Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْكَفَّارَةِ · حديث 3983

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: أَتَى عَلِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ بُرْمَةٍ لِي، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، [ص:294] فَقَالَ: «أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟ »، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاحْلِقْ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ شَاةً» قَالَ أَيُّوبُ: فَلَا أَدْرِي بِأَيِّ ذَلِكَ بَدَأَ

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے یہ صلح حدیبیہ کے موقع کی بات ہے میں اس وقت اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور میری جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے عرض کی : جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم سر منڈ وا دو اور تین دن روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو یا ایک بکری قر بان کر دو۔ ایوب نامی راوی بیان کرتے ہیں: مجھے یہ معلوم نہیں ہے، ان میں سے کس کا ذکر پہلے ہو ا تھا۔

أَيُّوبُ فَلَا أَدْرِي بِأَيِّ ذَلِکَ بَدَأَ ← «فَاحْلِقْ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ شَاةً» ← قُلْتُ: نَعَمْ، ← «أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟ ← أُوقِدُ تَحْتَ بُرْمَةٍ لِي، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، [ص:294] ← أَتَى عَلِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدًا، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of atonement · Hadith 3983

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْكَفَّارَةِ · حديث 3984

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمِنُ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَنَا كَثِيرُ الشَّعْرِ، فَقَالَ: «كَأَنَّ هَوَامُّ رَأْسِكَ تُؤْذِيكَ؟ » فَقُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: «فَاحْلِقْهُ، وَاذْبَحْ شَاةً نَسِيكَةً، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ تَصَدَّقْ بِثَلَاثَةِ آصُعِ تَمْرٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ»

اس مقدار کی صفت کا تذکرہ، جس کے مطابق اس کفارے میں ہر مسکین کو کھانا کھلا یا جائے گا، جس (کفارے ) کا ہم نے ذکر کیا ہے

«كَأَنَّ هَوَامُّ رَأْسِكَ تُؤْذِيكَ؟ فَقُلْتُ: أَجَلْ، ← كَثِيرُ الشَّعْرِ، ← أَتَى عَلِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of atonement · Hadith 3984

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْكَفَّارَةِ · حديث 3985

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ [ص:296] بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: 196]، فَقَالَ كَعْبٌ: فِيَّ نَزَلَتْ، كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي، فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كِدْتُ أَرَى الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى، أَتَجِدُ شَاةً»، قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {، «فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: 196] فَالصَّوْمُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، وَالصَّدَقَةُ عَلَى كُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ»

عبداللہ بن معقل بیان کرتے ہیں: میں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس مسجد میں بیٹھا ہوا تھا میں نے ان سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا۔ " تو اس کا فدیہ روزے رکھنا ہو گا یا صدقہ کرنا ہو گا یا قر بانی کرنا ہو گا"۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی میرے سر میں تکلیف تھی (یعنی جوئیں زیادہ ہو گئی تھیں) مجھے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا میرے چہرے پر جوئیں آ رہی تھیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ تمہاری پریشانی اتنی بڑھ چکی ہو گی جو مجھے اب نظر آ رہی ہے کیا تمہارے پاس بکری ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں۔ راوی کہتے ہیں، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ " تو اس کا فدیہ روزے رکھنا یا صدقہ کرنا یا قر بانی کرنا ہو گا"۔ ( راوی بیان کرتے ہیں:) تو روزے تین دن کے ہونگے اور صد قے میں ہر مسکین کو اناج کا نصف صاع دیا جائے گا اور قربانی بکری کی ہو گی۔

هَذِهِ الْآيَةِ: ← قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ، فَسَأَلْتُهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of atonement · Hadith 3985

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْكَفَّارَةِ · حديث 3986

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ زَمِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ: «قَدْ آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟ »، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْلِقْ ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ»

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ ان کے پاس سے گزرے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :تم سر منڈ وا دو اور بکری کی قربانی کر دو یا تین دن کے روزے رکھ لو یا کھجوروں کے تین صاع چھ مسکینوں کو کھلا دو۔

کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، بِوَاسِطَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of atonement · Hadith 3986

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْكَفَّارَةِ · حديث 3987

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَوْضِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصْبَهَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ [ص:298] جَلَّ وَعَلَا، {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: 196] قَالَ: حُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ: «مَا كُنْتُ أَرَى الْجَهْدَ قَدْ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى، أَتَجِدُ شَاةً» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ» قَالَ: فَنَزَلَتْ فِي خَاصَّةٍ، وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةٌ «

عبداللہ بن معقل بیان کرتے ہیں: میں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا میں نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا۔ " تو اس کا فد یہ روزے رکھنا ہو گا یا صدقہ کرنا ہو گا یا قر بانی کرنا ہو گا"۔ تو حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا: مجھے نبی اکرم ﷺ کی خد مت میں لا یا گیا میری جوئیں میرے چہرے پر آ رہی تھیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ تمہاری تکلیف اتنی بڑھ گئی ہو گی جو مجھے اب نظر آ رہی ہے کیا تمہارے پاس بکری ہے؟ میں نے عرض کی : جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو جس میں سے ہر مسکین کو نصف صاع دیا جائے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو یہ آیت بطور خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی ، لیکن اس کا حکم تم سب کیلئے عام ہے۔

قَوْلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا، ← قعدت إلى كعب بن عجرة، فسألته ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← الْحَوْضِيُّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of atonement · Hadith 3987

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْحَجِّ وَالِاعْتِمَارِ عَنِ الْغَيْرِ · حديث 3988

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شُبْرُمَةُ» قَالَ: أَخٌ لِي أَوْ قَرَابَةٌ، قَالَ: «هَلْ حَجَجْتَ قَطُّ» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكِ ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّ‍هُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكَ» أَرَادَ بِهِ الْإِعْلَامَ بِنَفْيِ جَوَازِ الْحَجِّ عَنِ الْغَيْرِ إِذَا لَمْ يَحُجَّ عَنْ نَفْسِهِ، وَقَوْلُهُ: «ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ» أَمْرُ إِبَاحَةٍ لَا حَتْمٍ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں شبر مہ کی طرف سے حج کر نے کیلئے حاضر ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: شبرمہ کون ہے؟ اس نے جواب دیا : میرا بھائی ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میرا رشتے دار ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تم نے خود حج کر لیا ہے؟ اس نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر اس (حج) کو تم اپنی طرف سے کر و اور بعد میں شبر مہ کی طرف سے حج کر لینا۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " اسے تم اپنی طرف سے کرو" اس کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی مراد اس بات کی اطلاع دینا تھی کہ جب کسی شخص نے خود حج نہ کیا ہو ، تو اس کے لیے کسی دوسرے کی طرف سے حج کرنا جائز نہیں ہے اور نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " پھر تم شبرمہ کی طرف سے حج کر لینا " یہ حکم (اباحت ) کیلئے ہے لازمی قرار دینے کیلئے نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَزْرَۃَ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدَةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of Hajj and I'timhr on behalf of others · Hadith 3988

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْحَجِّ وَالِاعْتِمَارِ عَنِ الْغَيْرِ · حديث 3989

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجَّ عَنْهُ قَالَ: «نَعَمْ»، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ ،نبی اکرم ﷺ کے پیچھے (سواری پر) بیٹھے تھے ایک خاتون جو خثعم قبیلے سے تعلق رکھتی تھی وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں مسئلہ دریافت کر نے کیلئے حاضر ہوئی۔ حضرت فضل رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اس نے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنا شروع کر دیا، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کے چہرے کو دوسری طرف موڑ دیا اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو حج فرض کیا ہے وہ میرے بوڑھے عمر رسیدہ والد پر بھی لازم ہو گیا ہے، جو سواری پر بیٹھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: جی ہا ں (راوی کہتے ہیں) یہ حجتہ الوداع کے موقع کی بات ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of Hajj and I'timhr on behalf of others · Hadith 3989

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْحَجِّ وَالِاعْتِمَارِ عَنِ الْغَيْرِ · حديث 3990

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنْ رَجُلًا سَأَلَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنِ امْرَأَةٍ أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ عَنْ أُمِّهَا قَالَ سُلَيْمَانُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَنْ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:303] فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي دَخَلٍ فِي الْإِسْلَامِ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ، فَإِنْ أَنَا شَدَدْتُهُ عَلَى رَاحِلَتِي خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهُ، وَإِنْ لَمْ أَشُدَّهُ لَمْ يَثْبُتْ عَلَيْهَا، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَأَيْتَ لَوَ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْهُ» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاحْجُجْ عَنْ أَبِيكَ»

حضرت ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! میرے والد بوڑھے عمر رسیدہ آدمی ہیں وہ حج یا عمرہ کرنے یا سواری پر بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج بھی کر لو اور عمرہ بھی کر لو۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) حضرت ابو رزین رضی اللہ عنہ کا نام لقیط بن عامر ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَنْ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ [ص:303] فَقَالَ: ← سُلَیْمَانَ ← أُمِّهَا ← امْرَأَةٍ أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنْ رَجُلًا سَأَلَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of Hajj and I'timhr on behalf of others · Hadith 3990

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْحَجِّ وَالِاعْتِمَارِ عَنِ الْغَيْرِ · حديث 3991

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ، وَالْعُمْرَةَ، وَالظَّعْنَ، فَقَالَ: «حَجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ»

حضرت ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! میرے والد بوڑھے عمر رسیدہ آدمی ہیں وہ حج یا عمرہ کرنے یا سواری پر بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج بھی کر لو اور عمرہ بھی کر لو۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) حضرت ابو رزین رضی اللہ عنہ کا نام لقیط بن عامر ہے۔

أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ ← عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، ← النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of Hajj and I'timhr on behalf of others · Hadith 3991

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْحَجِّ وَالِاعْتِمَارِ عَنِ الْغَيْرِ · حديث 3992

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ* قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنْ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ، أَفَأَحُجَّ عَنْهُ قَالَ: «أَرَأَيْتَ لَوَ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «حُجَّ عَنْ أَبِيكَ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے انہوں نے حج نہیں کیا تھا تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی اکرم ﷺنے دریافت کیا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر تمہارے والد کے ذمے قرض ہو تا تو کیا تم اسے ادا کر دیتے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔

أَبِيكَ، ← «حُجَّ ← نَعَمْ ← «أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكِ دَيْنٌ، أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟» ← إِنَّ أَبِي مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ، أَفَأَحُجَّ عَنْهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ أَنْ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← الْاَعْمَشِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← حَكِيمُ1 بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of Hajj and I'timhr on behalf of others · Hadith 3992

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْحَجِّ وَالِاعْتِمَارِ عَنِ الْغَيْرِ · حديث 3993

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ*، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَأَيْتَ لَوَ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ، فَاللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اس نے عرض کی: میری بہن کا انتقا ل ہو گیا ہے اس نے حج نہیں کیا تھا کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارا کیا خیا ل ہے، اگر اس عورت کے ذمے قرض ہو تا تو کیا تم اسےادا کر دیتے؟ اللہ تعالیٰ ادا کیے جانے کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔

إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ*، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of Hajj and I'timhr on behalf of others · Hadith 3993

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْحَجِّ وَالِاعْتِمَارِ عَنِ الْغَيْرِ · حديث 3994

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ، لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ: «نَعَمْ، حُجَّ مَكَانَ أَبِيكَ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خد مت میں حاضر ہو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! میرے والد بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں وہ حج کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں! تم اپنے باپ کی جگہ حج کر لو۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of Hajj and I'timhr on behalf of others · Hadith 3994

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr