Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3959

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنْ رَجُلًا كَانَ مُحْرِمًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، وَلَا تُمِسُّوهُ طَيِّبًا، [ص:273] فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ (حج کرنے والے ) ایک محرم شخص کی اونٹنی نے اسے گرا دیا اس کا انتقال ہو گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل دو اور اسے اس کے دو کپڑوں میں کفن دیدو اس کے سر کو ڈھانپنا نہیں او ر اسے خوشبو نہ لگانا، کیونکہ اسے قیامت کےدن تلبیہ پڑھتے ہوئے زندہ کیا جائے گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنْ رَجُلًا كَانَ مُحْرِمًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، ← هُشَيْمٌ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَعَليُّ بْنُ حُجْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Hadith 3959

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3960

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَوْقَصَتْهُ فَمَاتَ، «فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغَسَّلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا يَمَسَّ طَيِّبًا، وَلَا يُخَمَّرَ وَجْهُهُ وَرَأْسُهُ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص اپنی اونٹنی پر آیا وہ محرم تھا اس کی اونٹنی نے اسے گرا دیا ۔ اس کا انتقا ل ہو گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل دیا جائے اور اسے اس کے دو کپڑو ں میں کفن دیا جائے اسے خوشبو نہ لگائی جائے اس کے چہرے اور سر کو ڈھانپا نہ جائے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ،

Hadith 3960

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3961

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ؟، قَالَ: «الْفَأْرَةَ، وَالْحِدَأَةَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ، وَالْغُرَابَ الْأَبْقَعَ»

اس بات کی اطلاع کا تذکرہ ، محرم کے لیے یہ بات ضروری ہے وہ جانوروں میں سے شکار (کیے جانےوالے جانوروں ) اور دوسرے( جانوروں ) کو قتل کرنے سے اجتناب کرے

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنِ عَوْنٍ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← هُشَيْمٌ ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 3961

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3962

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمْسٌ مَنْ قَتَلَهُنَّ، وَهُوَ حَرَامٌ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ، فِيهِنَّ الْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: پانچ (جانور )ایسے ہیں جو شخص انہیں قتل کر دے ، جبکہ وہ احرام کی حالت میں ہو، تو اس پر کوئی گنا ہ نہیں ہو گا ان میں بچھو ، چوہا ، پاگل کتا کوا اور چیل (شامل ہیں)۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 3962

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3963

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْوَزَغُ فُوَيْسِقٌ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " گر گٹ چھوٹا فاسق ہے"۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيُونُسُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 3963

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3964

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الضَّبُعِ، فَقَالَ: هِيَ صَيْدٌ، وَفِيهَا كَبْشٌ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ سے بجو کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ شکار ہے اور (اسے مارنے کا کفارہ ) مینڈھا ہو گا

الضَّبُعِ، فَقَالَ: هِيَ صَيْدٌ، وَفِيهَا كَبْشٌ» ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3964

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3965

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَنِ الضَّبُعِ أَآكُلُهُ؟، قَالَ: نَعَمْ، - يَعْنِي فَقُلْتُ أَصَيْدٌ هُوَ -، قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «نَعَمْ»

عبدالرحمٰن بن ابوعمار، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں؛ میں نے ان سے بجو کے بارے میں دریافت ہوکیا: کیا میں اسے کھا سکتا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہا ں (راوی کہتے ہیں ) اس کی مرادیہ تھی کہ کیا یہ شکار ہے؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں میں نے دریافت کیا: کیا یہ بات نبی اکرم ﷺ سے منقول ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔

نَعَمْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← نَعَمْ، فَقُلْتُ: ← نَعَمْ، يَعْنِي فَقُلْتُ أَصَيْدٌ هُوَ ← الضَّبُعِ أَآكُلُهُ؟، ← سَأَلْتُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 3965

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3966

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:279] جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي قَوْمٍ مُحْرِمِينَ، وَهُوَ حَلَالٌ، فَعَرَضَ لِأَصْحَابِهِ حِمَارٌ وَحْشِيٌّ، فَلَمْ يُؤْذِنُوهُ حَتَّى أَبْصَرَهُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَاخْتَلَسَ مِنْ بَعْضِهِمِ سَوْطًا، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَصَرَعَهُ، فَأَتَاهُمْ بِهِ، فَأَكَلُوا وَحَمَلُوا مَعَهُمْ، فَأَتَوْا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ؟، فَقَالَ: «هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ؟ »، قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَكُلُوهُ»

عبدا للہ بن ابو قتا دہ کہتے ہیں حضرت ابو قتا دہ رضی اللہ عنہ احرام والے افراد کے ساتھ تھے، جبکہ حضر ت ابو قتا دہ رضی اللہ عنہ نے خود احرام نہیں باندھا ہوا تھا ان حضرات کے سامنے ایک حمار وحشی (زبیرہ ) آیا حضرت ابو قتا دہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے انہیں اس بارے میں نہیں بتایا، یہاں تک کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے خود اسے دیکھ لیا وہ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے ان حضرات کی لاٹھی لی اس پر حملہ کیا اور اسے مار دیا وہ اسے لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے ، تو انہوں نے اس کا گوشت کھا لیا انہوں نے اپنے ساتھ بھی اسے رکھ لیا جب یہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خد مت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے اس بار میں دریافت کیا: تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تم میں سے کسی شخص نے ( احرام کی حالت میں ) اس کی طرف اشارہ کیا تھا ان لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم اسے کھا لو۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3966

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3967

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشِيٍّ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، قَالَ: فَرَدَّهُ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيَّ، فَلَمَّا عَرَفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِي قَالَ: «لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں"ابواء" یا شا ید "ودان " کے مقام پر حمار وحشی ( یعنی زیبرے ) کا گوشت پیش کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے قبول نہیں کیا میرے لیے یہ بات پریشانی کا باعث بنی جب نبی اکرم ﷺ نے میرے چہرے پر (پریشانی ) کے آ ثار دیکھے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہم یہ تمہیں واپس نہ کرتے، لیکن ہم احرام کی حالت میں ہیں۔

«لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ» ← فَرَدَّهُ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيَّ، فَلَمَّا عَرَفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِي ← الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ حِمَارَ وَحْشِيٍّ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Hadith 3967

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3968

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قُلْتُ: لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ: أَمَا عَلِمْتَ «أَنَّ [ص:281] رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ لَهُ عُضْوُ صَيْدٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ؟، قَالَ: نَعَمْ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ کے علم میں یہ بات ہے، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں شکار کا ایک عضو تحفے کےطور پر پیش کیا گیا نبی اکرم ﷺ اس وقت احرام کی حالت میں تھے، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے واپس کر دیا تھا (یعنی قبول نہیں کیا تھا ) تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں۔

قلت لزيد بن أرقم أما علمت ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ

Hadith 3968

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3969

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي، قَالَ: «إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ حضرت صعب بن جثامہ لثی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حماروحشی (یعنی زیبرہ ) کا گوشت پیش کیا نبی اکرم ﷺ اس وقت ابواء یا شاید ودان کے مقام پر موجود تھے نبی اکرم ﷺ نے اسے قبول نہیں کیا جب نبی اکرم ﷺ نے میرے چہرے پر (پریشانی یا افسوس ) کے آثار دیکھے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہم نے اسے صرف اس لیے واپس کیا ہے، کیونکہ ہم حالت احرام میں ہیں۔

الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 3969

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ، مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ، وَمَا لَا يُبَاحُ · حديث 3970

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ، «أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجَزَ حِمَارَ وَحْشٍ بِقُدَيْدٍ وَكَانَ مُحْرِمًا، فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے "قد یر" کے مقام پر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حمار وحشی (یعنی زیبرہ ) کی پچھلی ر ان پیش کی نبی اکرم ﷺ اس وقت حالت احرام میں تھے، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے قبول نہیں کیا۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 3970

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr