Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 109

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی قَالَ حَدَّثَنَا حَوْثَرَۃُ بْنُ اَشْرَسَ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِستٍ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْخُلُ عَلَیْنَا وَلِیْ اَخٌ صَغِیْرٌ یُکَنّٰی اَبَا عُمَیْرٍ فَدَخَلَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یُوْمٍ فَقَالَ: اُبا عمیر ما فعل النغیر۔ (4:22)

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺ ہمارے ہاں تشریف لایا کرتے تھے۔ میرا ایک چھوٹا بھائی تھاجس کی کنیت ابو عمیر تھی۔ ایک دن نبی اکرمﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے ‘ تو آپ نے دریافت کیا : ’’ اے ابو عمیر ! تمہاری چڑیا کا کیا حال ہے ؟ ‘‘

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِستٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 109

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 110

اَخْبَرَنَا بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ عَنِ الْاَوْزَاعِیِّ عَنِ الزُّھْرِیِّ قَالَ اَخْبَرَنِیْ عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ عَنْ اَبِیْہِ: اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّ اَعْظَمَ النَّاسِ فِی الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا مَنْ سَاَلَ عَنْ مَّسْاَلَۃٍ لَمْ تُحَرَّمْ فَحُرِّمَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ أَجَلِ مَسْأَلَتِہٖ۔(3:66)

حدیث 110: عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’مسلمانوں میں سب سے بڑا جرم اس شخص کا ہے ‘ جو کسی ایسی چیز کے بارے میں دریافت کرے‘ جسے حرام قرار نہ دیا گیا ہو‘ اور پھر اس شخص کے دریافت کرنے کی وجہ سے ‘ اسے مسلمانوں کے لئے حرام قرار دے دیا جائے‘‘۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← بْنِ سَلْمٍ

Hadith 110

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 111

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَقَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی قَالَ حَدَّثَنَا بْنُ وَھَبٍ قَالَ أَخْبَرْنَ یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ اَنَّ عُبَیْدَ اللہِ بْنُ عَبْدِ اللہِ أَخْبَرَہٗ اَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یُحَدِّثُ اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَا رسول اللہِ اِنّیْ رَاَیْتُ اللَّیْلَۃَ فِی الْمَنَامِ ظُلَّۃً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ وَاِذَا النَّاسُ یَتَکَفَّفُوْنَ مِنْھَا بِاَیْدِیِھِمْ فَالْمُسْتَکْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَاَرٰی سَبَبًا وَاصِلًا مِنَ السَّمَاءِ اِلَی الْاَرْضِ فَاَرَاکَ اَخَذْتَ بِہٖ فَعَلَوْتَ ثُمَّ اَخَذَ بِہٖ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِکَ فَعَلَا ثُمَّ اَخَذَ بِہٖ رَجُلٌ اٰخَرُ فَعَلَا ثُمَّ اَخَذَ بِہٖ رَجُلٌ اٰخَرُ فَانْقَطَعَ بِہٖ ثُمَّ وُصِلَ لَہٗ فَعَلَا قَالَ: اَبُوْ بَکْرٍ: یَا رَسُوْلَ اللہِ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاللہِ لَتَدَعَنِّیْ فَلَا عْبُرُہٗ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: عَبِّرْقَالَ: اَبُوْ بَکْرٍ اَمَّا الظُّلَّۃُ فَظُلَّۃُ الْاِسْلَامِ وَاَمَّا الَّذِیْ یَنْطِفُ مِنَ لسَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَالْقُرْآنُ حَلَاوَتُہٗ وَلِینُہُ وَاَمَّا مَا یَتَکَفَّفُ النَّاسُ مِنْ ذٰلِکَ فَالْمُسْتَکْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ وَاَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ اِلَی الْاَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِیْ اَنْتَ عَلَیْہِ اَخَذْتَہٗ فَیُعْلِیکَ اللہُ ثُمَّ یَاْخُذُ بِہٖ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِکَ فَیَعْلُوبِہٖ ثُمَّ یَاْخُذُ بِہٖ رَجُلٌ اٰخَرُ فَیَعْلُو بِہٖ ثُمَّ یَاْخُذُ بِہٖ رَجُلٌ اٰخَرُ فَیَنْقَطِعُ بِہٖ ثُمَّ یُوصَلُ لَہٗ فَیَعْلُو فَاَخْبِرْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللہِ بِاَبِیْ اَنْتَ اَصَبْتُ اَمْ اَخْطَاْتُ ؟ قَالَ رَسْوُلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَصَیْتَ بَعْضًا وَاَخْطَاْتَ بَعْضًا قَالَ: وَاللہِ یَا رَسُوْلَ اللہِ لَتُخْبِرَنِّیْ بِالَّذِیْ اَخْطَاْتُ قَالَ: لَا تقْسِمْ۔(3:65)

عبید اللہ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن عباسؓ یہ بیان کیا کرتے تھے: ایک مرتبہ ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے گزشتہ رات ایک بادل دیکھا ہے ‘ جس سے گھی اور شہد کی بارش ہو رہی تھی اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں میں لے رہے تھے۔کوئی شخص زیادہ لے رہا تھا ‘ اور کوئی کم لے رہا تھا۔ پھر میں نے آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ایک رسی دیکھی۔ پھر میں نےآپ کو دیکھا کہ آپ نے اسے پکڑا اور اوپر تشریف لے گئے۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا۔ پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا ‘ تو وہ رسی ٹوٹ گئی۔ پھر اس شخص کے لئے اسے ملا دیا گیا ‘تو وہ بھی اوپر چلا گیا۔ (راوی کہتے ہیں ) حضرت ابو بکر ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد آپ پر قربان ہوں۔ اللہ کی قسم ! آپ مجھے موقع دیجئے کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم تعبیر بیان کرو ! تو حضرت ابو بکر ؓ نےعرض کی : بادل سے مراد اسلام کا بادل ہے ‘ اور اس سے ٹپکنے والے گھی اور شکر (سے مراد ) قرآن ہے ۔ اس کی حلاوت اور نرمی مراد ہے۔ جہاں تک لوگوں کا اسے ہاتھوں میں لینے کا تعلق ہے ‘ تو کچھ لوگ قرآن کا زیادہ علم حاصل کرتے ہیں اور کچھ لوگ اس کا کم علم حاصل کرتے ہیں۔ جہاں تک آسمان سے نیچے لٹکنے والی رسی کا تعلق ہے ‘تو یہ وہ حق ہے ‘ جس پر آپ گامزن ہیں۔ آپ نے اس کو اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سر بلندی عطا کی۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص نے اسے پکڑ لیا ‘ تو اس نے اس کے ذریعے سر بلندی حاصل کی۔ پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑ لیا ‘ تو اس نے اس کے ذریعے سر بلندی حاصل کی۔ پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑ لیا ‘ تو رسی منقطع ہو گئی۔ پھر اس شخص کے لئے اسےملا دیا گیا ‘ تو اس نے بھی سر بلندی حاصل کی۔ یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتایئے۔ میرے والد آپ پر قربان ہوں کیا میں نے ٹھیک تعیر بیان کی ہے یا غلط بیان کی ہے ؟ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم نے کچھ تعبیر غلط بیان کی ہے ‘ اور کچھ ٹھیک بیان کی ہے۔ حضرت ابو بکرؓ نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! مجھے بتایئے کہ میں نے کہاں غلطی کی ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد رفرمایا : ’’تم قسم نہ دو‘‘۔

اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ فَقَالَ: ← اَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ ← ابْنِ شِھَابٍ اَنَّ عُبَیْدَ اللہِ بْنُ عَبْدِ اللہِ ← أَخْبَرْنَ یُوْنُسُ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَقَالَ

Hadith 111

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 112

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ اَخْبَرَنِی الْعَلَاءُ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ دَعَا اِلٰی ھُدًی کَانَ لَہٗ مِنَ الْاَجْرِ مِثْلُ اُجُورِ مَنْ تَبِعَہٗ لَا یَنْقُصُ مَنْ اُجُورِھِمْ شَیْءٌ وَمَنْ دَعَا اِلٰی ضَلَالَۃٍ کَانَ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلُ اٰثَامِ مَنْ تَبِعَہٗ لَا یَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ اٰثَامِھِمْ شَیْئًا ۔(3:12)

حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: ’’جو شخص ہدایت کی طرف دیتا ہے ‘ تو اس شخص کو ان تمام لوگوں کے اجر جتنا اجر ملے گا ‘ جو اس ہدایت کی پیروی کرتے ہیں اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور جو شخص گمراہی کی طرف دعوت دیتا ہے ‘ اس شخص کو ان تمام لوگوں جتنا گناہ ہو گا ‘ جو اس گمراہی کی پیروی کرتے ہیں اور ان لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہو گی ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 112

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 113

سَمِعْتُ اَبَا خَلِیفَۃَ یَقُوْلُ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بقنَ بَکْرِبْنِ الرَّبِیْعِ بْنِ مُسْلِمٍ یَقُوْلُ سَمِعْتُ الرَّبَیْعَ بْنَ مُسْلِمُ یَقُوْلُ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا یَقُوْلُ: سَمِعْتُ اَبَا ھُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ: مَرَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی رَھْطٍ مِّنْ اَصْحَابِہٖ وَھُمْ یَضْحَکُوْنَ فَقَالَ: لَوْتَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا فَاَتَاہُ جِبْرِیْلُ فَقَالَ: اِنَّ یَقُوْلُ لَکَ لِمَ تُقَنِّطُ عِبَادِیْ قَالَ: فَرَجَعَ اِلَیْھِمْ فَقَالَ سَدِّدُوا وَقَارِبُوْا وَأَبْشِرُوْا۔ (3:66) قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: سَدِّدُوا یُرِیْدُ بِہٖ کُوْنُوْا مُسَدَّدِیْنَ وَالتَّسْدِیدُ لُزُومُ طَرِیْقَۃِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاِتّبَاعُ سُنَّتِہٖ وَقَوْلُہُ: وَقَارِبُوا یُرِیْدُ بِہٖ لَا تَحْمِلُوْا عَلَی الْاَنْفُسِ مِنَ التَّشْدِیدِ مَالَا تُطِیقُونَ وَاَبْشِرُوْا فَاِنَّ لَکُمُ الْجَنَّۃَ اِذَا لَزِمْتُمْ طَرِیْقَتِیْ فِیْ التَّسْدِیْدِ وَقَارَبْتُمْ فِی الْاَعْمَامِ

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ اپنےکچھ اصحاب کےپاس سے گزرے ‘ جو ہنس رہے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’جو چیز میں جانتا ہوں اگر تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو‘‘۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی : بے شک اللہ تعالیٰ آپ سے یہ فرما رہا ہے ‘ آپ کیوں میرے بندوں کو مایوس کر رہے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ ان صحابہ کے پاس واپس تشریف لائے ‘ اور آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ٹھیک رہو۔ میانہ روی اختیار کرو اور خوش خبری حاصل کرو۔ (امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں : ) لفظ ’’سددوا‘‘ سے مرایہ ہے کہ تم لوگ تسدید ختیار کرنے والے بن جاؤ اور تسدید سے مراد نبی اکرمﷺ کے طریقے کو لازم پکڑنا اور آپ کی سنت کی پیروی کرنا ہے۔ روایت کے الفاظ ’’ وقاربوا‘‘ سے مراد یہ ہے : تم اپنے اوپر ایسی شدت لازم نہ کرو جس کی تم طاقت نہیں رکھتے۔ روایت کے الفاظ ’’وابشروا ‘‘ سے مرادیہ ہے : تم یہ خوشخبری حاصل کرو کہ جب تم میرے طریقے کو لازم پکڑ لو گے اور اعمال میں میانہ روی ختیار کرو گے تو تمہیں جنت ملے گی۔

سَدِّدُوا وَقَارِبُوْا وَأَبْشِرُوْا۔ ← فَرَجَعَ اِلَیْھِمْ ← لَکَ لِمَ تُقَنِّطُ عِبَادِیْ ← إِنْ ← لَوْتَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا فَاَتَاہُ جِبْرِیْلُ ← مَرَّ رَسُوْلُ اللہِ عَلٰی رَھْطٍ مِّنْ اَصْحَابِہٖ وَھُمْ یَضْحَکُوْنَ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدًا ← الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بقنَ بَکْرِبْنِ الرَّبِیْعِ بْنِ مُسْلِمٍ ← اَبَا خَلِیْفَۃَ

Hadith 113

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 114

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْاَعْلٰی حَدَّثَنَا وَھْبُ بْنُ جَرِیْرٍ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ اَیَّوْبَ یَحَدِّثُ عَنْ یَّزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِمَاسَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ۔ (4:1)

حضرت زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں : ’’ہم لوگ نبی اکرمﷺ کی موجودگی میں مختلف ٹکڑوں سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ‘‘۔

کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ۔ ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِمَاسَۃَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 114

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 115

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ اَنْبَاَنَا عَبْدُ اللہِ عَنْ مُوْسَی بْنِ عَلِیِّ بْنِ رَبَاِحِ قَالَ سَمِعْتُ اَبِیْ یُقُوْلُ: سَمِعقتُ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرِ الْجُھَنِیَّ یُقُوْلُ خَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِی الصُّفَّۃِ فَقَالَ: اَیُّکُمْ یُحِبُّ اَنْ یَّغْدُوَ اِلٰی بُطْحَانَ اَوِ الْعَقِیْقِ فَیَاْتِیَ کُلَّ یُوْمٍ بِنَاقَتَیْنِ کَوْمَاوَیْنِ زَھْرَا وَیْنِ یَاْخُذُھُمَا فِیْ غَیْرِ اِثْمٍ وَلَا قَطِیْعَۃِ رَحِمٍ ؟ قَالُوْا: کُلُّنَا یَا رَسُوْلَ اللہِ یُحِبُّ ذٰلِکَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: فَلَانْ یَّغْدُوَ اَحَدُ کُمْ اِلَی الْمَسْجِدِ فَیَتَعَلَّمَ اٰیَتَیْنِ مِنْ کِتَابِ خَیْرٌ لَہٗ مِنْ نَاقَتَیْنِ وَثَلَاتٌ خَیْرٌ مِنْ ثَلَاثٍ وَاَرْبَعٌ خَیْرٌ مِنْ عِدَادِھِنَّ مِنَ الْإِبِلِ ۔(1:2)

حضرت عقبہ بن عامر جہنیؓ بیان کرت ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ باہر تشریف لائے ہم اس وقت صفہ میں موجود تھے۔ آپ نے فرمایا : تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے ‘ وہ بطحان یا وعقیق جائے ‘ اور روزانہ وہاں سے دو ایسی اونٹنیاں لے آیا کرے ‘ جن کی کو ہان بلند ہو‘ اور ان کی رنگت چمکدار ہو۔ وہ کسی گناہ اور کسی قطع رحمی کے بغیر انہیں حاصل کر لے۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے ہر ایک شخص اس بات کو پسند کرے گا تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’کوئی شخص مسجد جائے ‘ اور اللہ کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرے۔ یہ اس کے لئے دو اونٹنیوں سے زیادہ بہتر ہے ‘ اور تین (آیات کا علم حاصل کرنا ) تین اونٹنیاں حاصل کرنے سے زیادہ بہتر ہے ‘ اور چار (آیات کا علم حاصل کرنا ) ان کی تعداد کے جتنے اونٹ حاصل کرنے سے بہتر ہے‘‘۔ (امام ابن حبانؓ فرماتے ہیں : ) اس روایت میں ایک کلمہ پوشیدہ (یعنی محذوف ) ہے اور وہ یہ ہے : ’’ اگر وہ اسے صدقہ کر دے ‘‘ ۔ تو نبی اکرمﷺ کے اس فرمان سے مراد یہ ہو گی : آدمی کا اللہ کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرنا اس کے لئے دو یا تین اونٹنیوں کو صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے : اللہ کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرنا دو یا تین اونٹنیوں یا ان جتنے اونٹوں کا صدقہ کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے کیونکہ یہ بات نا ممکن ہے کہ نبی اکرمﷺ اللہ کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرنے کے اجر کو دنیاوی سازو سامان کے حصول سے تشبیہ دیں۔ اس لئے میں نے جو وضاحت کی ہے : وہ درست ہو گی۔ جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے ۔

اَیُّکُمْ یُحِبُّ ← خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ ← سَمِعقتُ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرِ الْجُھَنِیَّ ← أَبِي ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ سُفْیَانَ

Hadith 115

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 116

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ یَّحْیَی بْنِ اَبِیْ اَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ جَدِّہِ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَاِنَّہٗ یَاْتِیْ یُوْمَ الْقِیَامَۃِ شَافَعًا لِاَصْحَابِہٖ وَعَلَیْکُمْ بِالزَّھْرَاوَیْنِ الْبَقَرَۃِ وَآلِ عِمْرَانَ فَاِنَّھُمَا تَاْتِیَانِ یُوْمَ الْقِیَامَۃِ کَاَنَّھُمَا غَمَامَتَانِ اَوْ کَاَنَّھُمَا غَیَایَتَانِ اَوْ فِرْقَانِ مِنْ طَیْرٍ تُحَاجَّانِ عَنْ اَصْحَابِھِمَا وَعَلَیْکُمْ بِسُورَۃِ الْبَقَرَۃِ فَاِنَّ اَخْذَھَا بَرَکَہٌ وَتَرْکَھَا حَسْرَۃٌ وَلَا یَسْتَطِیْعُھَا الْبَطَلَۃُ (1:80ٌ

حضرت ابو امامہ ؓ ‘روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا ہے : ’’قرآن کا علم حاصل کرو‘ کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کے لئے شفاعت کرنے والا بن کے آئے گا اور تم لوگوں پر دو چمکدار چیزوں کو اختیار کرنا لازم ہے۔ سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران ‘ کیونکہ یہ دونوں قیامت کے دن یوں آئیں گی‘ جیسے دو بادل ہیں ‘ یا جیسے یہ دو سایہ دار چیزیں ہیں ‘ یہ پرندوں کی دو قطاریں ہیں اور یہ اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں بحث کریں گی۔ (یعنی ان کی شفاعت کریں گی ) تم لوگوں پر سورہ بقرہ پڑھنا لازم ہے ۔ اسے اختیار کرنا برکت ہے ‘ اور اسے ترک کر دینا حسرت ہے۔ اور باطل لوگ ( یعنی جادوگر) اس کی استطاعت نہیں رکھتے‘‘۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← جَدِّهِ، ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← یَّحْیَی بْنِ اَبِیْ اَبِیْ کَثِیْرٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 116

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 117

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِیْرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیْدِ عَنْ مِسْعَرِ بْنِ کِدَامٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللہِ ھَلْ بَعْدَ ھٰذَا الْخَیْرِ الَّذِیْ نَحْنُ فِیْہِ مِنْ شَرٍّ نَحْذَرُہٗ قَالَ: یَا حُذَیْفَۃُ عَلَیْکَ بِکِتَابِ اللہِ فَتَعَلَّمْہُ وَاتَّبِعْ مَافِیْہِ خَیْرًا لَّکَ ۔(3:65)

حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اس وقت جس بھلائی پر گامزن ہیں کیا اس کے بعد کوئی ایسی برائی بھی آئے گی جس سے بچنا چاہئے ؟ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا : اے حذیفہ! تم پر اللہ کی کتاب کو اختیار کرنا لازم ہے‘‘۔ اس کا علم حاصل کرو اور اس میں تمہارے لئے جو بھلائی ہے ‘ اس کی پیروی کرو۔

حُذَيْفَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 117

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 118

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِیُّ اَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحَمٰنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عُثْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: خَیْرُ کُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہٗ۔ قَالَ اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: فَھٰذَا الَّذِیْ أَقْعَدَنِیْ ھٰذَا الْمَقْعَدَ۔ (1:2)

حضرت عثمان غنیؓ رروایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’تم میں زیادہ بہتر شخص وہ ہے ‘ جو قرآن کا علم حاصل کرے اور اس کی تعلیم دے ‘‘۔

عُثْمَانَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِیُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 118

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 119

اَخْبَرَنَا الْحَسَنٌ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ عَنْ مُوْسَی بْنِ عَلِیِّ قَالَ سَمِعْتُ اَبِیْ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ قُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاقْتُوْہُ فَوَا لَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَھُوَ اَشَدُّ تَفَصِّبًا مِّنْ الْمَخَاضِ فِی الْعِقْلِ ۔(1:2)

حضرت عقبہ بن عامرؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’قرآن کا علم حاصل کرو اور اسے سنبھال کے رکھو۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ۔ یہ آدمی کے ذہن سے اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے ‘ جتنی تیزی سے کوئی اونٹنی رسی میں سے نکلتی ہے ‘‘۔

قُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ ← أَبِي ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 119

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 120

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ مَوْھَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّیْتُ عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ نَھِیکٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآن۔ (2:61)

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’جو شخص قرآن کو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا ‘ وہ ہم میں سے نہیں ہے ‘‘۔ (امام حبان ؓ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’وہ ہم میں سے نہیں ہے ‘‘۔ یہ اطلاع دینے کے حوالے سے ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص یہ عمل کرتا ہے ‘ وہ ہماری مانند (عمل کرنے والا ) نہیں ہے ‘ کیونکہ ہم عمل نہیں کرنے ہیں ‘اس لئے جو ایسا کرے گا وہ ہماری مانند نہیں ہو گا۔

لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآن۔ ← رَسُولِ اللَّهِ ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← عُبَیْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ نَھِیکٍ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← اللَّیْتُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 120

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr