Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 780

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ جَهْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَدَنِيُّ (1) ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامًا، وَإِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، مَنْ قَرَأَهَا فِي بَيْتِهِ لَيْلًا لَمْ يَدْخُلِ الشَّيْطَانُ بَيْتَهُ ثَلَاثَ لَيَالٍ، وَمَنْ قَرَأَهَا نَهَارًا لَمْ يَدْخُلِ الشَّيْطَانُ بَيْتَهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ يَدْخُلِ الشَّيْطَانُ بَيْتَهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " (2) . [1: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ يَدْخُلِ الشَّيْطَانُ بَيْتَهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ "، أَرَادَ بِهِ مَرَدَةَ الشَّيَاطِينِ دُونَ غَيْرِهِمْ.

حضرت سہل بن سعد ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ ہر چیز ایک چوٹی ہے اور قرآن کی چوٹی سورۃبقرہ ہے ‘ جو شخص رات کے وقت اس کی تلاوت کر لیتا ہے ‘ شیطان تین راتوں تک اس کے گھر میں داخل نہیں ہو گا اور جو شخص دن کے وقت اس کی تلاوت کر لیتا ہے ‘ شیطان تین دن تک اس کے گھر میں داخل نہیں ہو گا‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرمﷺ کایہ فرما ن ’’ شیطان تین دن تک اس گھر میں داخل نہیں ہو تا ‘‘ اس سے مراد سرکش شیاطین ہیں۔ دوسرے شیاطین مراد نہیں ہیں

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَدَنِيُّ ← حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ جَهْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 780

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 781

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ فِي الطَّوَافِ فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ " (1) . [1: 2]

عبد الرحمٰن بن یزید بیان کرتے ہیں : طواف کے دوران میری ملاقات حضرت ابو مسعود ؓ سے ہوئی ۔ میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ‘ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی اکرم ﷺنےیہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’ جوشخص رات کے وقت سوہ بقرہ کی آخری دو آیات کی تلاوت کر لے ‘ تو یہ دونوں اس کے لئے کافی ہوں گی‘‘۔

لَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ فِي الطَّوَافِ فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَحَدَّثَنِي ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 781

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 782

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِيُّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْآيَتَانِ (1) خُتِمَ بِهِمَا سُورَةُ الْبَقَرَةِ لَا تُقْرَآنِ فِي دَارٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ، فَيَقْرَبُهَا شَيْطَانٌ " (2) . [1: 2]

حضرت نعمان بن بشیر ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ وہ آیات ‘ جہاں سورہ بقرہ ختم ہوتی ہے ‘ وہ جس بھی گھر میں تین دن تک تلاوت کے جائیں ‘ تو شیطان اس کے قریب نہیں آئے گا‘‘۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← الْأَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِيُّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى

Hadith 782

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 783

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، صَلُّوا فِيهَا، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لِيَفِرُّ مِنَ الْبَيْتِ يَسْمَعُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ تُقْرَأُ فِيهِ " (3) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ تم وہاں نماز ادا کیا کرو ‘ کیونکہ شیطان ایسے گھر سے دور بھاگتا ہے ‘ جس گھر میں وہ سورہ بقرہ کی تلاوت کو سنتا ہے ‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Hadith 783

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 784

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ لَهُمْ جَرِينٌ فِيهِ تَمْرٌ، وَكَانَ مِمَّا يَتَعَاهَدُهُ فَيَجِدُهُ يَنْقُصُ، فَحَرَسَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَإِذَا هُوَ بِدَابَّةٍ كَهَيْئَةِ الْغُلَامِ الْمُحْتَلِمِ، قَالَ: فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ السَّلَامَ، فَقُلْتُ: مَا أَنْتَ، جِنٌّ أَمْ إِنْسٌ؟، فَقَالَ: جِنٌّ، فَقُلْتُ: نَاوِلْنِي يَدَكَ، فَإِذَا يَدُ كَلْبٍ وَشَعْرُ كَلْبٍ، فَقُلْتُ: هَكَذَا خُلِقَ الْجِنُّ، فَقَالَ: لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنُّ أَنَّهُ مَا فِيهِمْ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنِّي، فَقُلْتُ: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّكَ رَجُلٌ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُصِيبَ مِنْ طَعَامِكَ، قُلْتُ: فَمَا الَّذِي يَحْرِزُنَا مِنْكُمْ؟، فَقَالَ: قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: اسْمُ ابْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ هُوَ الطُّفَيْلُ بْنُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ.

حضرت ابی بن کعب ؓ کے صاحب زادے یہ بات بیان کرتے ہٰیں : ان کے والد نے انہیں یہ بات بتائی ہے ان کا ایک گودام تھا جس میں کھجوریں موجود تھیں۔ وہ اس کا دھیان رکھتے تھے ‘ لیکن کھجوریں کم ہوتی جا رہی تھی۔ ایک رات وہ اس کا پہرہ دے رہے تھے ‘ تو وہاں ایک نوجوان لڑکے کی طرح کا جانور آیا۔ حضرت ابی کہتے ہیں :میں نے سلام کیا ‘ تو اس نے مجھے سلام کا جواب دیا۔ میں نے دریافت کیا : تم کون ہو ‘ تم جن ہو یا انسان ہو ؟ اس نے کہا : میں جن ہوں میں نے نے کہا: تم اپنا ہاتھ میری طرف بڑھاؤ ‘ تو اس کا ہاتھ کتے کی مانند تھا۔ اس کے بال کتے کے جیسے تھے میں نے کہا : کیا جنوں کی تخلیق اس طرح ہوئی ہے۔ اس نے کہا : جن یہ بات جانتے ہیں کہ ان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو مجھ سے زیادہ طاقت ور ہیں۔ میں نے کہا: تم ایسا کیوں کرتے ہو ؟ اس نے کہا : مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو صدقہ کرنے کو پسند کرتے ہیں ‘ تو میری یہ خواہش ہوئی کہ میں بھی آپ کے اناج میں سے کچھ حاصل کر لوں ۔ میں نے دریافت کیا : تم لوگوں سے کون سی چیز ہمیں محفوظ رکھ سکتی ہے ‘ تو اس نے کہا : یہ آیت یعنی آیت الکرسی حضرت ابی ؓ کہتے ہیں : میں نے اسے چھوڑ دیا۔ اگلے دن حضرت ابی ؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس خبیث نے ٹھیک کہا ہے۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) حضرت ابی بن کعب ؓ کے صاحبزادے کا نام طفیل بن ابی بن کعب ہے۔

ابْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 784

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 785

أَخْبَرَنَا أَبُو صَخْرَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ بِبَغْدَادَ بَيْنَ السُّورَيْنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ" (1) . [1: 2]

حضرت ابو دردا؍ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص سورۃ الکہف کی دس آیات کی تلاوت کر لے گا وہ دجال کی آزمائش سے محفوظ رہے گا‘‘۔

"مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ" ← النَّبِيِّ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← أَبُو صَخْرَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ بِبَغْدَادَ بَيْنَ السُّورَيْنِ

Hadith 785

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 786

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ " (2) .

حضرت ابو درداء ‘ بیان کرتےہیں‘ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص سورۃ الکہف کی آخری دس آیات کی تلاوت کر لے گا وہ دجال کی آزمائش سے محفوظ رہے گا‘‘۔

مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ ← النَّبِيِّ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Hadith 786

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 787

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ (1) : أَحَدَّثَكُمْ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبَّاسٍ (2) الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ سُورَةً فِي الْقُرْآنِ ثَلَاثُونَ آيَةً تَسْتَغْفِرُ لِصَاحِبِهَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ: {تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ} [الملك: 1] ؟ فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ وَقَالَ: نَعَمْ (3) . [1: 80] لِصَاحِبِهَا"، أَرَادَ بِهِ ثَوَابَ قِرَاءَتِهَا، فَأَطْلَقَ الِاسْمَ عَلَى مَا تَوَلَّدَ مِنْهُ وَهُوَ الثَّوَابُ، كَمَا يُطْلَقُ اسْمُ السُّورَةِ نَفْسِهَا عَلَيْهِ. وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ أَبِي أُمَامَةَ (1) أَرَادَ بِهِ ثَوَابَ الْقُرْآنِ، وَثَوَابَ الْبَقَرَةِ، وَآلِ عِمْرَانَ، إِذِ الْعَرَبُ تُطْلِقُ فِي لُغَتِهَا اسْمَ مَا تَوَّلَدَ مِنَ الشَّيْءِ عَلَى نَفْسِهِ كَمَا ذَكَرْنَاهُ.

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بیشک قرآن میں ایک سورۃ ہے ‘ جس کی تیس آیات ہیں۔ یہ سورۃ اپنے حافظ کے لئے دعائے مغفرت کرتی رہے گی‘یہاں تک کہ اس شخص کی مغفرت ہو جائے گی ۔ ( وہ سورت یہ ہے ) تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ تو ابو اسامہ نے ان کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا: جی ہاں۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان ’’ وہ اپنے ساتھی ( یعنی باقاعدگی سے پڑھنے والے یا حافظ ) کیلئے دعاء مغفرت کرتی ہیں‘‘ اس سے مراد اس کی قرأت کا ثواب ہے ‘ تو یہاں اسم کا اطلاق ‘ اس سے حاصل ہونے والے نتیجے پر کیا گیا ہے اور وہ ثواب ہے۔ جس طرح سورت کے اسم کا اطلاق اس کے نفس وجود پر بھی ہوتا ہے۔ اس طرح حضرت ابو امامہ ؓ کے حوالے سے منقول روایت میں نبی اکرمﷺ کے فرمان سے مراد قرآن ‘ سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھنے کا ثواب ہے کیونکہ عرب اپنے محاورے میں ( بعض اوقات ) کسی اسم کا اطلاق اس سے حاصل ہونے والے بتیجے پر کرتے ہیں جیسا کہ ہم پہلے یہ ذکر کر چکے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ ← قَتَادَةَ ← قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ أَحَدَّثَكُمْ شُعْبَةُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 787

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 788

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سُورَةٌ فِي الْقُرْآنِ، ثَلَاثُونَ آيَةً، تَسْتَغْفِرُ لِصَاحِبِهَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ: تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ " (2) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ قرآن میں ایک سورۃ ہے ‘ جس کی تیس آیات ہیں۔ یہ اپنے پڑھنے والے کے لئے دعائے مغفرت کرتی رہے گی ‘ یہاں تک کہ اس شخص کی مغفرت ہو جائے گی ۔ ( وہ سورۃ یہ ہے ) تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 788

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 789

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أَوَيْتُ إِلَى فِرَاشِي، قَالَ: " اقْرَأْ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} [الكافرون: 1] " (1) .

فروہ بن نوفل اسجعی اپنے والد کا یہ بیان نکل کرتے ہیں میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: اے اللہ تعالیٰ کے نبی ! آپ ﷺ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجئے کہ جب میں سبتر پر جایا کروں ‘ تو اسے پڑھ لیا کرو ں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا :تم یہ پڑھو یَا اَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ

اقْرَأْ ← دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أَوَيْتُ إِلَى فِرَاشِي، ← أَبِيهِ ← فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 789

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 790

أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَلْ لَكَ فِي رَبِيبَةٍ يَكْفُلُهَا رَبِيبٌ " (2) ؟، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَرَكْتُهَا عِنْدَ أُمِّهَا (2) ، قَالَ: " فَمَجِيءٌ مَا جَاءَ بِكَ؟ "، قَالَ: جِئْتُ لِتُعَلِّمَنِي شَيْئًا أَقُولُهُ عِنْدَ مَنَامِي، قَالَ: " اقْرَأْ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} [الْكَافِرُونَ: 1] ، [ثُمَّ] نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ " (4) .

فروہ بن نوفل اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا تم اپنی سوتیلی بیٹی کو حاصل کرنا چاہتے ہو وہ اپنے سوتیلے باپ کی کفالت میں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرمﷺ نے ان سے یہی سوال کیا ‘ تو انہوں نے عرض کی : میں نے اسے اس کی ماں کے پاس چھوڑ دیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم کیوں آئے ہو ۔ اس نے کہا: میں اس لئے آیا ہوں تاکہ آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجئے جسے میں سوتے وقت پڑھ لیا کرو ں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم سورۃ الکفر ون کی تلاوت کیا کرو تم اسے مکمل پڑھ کے سویا کرو ‘ کیونکہ یہ شرک سے برأۃ ( کا اظہار ) ہے۔

أَبِيهِ ← فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← الصُّوفِيُّ،

Hadith 790

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 791

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الْعَابِدُ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} يُرَدِّدُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " (1) . [1: 2]

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دوسرے شخص کو سورۃ اخلاص بار بار تلاوت کرتے ہوئے سنا ۔ اگلے دن وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا وہ شخص اس سورت کو چھوٹی سمجھ رہا تھا نبی اکرمﷺ نے اس شخص کو فرمایا۔ ’’ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ تہائی قرآن کے برابر ہے‘‘۔

ذَلِكَ لَهُ، فَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا، ← رَجُلًا يَقْرَأُ: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} يُرَدِّدُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الْعَابِدُ،

Hadith 791

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr