Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْحَيْضِ وَالِاسْتِحَاضَةِ · حديث 1360

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «إِنْ كُنْتُ لَأُوتَى بِالْإِنَاءِ وَأَنَا حَائِضٌ، فَأَشْرَبُ مِنْهُ، ثُمَّ يَأْخُذُهُ فَيَضَعُ فَمَهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ، فَيَشْرَبُ، وَأَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَيَأْخُذُهُ فَيَضَعُ فَمَهُ مَوْضِعَ فِيَّ» (1) . [4: 1]

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات میرے سامنے کوئی برتن آتا میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ میں اس میں سے پانی پی لیتی تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ برتن لے کر اپنا منہ مبارک اس جگہ رکھتے تھے جہاں میں نے اپنے منہ رکھا ہوتا تھا اور پانی پی لیتے تھے۔ اسی طرح میں حیض کی حالت میں کوئی ہڈی چوستی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر اپنا منہ اسی جگہ رکھتے تھے جہاں میں نے منہ رکھا ہوتا تھا۔

«إِنْ كُنْتُ لَأُوتَى ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، ← مِسْعَرٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 1360

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْحَيْضِ وَالِاسْتِحَاضَةِ · حديث 1361

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «إِنْ كُنْتُ لَآتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْإِنَاءِ، فَآخُذُهُ فَأَشْرَبُ مِنْهُ، فَيَأْخُذُ فَيَضَعُ فَاهُ مَوْضِعَ فِيَّ فَيَشْرَبُ، وَإِنْ كُنْتُ لَآخُذُ الْعَرْقَ مِنَ اللَّحْمِ فَآكُلُهُ، فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ فَيَأْكُلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ» (1) . [4: 1]

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی برتن لے کر آتی۔ میںاسے لے کر اس میں سے پانی پی لیتی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر اپنا منہ اس جگہ رکھتے تھے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا اور پانی پی لیتے تھے۔ اسی طرح میں گوشت والی ہڈی لیتی اور اسے کھا لیتی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اسی جگہ رکھتے تھے۔ جہاں میں نے اپن منہ رکھا ہوتا تھا اور آپ اسے کھا لیتے تھے حالانکہ میں اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ بْنِ هانِئٍ ← مِسْعَرٍ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← محمد بن خلاد ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1361

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْحَيْضِ وَالِاسْتِحَاضَةِ · حديث 1362

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتْ بَيْنَهُمُ امْرَأَةٌ أَخْرَجُوهَا (2) مِنَ الْبُيُوتِ، وَلَمْ يَأْكُلُوا مَعَهَا وَلَمْ يُشَارِبُوهَا، وَلَمْ يُجَامِعُوهَا (3) فِي الْبُيُوتِ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِیضِ قُلْ ھُوَاَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِی الْمَحِیضِ )(البقرۃ : 222) ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اصنَعُوْا کُلَّ شَیْءٍ اِلَّا النِّکَاحَ ، فَقَالَتِ الْیھُودُ: مَانِریٰ ھٰذَا الرَّجُلُ یَدَعُ شَیْئًا مِنْ اَمْرِنَا اِلَّا ایْخَالِفُنَا ، فَجَاءَ اُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَقَالَا :یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی ظَنَنْتُ اَنَّہٗ قَدْ وَجَدَ عَلَیْھِمَا ، فَخَرَجَا، فَاسْتَقْبَلَتْہُ ھَدْیَۃٌ مِنْ لَبَنٍ ، فَبَعَثَ فِیْ اَثَرِ ھِمَا ، فَظَنَنَّا اَنَّہٗ لَمْ یَجِدْ عَلَیْھِمَا ، فَسَقَاھُمَا۔(103:1)

۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ ان کے درمیان کسی عورت کو حیض آجاتا تھا، تو وہ اسے اپنے گھر سے نکال دیتے تھے۔ (یعنی اس کے ساتھ کھاتے پیتے نہیں تھے) اور گھروں میں اس کے ساتھ نہیں ٹھہرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: "لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، تو فرمادو! گندگی ہے تم لوگ حیض کے دوران عورتوں سے الگ رہو"۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیوی کے ساتھ صحبت کرنے کے علاوہ تم سب کچھ کر سکتے ہو۔ اس پر یہودیوں نے کہا ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے، یہ صاحب ہمارے معاملے میں ہر بات پر مخالفت کرتے ہیں۔ حضرت اسید بن حضیر اور عباد بن بشر آئے۔ ان دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہودیوں نے یہ بات کہی ہے، تو کیا ہم حیض کے دوران بیویوں کے ساتھ صحبت بھی نہ کر لیا کریں؟ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہوگی، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سخت ناراض ہوئے ہیں۔ یہ دونوں صاحبان چلے گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر دودھ پیش کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلوایا۔ اس سے ہمیں اندازہ ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر سخت ناراض نہیں ہوئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو (وہ دودھ پلوادیا)۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1362

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْحَيْضِ وَالِاسْتِحَاضَةِ · حديث 1363

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهَا، قَالَتْ: بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ إِذْ حِضْتُ، فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَفِسْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَانِي، فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ (1) . [4: 1]

سیدہ زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے انہیں بتایا ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں لیٹ گئی۔ اسی دوران مجھے حیض آگیا۔ میں کس کس کر باہر آگئی میں نےاپنے حیض کے کپڑے رکھ لئے اور (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئی) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: کیا تمہیں حیض آیا ہے، میں نے جواب دیا: جی ہاں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور میں آکر آپ کے ساتھ لیٹ گئی۔

أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 1363

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْحَيْضِ وَالِاسْتِحَاضَةِ · حديث 1364

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ (1) ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا» (2) . [4: 1]

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: جب ہم (ازواج) میں سے کسی ایک کو حیض آجاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے یہ ہدایت کرتے تھے کہ وہ تہبند کو مضبوطی سے باندھ لیں اور پھر آپ اس خاتون کے ساتھ مباشرت کرلیتے تھے۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا» ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1364

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْحَيْضِ وَالِاسْتِحَاضَةِ · حديث 1365

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَبِيبٍ، مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ نُدْبَةَ، مَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ، عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُبَاشِرْ الْمَرْاَۃَ مِنْ نِسَائِہِ وَھِیَ حَائِضٌ ، اِذَا کَانَ عَلَیْھَا اِزَارٌ یَبْلُغُ اَنْصَافَ الْفَخِذَیْنِ ، اَوِ الرُّکْبَتَیْنِ فَتَحْتَجِزُبِہٖ ۔(1:4)

۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج میں سے کسی خاتون کے ساتھ مباشرت کر لتیے تھے حالانکہ وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی،اور اس خاتون نے تہبند باندھا ہوا ہوتا تھا۔ جو نصف زانوں تک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) گھٹنوں تک ہوتا تھا وہ خاتون اسے لنگوٹ کے طور پر باندھ لیتی تھیں۔

مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ← نُدْبَةَ، مَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ، ← حَبِيبٍ، مَوْلَى عُرْوَةَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 1365

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْحَيْضِ وَالِاسْتِحَاضَةِ · حديث 1366

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيَّ وَأَنَا حَائِضٌ» (1) . [5: 10]

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی تلاوت کر لیتے تھے حالانکہ آپ نے میرے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی۔ (اور اس وقت) میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔

أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ: ← أُمِّهِ صَفِيَّةَ، ← مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 1366

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْحَيْضِ وَالِاسْتِحَاضَةِ · حديث 1367

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَنْ تَتَّزِرَ، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا» (2) . [1: 82]

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی ایک (زوجہ محترمہ) کو یہ ہدایت کرتے تھے۔ وہ حیض کی حالت میں ہوں، تو تہبند باندھ لیں اور پھر آپ اس خاتون کے ساتھ مباشرت کر لیتے تھے۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا» ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1367

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْحَيْضِ وَالِاسْتِحَاضَةِ · حديث 1368

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الشَیْبَانِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا اَرَادَ اَنْ یُضَاجِعُ بَعْضَ نِسَائِہِ وَھِیَ حَائِضٌ اَمَرَھَا فَاتَّزَرَتْ ۔(82:1)

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی کسی زوجہ محترمہ کے ساتھ لیٹتے اور اس وقت وہ حیض کی حالت میں ہوتی، تو آپ اسے یہ حکم دیتے تھے کہ وہ تہبند باندھ لے۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← الشَّيْبَانِيِّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 1368

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr