Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1381

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ (2) عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْجَزَرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كُنْتُ أَغْسِلُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ، وَإِنَّ بُقْعَ الْمَاءِ لَفِي ثَوْبَهِ» (3) . [4: 50]

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت کو دھو دیتی تھی۔ پھر آپ نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے حالانکہ پانی کا نشان آپ کے کپڑے پر موجود ہوتا تھا۔

عَائِشَةَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْجَزَرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1381

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1382

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: «كُنْتُ أَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ، وَإِنَّهُ لِيُرَى أَثَرُ الْبُقَعِ فِي ثَوْبِهِ» (1) . [4: 50] قَالَ الْحُلْوَانِيُّ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ (1) بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ.

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت (یعنی منی) کو دھو دیتی تھی، آپ نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے، تو پانی کا نشان آپ کے کپڑے پر موجود ہوتا تھا۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو اس وقت دھوتی تھی جب وہ وتر ہوتی تھیں کیونکہ اس صورت میں آدمی کو زیادہ پاکیزگی محسوس ہوتی ہے اور جب وہ خشک ہوتی تھی، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسے کھرچ دیتی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے۔ ہم بھی اس کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں اور ہم اس قول کو اختیار کرتے ہیں کہ جب منی تر ہوگی، ذہن کے اطمینان کیلئے اس کو دھولیں گے اس وجہ سے نہیں کہ وہ ناپاک ہے اور جب منی خش ہوتو سنت کی پیروی کرتے ہوئے اس کھرچنے پر اکتفا کیا جائے۔

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 1382

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1383

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: حَدِّثْنَا مِنْ شَأْنِ الْعُسْرَةِ، قَالَ: خَرَجْنَا إِلَى تَبُوكَ فِي قَيْظٍ شَدِيدٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، أَصَابَنَا فِيهِ عَطَشٌ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ رِقَابَنَا سَتَنْقَطِعُ، حَتَّى إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَذْهَبُ يَلْتَمِسُ الْمَاءَ، فَلَا يَرْجِعُ حَتَّى نَظُنَّ أَنَّ رَقَبَتَهُ سَتَنْقَطِعُ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْحَرُ بَعِيرَهُ فَيَعْصِرُ فَرْثَهُ فَيَشْرَبُهُ وَيَجْعَلُ مَا بَقِيَ عَلَى كَبِدِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَوَّدَكَ اللَّهُ فِي الدُّعَاءِ خَيْرًا، فَادْعُ لَنَا، فَقَالَ: «أَتُحِبُّ ذَلِكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُرْجِعْهُمَا حَتَّى أَظَلَّتْ سَحَابَةٌ، فَسَكَبَتْ، فَمَلَأُوا مَا مَعَهُمْ، ثُمَّ ذَهَبْنَا نَنْظُرُ، فَلَمْ نَجِدْهَا جَاوَزَتِ الْعَسْكَرَ (3) . [2: 35] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «فِي وَضْعِ الْقَوْمِ عَلَى أَكْبَادِهِمْ مَا عَصَرُوا مِنْ فَرْثِ الْإِبِلِ وَتَرْكِ أَمْرِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ بِغَسْلِ مَا أَصَابَ ذَلِكَ مِنْ أَبْدَانِهِمْ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ أَرْوَاثَ مَا يُؤْكَلُ لُحُومُهَا طَاهِرَةٌ» (1) .

۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہا گیا آپ ہمیں غزوہ تبوک کے بارے میں کچھ بتائیے، تو انہوں نے بتایا کہ ہم شدید گرمی کے موسم میں تبوک کی طرف روانہ ہوئے ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ ہمیں پیاس لاحق ہوگئی یہاں تک کہ ہمیں محسوس ہوا جیسے ہماری گردنیں کٹ جائیں گی (یعنی ہم پیاس کی شدت سے مرجائیں گے) یہاں تک کہ یہ عالم ہوگیا کہ ایک شخص پانی کی تلاش میں جاتا اور وہ واپس نہ آتا تو ہم یہ گمان کرتے کہ شاید وہ مرگیا ہے ایک شخص اپنے اونٹ کو قربان کرتا وہ اس کے گوبر کو نچوڑ کر اسے پیتا تھا اور باقی بچ جانے والے حصے کو اپنے جگر پر رکھ لیتا تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ نےآپ کی دعا میں بھلائی رکھی ہے، تو آپ ہمارےلئے دعا کیجیئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم یہ چاہتے ہو انہوں نے عرض کی: جی ہاں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کردیئے۔ ابھی آپ کے ہاتھ واپس نہیں آئے تھے کہ بادل نے سایہ کردیا، اور بارش شروع ہوگئی۔ لوگوں نے اپنے پاس موجود سب چیزیں بھر لیں پھر اس کے بعد ہم نے اس بات کا جائزہ لیا۔ لشکر سے آگے کہیں بارش نہیں ہوئی (یعنی صرف لشکر کے اوپر بارش ہوئی تھی) (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) لوگوں کا اونٹ کے گوبر کا نچوڑے ہوئے پانی کو اپنے جگر پر رکھ لینا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں کو اپنے جسم پر لگی ہوئی اس چیز کو دھونے کا حکم دینا۔ اس بات کی دلیل ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا گوبر پاک ہوتا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 1383

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1384

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِذَا لَمْ تَجِدُوْا اِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ ، وَمَعَاطِنَ الْاِبِلِ فَصَلُّوا فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلَا تُصَلُّوا فِیْ مَعَاطِنِ الْاِبِلِ۔(39:4)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جب تمہیں (نماز ادا کرنے کے لئے) صرف بکریوں کا باڑا اور اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ملے، تو تم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کرلو لیکن اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ پر نماز ادا نہ کرو"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 1384

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1385

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ» (1) . [5: 8] أَبُو التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ الضُّبَعِيُّ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔ امام ابو حاتم فرماتے ہیں: ابو تیاح یزید بن حمید ضبعی ہے۔

«كَانَ النَّبِيُّ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ» أَبُو التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ الضُّبَعِيُّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 1385

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1386

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحِیمٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَبِیْ اُنَیْسَۃَ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ یَّحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ الْاَنْصَارِیِّ ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ : قَدِمَ اَعْرَابٌ مِنْ عُرَیْنَۃَ اِلٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوَا الْمَدِیْنَۃَ ، فَاَمَرَ ھُمْ اَنْ یَّشْرَبُوْا مِنْ اَلْبَانِھَا وَاَبْوَ الِھَا ، فَشَرِبُوْا حَتّٰی صَحُّوا فَقَتَلُوْارُ عَاتَھَا وَاسْتَاقُوا الْاِبِلَ ، فَبَعَثَ نَبِیُّ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ طَلَبِھِمْ ، فَاُتِیَ بِھِمْ ، فَقَطَعَ اَیْدِیھِمْ وَاَرْجُلَھُمْ وَسَمَرَ اَیْیُنَھُمْ قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ لِاَنَسٍ: وَھُوَ یُحَدِّثُہُ بِکُفْرٍ اَوْ بِذَنْبٍ ؟ قَالَ بِکُفْرٍ ۔(35:2)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مدینہ منورہ کی آب وہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےانہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پئیں ان لوگوں نے وہ پیا تو وہ صحت مند ہوگئے۔ انہوں نے اونٹوں کے چروا ہے کو قتل کردیا، اور اونٹوں کو ہانک کرلے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاس میں لوگ روانہ کئے۔ انہیں پکڑ کر لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیئے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Hadith 1386

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1387

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ ابْنُ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ [ص:230] الْمُنْتَصِرِ، بِوَاسِطَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ الْعُرَنِيِّينَ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِ الْإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا». [4: 40]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پئیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ السُّكَّرِيُّ، ← الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ ابْنُ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ [ص:230] الْمُنْتَصِرِ، بِوَاسِطَ،

Hadith 1387

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1388

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ، بِالْأُبُلَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ وَفْدَ عُرَيْنَةَ، قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاجْتَوَوَا الْمَدِينَةَ، فَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي لِقَاحِهِ (2) ، فَقَالَ: «اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا، وَأَبْوَالِهَا» ، فَشَرِبُوا، حَتَّى صَحُّوا، وَسَمِنُوا، فَقَتَلُوا رَاعِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ (3) ، وَارْتَدُّوا، «فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ، فَجِيءَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، وَتَرَكَهُمْ فِي الرَّمْضَاءِ» (1) . [4: 40]

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: عرینہ قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا مدینہ منورہ کی آب وہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے اونٹوں کی طرف بھیج دیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم ان کا دودھ اور ان کا پیشاب پیو ان لوگوں نے وہ پیا تو وہ صحت مند ہوگئے اور موٹے تازے ہوگئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا، اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ وہ لوگ مرتد ہوگئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے لوگ روانہ کئے۔ انہیں پکڑ کر لایا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دئیے۔ ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروادیں اور انہیں تپتے ہوئے پتھروں پر پھینکوا دیا۔

قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ

Hadith 1388

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1389

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْتَصِرُهَا، وَنَشْرَبُ مِنْهَا، قَالَ: «لَا تَشْرَبْ» قُلْتُ: أَفَنَشْفِي بِهَا الْمَرْضَى؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا ذَلِكَ دَاءٌ، وَلَيْسَ بِشِفَاءٍ» (1) . [4: 40]

۔ حضرت طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے علاقے میں انگور ہوتے ہیں۔ ہم انہیں نچوڑ کر اس پی لیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے نہ پیو میں نے عرض کی: کیا ہم اس کے ذریعے اپنے بیماروں کو دوا دے سکتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ بیماری ہے شفا نہیں ہے۔

قُلْتُ ← طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ، ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1389

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1390

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ طَارِقٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ، وَقَالَ: إِنَّا نَصْنَعُهَا، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا دَوَاءٌ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا لَيْسَتْ بِدَوَاءٍ، وَلَكِنَّهَا دَاءٌ» (2) . [2: 35]

۔ حضرت وائل بن حجر بیان کرتے ہیں۔ حضرت سوید بن طارق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے عرض کی: ہم اسے تیار کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کردیا۔انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ دوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ دوا نہیں بلکہ یہ بیماری ہے۔

ذَلِكَ، فَقَالَ: ← نَصْنَعُهَا، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ ← الْخَمْرِ، وَقَالَ: ← أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ طَارِقٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Hadith 1390

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1391

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ اشْتَكَتِ ابْنَةٌ لِي، فَنَبَذْتُ لَهَا فِي كُوزٍ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَغْلِي، فَقَالَ «مَا هَذَا؟» فَقَالَتْ (1) : إِنَّ ابْنَتِي اشْتَكَتْ فَنَبَذْنَا لَهَا هَذَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِي حَرَامٍ» (2) . [2: 35]

سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ میری ایک بیٹی بیمار ہوگئی میں نے اس کے لئے ایک کوزے میں نبیذ تیار کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو اس میں جوش آچکا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کیا ہے؟ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: میری ایک بیٹی ہے ہم نے اس کے لئے نبیذ تیار کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حرام میں تمہارے لئے شفا نہیں رکھی ہے۔

حسان بن مخارق ← الشَّيْبَانِيِّ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1391

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1392

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي السَّمْنِ، فَقَالَ: «إِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ، وَإِنْ كَانَ ذَائِبًا فَلَا تَقْرَبُوهُ» (1) . [3: 65]

سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے چوہے کے بارے میں دریافت کیا گیا جو گھی میں مر جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ گھی جما ہوا تھا، تو اس چوہے، اور اس کے آس پاس والے گھی کو پھینک کر (باقی رہ جانے والے) گھی کو کھالو اور اگر وہ گھی پگھلا ہوا تھا، تو پھر تم اسے استعمال نہ کرو۔

مَيْمُونَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1392

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr