صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 85
اَخْبَرَنَا بْنِ خُزَیْمَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّازَّقِ قَالَ: اَبْبَاَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ قَالَ اَتَیْستُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِیَّ قَالَ: مَا جَاءَ بِکَ؟ قَالَ: جِنْتُ اَنْبِطُ الْعِلْمَ قَالَ: فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہَ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَا مَنْ خَارِجِ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہٖ یَطْلُبُ الْعِلْمَ اِلَّا وَضَعَتْ لَہُ الْمَلَائکَۃُ أَجْنِحَتَھَا رِضًا بِمَا یَصْنَعُ۔ (1:2)
زر بیان کرتے ہیں : میں حضرت صفوان بن عسال مرادی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ انہوں نے دریافت کیا : تم کیوں آئے ؟ تو زر نے جواب دیا : میں علم حاصل کرنے کے لئے آیا ہوں ‘ تو حضرت صفوان ؓ نے کہا : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’جوشخص اپنے گھر علم کے حصول کے لئے نکلتا ہے ‘ تو فرشتے اس شخص کے اس عمل سے راضی ہو کر اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں‘‘۔
رَسُولِ اللَّهِ ← فَإِنِّي ← جِنْتُ اَنْبِطُ الْعِلْمَ ← ما جاء بك ← اَتَیْستُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِیَّ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← اَبْبَاَنَا مَعْمَرٌ ← عَبْدُالرَّازَّقِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ← بْنِ خُزَيْمَةَ
Hadith 85
