Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 792

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ " (1) . [1: 2]

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں سورۃ اخلاص سے محبت کرتا ہوں نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تمہارا اس سے محبت کرنا تمہیں ‘ جنت میں داخل کر دے گا ؟

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَجُلًا ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 792

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 793

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ، فَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} ، فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ صَنَعَ هَذَا "؟ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: أَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ " (1) . [1: 2]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کو ایک مہم کا امیر بنا کر روانہ کیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے ہوئے سورہ اخلاص پڑھا کرتا تھا وہ لوگ واپس آئے۔ انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم لوگ اس سے دریافت کرو وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔ لوگوں نے اس سے دریافت کیا ‘ تو اس نے بتایا مجھے اس سورۃ کی تلاوت کرنا اچھا لگتا ہے نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم لوگ اسے بتا دو اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتا ہے۔

عَائِشَةَ ← أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 793

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 794

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَلْزَمُ قِرَاءَةَ: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] فِي الصَّلَاةِ مَعَ كُلِّ سُورَةٍ، وَهُوَ يَؤُمُّ بِأَصْحَابِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّهَا، قَالَ: " حُبُّهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ " (1) . [1: 2]

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص باقاعدگی کے ساتھ نماز میں ہر سورۃ کے ساتھ سورۃ اخلاص کی تلاوت کیا کرت تھا وہ شخص اپنے ساتھیوں کی امامت بھی کرتا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے اس سے اس بارے میں دریافت کیا ‘ تو اس نے عرض کی : میں اس سورہ سے محبت کرتا ہوں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تمہارا اس سورۃ سے محبت کرنا تمہیں ‘ جنت میں داخل کر دے گا ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 794

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 795

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: تَبِعْتُ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا وَھُوَ رَاکِبٌ ، فَوَضَعْتُ یَدِیْ عَلٰی یَدِہٖ ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اَقْرِئْنِیْ مِنْ سُورَۃِ ھُوْدٍ وَمِنْ سُورَۃِ یُوْسُفَ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّکَ لَنْ تَقْرَاَ شَیْئًا اَبْلَغَ عِنْدَ اللہِ مَنْ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔(2:1)

حضرت عقبہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرمﷺ کےپیچھے تھا۔ آپ اس وقت سوار تھے ۔ میں نےاپنا ہاتھ آپ کے دست مبارک پر رکھا۔ میں نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ مجھے سورۃ ہود اور سورۃ یوسف پڑھنی سکھا دیں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ایسی کسی چیز کی تلاوت نہیں سیکھوں گے ‘ جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ می ں سورۃ فلق سے زیادہ بلیغ ہو۔ ( یا زیادہ مرتبے کی حامل ہو )؎

تَبِعْتُ النَّبِیَّ یَوْمًا وَھُوَ رَاکِبٌ فَوَضَعْتُ یَدِیْ عَلٰی یَدِہٖ فَقُلْتُ: ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 795

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 796

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ يَا جَابِرُ "، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَقْرَأُ بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ؟، قَالَ: " {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} و {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} ، فَقَرَأْتُهُمَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اقْرَأْ بِهِمَا، وَلَنْ تَقْرَأَ بِمِثْلِهِمَا (1) . [1: 2]

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : جابر تلاوت کرو۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : میر ے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ میں کیا تلاوت کروں ۔ آپ نے فرمایا : سورۃ فلق اور سورۃ الناس ‘ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں: میں نے ان دونوں کی تلاوت کی نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم ان دونوں کی تلاوت کرو۔ تم ان دونوں ( یعنی کسی اور سورۃ ) کی تلاوت نہیں کرو گے۔

جَابِرٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ، ← بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 796

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 797

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ لَا يَكْتُبُ فِي مُصْحَفِهِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ، فَقَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ لِي جِبْرِيلُ: {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} فَقُلْتُهَا، وَقَالَ لِي: {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} فَقُلْتُهَا " فَنَحْنُ نَقُولُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (1) . [1: 2]

ذر بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے کہا حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے مصحف میں معوذ تین تحریر نہیں کرتے ‘ تو حضرت ابی ؓ نے کہا :نبی اکرمﷺ نے مجھ سے یہ فرمایا تھا : جبرائیل نے مجھ سے کہا: قل اعوذ برب الفلق نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں :میں نے اسے پڑھا ‘ تو پھر انہوں نے مجھ سے کہا : قل اعوذ برب الناس نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : تو میں نے اسے پڑھا۔ ( حضرت ابی بن کعبؓ فرماتے ہیں ) ہم وہ کہتے ہیں : جو نبی اکرمﷺ نے کہا ہے۔

لِي جِبْرِيلُ: {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} فَقُلْتُهَا، ← لِي رَسُولُ اللَّهِ ← قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ لَا يَكْتُبُ فِي مُصْحَفِهِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ، ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 797

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 798

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا، فَيَتْلُو الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ» (1) . [4: 1]

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ ہم ( ازواج مطہرات ) میں سے کسی ایک کی گود میں سر رکھ کر قرآن کی تلاوت کر لیتے تھے جبکہ وہ خاتون حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا، فَيَتْلُو الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ» ← عَائِشَةَ ← أُمِّهِ2، ← مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 798

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 799

أَخْبَرَنَا أَبُو قُرَيْشٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمُعَةَ الْأَصَمُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، وَمِسْعَرٍ، وَذَكَرَ أَبُو قُرَيْشٍ آخَرَ مَعَهُمَا، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْجُبُهُ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ مَا خَلَا الْجَنَابَةَ» (1) . [4: 1]

بے وضو شخص کے لئے اس بات کی اباحت کا تذکرہ ‘ وہ قرآن کی تلاوت کر سکتا ہے ‘ جبکہ وہ جنبی نہ ہو

قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ مَا خَلَا الْجَنَابَةَ» ← «كَانَ النَّبِيُّ لَا يَحْجُبُهُ ← عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةَ، وَمِسْعَرٍ، وَذَكَرَ أَبُو قُرَيْشٍ آخَرَ مَعَهُمَا، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، ← أَبُو قُرَيْشٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمُعَةَ الْأَصَمُّ،

Hadith 799

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 800

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَشُعْبَةَ، وَذَكَرَ ابْنُ قُتَيْبَةَ آخَرَ مَعَهُمَا، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَكُونَ جُنُبًا» (1) . [5: 31]

حضرت علی بن ابو طالب ؓ بیان کرتے ہیں : کوئی بھی چیز قرآن کی تلاوت کے لئے نبی اکرمﷺ کے لئے رکاوٹ نہیں بنتی تھی ‘ البتہ اگر آپ جنبی ہوتے تھے ( تو آپ قرآن کی تلاوت نہیں کرتے تھے )

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، وَشُعْبَةَ، وَذَكَرَ ابْنُ قُتَيْبَةَ آخَرَ مَعَهُمَا، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 800

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 801

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ» (1) . [5: 31]

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرلیتے تھے۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ» ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 801

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 802

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْبَهِيِّ (2) ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ» (3) . [4: 1] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُ عَائِشَةَ: يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ، أَرَادَتْ بِهِ الذِّكْرَ الَّذِي هُوَ غَيْرُ الْقُرْآنِ، إِذِ الْقُرْآنُ يَجُوزُ أَنْ يُسَمَّى الَّذِي ذَكَرَ، وَقَدْ كَانَ لَا يَقْرَؤُهُ وَهُوَ جُنُبٌ، وَكَانَ يَقْرَؤُهُ فِي سَائِرِ الْأَحْوَالِ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ ہر وقت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کر لیتے تھے۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) سیدہ عائشہ ؓ کا یہ کہنا : ’’ آپ ﷺ تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے ‘‘۔ اس سے ان کی مراد وہ ذکر ہے ‘ جو قرآن کے علاوہ ہو ‘ کیونکہ یہ ممکن ہے ‘ انہوں نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں اس سے مراد قرآن ہو۔ حالانکہ نبی اکرمﷺ جنابت کی حالت میں اس کی تلاوت نہیں کرتے تھے ۔ آپ باقی حالتوں میں اس کی تلاوت کر لیتے تھے۔

الَّذِي هُوَ غَيْرُ الْقُرْآنِ، إِذِ الْقُرْآنُ يَجُوزُ أَنْ يُسَمَّى الَّذِي ← أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُ عَائِشَةَ: يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ، أَرَادَتْ بِهِ ال ← «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ» ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الْبَهِيِّ، ← خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، ← أَبِي ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 802

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 803

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَخَالِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ،، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْحُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَضَّأَ، ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: «إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلَّا عَلَى طُهْرٍ، أَوْ، قَالَ: عَلَى طَهَارَةٍ» (1) [4: 1]

حضرت مہاجرین ؓ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ نبی اکرمﷺ اس وقت وضو کر رہے تھے ۔ انہو ں نے نبی اکرمﷺ کا سلام کیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے انہیں سلام کا جواب نہیں دیا۔ جب آپ نے وضو مکمل کر لیا ‘تو ( سلام کا جواب دے کر ) عذر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں بے وضو حالت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں۔ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) حسن بصری اس روایت کے مطابق فتویٰ د یتے تھے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کے یہ الفاظ ’’ مجھے نا پسند ہوا کہ میں بے وضو حالت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں ‘‘ اس سے مراد فضیلت (کے حصول کا ارادہ ) ہے کیونکہ با وضو حالت میں ذکر کرنا افضل ہے ۔ ایسا نہیں ہے ‘ نبی اکرمﷺ نے اس کے نا جائز ہونے کی وجہ سے اسے نا پسند کیا۔

الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ ← الْحُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← خَالِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ،، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 803

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr