Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْحَجِّ وَالِاعْتِمَارِ عَنِ الْغَيْرِ · حديث 3995

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَهَلْ أَقْضِي عَنْهُ، أَوْ أَحُجُّ عَنْهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! اللہ تعالیٰ نے جو حج فرض کیا ہے وہ میرے بوڑھے عمر رسیدہ والد پر بھی لازم ہو گیا ہے، جو سواری پر بیٹھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو کیا میں ان کی طرف سے ادائیگی کر دوں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں۔ نبی اکرم ﷺ نے اس خاتو ن سے فرمایا: جی ہاں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 3995

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْحَجِّ وَالِاعْتِمَارِ عَنِ الْغَيْرِ · حديث 3996

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي [ص:309] بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ: «نَعَمْ» وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون مسئلہ دریا فت کرنے کیلئے نبی اکرم ﷺ کی خد مت میں حاضر ہوئی۔ حضرت فضل رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور اس نے حضرت رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنا شروع کرد یا، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری طرف کر دیا اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو حج فرض کیا ہے وہ میرے بوڑھے عمر رسیدہ والد پر بھی فرض ہو گیا ہے، جو سواری پر بیٹھنے کی استطاعت نہیں رکھتے کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں ( راوی کہتے ہیں) یہ حجتہ الوداع کے موقع کی بات ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي {ص:424} بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 3996

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْحَجِّ وَالِاعْتِمَارِ عَنِ الْغَيْرِ · حديث 3997

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں، جو حج ( کے لیے سفر ) کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3997

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْإِحْصَارُ · حديث 3998

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ فِيهِمْ قِتَالٌ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ، فَقَالَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: 21] إِذًا أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عَمْرَةً، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا شَانٌ وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي، وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ، فَانْطَلَقَ يُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا، حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ، وَلَمْ يَنْحَرْ، وَلَمْ يَحْلِقْ، وَلَمْ يَقْصُرْ، وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ [ص:311] أَحْرَمَ مِنْهُ حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ نَحَرَ، وَحَلَقَ، ثُمَّ رَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِ الْأَوَّلِ، وَقَالَ: كَذَلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

نافع بیان کرتے ہیں: جس سال حجاج نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا تھا اس سال حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حج کرنے کا ارادہ کیا، تو ان سے کہا گیا لوگوں کے درمیان جنگ ہونے لگی ہے ہمیں اس بات کا اندیشہ ہے، وہ آپ کو (مکہ ) تک نہیں جانے دیں گے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) " تمہارے لیے اللہ کے رسول کے طریقے میں بہترین نمونہ ہے "۔ (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا) اس صورت میں، میں اسی طرح کروں گا ، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے کیا تھا میں تم لوگوں کو گواہ بنا کے یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ (اپنے اوپر ) لازم کر لیا ہے پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ "بیدا ء" کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے فرمایا: حج اور عمرے کا طریقہ ایک ہی جیسا ہے ، تو میں تم لوگوں کو گواہ بنا کے یہ بات کہتا ہوں میں نے اپنے عمرے کے ہمراہ حج کو بھی لازم کر لیا ہے اور میں قر بانی کا جانور ساتھ لے کر جاؤں گا، جو میں "قدیر " کے مقام سے خرید چکا ہوں اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان دونوں (یعنی حج اور عمرہ ) کا تلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ وہ مکہ آئے بیت اللہ اور صفا ء و مروہ کا طواف کیا انہوں نے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کیا نہ انہوں نے قر بانی کی نہ سر منڈ وایا نہ بال چھوٹے کروائے اور نہ ہی ایسی کسی چیز سے حلال ہوئے جو احرام کی پابندیوں میں شامل ہو، یہاں تک کہ جب قربانی کا دن آ گیا تو انہوں نے قربانی کی سر منڈوایا انہوں نے یہ سمجھا کہ جب انہوں نے پہلی مرتبہ طواف کیا تھا تو اس کے ذریعے انہوں نے حج اور عمرے دونوں کے طواف کو ادا کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بات بیان کی نبی اکرم ﷺ نے بھی اسی طرح کیا تھا۔

نَافِعٍ ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 3998

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْهَدْيُ · حديث 3999

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُمْ كَانُوا حَاضِرِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، «يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ، فَمَنْ شَاءَ مِنَّا أَخَّرَ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ مدینہ منورہ میں موجود تھے نبی اکرم ﷺ نے قربانی کے جانور کو بھجوا دیا ،تو ہم میں سے جس شخص نے چاہا اس نے موخر کر دیا اور جس نے چاہا اس نے ترک کر دیا۔

أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 3999

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْهَدْيُ · حديث 4000

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَشْعَرَ الْهَدْيَ فِي جَانِبِ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ أَمَاطَ الدَّمَ، وَقَلَّدَهُ نَعْلَيْهِ، [ص:313] ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءُ، أَحْرَمَ وَأَهَلَّ بِالْحَجِّ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب ذوالحلیفہ تشریف لائے، تو آپ نے قر بانی کے جانور کی کوہا ن کے بائیں طر نشان لگا یا پھر آپ ﷺ نے خون کو صاف کیا اور اس جانور کے گلے میں جوتو ں کا ہار پہنا دیا پھر آپ ﷺ اپنی سواری پر سوار ہوئے جب وہ سواری "بیداء" کے مقام پر کھڑی ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے احرام شروع کیا اور حج کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔

أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ بِالْبَصْرَةِ

Hadith 4000

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْهَدْيُ · حديث 4001

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، [ص:314] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَشْعَرَ الْهَدْيَ فِي جَانِبِ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ أَمَاطَ الدَّمَ، وَقَلَّدَهُ نَعْلَيْهِ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءُ أَحْرَمَ وَأَهَلَّ بِالْحَجِّ»

حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب ذو الحلیفہ پہنچے تو آپ ﷺ نے قر بانی کے جانور کی کوہان کی دائیں طرف نشان لگایا آپ ﷺ نے اس کے خون کو صاف کیا اسے جوتوں کا ہار پہنا یا پھر آپ ﷺ اپنی سواری پر سوار ہوئے جب بیداء کے مقام پر آپ ﷺ کی سواری کھڑی ہوئی تو آپ ﷺ نے احرام باندھا اور حج کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔

أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، [ص:314] ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Hadith 4001

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْهَدْيُ · حديث 4002

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَةٍ فَأَشْعَرَهَا مِنْ صَفْحَةِ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ، ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا، وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ، ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ، فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءُ، أَهَلَّ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ذوالحلیفہ میں ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ ﷺ نے قر بانی کے اونٹ کو منگوایا آپ ﷺ نے اس کی کوہا ن کے دائیں طرف نشان لگایا پھر آپ ﷺ نے اس کا خون بہایا اور اسے جوتوں کا ہار پہنایا پھر آپ ﷺ کی سواری لائی گئی آپ ﷺ اس پر تشریف فر ما ہوئے جب میدان میں آپ ﷺ کی سواری کھڑی ہوئی تو آپ ﷺنے تلبیہ پڑھنا شروع کر دیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبَا حَسَّانَ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 4002

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْهَدْيُ · حديث 4003

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَشْعَرَ»

قاسم بن محمد، سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے (قر بانی کے جانور پر ) نشان لگایا تھا۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Hadith 4003

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْهَدْيُ · حديث 4004

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَحَرْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً، الْبَدَنَةُ عَنْ [ص:316] سَبْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَشْتَرِكُ النَّفَرُ فِي الْهَدْيِ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے حدیبیہ کے دن ستر اونٹ قربان کیے تھے ایک اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے تھا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا: کچھ لوگ ایک قر بانی میں حصہ دار بن جائیں۔

[ص:316] سَبْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ «يَشْتَرِكُ النَّفَرُ فِي الْهَدْيِ» ← نَحَرْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً، الْبَدَنَةُ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 4004

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْهَدْيُ · حديث 4005

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:317] حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا حَتَّى قَدِمْنَا سَرِفَ، فَحِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: «مَا لَكِ» فَقُلْتُ: لَيْتَنِي لَمْ أَحُجَّ الْعَامَ، قَالَ: «مَا لَكِ» قُلْتُ: حِضْتُ، قَالَ: «هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاصْنَعِي كَمَا يَصْنَعُ الْحَاجُ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » اجْعَلُوهَا عَمْرَةً «فَفَعَلُوا، فَمَنْ لَمْ يَسُقْ هَدْيًا حَلَّ، وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مِنْ أَهْلِ الْيَسَارِ، فَلَمْ يَحِلُّوا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ، ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ، وَطَهُرْتُ، فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ، وَسَعَيْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، فَلَمَّا نَفَرْنَا أَرْسَلَنِي مَعَ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ مِنَ الْمُحَصَّبِ، فَقَالَ: » أَرْدِفْ أُخْتَكَ، فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ، فَأَرْدَفَنِي، فَأَهْلَلْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَصَدَرَنَا «

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ حج کرنے کیلئے روا نہ ہوئے جب ہم "سرف" کے مقام پر پہنچے تو مجھے حیض آ گیا نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے میں عر ض کی: افسوس ہے، میں اس سال حج نہیں کر سکوں گی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے میں نے عر ض کی: مجھے حیض آ گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ وہ چیز ہے، جو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کا نصیب کر دی ہے تم وہی کچھ کرو جو حاجی کرتے ہیں البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا (سیّدہ عائش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:) جب ہم مکہ آئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اسے عمرہ میں تبدیل کر لو تو لوگوں نے ایسا ہی کیا جو شخص قر بانی کا جانور ساتھ نہیں لایا تھا اس نے احرام کھول دیا، لیکن نبی اکرم ﷺ ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور آپ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ صاحب حیثیت لوگ اپنے ساتھ قر با نی کا جانور لائے تھے انہوں نے احرام نہیں کھولا جب قر بانی کا دن آیا، تو نبی اکرم ﷺ نے نے اپنی ازواج کی طرف سے ایک گائے قربان کی جب میں پاک ہو گئی تو میں نے بیت اللہ کا طواف بھی کیا اور (صفا و مروہ کی ) سعی بھی کر لی پھر میں منیٰ میں واپس نبی اکرم ﷺ کی خد مت میں حاضر ہوئی جب ہم لوگ (مدینہ منورہ کی طرف) روانہ ہونے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے میرے بھائی حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ "محصب" سے بھجوا یا آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنی بہن کو ساتھ بٹھاؤ اورانہیں "تنعیم" سے عمرہ کر وا دو انہوں نےمجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا میں نے" تنعیم " سے عمرہ کا احرام باندھا میں نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر میں واپس نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ہم لوگ (مدینہ منورہ کی طرف) روانہ ہو گئے۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 4005

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْهَدْيُ · حديث 4006

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ [ص:318] عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ: «نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حدیبیہ کے موقع پر ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ سات آدمیوں کی طرف سے ایک گائے اور سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ قر بان کیا تھا

سَبْعَةٍ» ← سَبْعَةٍ وَالْبَدَنَةَ ← «نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ بِالْحُدَيْبِيَةِ الْبَقَرَةَ ← جَابِرٍ أَنَّهُ ← أَبِي الزُّبَيْرِ [ص:318] ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 4006

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr