(6:1)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جو شخص اذان کو سنتا ہے اور اس کا جواب نہیں دیتا ( یعنی باجماعت نماز میں شریک نہیں ہوتا ) تو اس کی نماز نہیں ہوتی البتہ عذر کا حکم مختلف ہے‘‘۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← هُشَيْمٌ ← زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیٰی، وَعَبْدُ الْحَمِیْدِ بْنُ بَیَانٍ السُّکَّرِیُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2064

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2065

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِھْرَانَ السَّبَّاکُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ صُھَیْبٍ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: لَمْ یَخْرُجْ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، فَاُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَذَھَبَ اَبُوْبَکْرٍ یَتَقَدَّمّ، وَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْحِجَابِ فَرَفَعَہٗ، فَلَمَّا وَضَحَ لَنَا بَیَاضُ وَجْہِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ اَعْجَبَ اِلَیْنَا مِنْ وَّجْہِ نَبِیِّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ وَضَحَ لَنَا، قَالَ: فَاَوْمَا نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِہْ اِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ اَنْ تَقَدَّمَ، قَالَ: وَاَرْخَی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ، فَلَمْ یَقْدِرِ عَلَیْہِ حَتّٰی مَاتَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (6:1)

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: تین دن تک نبی اکرمﷺ ہمارے پاس ( نماز پڑھانے کے لئے ) تشریف نہیں لائے پھر نماز کے لئے اقامت کہی گئی۔ حضرت ابوبکرؓ آگے بڑھنے لگے ‘ تو نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت پردے کو اٹھایا گیا‘ جب نبی اکرمﷺ کے چہرے مبارک کی سفیدی ہمارے سامنے آئی تو ہم نے ایسا کوئی منظر نہیں دیکھا تھا جو نبی اکرمﷺ کی زیارت سے زیادہ ہمارے لئے محبوب ہو جب آپ ہمارے سامنے آئے تھے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعےحضرت ابوبکرؓ کو اشارہ کیا‘ وہ آگے ہو جائیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ نے پردہ نیچے کر دیا۔ اس کے بعد نبی اکرمﷺ اپنے وصال تک ( مسجد میں ) تشریف نہیں لائے۔

أَنَسٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2065

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2066

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عَمْرُوبْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا قُرِّبَ الْعَشَاءُ وَحَضَرَتِ الصَّلَاۃُ، فَابْدَءُ وابِہٖ قَبْلَ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ، وَلَا تَعْجَلُوْا عَنْ عَشَائِکُمْ۔ (6:1)

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جب رات کا کھانا آجائے اور نماز کا وقت ہو جائے‘ تو مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لو اور کھانا کھاتے ہوئے جلد بازی نہ کرو۔‘‘

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرُوبْنُ الْحَارِثِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 2066

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2067

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جَرِیحٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ نَافِعٌ، قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ اِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَتَبَیَّنَ لَہُ اللَّیْلُ، فَکَانَ اَحْیَانًا یُقَدِّمُ عَشَائَہٗ وَھُوَ صَائِمٌ وَالْمُؤَذِّنُ، ثُمَّ یُقِیمُ وَھُوَ یَسْمَعُ فَلَا یَتْرُکُ عَشَائَہٗ وَلَا یُعَجِّلُ حَتّٰی یَقْضِیَ عَشَائَہُ، ثُمَّ یَخْرُجَ فَیُصَلِّیَ، وَیَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا تَعْجَلُوْا عَنْ عَشَائِکُمْ اِذَا قُدِّمَ اِلَیْکُم۔ (6:1)

نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا یہ معمول تھا جب سورج غروب ہو جاتا اور رات ہو جاتی‘ تو بعض اوقات وہ کھانا پہلے کھا لیتے تھے۔ کیونکہ انہوں نے روزہ رکھا ہوا ہوتا تھا حالانکہ اس وقت مؤذن اذان دے رہا ہوتا تھا۔ وہ اقامت بھی کہہ دیتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اس کو سن رہے تھے لیکن وہ اپنے کھانے کو ترک نہیں کرتے تھے اور کھانا کھاتے ہوئے جلدبازی کا مظاہرہ بھی نہیں کرتے تھے‘ یہاں تک کہ جب وہ کھانا کھا لیتے تھے‘ تو تشریف لے جا کر نماز ادا کرتے تھےاور فرماتے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’ جب کھانا تمہارے سامنے رکھ دیا جائے‘ تو تم کھانا کھاتے ہوئے جلدبازی نہ کرو۔‘‘

نَافِعٍ ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2067

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2068

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اَعْیَنَ، عَنْ عَمْرِوبْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا اُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ وَاَحَدُکُمْ صَائِمٌ، فَلْیَبْدَاْ بِالْعِشَاءِ قَبْلَ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ، وَلَا تَعْجَلُوْا عَنْ عَشَائِکُمْ۔ (6:1)

حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے اور کسی شخص نے روزہ رکھا ہوا ہو‘ تو اسے مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لینا چاہئے اور تم کھانا کھاتے ہوئے جلدبازی کا مظاہرہ نہ کرو۔‘‘

أَنَسٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرُوبْنُ الْحَارِثِ، ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← اَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ وَاقِدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 2068

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2069

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَۃِ حُنَیْنٍ سَارَ لَیْلَۃً حَتّٰی اِذَا اَدْرَکِہُ الْکَرٰی عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلَالٍ: اکْلَاْلَنَا اللَّیْلَ فَصَلّٰی بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَہٗ، وَنَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَصْحَابُہُ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الصُّبْحُ اسْتَسْنَدَ بِلَالٌ اِلٰی رَاحِلَتِہٖ یُوَاجِہُ الْفَجْرَ، فَغَلَبَتْ بَلَالًا عَیْنَاہُ، وَھُوَ مُسْتَسْنِدٌ اِلٰی رَاحِلَتِہٖ، فَلَمْ یَسْتَیْقِظْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا بِلَالٌ وَلَا اَحَدٌ مِّنْ اَصْحَابِہٖ حَتّٰی ضَرَبَتْھُمُ الشَّمْسُ، فَکَانَ رَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَوَّلَھُمُ اسْتِیقَاظًا، فَفَزِعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: اَیْ بِلَالُ فَقَالَ بِلَالٌ: اَخَذَ بِنَفْسِی الَّذِی اَخَذَ بِنَفْسِکَ بِاَبِیْ اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللہِ، قَالَ: اقْتَادُوا رَوَاحِلَکُمْ ثُمَّ تَوَضَّاَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَاَمَرَ بِلَالًا فَاَقَامَ الصَّلَاۃَ وَقَالَ، مَنْ نَسِیَ الصَّلَاۃَ اَونَامَ عَنْھَا فَلْیُصَلَّھَا اِذَا ذَکَرَھَا، فَاِنَّ اللہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَالَ: ( اَقِمِ الصَّلَاۃَ لَذَکْرِی) (طہ) (6:1) وَقَالَ یُوْنُسُ: وَکَانَ ابْنُ شِھَابٍ یَقْرَؤُھَا لِلذِّکْرٰی

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ غزوہ حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے‘ تو آپ رات بھر چلتے رہے‘ یہاں تک کہ جب آپ کو نیند آنے لگی‘ تو آپ نے پڑاؤ کر لیا۔ آپ نے حضرت بلال ؓ سے فرمایا ہمارے لئےرات کا دھیان رکھنا حضرت بلالؓ کے جو مقدر میں تھا وہ نماز ادا کرتے رہے۔ پھر نبی اکرمﷺ اور آپ کے اصحاب سو گئے۔ صبح صادق کا وقت قریب آیا‘ تو حضرت بلال ؓ نے اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگائی اور صبح صادق والی طرف رُخ کر کے بیٹھ گئے۔ حضرت بلالؓ کی بھی آنکھ لگ گئی۔ وہ اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ نبی اکرمﷺ حضرت بلالؓ اور نبی اکرمﷺ کے اصحاب میں سے کوئی بھی شخص بیدار نہیں ہوا‘ یہںا تک کہ دھوپ نکل آئی۔ نبی اکرمﷺ سب سے پہلے بیدار ہوئے نبی اکرمﷺ پریشان ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: اے بلال! حضرت بلالؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! میرے والد آپ پر قربان ہوں‘ جس ذات نے آپ کو نیند عطا کی تھی۔ اس نے مجھے بھی نیند کا شکار کر دیا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اپنی سواریوں کو لے کر چل پڑو ( کچھ آگے جانے کے بعد ) نبی اکرمﷺ نے وضو کیا۔ آپ نے حضرت بلالؓ کو حکم دیا۔ انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص نماز کو بھول جائے یا نماز کے وقت سویا رہ جائے‘ تو جب وہ(نماز) اسے یاد آئے‘ تو اسے ادا کر لے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’ میرے ذکر کے لئے نماز کو قائم کرو۔‘‘ یونس نامی راوی بیان کرتے ہیں: ابن شہاب اس لفظ کو یوں تلاوت کرتے تھے: لِلذِّکْرٰی

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ،

Hadith 2069

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2070

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ اَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسَ بْنَ مَالَکٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْاِنْصَارِ وَکَانَ ضَخْمًا لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنِّیْ لَا اَسْتَطِیعُ الصَّلَاۃَ مَعَکَ، فَلَوْ اَتَیْتَ مَنْزِلِی فَصَلَّیْتَ فِیْہِ فَاَقْتَدِیَ بِکَ، فَصَنَعَ الرَّجُلُ لَہٗ طَعَامًا وَدَعَاہُ اِلٰی بَیْتِہٖ، فَبَسَطَ لَہٗ طَرَفَ حَصِیْرِ لَھُمْ، فَصَلّٰی عَلَیْہِ رَکْعَتَیْنِ قَالَ: فَقَالَ فَلَانُ بْنُ الْجَارُودِ لِاَنَسٍ: اَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ الضُّحَی؟ قَالَ: مَا رَاَیْتُہٗ صَلَّاھَا غَیْرَ ذٰلِکَ الْیَوْمَ۔ (6:1)

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے جو خوب بھاری بھر کم تھے‘ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں انہوں نے عرض کی: میں آپ کی اقتداء میں نماز کے لئے حاضر ہونے کی استطاعت نہیں رکھتا اگر آپ میرے ہاں تشریف لائیں اور وہاں نماز ادا کریں‘ تو میں آپ کی پیروی کروں گا ( یعنی اس جگہ نماز ادا کر لیا کروں گا) پھر ان صاحب نے نبی اکرمﷺ کے لئے کھانا تیار کیا‘ اور آپ کو اپنے گھر میں بلوایا۔ انہوں نے اپنی چٹائی کا کنارہ آپ کے لئے بچھایا۔ نبی اکرمﷺ نے اس پر دو رکعات نماز ادا کی۔ راوی کہتے ہیں: فلاں بن جارود نے حضرت انس ؓ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرمﷺ چاشت کی نماز ادا کرتے تھے‘ تو حضرت انس ؓ نے فرمایا: میں نے اس دن کے علاوہ نبی اکرمﷺ کو یہ نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2070

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2071

اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ اِدْرِیسَ الْاَنْصَارِیُّ، قَالَ: اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ الْاَرْقَمِ، کَانَ یَؤُمُّ اَصْحَابَہُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاۃُ یَوْمًا، فَذَھَبَ لَحَاجَتِہٖ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: اِذَا وَجَدَ اَحَدٌ الْغَائِطَ، فَلْیَبْدَاْ بِہٖ قَبْلَ الصَّلَاۃِ ۔ (6:1)

حضرت عبداللہ بن ارقم ؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ اپنے ساتھیوں کی امامت کیا کرتے تھے۔ ایک دن نماز کا وقت ہوا وہ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے پھر وہ واپس تشریف لائے اور انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ’’ جب کسی شخص کو پاخانہ کی ضرورت محسوس ہو‘ تو نماز سے پہلے اسے وہ ( حاجت پوری ) کر لینا چاہئے۔‘‘

هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَیْنُ اِدْرِیسَ الْاَنْصَارِیُّ،

Hadith 2071

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr