Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 768

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ أَبُو عَمْرٍو بِنَسَا، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا جَلَسَ قَوْمٌ فِي مَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ اللَّهِ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب بھی کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی مسجد میں بیٹھ کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔ آپس میں ایک دوسرے کو اس کا درس دیتے ہیں ‘ تو ان لوگوں پر سکنیت نازل ہوتی ہے رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے۔ فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس موجود ( فرشتوں کے سامنے ) ان لوگوں کا ذکر کرتا ہے اور جس شخص کا عمل اسے سست کر دے اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ أَبُو عَمْرٍو بِنَسَا،

Hadith 768

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 769

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ وَدَابَّتُهُ مُوثَقَةٌ، فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ، تَرَى مِثْلَ الضَّبَابَةِ أَوِ الْغَمَامَةِ قَدْ غَشِيَتْهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «اقْرَأْ يَا فُلَانُ، تِلْكَ السَّكِينَةُ أُنْزِلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ، أَوْ لِلْقُرْآنِ» (1) . [1: 2]

حضرت براء ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص سورۃ کہف کی تلاوت کر رہا تھا۔اس کا جانور بندھا ہوا تھا۔ اس جانور نے اچھلنا شروع کر دیا۔ اس شخص نے ایک بادل دیکھا ‘ جس نے اسے ڈھانپ لیا تھا وہ شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’ اے فلاں ! تم تلاوت کرت رہتے یہ سکنیت تھی جو قرآن کےپاس ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) قرآن کی وجہ سے نازل ہو ری تھی‘‘۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 769

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 770

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، طَعْمُهَا مُرٌّ، وَلَا رِيحَ لَهَا» (1) . [1: 2]

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ و ہ مومن جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے اس کی مثال ناشپاتی کی طرح ہے ‘ جس کا ذائقہ بھی میٹھا ہوتا ہے اور خوشبو بھی پاکیزہ ہوتی ہے اور وہ مومن جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا۔ اس کی مثال کھجور کی طرح ہے ‘ جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے ‘ لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی اور وہ فاجر ( یعنی منافق یا کافر ) شخص جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے اس کی مثال ریحانہ کی مانند ہے ‘ جس کی خوشبو عمدہ ہوتی ہے ‘ لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور وہ فاجر ( یعنی کافر یا منافق ) شخص جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا ۔ اس کی مثال حنظلہ کی مانند ہے ‘ جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی‘‘۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 770

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 771

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ، أَوِ الْفَاجِرِ، الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ، أَوِ الْفَاجِرِ، الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، طَعْمُهَا مُرٌّ وَلَا رِيحَ لَهَا» (1) . [3: 82]

حضرت موسیٰ اشعریؓ ‘روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ وہ مومن جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے ‘ اس کی مثال ناشپاتی کی مانند ہے ‘ جس کا ذائقہ بھی میٹھا ہوتا ہے اس کی خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے اور وہ مومن جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا۔ اس کی مثال کھجور کی مانند ہے ‘ جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے ‘ لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی۔ اور جو منافق ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) فاجر شخص قرآن کی تلاوت کرتاہے اس کی مثال ریحانہ نامی پھل کی طرح ہے ‘ جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہیں ‘ لیکن اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور جو منافق ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے ) فاجر شخص قرآن کی تلاوت نہیں کرتا ہے ۔ ا س کی مثال حنظلہ کی مانند ہے ‘ جس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی‘‘۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 771

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 772

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ تَلَقَّى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ إِلَى عُسْفَانَ وَكَانَ نَافِعٌ عَامِلًا لِعُمَرَ عَلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي؟ يَعْنِي أَهْلَ مَكَّةَ، قَالَ: ابْنَ أَبْزَى، قَالَ: وَمَنِ ابْنُ أَبْزَى؟، قَالَ: رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي، قَالَ عُمَرُ: اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى؟، فَقَالَ لَهُ: إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَيَرْفَعُ بِهَذَا الْقُرْآنِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ» (2) . [1: 2]

ابو طفیل بیان کرتے ہیں : نافع بن عبد حارث کی ملاقات حضرت عمربن خطاب ؓ سے ’’ عسفان ‘‘ کے مقام پر ہوئی۔ نافع حضرت عمرؓ کی طرف سے مکہ مکرمہ کے گورنر تھے۔ حضرت عمرؓ نے دریافت کیا :تم نے اپنے پیچھے کس کو مکہ میں اپنا نائب مقرر کیا ہے ‘ تو انہوں نے جواب دیا : ابن ابزیٰ کو حضرت عمرؓ نے دریافت کیا۔ ابن ابزیٰ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا: ایک آزاد کردہ غلام ہے ‘ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم نے ان لوگوں پراپنا ایک آزاد کردہ غلام نائب بنا دیا ہے ‘ تو نافع نے ان سے گزارش کی کہ وہ اللہ کی کتاب کا عالم ہے ‘ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا : تمہارے نبی نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس قرآن کی وجہ سے کچھ لوگوں کو سر بلندی عطا فرمائے گا اور کچھ دوسرے لوگوں کو پستی عطا کرے گا‘‘۔

اثِلَةَ، ← أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 772

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 773

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ عَيَّاشَ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْرِئْنِي الْقُرْآنَ، قَالَ: «اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ الر» ، قَالَ الرَّجُلُ: كَبُرَ سِنِّي، وَثَقُلَ لِسَانِي، وَغَلُظَ قَلْبِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ حم» ، فَقَالَ الرَّجُلُ مِثْلَ ذَلِكَ (1) : وَلَكِنْ أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ سُورَةً جَامِعَةً، فَأَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ} [الزلزلة: 1] حَتَّى بَلَغَ: {مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: 7-8] ، قَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَزِيدَ عَلَيْهَا حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ، وَلَكِنْ أَخْبِرْنِي بِمَا عَلَيَّ مِنَ الْعَمَلِ أَعْمَلْ مَا أَطَقْتُ الْعَمَلَ، قَالَ: «الصَّلَوَاتُ الْخُمْسُ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ، وَحَجُّ الْبَيْتِ، وَأَدِّ زَكَاةَ مَالِكَ، وَمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ» (2) .

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے قرآن پڑھنا سکھائیے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ’’ الر ‘‘ سے شروع ہونے والی تین سورتوں کی تلاوت سیکھ لو اس شخص نے عرض کہ : میری عمر زیادہ ہو گئی ہے ۔ زبان وزنی ہو ہو گئی ہے دل سخت ہو گیا ہے ( یعنی حافظہ کمزور ہے ) نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم ’’ حم ‘‘ سے شروع ہونے والی تین سورتیں سیکھ لو اس شخص نے اسی کی مانند کلمات کہے اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے ایک جامع سورۃ پڑھنا سکھا دیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے سے سورۃ زلزال پڑھنا سکھا دی ‘ یہاں تک کہ جب آپ اس آیت پر پہنچے : ’’ جو شخص ذرّے کے وزن جتنی بھلائی کر ے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ذرّے کے وزن جتنی برائی کرے گا وہ اسےدیکھ لے گا‘‘۔ اس شخص نے عرض کی : اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کےہمراہ مبعوث کیا ہے ۔ میں اس بات کی پرواہ نہیں کروں گا کہ میں اس کے علاوہ مزید بھی کچھ سیکھو ‘ یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤں۔ آپ مجھے یہ بتا دیجئے مجھ پر کون سا عمل کرنا لازم ہے میں وہ عمل کروں گا ‘ جس کی میں طاقت رکھتا ہوں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : پانچ نمازیں پڑھنا ‘ رمضان کے روزے رکھتا بیت اللہ کا حج کرنا اور تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو ‘ نیکی کا حصہ دو اور برائی سے روکو ‘‘۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ: ← عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ عَيَّاشَ بْنَ عَبَّاسٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 773

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 774

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ آدَمَ غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَعْنِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَنَزَلَ، فَمَشَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى جَانِبِهِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ الْقُرْآنِ» ؟، قَالَ: فَتَلَا عَلَيْهِ: « {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: 2] » (1) . [1: 2]

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرت ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ سفر کر رہے تھے ۔ آپ سواری سے نیچے اترے آپ کے صاحب میں سے ایک صحاب آپ کے پیچھے کی طرف گئے نبی اکرمﷺ نے ان کی طرف توجہ کی اور ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں قرآن کے سب سے افضل حصے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرمﷺ نے ان کے سامنے یہ تلاوت کی۔ ’’ الحمد اللہ رب العلمین ‘‘ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان ’’ کیا میں تمہیں قرآن کے افضل کے بارے میں نہ بتاؤں ‘‘ اس سے آپ کی مراد یہ ہے : ( جسے پڑھنا ) تمہاےلئے افضل ہے ‘ ایسا نہیں ہے ‘ قرآن کا ایک حصہ دوسرے سے افضل ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے بارےمیں یہ بات نا ممکن ہے ‘ اس میں ’’ تفاضل ‘‘ ہو ( یعنی کسی ایک حصے کو دوسرے پر فٖضیلت ہو )

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَعْنِيُّ ← أحمد بن آدم غندر ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 774

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 775

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، وَعِدَّةٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: مَا فِي التَّوْرَاةِ، وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ، مِثْلُ أُمِّ الْقُرْآنِ، وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي، وَهِيَ مَقْسُومَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ» (1) . [1: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَعْنَى هَذِهِ اللَّفْظَةِ «مَا فِي التَّوْرَاةِ، وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ، مِثْلُ أُمِّ الْقُرْآنِ» ، أَنَّ اللَّهَ لَا يُعْطِي لِقَارِئِ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ مِنَ الثَّوَابِ مَا يُعْطِي لِقَارِئِ أُمِّ الْقُرْآنِ، إِذِ اللَّهُ بِفَضْلِهِ فَضَّلَ هَذِهِ الْأُمَّةَ عَلَى غَيْرِهَا مِنَ الْأُمَمِ، وَأَعْطَاهَا الْفَضْلَ عَلَى قِرَاءَةِ كَلَامِ اللَّهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى غَيْرَهَا مِنَ الْفَضْلِ عَلَى قِرَاءَةِ كَلَامِهِ، وَهُوَ فَضْلٌ مِنْهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ، وَعَدْلٌ مِنْهُ عَلَى غَيْرِهَا.

حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ‘ تورات میں اور انجیل میں ام القرآن ( یعنی سورہ فاتحہ کی ) مانند اور کوئی سورت نہیں ہے یہ ایک سبع مثانی ہے یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان تقسیم ہوئی ہیں اور میرا بندہ جو مانگتا ہے وہ اس ملے گا‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) روایت کے یہ الفاظ ’’ تورات اور انجیل میں ام القرآن ‘‘ ( یعنی سورہ فاتحہ ) کی مانند کوئی چیز نہیں ہے ‘‘ اس کا مطلب یہ ہے ‘ تورات اور انجیل کی تلاوت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ اتنا اجر عطا نہیں کرتا۔ جتنا سورہ فاتحہ کی تلاوت کرنے والے کو عطا کرتاہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے تحت ‘ اس امت کو باقی تمام امتوں پر فضیلت عطا کی ہے اور اس (امت کو ) اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرنے پر اس سے زیادہ فضیلت عطا کی ہے ‘ جو دوسری ( امتوں کو ان پر نازل ہو نیوالے ) اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت پر عطا کی تھی اور یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور دوسرے امتوں کے لئے یہ اس کا عدل ہے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، وَعِدَّةٌ،

Hadith 775

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 776

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَوْدُودٍ أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ» . ، قَالَ:، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَحْيَانًا أَكُونُ وَرَاءَ الْإِمَامِ، قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي ثُمَّ، قَالَ: يَا فَارِسِيُّ، اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: قُسِمَتِ الصَّلَاةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عِبَادِي نِصْفَيْنِ، فَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَنِصْفُهَا لِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، إِذَا، قَالَ الْعَبْدُ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: 2] ، قَالَ اللَّهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا، قَالَ: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1] يَقُولُ اللَّهُ: أَثْنَى قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو الْمُغِيرَةِ: عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ الْخَوْلَانِيُّ.

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص نماز ادا کرتا ہے اور اس میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا ‘ تو وہ نماز ناقص ہوتی ہے وہ ناقص ہوتی ہے وہ مکمل نہیں ہوتی‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے کہا : اے حضرت ابو ہریرہؓ ! بعض اوقات میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں ‘ تو حضرت ابو ہریرہؓ نے میرے بازو پر ہاتھ مارا اور فرمایا : اے فارسی ! تم دل میں اسے پڑھ لیا کرو’ میں نے نبی اکرم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :میں نے نما ز ( یعنی سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی) اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر لیا ہے ‘ اس کا نصف حصہ میرے بندے کے لئے ہے اور نصف حصہ میرے لئے ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا‘ جب بندہ الحمد اللہ رب العلمین پڑھتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری حمد بیان کی ‘ جب بندہ الرحمٰن الرحیم پڑھتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :میرے بندے نے میری تعریف کی: جب بندہ ملک یوم الدین پڑھتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور یہ ( یہ بعد والی آیت ) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے وہ کہتا ہے ۔ ’’ ایاک نعبدو ایاک نستعین ‘‘ اور اس ک بعد والا باقی حصہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرا بندہ جو مانگے گا وہ اسے ملے گا وہ یہ پڑھتا ہے: ’’ تو صراط مستقیم کی طرف ہمیں ہدایت دے ان لوگوں کے راستے کی طرف جن پر ‘ تو نےاپنا انعام کیا ہے ‘ نہ کہ ان لوگوں کے راستے کی طرف جن پر غضب نازل کیا گیا اور جو گمراہ ہوئے‘‘۔ ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) ‘تو یہ چیز میرے بندے کو ملے گی اور میرے بندے نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) ابو مغیرہ نامی راوی کا نام عبد القدوس بن حجاج خولانی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← يَحْيَی بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَوْدُودٍ أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 776

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 777

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أُجِبْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي، فَقَالَ: " أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ: {اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ} [الأنفال: 24] ؟ " ثُمَّ، قَالَ: " أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَةً هِيَ أَعْظَمُ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ؟ " فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي، وَالْقُرْآنُ الَّذِي أُوتِيتُهُ " (2) . [1: 21] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هِيَ أَعْظَمُ سُورَةٍ "، أَرَادَ بِهِ فِي الْأَجْرِ، لَا أَنَّ بَعْضَ الْقُرْآنِ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ (1) . وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ الْمُعَلَّى اسْمُهُ: رَافِعُ بْنُ الْمُعَلَّى بْنِ لَوْذَانَ بْنِ حَارِثَةَ مَاتَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسَبْعِينَ.

ابو سعید ب معلیٰ بیان کرتے ہیں :میں مسجد میں نماز ادا کر رہا تھا نبی اکرمﷺ نے مجھے آواز دی میں آپ کی طرف نہیں گیا ( جب میں آپ کی خدمت مٰیں حاضر ہوا ) ‘ تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں نماز ادا کر رہا تھا ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا ہے: ’’ جب اللہ اور اس کا رسول تم کو بلائیں ‘ تو تم ان کی طرف جاؤ‘‘۔ پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا : کی میں تمہیں ایسی سورۃ کی تعلیم نہ دوں جو قرآن میں موجود سب سے عظیم سورت ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرمﷺ نےفرمایا : الحمد اللہ رب العلمین یہی سبع مثانی ہے اور وہ قرآن ہے ‘ جو مجھے دیا گیا ہے ‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان ’’ یہ سب سے عظیم سورت ہے ‘‘ اس سے مراد اجر کے اعتبار سے ( سب سے عظیم ہونا ) ہے۔ ایسا نہیں ہے ‘ قرآن کا یک حصہ دوسرے سے افضل ہو۔ حضرت ابو سعید بن معلیٰ ؓ کا نام رافع بن معلیٰ بن لوذان بن حارثہ ہے۔ ان کا انتقال 74 ہجری میں ہوا۔

كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ فَلَمْ أُجِبْهُ، فَقُلْتُ: ← أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 777

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 778

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَمَا جِبْرِيلُ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ: لَقَدْ فُتِحَ بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ مَا فُتِحَ قَطُّ، فَأَتَاهُ مَلَكٌ، فَقَالَ لَهُ: أَبْشِرْ بِسُورَتَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُعْطَهُمَا نَبِيٌّ كَانَ قَبْلَكَ: فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، لَنْ تَقْرَأَ مِنْهَا حَرْفًا إِلَّا أُعْطِيتَهُ (2) . [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن عبا سؓ بیان کرتے ہیں :ایک مرتبہ جبرائیل نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھے تھے ۔ اسی دوران انہوں نے اوپر سے ( آسمان کا دروازہ ) کھلنے کی آواز سنی انہوں نے سر اٹھایا اور بولے : آج آسمان کا ایسا دروازہ کھلا ہے ‘ جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھلا پھر ایک فرشتہ ان کے پاس آیا اور اس نے نبی اکرمﷺ سےکہا: آپ کو دو ایسی سورتوں کی خوشخبری قبول ہو ‘ جو آپ سے پہلے کسی اور نبی اکرمﷺ کو نہیں دی گئی ہیں ‘ وہ سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی آخری آیات ہیں۔ آپ ان کا جو بھی حرف تلاوت کریں گے آپ کو وہ چیز مل جائے گی ‘‘۔

لَقَدْ فُتِحَ بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ مَا فُتِحَ قَطُّ، فَأَتَاهُ مَلَكٌ، ← نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ← بَيْنَمَا جِبْرِيلُ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ إِذْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 778

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 779

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيْنَمَا أَنَا أَقْرَأُ اللَّيْلَةَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ إِذْ سَمِعْتُ وَجْبَةً مِنْ خَلْفِي، فَظَنَنْتُ أَنَّ فَرَسِي انْطَلَقَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ يَا أَبَا عَتِيكٍ "، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا مِثْلُ الْمِصْبَاحِ مُدَلًّى بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اقْرَأْ يَا أَبَا عَتِيكٍ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَمْضِيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ نَزَلَتْ لِقِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ مَضَيْتَ لَرَأَيْتَ الْعَجَائِبَ " (1) . [1: 2]

اسید بن حضیر ؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! گزشتہ رات میں سورہ بقرہ کی تلاوت کر رہا تھا۔ اسی دوران میں نے اپنے پیچھے ایک آہٹ سنی مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید میرا گھوڑا چلا گیا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :اے ابو اسید ! تم تلاوت کرتے رہو ‘ میں نے توجہ کی ‘ تو وہاں کچھ چراغ نظر آئے ‘ جو آسمان و زمین کے درمیان موجود تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا؛ اے ابو عتیک ! تم تلاوت کرتے ہو۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں اب تلاوت جاری نہیں رکھ سکتا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا :یہ فرشتے تھے جو سورہ بقرہ کی تلاوت کی وجہ سے نازل ہوئے تھے ‘ اگر تم تلاوت جاری رکھتے ‘ تو اور بھی حیران کن چیزیں دیکھتے۔

أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّهُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 779

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr