Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3971

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «صَيْدُ الْبِرِّ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ، أَوْ يُصَادْ لَكُمْ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد رفرماتے ہوئے سنا ہے: " خشکی کا شکار (احرام والے شخص کیلئے ) حلال ہے پھر تم نے اسے شکار نہ کیا ہو، یا اسے تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو"۔

«صَيْدُ الْبِرِّ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ، أَوْ يُصَادْ لَكُمْ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الْمُطَّلِبِ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3971

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3972

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَأُهْدِيَ لَهُ لَحْمُ صَيْدٍ، وَهُمْ مُحْرِمُونَ، وَهُوَ رَاقِدٌ، فَأَبَيْنَا أَنْ نَأْكُلَهُ، حَتَّى إِذَا اسْتَيْقَظَ قُلْنَا: صَيْدٌ أُهْدِيَ لَكَ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ لَمْ تَأْكُلُوا؟، قَالُوا: انْتَظَرْنَا حَتَّى نَنْظُرَ مَا تَقُولُ فِيهِ، قَالَ: «أَكَلْنَا مِثْلَ هَذَا مَعَ [ص:285] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُوا، فَأَكَلُوا، وَأَكَلَ»

عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ان کی خدمت میں شکار کا گوشت پیش کیا گیا وہ لوگ اس وقت احرام باندھے ہوئے تھے اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سو رہے تھے (راوی کہتے ہیں) ہم نے وہ گوشت کھانے سے انکار کر دیا، یہان تک کہ جب حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے ،تو ہم نے بتایا: آپ کو تحفہ دیا گیا تھا حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: پھر کیا وجہ ہے تم نے اسے کھایا کیوں نہیں۔ لوگو ں نے بتایا: ہم یہ انتظار کر رہے تھے تا کہ ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں، تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم نے اس طرح کی چیز نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کھائی تھی، تو تم لوگ بھی کھاؤ (راوی کہتے ہیں) تو لوگوں نے بھی اسے کھا لیا اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسے کھا لیا۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 3972

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3973

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فِي الْحَجِّ، وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَأُهْدِيَ لَنَا طَائِرٌ، وَطَلْحَةُ نَائِمٌ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ، وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ، فَلَمْ يَأْكُلْهُ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَوَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ، وَقَالَ: «أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَسْتُ أُنْكِرُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، وَسَمِعَهُ مِنَ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، فَمَرَّةً رَوَى عَنْ مُعَاذٍ وَأُخْرَى عَنْ أَبِيهِ

معاذ بن عبدالرحمٰن تیمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیلئے جا رہے تھے ہم احرام باندھے ہوئے تھے ہمیں ایک پرندہ تحفے کے طور پر دیا گیا حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت سو رہے تھے ہم میں سے کچھ لوگوں نے اس کا گوشت کھا لیا اور کچھ لوگوں نے پرہیز کیا انہوں نے اسے نہیں کھا یا جب حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے، تو ہم نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے ان لوگوں کا ساتھ دیا جنہوں نے اس کا گوشت کھا لیا تھا اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بتایا : ہم نے اس ( شکار ) کا گوشت نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ کھا یا تھا۔ ( امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) میں اس بات کا انکار نہیں کرتا کہ ابن منکدر نے یہ روایت عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی سے سنی ہو گی اور انہوں نےیہ روایت عبدالرحمٰن کے صاحب زادے کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سنی ہو گی، تو ایک مرتبہ انہوں نے اسے معاذ کے حوالے سے نقل کر دیا اور دوسری مرتبہ ان کے والد کے حوالے سے نقل کر دیا۔ اس باتے بیان کا تذکرہ، احرام والے شخص کو اس بات کی اجازت ہے، شکار کا گوشت اگر اسے تحفے کے طور پر دیا گیا ہو، تو وہ اسے کھا سکتا ہے، جبکہ وہ شکار اس کے حکم کے تحت یا اس کے اشارے کی مدد سے نہ کیا گیا ہو

أَبِيهِ ← معاذ بن عبد الرحمن التيمي ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3973

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3974

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي نَاسٍ مُحْرِمِينَ، وَأَبُو قَتَادَةَ حِلٌّ، فَأَبْصَرَ الْقَوْمُ حِمَارَ وَحْشٍ، فَلَمْ يُؤْذِنُوهُ حَتَّى أَبْصَرَهُ أَبُو قَتَادَةَ، فَقَعَدَ عَلَى ظَهْرِ فَرَسٍ، وَاخْتَلَسَ مِنْ بَعْضِهِمْ سَوْطًا، فَحَمَلَ عَلَى الْحِمَارِ فَصَرَعَهُ، فَأَتَاهُمْ بِهِ، فَأَكَلُوهُ، وَحَمَلُوا، فَلَقُوا رَسُولَ اللَّهِ، فَسَأَلُوهُ عَمَّا صَنَعَ أَبُو قَتَادَةَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ بِشَيْءٍ أَوْ أَمَرَهُ؟ »، قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَكُلُوهُ»

عبد اللہ بن ابو قتادہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے ساتھ موجود تھے وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے، جبکہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا لوگوں نے ایک حمار وحشی (یعنی زیبرہ ) دیکھا ان لوگوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں نہیں بتایا، یہاں تک کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی نظر اس پر پڑ گئی و ہ اپنے گھوڑے کی پشت پر بیٹھے انہوں نے ان حضرات میں سے کسی کی لاٹھی لی اور اس زیبرے پر حملہ کر ے اسے مار دیا پھر وہ اس کا (گوشت ) لے کر ان حضرت کے پاس آئے ان حضرات نے اسے کھالیا اس کا گوشت اپنے ساتھ بھی رکھ لیا جب ان کی ملاقات نبی اکرم ﷺ سے ہوئی تو ان حضرات نے نبی اکرم ﷺ سے حضرت ابو قتا دہ رضی اللہ عنہ کے عمل کے بارے میں دریافت کیا: تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تم میں سے کسی شخص نے اس (شکار ) کی طرف اشارہ کیا تھا یا اسے (شکار کرنے کا ) حکم دیا تھا؟ ان حضرات نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر تم لوگ اسے کھا لو۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ،

Hadith 3974

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3975

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيِّ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، وَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ، فَأَبَوْا، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ، فَأَبَوْا فَأَخَذَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ»

ابو قتا دہ بن ربعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ مکہ کے راستے میں کسی جگہ پر وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ (نبی اکرم ﷺ سے) پیچھے رہ گئے ان کے ساتھیوں نے احرام باندھا ہوا تھا، لیکن حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک حمار وحشی (یعنی زیبرہ ) دیکھا تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے انہوں نے اپنے ساتھیوں سے یہ فرمائش کی کہ وہ انہیں ان کی لاٹھی پکڑا دیں، تو ان کے ساتھیوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ان سے نیزہ مانگا، تو انہوں نے وہ بھی نہیں دیا۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے خود ہی اسے لیا، پھر اس زیبرے پر حملہ کر کے اسے مار دیا۔ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے بعض اصحاب نے اس کا گوشت کھا لیا بعض نے اس کا گوشت نہیں کھایا جب یہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ خوراک ہے، جو اللہ تعالیٰ نےتمہیں کھلائی ہے۔

أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ ← نَافِعٍ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ ← أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 3975

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3976

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةَ - شَيْخَانِ حَافِظَانِ - قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُقَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ عَلَى الصَّدَقَةَ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مُحْرِمُونَ، حَتَّى نَزَلُوا بِعُسْفَانَ ثَنِيَّةِ الْغَزَّالِ، فَإِذَا هُمْ بِحِمَارٍ وَحْشِيٍّ، فَجَاءَ أَبُو قَتَادَةَ، وَهُوَ حِلٌّ فَنَكَّسُوا رُءُوسَهُمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُحِدُّوا أَبْصَارَهُمْ فَيَفْطَنَ، فَرَآهُ فَرَكِبَ فَرَسَهُ، وَأَخَذَ الرُّمْحَ، فَسَقَطَ مِنْهُ السَّوْطُ، فَقَالَ: نَاوِلْنِيهِ، فَقُلْنَا: لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَعَقَرَهُ، قَالَ: ثُمَّ جَعَلُوا يَشْوُونَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالُوا: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا - وَكَانَ تَقَدَّمَهُمْ - فَأَتَوْهُ، فَسَأَلُوهُ، فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا - وَأَظُنُّهُ قَالَ: «مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ»، - شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ -

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابو قتا دہ انصاری رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کیلئے بھیجا نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب احرام باندھ کر روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ انہوں نے " عسفان" میں موجود "غزال" نامی گھاٹی میں پڑاؤ کیا وہاں ایک حمار وحشی (یعنی زیبرہ) موجود تھا۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے اس وقت احرام نہیں باندھا ہوا تھا دیگر صحابہ اکرام نے اس بات کو نا پسند کرتے ہوئے اپنے سر جھکا لیے کہ کہیں ان کی نگاہوں کا پیچھا کرتے ہوئے حضرت ابو قتا دہ رضی اللہ عنہ کو ( اس شکار کے بارے میں ) پتہ نہ چل جائے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بھی ( اس شکار کو ) دیکھ لیا وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے انہوں نے نیزہ پکڑا ان کی سوٹی نیچے گر گئی تو انہوں نے کہا: یہ مجھے پکڑا دیں، تو ہم نے کہا: ہم اس بارے میں کسی بھی حوالے سے آپ کی مدد نہیں کریں گے توحضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کر کے اسے مار گرایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر انہو ں نے اس کا کچھ گوشت بھون لیا انہوں نے یہ کہا: نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان موجود ہیں( راوی کہتے ہیں) نبی اکرم ﷺ اس وقت آگے تشریف لے جا چکے تھے وہ لوگ نبی اکر مﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ سے اس بارے میں دریافت کیا: تو نبی اکر م ﷺ نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا (راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس اس میں سے (کچھ گوشت ) ہے یہ شک عبید اللہ نامی راوی کو ہے۔

بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ أَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ عَلَى الصَّدَقَةَ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُقَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةَ شَيْخَانِ حَافِظَانِ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Hadith 3976

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3977

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ [ص:289] الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحْرَمَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ غَيْرِي، فَرَأَيْنَا حِمَارَ وَحْشٍ، فَأَسْرَجْتُ وَأَلْجَمْتُ، ثُمَّ رَكِبْتُ، وَأَخَذْتُ الرُّمْحَ، وَنَسِيتُ السَّوْطَ، فَسَأَلْتُهُمْ أَنْ يُنَاوِلُونِيهِ فَأَبَوْا، فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُ سَوْطِي، ثُمَّ ضَرَبْتُ الْحِمَارَ فَعَقَرْتُهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ الْقَوْمِ، وَتَرَكَ بَعْضٌ، فَلَمَّا أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَدْ أَصَابَ الَّذِينَ أَكَلُوا، هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ»، قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ هَذِهِ رِجْلٌ، فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوا میرے علاو ہ باقی سب لوگوں نے احرام باندھا ہوا تھا ہم نے ایک حمار وحشی (یعنی زیبرہ ) دیکھا تو میں نے ( گھوڑے پر )زین رکھی لگام ڈا لی اور میں سوار ہو گیا۔ میں نے نیزہ پکڑ لیا، لیکن لاٹھی اٹھانا بھول گیا میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا وہ مجھے لاٹھی پکڑا دیں، لیکن انہوں نے میری بات کو تسلیم نہیں کیا میں گھوڑے سے نیچے اترا میں نے اپنی لاٹھی پکڑی پھر میں نے اس زیبرے پر حملہ کر کے اسے مارگرایا بعض لوگوں نے اس کا گوشت کھا لیا اور بعض نے نہیں کھایا جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنہوں نے اس کا گوشت کھایا ہے انہوں نے ٹھیک کیا ہے کیا تمہارے پاس اس کے گوشت کا کچھ حصہ ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں یہ ایک ٹانگ ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے کھایا۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← أَبِي حَازِمٍ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3977

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْكَفَّارَةِ · حديث 3978

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لِي، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ مِنْ رَأْسِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟ »، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «انْسُكْ نَسِيكَةً، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوِ اطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ»

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے میں اس وقت اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور میرے سر سے جوئیں گر رہی تھیں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم قربانی کر لو یا تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو ( اور سر منڈ وا لو)۔

«أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، ← أُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لِي، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ مِنْ رَأْسِي، ← مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← أَيُّوبَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا

Hadith 3978

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْكَفَّارَةِ · حديث 3979

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ [ص:291] إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ، وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ لَهُ: «أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟ » فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلِقَ، قَالَ: وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحْلِقُونَ بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفِدْيَةِ، «وَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ أَذْبَحَ شَاةً»

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ ان کے پاس سے گزرے وہ اس وقت حدیبیہ میں موجود تھے نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں سر منڈوا دوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: لوگوں کے سامنے یہ بات واضح نہیں تھی کہ انہیں وہیں سر منڈ وانا پڑے گا وہ لوگ اس بات کے خواہش مند تھے کہ وہ مکہ میں داخل ہوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر فدیہ سے متعلق آیت نازل ہو گئی۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں تین دن کے روزے رکھوں ، یا ایک فرق( اناج کا مخصوص پیمانہ ) چھ مسکینوں میں تقسیم کروں، یا ایک بکری ذبح کروں۔

کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ [ص:268] إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 3979

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْكَفَّارَةِ · حديث 3980

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، [ص:292] عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لِي، أَوْ تَحْتَ بُرْمَةٍ لِي، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ: «أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ يَا كَعْبُ؟ »، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَانْسُكْ نَسِيكَةً، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ»

اس بات کے بیان کا تذکرہ ، مصطفیٰ کریم ﷺ نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو اس کفارے کا حکم دیا تھا جس کاہم نے ذکر کیا ہے اور یہ ان کے سر منڈ وانے کے بعد ادا کرنا تھا

«أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ يَا كَعْبُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ ← أُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لِي، أَوْ تَحْتَ بُرْمَةٍ لِي، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِي، ← مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ بِالْحُدَيْبِيَةِ، ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، [ص:17] ← مُجَاهِدٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 3980

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْكَفَّارَةِ · حديث 3981

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ فِي عَقِبِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «اذْبَحْ شَاةً»

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اسی کی مانند روایت نقل کرتے ہیں: تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں: "تم ایک بکر ی ذبح کر و"۔

«اذْبَحْ شَاةً» ← النَّبِيِّ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ فِي عَقِبِهِ،

Hadith 3981

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْكَفَّارَةِ · حديث 3982

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟ »، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَأَمَرَنِي بِصِيَامٍ، أَوْ صَدَقَةٍ، أَوْ نُسُكٍ أَيُّمَا تَيَسَّرَ»

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلایا آپ ﷺ نے دریافت کیا: اے کعب بن عجرہ ! کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی : جی ہاں، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے روزہ رکھنے یا صدقہ کرنے یا قر بانی کرنے کا حکم دیا کہ جو بھی ان میں سے آسانی سے ہو سکے ( وہ فدیہ میں ادا کروں)۔

«فَأَمَرَنِي بِصِيَامٍ، أَوْ صَدَقَةٍ، أَوْ نُسُكٍ أَيُّمَا تَيَسَّرَ» ← قُلْتُ: نَعَمْ، ← دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟ ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 3982

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr