Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 744

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"1"، وَكَانَ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ، عُدَّ فِينَا، ذُو شَأْنٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُمْلِ عليه {غَفُوراً رَحِيماً} فَيَكْتُبُ "عَفُوًّا غَفُورًا"، فَيَقُولُ النَّبِيُّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اكْتُبْ" وَيُمْلِي عَلَيْهِ {عَلِيماً حَكِيماً} ، فَيَكْتُبُ "سَمِيعًا بَصِيرًا" فَيَقُولُ النَّبِيُّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اكْتُبْ أَيَّهُمَا شِئْتَ"" 2". قَالَ فَارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِمُحَمَّدٍ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِنْ كُنْتُ لَأَكْتُبُ مَا شِئْتُ. فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "إِنَّ الْأَرْضَ لَنْ تَقْبَلَهُ". قَالَ"3": فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: فَأَتَيْتُ تِلْكَ الْأَرْضَ الَّتِي مَاتَ فِيهَا، وَقَدْ عَلِمْتُ اَنَّ الَّذِیْ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، کَمَا قَالَ ، فَوَجَدْتُہٗ مَنْبُوذًا ، فَقُلْتُ: مَا شَاْنُ ھٰذَا ؟ فَقَالُوْا: دَفَنَّاہُ فَلَمْ تَقْبَلْہُ الٔارض۔(33:5)

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کے لئے کتابت کیا کرتا تھا وہ ہمارے درمیان اہم حیثیت کا مالک تھا نبی اکرمﷺ نے اسے املاء کرویا ’’ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ‘‘ تو اس نے لکھ دیا ’’ معاف کرنے والا مغفرت کرنے والا‘‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم یہ لکھوں آپ نے اسے املاء کرویا ’’ علم والا حکمت والا ‘‘ تو اس نے لکھ دیا ’’ سننے والا دیکھنے والا ‘‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ تم ان دونوں میں سے جو چاہو لکھ لو‘‘۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں : پھر وہاسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گیا اور مشرکین کے ساتھ مل گیا۔ اس نے کہا: میں حضرت محمد ﷺ کے بارے میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں‘ کیونکہ میں جو چاہتا ہوں وہ لکھ سکتا ہوں پھر وہ فوت ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی ‘ تو آپ نے فرمایا : زمین اسے قبول نہیں کرے گی۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت ابو طلحہؓ نے یہ بات بیان کی ہے میں اس سر زمین پر آیا جہاں وہ شخص مرا تھا‘ تو مجھے پتہ چلا کہ نبی اکرمﷺ نے اس کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے ‘ تو میں نے اسے قبر سے باہر پڑا ہوا پایا ۔ میں نے دریافت کیا : اس کا کیا معامکہ ہے ‘ تو لوگوں نے بتایا ہم نے اسے دفن کیا تھا ‘ لیکن زمین نے اسے قبول نہیں کیا۔

أَنَسًا ← حُمَيْدًا، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 744

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 745

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "كَانَ الْكِتَابُ الْأَوَّلُ يَنْزِلُ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ وَعَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ: زَاجِرٌ، وَآمِرٌ، وَحَلَالٌ، وَحَرَامٌ، وَمُحْكَمٌ، وَمُتَشَابِهٌ، وَأَمْثَالٌ، فَأَحِلُّوا حَلَالَهُ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ، وَافْعَلُوا مَا أُمِرْتُمْ بِهِ، وَانْتَهُوا عَمَّا نُهِيتُمْ عَنْهُ، وَاعْتَبِرُوا بِأَمْثَالِهِ، وَاعْمَلُوا بمحكمه، وآمنوا بمتشابهه، وقولوا: اٰمَنَّا بِہٖ کُلُّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا۔

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ پہلے ایک کتاب ایک دروازے سے ایک حرف کے مطابق نازل ہوتی تھی ‘ لیکن قرآن کو سات دروازوں سے سات حروف کے مطابق نازل کیا گیا (وہ یہ ہیں ) ’’ تنبیہ کرنے والا ، حکم دینے والا ، حلال ، حرام ، محکم ، متشابہہ اور امثال ‘‘ تو تم لوگ اس کے حلا کو قرارد دو اس کے حرام کو حرام قرار دو ، جس چیز کا تمہیں اس میں حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو اور جس چیز سے تمہیں منع کیا گیا ہے اس سے باز آ جاؤ۔ اس کی مثالوں سے عبرت حاصل کرو اس کے حکم پر عمل کرو اس کے متشابہ پر ایمان لاؤ اور یہ کہو کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں ، یہ سارے کا سارا ہمارے پروردگار کی طرف سے آیاہے‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← بن مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← بن وَهْبٍ ← أَبُو هَمَّامٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 745

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 746

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالْأُبُلَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، قال: حدثنا أبي، عن الأعمش، عنذكر الْبَيَانِ بِأَنْ لَا حَرَجَ عَلَى الْمَرْءِ أَنْ يَقْرَأَ بِمَا شَاءَ مِنَ الْأَحْرُفِ السَّبْعَةِ [746] أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالْأُبُلَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا یَقْرَاُ اٰیَۃً اَقْرَاَنِیْھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، خِلَافَ مَاقَرَاَ ، فَاَتَیْتُ النَّبِیِّ، صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَھُوَ یُنَاجِی عَلِیًّا ، فَذَکَرْتُ لَہٗ ذٰلِکَ ، فَاَقْبَلَ عَلِیُّ ، وَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تَقْرَؤْوا کَمَا عُلِّمْتُمْ۔(41:1)

حضرت عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک شخص کو ایک آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا وہ آیت نبی اکرمﷺ نے مجھے پڑھنا سکھائی تھی ‘ لیکن وہ شخص اس کے برخلاف طریقے سے تلاوت کر رہا تھا۔ میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت سرگوشی میں حضر ت علیؓ سے کوئی بات کر رہے تھے میں نے اس بات کا تذکرہ آپ سے کیا : تو حضرت علیؓ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے : بیشک اللہ کے رسول نے تم لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ تم اسی طریقے سے تلاوت کرو جس طرح تمہیں تعلیم دی گئی ہے۔

الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ

Hadith 746

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 747

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ بِالْأَهْوَازِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُورَةَ الرَّحْمَنِ، فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ عَشِيَّةً، فَجَلَسَ إِلَيَّ رَهْطٌ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ: اقْرَأْ عليَّ. فَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ أَحْرُفًا لَا أَقْرَؤُهَا، فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ؟ فَقَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فانطلقنا حَتّٰی وَقَفْنَا عَلَی النَّبِیِّ ، صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتَ: اخْتَلَفْنَا فِیْ قِرَاءَ تِنَا فَاِذَا وَجْہُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِیْ تَغَیُّرٌ ، وَوَجَدَ فِیْ نَفْسِہِ حِیْنَ ذَکَرْتُ الاِخْتَلافَ فَقَالَ: اِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ قَبْلَکُمْ بِالِاخْتِلَافِ فَاَمَرَ عَلِیًّا فقَالَ: اِنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَاْمُرُ کُمْ اَنْ یَّقْرَاَ کُلُّ رَجُلٍ مِّنْکُمْ کَمَا عُلِّمَ ، فَاِنَّمَا اَھْلَکَ مَنْ قَبْلَکُمْ اِلاخْتِلَافِ ، قَالَ فَانْطَلَقْنَا وَکُلُّ رَجُلٍ مِّنَّا یَقْرَاُ حَرفا لا یقرأ صاحبہ۔(41:1)

حضرت عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے مجھے سوررۂ رحمٰن پڑھنا سکھائی ‘ ایک دن میں شام کے وقت مسجد میں آیا ‘ تو کچھ لوگ میرے پاس آ کر بیٹھ گئے میں نے ان میں سے ایک شخص سے کہا تم میرے سامنے تلاوت کرو ‘ تو اس نے کچھ الفاظ ایسے طریقے سے تلاوت کئے جنہیں میں نے نہیں پڑھا تھا۔ میں نے دریافت کیا: تمہیں کس نے یہ تلاوت سکھائی ہے۔ اس نے جواب دیا : مجھے اللہ کے رسول اللہ نے یہ تلاوت سکھائی ہے‘ پھر ہم لوگ روانہ ہوئے اور نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے عرض کی : ہمارا قرأت کے بارے میں اختلاف ہو گیا ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ کا چہرہ مبارک یہ سن کر متغیر ہو گیا جب میں نے اختلاف کا تذکرہ کہا ‘ تو آپ کو اس سے بہت افسوس ہوا۔ آپ نے ارشاد فرماایا : تم سے پہلے لوگ اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے پھر آپ نے حضرت علیؓ کو حکم دیا ‘ تو انہوں نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ کے رسول تم کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک شخص اسی طریقے کے مطابق تلاوت کرے جس طرح اسے تعلیم دی گئی ہے ‘ کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے۔ راوی بیان کرتے ہٰیں: پھر ہم لوگ وہاں سے آگئے ہم میں سے ہر شخص اسی طریقے کے مطابق تلاوت کرتا تھا ( جو اس نے سیکھا تھا ) اس کا ساتھی اس کے طریقے کے مطابق تلاوت نہیں کرتا تھا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ← مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ،

Hadith 747

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 748

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ معاوية بن قرة اَنَّہٗ سَمِعَ عَبْدَ اللہِ بْنَ الْمُغَفَّلِ یَقُوْلُ: قَرَاَ النَّبِیُّ ، صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَامَ الْفَتْحِ فَرَجَّعَ فِیْ قِرَاءَ تِہٖ قَالَ مُعَاوِیَۃُ: لَوْلَا اَنِّیْ اَکْرَہُ اَنْ یَّجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَّی ، لحکیتُ قراء تہ ۔(1:4)

حضرت عبد اللہ بن مغفل ؓ بیان کرت ہیں : نبی اکرمﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر تلاوت کی ‘ تو آپ ﷺ نے اس تلاوت کے دوران ترجیع کی۔ معاویہ نامی راوی یہ بات بیان کرتے ہیں: اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ میرے اردگرد اکٹھے ہو جائیں گے ‘ تو میں اس طریقے سے تلاوت کر کے دکھاتا۔

مُعَاوِیَۃُ: لَوْلَا اَنِّیْ اَکْرَہُ اَنْ یَّجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَّی لحکیتُ قراء تہ ← قَرَاَ النَّبِیُّ عَامَ الْفَتْحِ فَرَجَّعَ فِیْ قِرَاءَ تِہٖ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ1 الْمُغَفَّلِ ← معاوية بن قرة اَنَّہٗ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 748

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 749

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْعَابِدُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ». [1: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ مِنْ أَلْفَاظِ الْأَضْدَادِ، يُرِيدُ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ» , لَا: زَيِّنُوا أَصْوَاتَكُمْ بِالْقُرْآنِ.

حضرت براء بن عازبؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ قرآن کوا پنی آوازوں کے ذریعے آراستہ کرو‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) یہ وہ الفاظ ہیں ‘ جنہیں بوکر متضاد مفہوم مراد لیا جاتا ہے۔ نبی اکرمﷺ کے اس فرمان سے مراد یہ ہے : تم قرآن کو اپنی آوازوں کے ذریعےراستہ کرو ‘ یہ نہیں ‘ تم قرآن کے ذریعے اپنی آوازوں کو آراستہ کرو ۔

زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ ← النَّبِيِّ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْسَجَۃَ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْعَابِدُ،

Hadith 749

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 750

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ"1" الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ""2". ذِكْرُ إِبَاحَةِ تَحْزِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ إِذِ اللَّهُ أَذِنَ فِي ذَلِكَ

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ قرآن کو اپنی آوازوں کے ذریعے آراستہ کرو‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ"1" الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 750

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 751

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ثُمَّ سَمِعْتُهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ""3".

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے وہ اس نبی اکرمﷺ کو سنتا ہے ‘ جو قرآن کو خوش الحانی کے ساتھ تلاوت کرتا ہے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان ’’ وہ قرآن کو خوش الحانی سے پڑھے ‘‘ اس سے مراد اس کو درمندی سے پڑھنا ہے ۔ اگر یہ غنیتہ ( یعنی خوش الحانی ) سے ماخوذ ہوتا ۔ تو آپ یہ کہتے : یتغانی بہ ‘ یہ نہ کہتے : یتغنی بہ۔ قرآن کو درد مند انداز میں پڑھنے کا یہ مطلب نہیں ہے ‘ حلق پر بوجھ لادا جائے یاآواز کو سنوارا جائے یا لغمگی کی پیروی کرتے ہوئے ( آواز میں اتار چڑھاؤ پیدا کیا جائے ) قرآن کو دردمندانہ انداز میں پڑھنے سے مراد یہ ہے ‘ تلاوت کے ہمراہ دو چیزیں ہوں ‘ افسوس کا اظہار کرنا ‘ غمگین ہونا ‘ آدمی سےجو غلطیاں سر زد ہوئی تھیں ان پر افسوس کا اظہار کرنا اور جس توقیر کی خواہش ہو اس پر غمگین ہونا۔ جب دل الم اور تکلیف کو محسوس کرے ‘ تو آواز غمگین ہو جائے اور وہ ترجیح کرے ‘ آنکھیں آنسو بہائیں ‘ اور دل روشن ہو ‘ تو اس صورت میں مناجات کے ہمراہ تہجد پڑھنے والے کو لذت محسوس ہو گی اور ہو شخص مخلوق سے فرار ہو کر خلوت کے گھونسلے ( یعنی اس کی پناہ) میں آ جائے۔ اس بات کی امید رکھتے ہوئے کہااس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہوجائے۔ اس کے جرائم اور عیوب سے درگزر کیا جائے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس کی توفیق مانگتے ہیں۔

"مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ ثُمَّ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ

Hadith 751

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 752

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ كَأَذَنِهِ لِلَّذِي يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ، يَجْهَرُ بِهِ"1. 1: 2 قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ: "مَا أَذِنَ اللَّهُ" يُرِيدُ: مَا اسْتَمَعَ اللَّهُ لِشَيْءٍ "كَأَذَنِهِ": كَاسْتِمَاعِهِ: لِلَّذِي يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ، يَجْهَرُ بِهِ"، يُرِيدُ: يَتَحَزَّنُ بِالْقِرَاءَةِ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَا نَعْتَهُ

حضرت ابو ہریرہؓ ‘روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا ‘ جتنی توجہ سے قرآن کی خوش الحانی سے کی جانے والی تلاوت کو سنتا ہے ‘ جو بلند آواز میں کی جاتی ہے‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان مااذن اللہ سےمراد یہ ہے یونی اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا ۔ کاذنہ یعنی جس طرح وہ سنتا ہے اس شخص کو جو شخص الحانی سے قرآن کی تلاوت کرے ‘ جو بلند آواز میں میں اس کی تلاوت کرتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے : وہ درد مندانہ انداز میں قرأت کرے جو اس کے مطابق ہو ‘ جس کی صفت کو ہم نے بیان کی ہے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 752

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 753

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ مُطَرِّفِ بن عبد الله بن الشخيرذكر الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى صِحَّةِ مَا تَأَوَّلْنَا خَبَرَيْ أَبِي هُرَيْرَةَ اللَّذَيْنِ ذَكَرْنَاهُمَا [753] أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ مِنَ الْبُكَاءِ (1) . [1: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ التَّحَزُّنَ الَّذِي أَذِنَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا فِيهِ بِالْقُرْآنِ وَاسْتَمَعَ إِلَيْهِ هُوَ التَّحَزُّنُ بِالصَّوْتِ مَعَ بِدَايَتِهِ وَنِهَايَتِهِ، لِأَنَّ بَدَاءَتَهُ هُوَ الْعَزْمُ الصَّحِيحُ عَلَى الِانْقِلَاعِ عَنِ الْمَزْجُورَاتِ، وَنِهَايَتُهُ وُفُورُ التَّشْمِيرِ فِي أَنْوَاعِ الْعِبَادَاتِ، فَإِذَا اشْتَمَلَ التَّحَزُّنُ عَلَى الْبِدَايَةِ الَّتِي وَصَفْتُهَا، وَالنِّهَايَةُ الَّتِي ذَكَرْتُهَا، صَارَ الْمُتَحَزِّنُ بِالْقُرْآنِ كَأَنَّهُ قَذَفَ بِنَفْسِهِ فِي مِقْلَاعِ الْقُرْبَةِ إِلَى مَوْلَاهُ، وَلَمْ يَتَعَلَّقْ بِشَيْءٍ دُونَهُ.

مطرف بن عبد اللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ۔ گریہ وزاری کی وجہ سے آپ کے سینے سے یوں آواز رہی تھی جیسے ہنڈ یا ابلتی ہے ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : اس روایت میں س بات کا واضح بیان موجود ہے ‘ جس درد مندانہ تلاوت کو اللہ تعالیٰ سنتا ہے اور پوری توجہ سے سنتا ہے وہ ایسا درد ہے ‘ جو آواز میں آغاز اور اختتام کے ہمراہ ہو کیونکہ آغاز یہ ہوتا ہے ‘ اس بات کا پختہ ارادہ کیا جائے کہ ممنوعہ چیزوں سے لاتعلقی اختیار کی جائے گی اور انجام یہ ہے ‘ مختلف نوعیت کی عبادات میں بھر پور کوشش کی جائے گی ‘ تو جب وہ در د آغاز میں اس کے مطابق ہو جو ہم نے بیان کیا ہے اور اختتام اس کے مطابق ہو جو میں نے ذکر کیا ہے ‘ تو قرآن کے ہمراہ دردمند ہونے والا شخص گویا اپنے آپ کو اپنے پروردگار کے قرب میں ڈال دیتا ہے اور وہ اس کے علاوہ کسی اور چیز سے متعلق نہیں ہوتا۔

مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 753

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 754

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ مَيْسَرَةَ مَوْلَى فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَلَّهُ أَشَدُّ أَذَنَا إِلَى الرَّجُلِ الْحَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ، مِنْ صَاحِبِ الْقَيْنَةِ إِلَى قَيْنَتِهِ» (2) . [1: 2]

حضرت فضالہ بن عبید ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جتنے شوق کے ساتھ کوئی شخص کسی کنیز کا گانا سنتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ پسندیدگی کے ساتھ اچھی آواز والے شخص کی قرآن کی تلاوت کو سنتا ہے‘‘۔

فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← مَيْسَرَةَ مَوْلَى فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 754

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 755

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ (1) ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يَكُونُ خَلْفٌ بَعْدَ سِتِّينَ سَنَةً أَضَاعُوا الصَّلَاةَ، وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ، فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا، ثُمَّ يَكُونُ خَلْفٌ يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةٌ: مُؤْمِنٌ، وَمُنَافِقٌ، وَفَاجِرٌ» (2) . قَالَ بَشِيرٌ: فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ: مَا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ؟، قَالَ: الْمُنَافِقُ كَافِرٌ بِهِ، وَالْفَاجِرُ يَتَأَكَّلُ بِهِ، وَالْمُؤْمِنُ يُؤْمِنُ بِهِ.

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ ساٹھ سال کے بعد ایسے لوگ آ جائیں گے‘ جو نماز کو ضائع کریں گے‘ خواہشات کی پیروی کر دیں گے ‘ وہ عنقریب جہنم میں جائیں گے پھر اس کے بعد وہ لوگ آ جائیں گے ‘ جو قرآن کی تلاوت کریں گے‘ لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ قرآن کو تین طرح کے لوگ پڑھتے ہیں ، مومن ، منافق اور جاجر‘‘۔ بشیر نامی راوی کہتے ہیں: میں نے ولید سے دریافت کیا : یہ تین لوگ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا: منانق سے مراد وہ شخص ہے ‘ جو قرآن کا انکار کرتا ہو ‘ فاجر سے مراد وہ شخص ہے ‘ جو اس کی معاوضہ وصول کرتا ہو اور مومن سے مراد وہ شخص ہے ‘ جو اس پر ایمان رکھتا ہو ‘‘۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَنَّهُ ← بَشِيرُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلَانِيُّ،أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← الْمُقْرِئُ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْمَرْوَزِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 755

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr