صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْكَفَّارَةِ · حديث 3983
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: أَتَى عَلِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ بُرْمَةٍ لِي، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، [ص:294] فَقَالَ: «أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟ »، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاحْلِقْ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ شَاةً» قَالَ أَيُّوبُ: فَلَا أَدْرِي بِأَيِّ ذَلِكَ بَدَأَ
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے یہ صلح حدیبیہ کے موقع کی بات ہے میں اس وقت اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور میری جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے عرض کی : جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم سر منڈ وا دو اور تین دن روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو یا ایک بکری قر بان کر دو۔ ایوب نامی راوی بیان کرتے ہیں: مجھے یہ معلوم نہیں ہے، ان میں سے کس کا ذکر پہلے ہو ا تھا۔
أَيُّوبُ فَلَا أَدْرِي بِأَيِّ ذَلِکَ بَدَأَ ← «فَاحْلِقْ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ شَاةً» ← قُلْتُ: نَعَمْ، ← «أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟ ← أُوقِدُ تَحْتَ بُرْمَةٍ لِي، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، [ص:294] ← أَتَى عَلِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدًا، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،
Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of atonement · Hadith 3983
