Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 97

اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالْاُبُلَّۃِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدٍ الْکِنْدِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا بْنُ اِدْرِیْسَ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَّسْرُوْقٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ بِیْنَمَا النَّبِیُّ صَلّٰی للہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ فِیْ بَعْضِ حِیطانِ الْمَدِیْنَۃِ مُتَوَکِّئًا عَلٰی عَسِیبِ اِذْ جَاءَ تْہٗ الْیَھُوْدُ فَسَاَلَتْہُ عَنِ الرُّوحِ فَنَزَلَتْ( وَیَسْاَلونَکَ عَنِ الرُّوح قُلِ الرُّرحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّی وَمَا اُوتِیتُمْ مِنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا )۔(3:64)

حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں : ’’ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ مدینہ منورہ کے ایک باغ میں ایک ٹہنی ( تنے ) کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ۔ کچھ یہودی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے روح کے بارے میں دریافت کیا : تو یہ آیت نازل ہوئی: ’’لوگ تم سے روح کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ‘ تم فرما دو ! روح میرے پروردگار کے امر کا نتیجہ ہے اور تم لوگوں کو بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے‘‘۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← بن إدريس، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ

Hadith 97

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 98

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ اَلازْدِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ اَخْبَرَنَا عِیْسَی بْنُ یُوْنُسَ قَالَ حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ کُنْتُ اَمْشِیْ مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ حَرْثٍ بِالْمَدِیْنَۃِ وَھُوَ مُتَّکِءٌ عَلٰی عَسِیبِ فَمَرَّ بِنَفَرِ مِّنَ الْیَھُوْدِ فَقَالَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ: لَوْ سَاَلْتُمُوہُ فَقَالَ بَعْضُھُمْ : لَاتَسْاَلُوہُ فَیُسْمِعَکُمْ مَاتَکْرَھُوْنَ فَقَالُوْا: یَا اَبَا الْقَاسِمِ اَخْبِرْنَا عَنِ الرُّوحِ فَقَامَ سَعَۃً یَنْتَظِرُ الْوَحْیَ فَعَرَفْتُ اَنَّہٗ یُوْحٰی عَلَیْہِ فَتَاَخَّرْتُ عَنْہُ حَتّٰی صَعِدَ الْوَحْیُ ثُمَّ قَرَاَ( وَیَسْاَلونَکَ عَنِ الرُّوح قُلِ الرُّوحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیِ وَمَا اُوتِیتُمْ مِنَا لْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا) الآیۃ (الاسراء 8:5)۔3:64)

حضرت عبدللہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرمﷺ کے ہمراہ مدینہ منورہ کے ایک کھیت سے گزر رہا تھا ۔ نبی اکرمﷺ کھجور کی ایک شاخ سے ٹیک لگا کر ( چل رہے تھے ) کچھ یہودی وہاں سے گزرے ‘ تو ان میں ایک نے دوسرے سے کہا : اگر تم ان سے کوئی سوال کرو ( تو یہ مناسب ہو گا ) تو ایک نے کہا : تم ان سے سوال نہ کرو ‘ کیونکہ وہ تمہیں کوئی ایسا جواب بھی دے سکتے ہیں ‘ جو تمہیں پسند نہ آئے۔ پھر ان لوگوں نے کہا : اے حضرت ابو القاسم ؓ ! آپ ہمیں روح کے بارے میں بتائیے ‘ تو نبی اکرمﷺ کچھ دیر تک کھڑے ہو کر وحی کا انتظار کرتے رہے۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے ۔ اس لئے میں آپ سے پیچھے ہٹ گیا۔ یہاں تک کہ جب وحی نازل ہو گئی ‘ تو آپﷺ نے یہ آیت تلاوت کی۔ ’’لوگ تم سے روح کے بارے میں دریافت کرتے ہیں : تم فرما دو ! روح میرے پروردگار کے امر کا نتیجہ ہے ‘ اور تم لوگوں کو تھوڑا سا علم دیا گیا ہے ‘‘۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 98

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 99

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی قَالَ حَدَّثَنَا مَسْرُوْقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ قَالَ حَدَّثَنَا بن اَبِیْ زَائدَۃَ قَالَ حَدَّثَنِیْ دَاؤدُبْنُ اَبِیْ ھِنْدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ بن عَبَّاسٍ قَالَ س قَالَتْ قُرَیْشٌ لِلْیَھُوْدِ اَعْطُونَا شَیْئًا نَسْاَلُ عَنْہُ ھٰذَا الرَّجُلَ فَقَالُوْا سَلُوہُ عَنِ الرُّوحِ فَسَاَلُوہُ فَنَزَلَتْ( وَیَسْاَلونَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّی وَمَا اُوتِیتُمْ مِنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا) قُلْ لَوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِکَلِمَاتِ رَبِّی) الْآیَۃَ (الکھف:109)۔3:64)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتےہیں : قریش نے یہودیوں سے کہا : تم ہمیں کسی چیز کے بارے میں بتاؤ جس جے بارے میں ہم ان صاحب (یعنی نبی کرمﷺ )سے دریافت کریں ‘ تو ان لوگوں نے کہا : تم ان سے روح کے بارے میں دریافت کرو‘ قریش نے بنی اکرمﷺ سے دریافت کیا : تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ’’لوگ تم سے روح کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ‘ تم فرما دو ! روح میرے پروردگار کے امر کا نتیجہ ہے ‘ اور تم لوگوں کو تھوڑا سا علم دیا گیا ہے‘‘۔ تو ان لوگوں نے کہا : کیا ہمیں تھوڑا سا علم دیا گیا ؟ جبکہ مہیں تو رات عطا کی گئی ہے ‘ اور جس شخص کو تورات دی گئی ہو ‘ اسے بہت زیادہ بھلائی عطا کر دی گئی ‘ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ’’تم یہ فرما دو ! اگر سمندر میرے پروردگار کے کلمات کے لئے سیاہی بن جائیں‘‘۔

الرُّوحِ فَسَاَلُوہُ فَنَزَلَتْ( وَیَسْاَلونَکَ ← سَلُوہُ ← قُرَیْشٌ لِلْیَھُوْدِ اَعْطُونَا شَیْئًا نَسْاَلُ عَنْہُ ھٰذَا الرَّجُلَ ← س ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← داودبن أبي هند ← بن أَبِي زَائِدَةَ، ← مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 99

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 100

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُو الطاھر بن السرح قال حدثنا بن وھب قال أخبرنی یونس عَنِ ابْنِ شِھَابٍ اَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ حَدَّثَۃٗ اَنَّ عَائشَۃَ قَالَتُ: اَلَا یُعْجِبُکَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ جَاءَ فَجَلَسَ اِلٰی جَانِبِ حُجْرَتِیْ یُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَکُنْ بَّسْرُدُ الْحَدِیْثُ کَسَرْدِ کُمْ۔ (2:109)

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں : کیا تم لوگوں کو حضرت ابو ہریرہؓ پر حیرت نہیں ہوتی ہے؟ وہ میرے حجرے کے ایک طرف آ کر بیٹھتے ہیں اور نبی اکرمﷺ کی احادیث بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ مجھے یہ بات سنا رہے ہوتے ہیں ‘ حالانکہ میں اس وقت نوافل ادا کر رہی ہوتی ہوںا ور میرے نوافل مکمل کرنے سے پہلے ہی وہ ( احادیث بیان کر کے ) اٹھ کے چلے بھی جاتے ہیں۔ اگر میری ان سے ملاقات ہوتی ‘‘ تو میں انہیں ٹوکتی ‘ کیونکہ نبی اکرمﷺ اس طرح تیزی کے ساتھ بات چیت نہیں کرتے ہیں ۔ جس طرح تم لوگ تیزی سے بات چیت کرتے ہو‘‘۔ (امام انب حبانؓ فرماتے ہیں : ) سیّدہ عائشہؓ کا یہ کہنا کہ ’’ میں انہیں ٹوکتی ‘‘۔ا س سے مراد ان کے تیزی سے روایت بیان کرنے پر ٹوکنا ہے ‘ محض روایت بیان کرنے پر ٹوکنا مراد نہیں ہے۔

رَسُوْلِ اللہِ لَمْ یَکُنْ بَّسْرُدُ الْحَدِیْثُ کَسَرْدِ کُمْ۔ ← اَلَا یُعْجِبُکَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ جَاءَ فَجَلَسَ اِلٰی جَانِبِ حُجْرَتِیْ ← اَنَّ عَائشَۃَ ← ابْنِ شِھَابٍ اَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 100

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 101

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیقَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ بَیْنَمَا النَّبِیُّ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْسِمُ غَنِیمَۃً بِالْجِعْرَنَۃِ اِذْ قَالَ لَہٗ رَجُلٌ: اعْدِلُ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَا وَیْلِیْ لَقَدْ شَقِیْتُ اِنْ لَّمْ أَعْدِلْ۔(3:65)

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ ’’جعرانہ‘‘ میں مالِ غنیمت تقسیم کر رہے تھے۔ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں گزارش کی : آپ عدل سے کام لیجئے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد مریا : ’’ہائے افسوس ! اگر میں عدل سے کام نہیں لوں گا ‘ تو پھر تو میں برے نصیب والاہو جاؤں گا ‘‘۔

لَہٗ رَجُلٌ: اعْدِلُ فَقَالَ النَّبِیُّ یَا وَیْلِیْ لَقَدْ شَقِیْتُ اِنْ لَّمْ أَعْدِلْ۔(3:65) ← بَیْنَمَا النَّبِیُّ یَقْسِمُ غَنِیمَۃً بِالْجِعْرَنَۃِ اِذْ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← اَبُوْ خَلِیقَۃَ

Hadith 101

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 102

أَخْبَرْنَا بْنِ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا بْنُ وَھَبٍ أَخْبَرْنَا یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّہٗ تَمَاری ھُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَیْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِیُّ فِیْ صَاحِبِ مُوْسٰی فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ھُوَ الْحَضِفُ فَمرَّ بِھِمَا اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ فَدَعَاہُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ: یَا اَبَاا الطُّفَیْلِ ھَلُمَّ اِلَیْنَا فَاِنِّیْ قَدْ تَمَارَیْتُ اَنَا وَصَاحِبِیْ ھٰذَا فِیْ صَاحِبِ مُوْسٰی الَّذِیْ سَاَلَ مُوْسٰی السَّبِیْلَ اِلٰی لُقِیْہِ فَھَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللہِ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ فِیْہِ شَیْئًا ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: بِیْنَمَا مُوْسٰی فِیْ مَلَاً مِّنْ بَنِیْ اِسْرَائیلَ ِذْ جَاءَہُ رَجُلٌ فَقَالَ لَۂ ھَلْ تَعْلَمُ اَحَدًا اَعْلَمَ مِنْکَ ؟ فَقَالَ مُوْسٰی: لَا فَاَوْحَی اللہُ اِلٰی مُوْسٰی بَلْ عَبْدُنَا الْخَضِرُفَسَاَلَ مُوْسَی الشَّبِیْلَ اِلٰی لُقِیّہِ فَجَعَلَ اللہُ لَہُ الْحُوتَ اٰیَۃُ وَقِیْلَ لَہٗ اِذَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَارْجِعُ فَاِنَّکَ تَلَقَّاہُ فَسَارَ مُوْسٰی مَاشَاءَ اللہُ اَنْ یَّسِیرَ ثُمَّ قَالَ لِفَتَاہُ: اٰتِنَا غَدَاءَ نَا فَقَالَ لِمُوْسٰی حِیْنَ سَاَلَہُ الْغَدَاءَ: اَرَاَیْتَ اِذْ اَوَیْنَا اِلَی الصَّخْرَۃِ فَاِنِّیْ نَسِیتُ الْحُوتَ وَمَا اَنْسَابِیْہِ اِلَّا الشَّیْطَانُ اَنْ اَذْْکُرَہُ وَقَالَ مُوْسٰی لِفَتَاہُ: ذٰلِکَ مَا کُنَّا تَبْغِی فَارْتَدَّا عَلٰی اٰثَارِھِمَا قَصَصًا فَوَجَدَا خَضِرًا وَکَانَ مِنْ شَاْنِھِمَا مَا قَصَّ اللہُ فِیْ کِتَابِہٖ۔ (3:4)

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ ان کی اور حر بن قیس فزاری کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں ملاقات ہو گئی ( یعنی جن سے ملنے کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام گئے تھے )۔ حضرت ابن عباس ؓ کا کہنا تھا : وہ حضرت خضر علیہ السلام تھے۔ حضرت ابی بن کعبؓ دونوں صاحبان کے پاس گزرے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے انہیں بلایا اور بولے : اے ابو طفیل ! آپ ہمارے پاس تشریف لائے۔ میری اور میرے اس ساتھی کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے والے ان صاحب کے بارے میں بحث ہو گئی ہے ‘ جس کے بارے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ دعا مانگی تھی کہ ان سے ملاقات کا راستہ مل جائے ‘ تو کیا آپ نے اس بارےمیں نبی اکرمﷺ کو کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ حضرت ابی بن کعبؓ نے بتایا : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ‘ بنی اسرائیل کے ایک گروہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا: کیا آپ کسی ایسے شخص سے واتف ہیں؟ جو آپ سے زیادہ علم رکھتا ہو؟ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا : جی نہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی ( ایسا نہیں ہے ) بلکہ ہمارا بندہ خضر ( تم سے زیادہ علم رکھتا ہے ) تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے ملاقات کی دعا مانگی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو ان کے لئے نشانی قرار دیا ان سے ہ کہا گیا : جب تم مچھلی کو گم کرو گے ‘ تو تم واپسی کی طرف آنا تمہاری اس سے ملاقات ہو جائے گی۔ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام روانہ ہوئے اور جتنا اللہ کو منظور تھا وہ چلتے رہے۔ انہوں نے اپنے ساتھی سے کہا : ہمارا کھانا ہمارے پاس لے کر آؤ ‘ تو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سےکہا : اس وقت جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کھانا طلب کیا تھا ‘ کیا آپ نے یہ بات ملاحضہ فرمائی ؟ جب ہم چٹان کے سائے میں آئے تے ‘ تو میں مچھلی کو بھول گیا تھا۔ اور اس کاذکر کرنا مجھے شیطان نے ہی بھلایا تھا۔ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے کہا : یہ وہ جگہ ہے ‘ جسے ہم تلاش کر رہے تھے ‘ تو وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس آئے ‘ تو ان دونوں نے حضڑت خضر علیہ السلام کو پا لیا ‘ پھر ان دونوں کا وہ واقعہ ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بن قتيبة

Hadith 102

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 103

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بنُ اِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ مَوْلٰی ثَقِیْفٍ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْحَنْظَلِیُّ قَالَ اَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْاَصَمُّ قَالَ حَدَّثَنَا یَزِیْدَ بْنِ الْاَصَمِّ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ اَرَاَیْتَ جَنَّۃُ عَرْضُھَا السَّمَاوَاتُ وَالْاَرْضُ فَاَبْنَ النَّارُ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَرَاَیْتَ ھٰذَا اللَّیْلَ قَدْ کَانَ ثُمَّ لَیْسَ شَیْءٌ اَیْنَ جُعِلَ ؟ قَالَ: اَللّٰہُ اَعْلَمُ قَالَ فَاِنَّ اللہِ یَفْعَلُ مَایَشَاءُ۔ (3:65)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی : اےحضرت محمدﷺ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں‘ جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ہے ‘ تو پھر جنہم کہاں ہے ؟۔ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا : تم نے اس رات کے بارے میں غور کیا ؟ پہلے یہ تھی ‘ پھر یہ نہیں ہوتی۔ تو یہ کہاں کے آتی ہے ؟اس نے کہا : اللہ بہتر جانتا ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرلیتا ہے۔

فَاِنَّ اللہِ یَفْعَلُ مَایَشَاءُ۔ ← اللَّهُ أَعْلَمُ ← النَّبِیُّ اَرَاَیْتَ ھٰذَا اللَّیْلَ قَدْ کَانَ ثُمَّ لَیْسَ شَیْءٌ اَیْنَ جُعِلَ ← یَا مُحَمَّدُ اَرَاَیْتَ جَنَّۃُ عَرْضُھَا السَّمَاوَاتُ وَالْاَرْضُ فَاَبْنَ النَّارُ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْاَصَمُّ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← المخزومي ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 103

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 104

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَنِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا فُلَیْحٌ عَنْ ھِلَالِ بْنِ عَلِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللہِ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحَدِّثُ الْقَوْمَ جَاءَہُ اَعْرَبِیُّ فَقَالَ: مَتَی السَّاعَۃُ ؟ فَمَضَی صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحَدِّثُ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: سَمِعَ مَا قَالَ وَکَرِہَ مَا قَالَ وَقَالَ بَعْضُھُمْ: بَلْ لَمْ یَسْمَعْ حَتّٰی اِذَا قَضَی حَدِیْثَہٗ قَالَ: اَبْنَ السَّائلُ عَنِ السَّاعَۃِ ؟ فَقَالَ: ھَااَنَا ذَاقَالَ: اِذَا ٖضُیّعَتِ الْاَمَانَۃُ فَاتْتَظِرِ السَّاعَۃَ قَالَ: فَمَا إضَاعَتُھَا ؟ قَالَ: إِذَا اشْتَدَّ اْلاَمْرُ فَانْتَظِرِ السَّاعَۃَ۔(3:65)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔ ایک دیہاتی آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے دریافت کیا : قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرمﷺ نے اپنی بات جاری رکھی۔ حاضرین میں سے بعض حضرات نے یہ سمجھا کہ اس دیہاتی نے جو کہا ہے ‘ نبی اکرمﷺ نے یہ بات سن لی ہے ‘ اور آپ نے اس کے سوال کو پسند نہیں کیا۔ جبکہ بعض نے یہ سمجھا کہ نبی اکرمﷺ نے اس کی بات سنی ہی نہیں ہے۔ جب نبی اکرمﷺ نے اپنی بات مکمل کر لی تو آپ نے دریافت کیا : قیامت کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ اس نے عرض کی : میں یہاں ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جب امانت کو خائع کیا جائے ‘ تو تم قیامت کا انتظار کرو۔ اس نے دریافت کیا : اس کو ضائع کرنے سے مراد کیاہے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : جب معاملہ شدید ہو جائے ‘ تو تم قیامت کا انتظار کرو۔

إِذَا اشْتَدَّ اْلاَمْرُ فَانْتَظِرِ السَّاعَۃَ۔(3:65) ← فَمَا إضَاعَتُھَا ← السَّاعَۃِ فَقَالَ: ھَااَنَا ذَاقَالَ: اِذَا ٖضُیّعَتِ الْاَمَانَۃُ فَاتْتَظِرِ السَّاعَۃَ ← اَبْنَ السَّائلُ ← وَقَالَ بَعْضُھُمْ: بَلْ لَمْ یَسْمَعْ حَتّٰی اِذَا قَضَی حَدِیْثَہٗ ← وَکَرِہَ مَا ← مَا ← فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: ← الْقَوْمَ جَاءَہُ اَعْرَبِیُّ فَقَالَ: مَتَی السَّاعَۃُ فَمَضَی ← بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللہِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← ھِلَالِ بْنِ عَلِّ ← فُلَيْحٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَنِیُّ

Hadith 104

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 105

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَحْمَدُ بْنِ اَبِیْ عَوْنِ قَالَ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیْلُ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللہِ مَتَی قِیَامُ السَّاعَۃِ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلَی الصَّلَاۃِ فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ قَالَ: اَیْنَ السَّائلُ عَنْ سَاعَتِہٖ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: اَنَا یَا رَسُوْلَ اللہِ قَالَ: مَا اَعْدَدْتَ لَھَا ؟ قَالَ: مَااَعْدَدْتُ لَھَا کَبِیرَ شَیْءٍ وَلَا صَلَاۃٍ وَلَا صِیَامٍ اَوْقَالَ: مَااَعْدَدْتُ لَھَا کَبِیرََ عَمَّلٍ اِلَّا اَنِّیْ اُحِبُّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :الْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ اَوْ قَالَ اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ قَالَ اَنَسٌ: فَمَا رَاَیْتُ الْمُسْلِمِیْنَ فَرِحُوا بِشَیْءٍ بَعْدَ الْاِسْلَامِ مِثْلَ فَرَحِھِمْ بِھٰذَا۔(3:65)

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرمﷺ نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا ۔ قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہا ں ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ( یہاں) ہوں ۔ نبی اکرﷺ نے فرمایا : تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے عرض کی : میں نے اس کے لئے کوئی بڑی تیاری تو نہیں کی ‘ نہ تو نماز کے حوالے سے اور نہ ہی روزے کے حوالے سے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اس نے عرض کی : میں نے کسی بڑے عمل کے حوالے سے تیاری نہیں کی ہے ‘ البتہ میں اللہ اور اس ک رسول سے محبت رکھتا ہوں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ آدمی قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہو گا ‘ جس سے وہ محبت رکھتا ہے‘‘۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ’’تم اس کے ساتھ ہو گے ‘ جس سے تم محبت رکھتے ہو‘‘۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں : میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے بعد اور کسی بات پر اتنا خوش ہوتے ہوئے نہیں دیکھا ‘ جتنا وہ اس بات پر خوش ہوئے تھے۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Hadith 105

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 106

أَخْبَرَنَا بْنِ قُتَیْبَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی قَالَ حَدَّثَنَا بن وھب قال أَخْبَرْنَا یونس عَنِ ابْنِ شِھَابِ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَنَسٌ بْنُ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِیْنَ زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلّٰی لَھُمْ صَلَاۃَ الظُّھْرِ فَلَمَّا سَلَّمَا قَامَ عَلَ الْمِنْبَرِ فَذَکَرَ السَّاعَۃَ وَذَکَرَ اَنْ قَبْلَھَا اُمُوْرًا عِظَامًا ثُمَّ قَالَ: مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَّسٓاَلَتِیْ عَنْ شَیْءٍ فَلْیَسْاَلْنِیْ عَنْہُ فَوَاللہِ لَا تَسْاَلُوْنِیْ عَنْ شَیْءٍ اِلَّا حَدَّثْتُکُمْ بِہٖ مَادُمْتُ فِیْ مَقَامِی قَالَ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: فَاَکْثَرَ النَّاسُ الْبُکَاءَ حِیْنَ سَمِعُوا ذٰلِکَ مِنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَکْثَرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّقُولَ: سَلُوْنِیْ سَلُوْبِیْ فَقَامَ عَبْدُاللہِ بْنُ حُذَافَۃَ فَقَالَ: مَنْ اَبِیْ رَسُوْلَ اللہِ ؟ قَالَ: اَبُوکَ حُذَافَۃُ فَلَمَّا اَکْثَرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ اَنْ یَّقُوْلَ؛ سَلُوْنِیْ بَرَکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلٰی رُکْبَتَیْہِ قَالَ: یَارَسُوْلَ اللہِ رَضِیْنَا بِاللہِ رَبًّا وَّبِالْإِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَسُوْلًا قَالَ: فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللہِ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ قَالَ عُمَرُ ذٰلِکَ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ عُرِضَ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ وَانَّارُ اٰنِفًا فِیْ عُرْضِ ھٰذَا الْحَائطِ فَلَمْ اَرَکَالْیَوْمِ فِی الْخَیْرِ وَالشَّرِ۔(3:65)

ابن شہاب بیان کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک ؓ نے مجھے بتایا : ایک دن نبی اکرمﷺ سورج ڈھل جانے ک بعد باہر تشریف لائے۔ آپ نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ منبر پر کھڑے ہو گئے۔ آپ نے قیامت کا تذکرہ کیا اور اس بات کا تذکرہ کیا کہ اس پہلے کچھ بڑے حیرت انگیز ( واقعات رونما ہوں گے) آپ نے ارشاد فرمایا : جو شخص مجھ سے کسی بھی چیز کے بارے میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہو‘ وہ مجھ سے اس بارے میں دریافت کرے۔جب تک میں اس جگہ پر کھڑا ہوا ہوں۔ اللہ کی قسم ! تم مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں دریافت کرو گے ‘ میں تم لوگوں کو اس کے بارے میں بتا دو گا۔ حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : جب لوگوں نے نبی اکرمﷺ کی یہ بار سنی تو انہوں نے زیادہ رونا شروع کر دیا اور نبی اکرمﷺ نے بکثرت یہ کہنا شروع کیا : تم لوگ مجھ سے سوال کرو۔ تم لوگ مجھ سوال کرو‘ تو حضرت عبد اللہ بن حذافہؓ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا باپ کون ہے ؟ آپب نے ارشاد فرمایا : تمہارا باپ حذافہ ہے۔ جب نبی اکرمﷺ مسلسل یہ بات ارشاد فرماتے رہے کہ تم لوگ مجھ سے کچھ پوچھو ‘ تو حضرت عمر بن خطابؓ گھٹنوں کے بل کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ‘ اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمدﷺ کے رسول ہونے سے راضی ہیں۔ (یعنی ان پر ایمان رکھتے ہیں ) راوی کہتے ہیں : جب حضرت عمؓ نے یہ کہا ‘ تو نبی اکرمﷺخاموش ہو گئے ‘ پھر نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی: ’’اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ ابھی میرے سامنے اس دیوار پر جبت اور جہنم کو پیش کیا گیا ‘ تو میں نے آج کی طرح بھلائی اور برائی کو ( ایک ساتھ ) کبھی نہیں دیکھا ‘‘۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بن قتيبة

Hadith 106

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 107

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُمَیْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ وَاَبُوْ مُعَاوِیَۃَ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائشَۃَ قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْمَعْ قِرَاءَ رَجُلٍ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ: یَرْحَمَہُ اللہ لَقَدْ أَذْکَرَنِیْ اٰیَۃً کُنْتُ أُنْسِیْتُھَا۔ (5:17)

سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ مسجد میں ایک شخص کی قرأت سن کر یہ فرماتے تھے: ’’اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے‘ اس نے مجھے وہ آیت یاد کروادی ہے ‘ جو مجھے بھلادی گئی تھی ‘‘۔

یَرْحَمَہُ اللہ لَقَدْ أَذْکَرَنِیْ اٰیَۃً کُنْتُ أُنْسِیْتُھَا۔ ← کَانَ النَّبِیُّ یَسْمَعْ قِرَاءَ رَجُلٍ فِی الْمَسْجِدِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدَةُ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 107

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 108

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِیْلٍ حَدَّثَنَا ھِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا اَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ حَدَّثَنَا الاوزاعی عَنِ ابْنِ شِھَابٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیّبِ سَمِعَ اَبَا ھُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ قَالَ عُمَرُبْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ یَا رَسُوْلَ اللہِ نَعْمَلُ فِیْ شَیْءٍ نَاْتَنِفُہُ اَمْ فِیْ شَیْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْہُ قَالَ: بَلْ فِیْ شَیْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْہُ قَالَ: فَفِیْمَ الْعَمَلُ ؟ قَالَ: یَاعُمَرُ لَا یُدْرَکُ ذَاکَ اِلَّا بِالْعَمَلِ قَالَ : اِذً نَجْتَھِدُ یَا رَسُوْلَ اللہِ۔(3:30)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں :حضرت عمر بن خطاب ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم جو عمل کرتے ہیں ‘ کیا وہ پیدا ہوتا ہے؟ یا یہ کسی ایسی صورت میں ہے ‘ جو پہلے سے طے ہو چکی ہے ؟ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : یہ ایسی صورت میں ہے ‘ جوپہلے سے طے ہو چکی ہے۔ حضرت عمرؓ نے عرض کی : پھر عمل کرنے کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشار فرمایا : اے عمر ! اس (نتیجے تک ) صرف عمل کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر تو ہم اہتمام کے ساتھ عمل کریں گے۔

عُمَرُبْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ،

Hadith 108

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr