Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 85

اَخْبَرَنَا بْنِ خُزَیْمَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّازَّقِ قَالَ: اَبْبَاَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ قَالَ اَتَیْستُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِیَّ قَالَ: مَا جَاءَ بِکَ؟ قَالَ: جِنْتُ اَنْبِطُ الْعِلْمَ قَالَ: فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہَ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَا مَنْ خَارِجِ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہٖ یَطْلُبُ الْعِلْمَ اِلَّا وَضَعَتْ لَہُ الْمَلَائکَۃُ أَجْنِحَتَھَا رِضًا بِمَا یَصْنَعُ۔ (1:2)

زر بیان کرتے ہیں : میں حضرت صفوان بن عسال مرادی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ انہوں نے دریافت کیا : تم کیوں آئے ؟ تو زر نے جواب دیا : میں علم حاصل کرنے کے لئے آیا ہوں ‘ تو حضرت صفوان ؓ نے کہا : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’جوشخص اپنے گھر علم کے حصول کے لئے نکلتا ہے ‘ تو فرشتے اس شخص کے اس عمل سے راضی ہو کر اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← فَإِنِّي ← جِنْتُ اَنْبِطُ الْعِلْمَ ← ما جاء بك ← اَتَیْستُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِیَّ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← اَبْبَاَنَا مَعْمَرٌ ← عَبْدُالرَّازَّقِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 85

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 86

اَخْبَرَنَا عُمَرُبْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانِ قَالَ حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ عَنْ مَّالِکٍ عَنْ اَسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ اَنَّ مُرَّۃَ مَوْلٰی عَقِیْلِ بْنِ طَالِبٍ اَخْبَرَہُ عَنْ اَبِیْ وَافِدٍ اللَّیْثِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَمَا ھُوَ جَالِسٌ فِی الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ معَہٗ اَذْ اَقْبَلَ ثَلَاثَہُ نَفَرٍ فَاَقْبَلَ اثْنَانِ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَذَھَبَ وَاحِدٌ فَلَمَّا وَقَفَا عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَلَّمَا فَاَمَّا اَحَلُھُمَا فَرَاَی فُرْجَۃً فِی الْحَلْقَۃِ فَجَلَسَ فِیْھَا وَاَمَّا الْاٰخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَھُمْ وَاَمَّا الثَّالِتُ فَاَدْبَرَ ذَھِبًا فَلَمَّا فَرَغَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَلَا اُخْبَرُ کُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلاثَۃِ اَحَدُھُمْ فَاَوَی اِلَی اللہِ فَاوَاہُ اللہُ وأما الآخر فَاسْتَحْیَی اللہُ مِنْہُ وَاَمَّا الْاٰخَرُ فَاَعْرَضَ فَاَعْرَضَ اللہ عنہ۔ (1:2)

حضرت ابو واقدلیثیؓ بیان کرتےہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے کچھ لوگ آپ کے ساتھ موجود تھے ۔ تین آدمی آئے اور ان میں سے دو آدمی آپ کی طرف آ گئے اور ایک شخص چلا گیا ‘ جب وہ دونوں نبی اکرمﷺ کے پاس پہنچے ‘ تو ان دونوں نے سلام کیا ۔ ان دونوں میں سے ایک نے حلقے میں گنجائش دیکھی تو وہاں بیٹھ گیا ‘ جبکہ دوسرا شخص لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا۔ جہاں تک تیسرے شخص کا تعلق تھا ‘ تو وہ منہ پھیر کر چلا گیا۔س جب نبی اکرمﷺ (اپنی گفتگوں) سے فارغ ہوئے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’کیا میں تمہیں ان تین لوگوں کے بارے میں بتاؤں ؟ ان میں سے ایک شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اسے پناہ عطا کی ۔ دوسرے شخص نے حیا کی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے حیا کی اور تیسرے شخص نے منہ پھیر لیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا ‘‘۔

إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 86

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 87

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ الْمُقَدَّمِیُّ قال حدثنا المقریء قَالَ اَنْبَاَنَا حَیْوَۃُ قَالَ حَدَّثَنِیْ اَبُوْ صَخْرٍ اَنَّ سَعِیْدًا الْمَقْبُرِیَّ اَخْبَرَہُ اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا ھُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ اِنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : مَنْ دَخَلَ مَسْجِدَنَا ھٰذَا لِیَتَعَلَّمَ خَیْرًا اَوْ یُعَلِّمَہُ کَانَ کَالْمُجَاھِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَمَنْ دَخَلَہٗ لِغَیْرِ ذٰلِکَ کَانَ کَالنَّاظِرِ اِلٰی مَالَیْسَ لَہٗ۔(1:2)

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’جو شخص ہماری اس مسجد میں بھلائی کا علم حاصل کرنے کے لئے ‘ اس کی تعلیم دینے کے لئے آتا ہے ‘ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کی مانند ہے ‘ اور جو شخص اس میں ‘ اس کی بجائے کسی اور وجہ سے آتا ہے ‘ تو اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے ‘ جو اس چیز پر نظر رکھےہوئے ہو ‘ جو اس کی نہ ہو‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَّهُ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← اَبُوْ صَخْرٍ اَنَّ سَعِیْدًا الْمَقْبُرِیَّ ← حَيْوَةُ، ← المقرىء ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 87

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 88

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُبْنُ اِسْحَاقَ الثَّقَفِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْاَعْلٰی بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ دَاؤدَ الْخُرَیْبِیُّ قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَیْوَۃَ عَنْ دَاؤدَ بْنِ جَمِیلٍ عَنْ کَثِیْرِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا مَعَ اَبِیْ الدَّرْدَاءِ فِیْ مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا اَبَا الدَّرْدَاءِ اِنِّیْ اَتَیْتُکَ مِنْ مَّدِیْنَۃِ الرَّسُوْلِ فِیْ حَدِیْثٍ بَلَغَنِیْ اَنَّکَ تُحَدِّثُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اَبُو الدَّرْدَاءِ اَمَا جِئْتَ لِحَاجَۃٍ اَمَا جِیْتَ لِتِجَارَۃٍ اَمَا جِیْتَ اَلَّا لِھٰذَا الْحَدِیْثِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَطْلُبُ فِیْہِ عِلْمًا سَلَکَ اللہُ بِہٖ طَرِیْقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّۃِ وَالْمَلَائکَۃُ تَضَعُ اَجْنِحَتَھَارِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ وَاِنَّ الْعَالِمَ یَسْتَغْفِرُ لَۃٗ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَالْحِیتَانُ فِی الْمَاءِ وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ عَلٰی سَائرِ الْکَوَاکِبِ اِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَاءِ اِنَّ الْاَنْبِیَاءَ لَمْ یُوَرِّثُوا دِیْنَارًا وَلَا دِرْھَمًا وَاَوْرَثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ اَخَذَہُ أَحَذَ بِحَظٍّ وَّافِرٍ۔ (1:2)

کثیر بن قیس بیان کرتے ہیں : میں مسجد دمشق میں حضرت ابو درداءؓ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ایک شخٰص آیا اور بولا : اے حضرت ابودرداء ! میں نبی اکرمﷺ کے شہر سے آپ کے پاس آیا ہوں۔ ایک حدیث کے بارے میں ( دریافت کرنے کے لئے ) مجھے یہ پتہ چلا ہے ‘ آپ نبی اکرمﷺ کے حوالے سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں : حضرت ابو درداء ؓ نے دریافت کیا : کیا تم کسی اور کام کے سلسلے میں نہیں آئے ؟ کیا تم تجارت کے لئے نہیں آئے ؟ کیا تم صرف اس حدیث کے لئےآئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ‘ تو حضرت ابو درداءؓ نے فرمایا : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’جو شخص علم کے حصول کے راستے پر چلتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے ‘ اس شخص کو جنت کے راستے پر چلاتا ہے ‘ اور طالب علم سے خوش ہو کر ‘ فرشتے اپنے پر اس پر بچھا دیتے ہیں۔ بے شک عالم شخص کے لئے آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز‘ یہاں تک کہ پانی میں موجود مچھلیاں ’ بھی دعائے مغر ت کرتی ہیں اور عالم شخص کو عبادت گزار شخص پر وہی فضیلت حاصل ہے ‘ جو چودھویں رات کے چاند کو تمام ستاروں پر حاصل ہوتی۔ بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء ‘ وراثت میں دینار یا درہم نہیں چھوڑتے ہیں۔ وہ وراثت میں علم چھوڑتے ہیں ‘ جو شخص اسے حاصل کر لیتا ہے ۔وہ بڑا حصہ حاصل کرتا ہے ‘‘۔ (امام ابن حبانؓ فرماتے ہیں : ) اس حدیث میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ ہم نے جس فضیلت کا ذکر کیا ہے یہ ان علماء کو حاصل ہو گی جو نبی اکرمﷺ کے علم کی تعلیم دیتے ہیں ‘ انہیں حاصل نہیں ہو گی جو دوسرے علوم سکھاتے ہیں ۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا ‘ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’علماء ‘ انبیاء کے وراثت ہیں ‘‘۔ تو انبیاء وراثت میں صرف چھوڑتے ہیں اور ہمارے نبی کا علم آپ کی سنت ہے۔ جو شخص اس کی معرفت سے بے بہرہ ہو گا وہ انبیاء کا وارث نہیں ہو گا۔

كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ ← دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ، ← عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Hadith 88

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 89

اَخْبَرَنَا قُتَیْبَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی قَالَ حَدَّثَنَا بْنُ وَھَبٍ قَالَ أَخْبَرْنَا یُوْنُاسُ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ قَالَ اَخْبَرَنِیْ حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّہُ سَمِعَ مُعَاوِیَۃَ بْنَ اَبِیْ سُفْیَانَ یَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَنْ یُّرِدِ اللہُ بِہٖ خَیْرًا یُفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ ۔ (1:2)

حضرت معاویہ بن ابو سفیانؓ بیان کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ‘ اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے ‘‘۔

مَنْ یُّرِدِ اللہُ بِہٖ خَیْرًا یُفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ← حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّہُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← یُوْنُاسُ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← قُتَيْبَةُ،

Hadith 89

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 90

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ خَالِدٍ اَنْبَاَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ حَدَّثَنَا دَاؤدُ الطَّانِیُّ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَبِیْ خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ اَبِیْ حَازِمٍ قَالَ: سَمَعْتُ ابْنُ مَسْعُوْدٍ یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی للہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ لَا حَسَدَ اِلَّا فِیْ اثْنَتَیْنِ رَجُلٌ اٰتَاہُ اللہُ مَالًا فَسَلَّطَہُ عَلٰی ھَکَکَتِہٖ فِی الْحَقِّ وَرَجُلٌ اٰتَاہُ اللہُ حِکْمَۃً فَھُوَ یَقْضِیْ بِھَا وَیُعَلِّمُھَا ۔(1:2)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’صرف دو طرح کے لوگوں پر رشک کیا جا سکتا ہے ‘ ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا ہو ‘ اور اسے حق کے راستے میں خرچ کرنے کی توفیق دی ہو َ ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی ہے ‘ اور وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہو ‘ اور اس کی تعلیم دیتا ہو‘‘۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← دَاؤدُ الطَّانِیُّ ← مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ خَالِدٍ

Hadith 90

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 91

اَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْسَی بْنُ مُجَاشِعِ حَدَّثَنَا ھُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ الْقَیْسِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِیَادٍ سَمِعْتُ اَبَا ھُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ سَمِعْتُ اَبَا الْقَاسِمِ صَلّٰی للہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ یَقُوْلُ خَیْرُکُمْ أُحَاسِنُکُمْ أَخْلَاقًا إِذَا فَقِھُوْا ۔(1:2)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ابو القاسم ؓ کو یہ ارشاد رماتے ہوئے سنا ہے : ’’تم لوگوں میں سے سب سے زیادہ بہتر وہ لوگ ہیں ‘ جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں ‘ جبکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کر لیں ‘‘۔

خَیْرُکُمْ أُحَاسِنُکُمْ أَخْلَاقًا إِذَا فَقِھُوْا ← اَبَا الْقَاسِمِ صَلّٰی للہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 91

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 92

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ اَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ حَدَّثَنَا ھِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی للہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ قَالَ اَلنَّاسُ مَعَادِنُ فِی الْخَیْرِ وَالشَّرِّ خِیَارُھُمْ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ خِیَارُ ھُمْ فِی الْاِسْلَامِ اِذَا فَقُھُوا۔(3:9)

حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’لوگ بھلائی یا برائی کی کان ( یعنی معدن) ہوتے ہیں ۔ زمانہ جاہلیت میں جو لوگ ان میں بہتر تھے ‘ وہ اسلام میں بھی بہتر شمار ہوں گے ‘ جبکہ وہ ( دین کی سمجھ بوجھ ) حاصل کر لیں ‘‘۔

رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی للہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ ← ھُرَیْرَۃَ ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 92

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 93

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ اَبِیْ کَرِیْمَۃَ ھُوَ الْحَرَّانِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحِیمِ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَبِیْ اُنَیْسَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ قَتَادَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُرَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی للہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ یَقُوْلُ خَیْرُ مَایَخْلُفُ الرَّجُلُ بَعْدَہٗ ثَلَاتٗ وَلَدٌ صَالِحٌ یَدْعُوْا لَہٗ وَصَدَقَۃٌ تَجْرِیْ یَبْلُغُہُ اَجْرُھَا وَعِلْمٌ یُنْتَفَعُ بِہٖ مِنْ بَیْدِہِ۔ (1:2)

عبید اللہ بن ابو قتادہ اپنے والد کہ یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’آدمی اپنے بعد جو چیزیں چھوڑ کر جاتا ہے ‘ ان میں تین چیزیں سب سے بہتر ہیں ‘ وہ نیک اولاد ‘ جو اس کے لئے دعا کرتی رہے ۔ وہ صدقہ جاریہ ‘ جس کا اجر اس تک پہنچتا رہے ‘ اور وہ علم جس کے ذریعے اس شخص (کے مرنے) کے بعد بھی نفع حاصل کیا جا سکے۔ (امام ابن حبانؓ فرماتےہیں : ) ان نوع میں ایک سو احادیث باقی ہیں ‘ جنہیں ہم نے اس کتاب کی مختلف انواع (یعنی ابواب ) میں ذکر کیا ہے ‘ کیونکہ وہ مقام ( ان احادیث کے مضمون ) سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں ۔

سَمِعْتُرَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی للہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ هُوَ الْحَرَّانِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 93

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 94

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَقُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ قَالُوْ احَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ نَافِعِ الْعُمَرِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائشَۃَ قَالَتْ: رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی للہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ أَقِیْلُوْا ذَوِی الْھَیئَاتِ زَلَّاتَھُمْ۔(1:78)

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ روایت کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’نیک لوگوں کی کوتاہیوں سے درگزر کرو‘‘۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ قَالُوْ احَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ نَافِعِ الْعُمَرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 94

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 95

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ اَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحَکَمِ الْبُنَانِیِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ اَبِیْ رَبَاح عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی للہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ قَالَ : مَنْ کَتَمَ عِلْمًا تَلَجَّمَ بِلِجَامٍ مِّنْ نَارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (2:109)

حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’جو شخص علم کو چھپاتا ہے ‘ قیامت کے دن اسے آگ سے بنی ہوئی لگام ڈالی جائے گی‘‘۔

مَنْ کَتَمَ عِلْمًا تَلَجَّمَ بِلِجَامٍ مِّنْ نَارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ ← النَّبِیِّ صَلّٰی للہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَلِیِّ بْنِ الْحَکَمِ الْبُنَانِیِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 95

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 96

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاھِرُ بْنُ السَّرْحِ قَالَ حَدَّثَنَا بْنُ وَھْبٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَیَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُبُلِیِّ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی للہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ قَالَ مَنْ کَتَمَ عِلْمًا اَلْجَمَہُ اللہُ یُوْمَ الْقِیَامَۃِ بِلِجَامٍ مِّنْ نَّارٍ ۔ (2:109)

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’جو شخص علم کو چھپاتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ سے بنی ہوئی لگام ڈالے گا‘‘۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ عَیَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ← بن وَهْبٍ ← أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 96

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr