Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب ‹ کِتَابُ الْاِسْراءِ · حديث 57

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍ والْمُعَدَّلُ بِوَاسِطَ حَدَّثَنَا َحْمَدُ بْنُ سِنَانِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ نْنُ ھَارُوْنَ اَنْبَاَنَا محمد بن عمر و عن أبی سلمۃ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدْرَاَی مُحَمَّدٌ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَبَّۃُ ۔(3:14)

(امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں :) حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے یہ الفاظ : ’’حضرت محمد ﷺ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ نےاپنے قلب کے ذریعے پروردگار کو ایسے مقام پر دیکھا جہاں تک کسی بشر کی رسائی نہیں ہو سکتی ‘ کیونکہ وہ مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں: حضرت محمدﷺ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے۔

قَدْرَاَی مُحَمَّدٌ رَبَّۃُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← محمد بن عمر و ← یَزِیْدُ نْنُ ھَارُوْنَ ← َحْمَدُ بْنُ سِنَانِ الْقَطَّانُ ← اَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍ والْمُعَدَّلُ بِوَاسِطَ

Hadith 57

صیح ابن حبان · کتاب ‹ کِتَابُ الْاِسْراءِ · حديث 58

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِیْرِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ھِشَامٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیْقٍ الْعُقَیْلِیِّ قَالَ قُلْتُ لِاَبِیْ ذَرٍّ: لَوْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَسَاَلْتُہٗ عَنْ کُلِّ سَیْءٍ فَقَالَ: عَنْ اَیِّ شَیْءٍ کُنْتَ تَسْاَلُہُ ؟ قَالَ؛ کُنْتُ اَسْاَلُہٗ ھَلْ رَاَیْتَ رَبَّکَ ؟ فَقَالَ: سَاَلْتُہٗ فَقَالَ؛ رَاَیْتُ نُورًا ۔(3:14)

عبد اللہ بن شفیق عقیلی بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابوذر غفاریؓ سے کہا : اگرمیں نبی اکرمﷺ کی زیارت کرتا تو آپ سے ہر چیز کے بار ے میں دریافت کرتا ‘ تو انہوں نے دریافت کیا : تم نے نبی اکرمﷺ سے کس چیز کے بارےمیں دریافت کرنا تھا ؟ تو عبدا للہ نے کہا : میں نے نبی اکرمﷺ سے یہ دریافت کرنا تھا کہ کیا آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے؟ تو حضرت ابوذر غفاریؓ نے فرمایا : میں نے انبی اکرمﷺ سے یہ سوال کیا تھا ۔ نبی اکرمﷺ نےفرمایا تھا : میں نے ایک نور کو دیکھا ہے ۔ (امام ابن حبانؓ فرماتے ہیں :) اس سے مراد یہ ہے کہ آپ نے اپنے پروردگار کو نہیں دیکھا بلکہ آپ نے وہ انوار جو مخلوق ہیں ‘ ان میں سے ’’عُلوی نور‘‘ (یعنی جو مخلوقات سے بلند تر انوار ہیں ) اسے دیکھا۔

کُنْتُ اَسْاَلُہٗ ھَلْ رَاَیْتَ رَبَّکَ فَقَالَ: سَاَلْتُہٗ فَقَالَ؛ رَاَیْتُ نُورًا ← اَیِّ شَیْءٍ کُنْتَ تَسْاَلُہُ ← کُلِّ سَیْءٍ فَقَالَ: ← قُلْتُ لِاَبِیْ ذَرٍّ: لَوْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ لَسَاَلْتُہٗ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیْقٍ الْعُقَیْلِیِّ ← قَتَادَةَ ← أَبِيهِ ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 58

صیح ابن حبان · کتاب ‹ کِتَابُ الْاِسْراءِ · حديث 59

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِح بْنِ ذَرِیحِ بِمَکْبَرَا حَدَّثَنَا مَسْرُوْقُ بْنُ الْمِرْزَبَانِ حَدَّثَنَا بْنُ اَبِیْ ذَائدَۃَ حَدَّثَنَا اِسْرَئیِلُ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی:( مَاکَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاَی) قَالَ : رَاَی رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جِبْرِیْلُ فِیْ حُلَّۃٍ مِّنْ یَّاقُوتٍ قَدْ مَلَا مَا بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ۔(3:14)

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : (ارشاد باری تعالیٰ ہے ): ’’ اس نے جو دیکھا ‘ اس کے دل نے اسے جھٹلایا نہیں ‘‘۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو یا قوت سے بنے ہوئے حلے میں دیکھا تھا ‘ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آسمان اور زمین کی درمیانی جگہ کو بھر دیا تھا ۔ (امام ابن حبانؓ فرماتے ہیں : ) معراج کی رات اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کو یہ حکم دیا کہ وہ حضرت محمدﷺ ان چیزوں کے بارے میں بتائیں جب کا جاننا آپ کے لئے ضروری ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’شدید قوت والے نے اُسے تعلیم دی ‘ جو زبردست ہے ‘ پھر اس نے استواء کیا اور وہ ( اس وقت) اُفقِ اعلیٰ میں تھا ‘‘۔ اس سے مراد حضرت جبرائیل ہیں ۔ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’پھر وہ قریب ہوا اور زیادہ قریب ہوا‘‘۔ اس مراد حضرت جبرائیل ہیں ۔ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے :) ’’تو وہ دو کمانوں کے کناروں کی مانند یا اس سے بھی زیادہ قریب ہو گیا‘‘۔ اس سے مراد حضرت جبرائیل ہیں۔ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’تو اس نے اپنے بندے کی طرف وہ چیز وحی کی جو اس نے وحی کی ‘‘۔ اس سے مراد حضرت جبرائیل ہیں ۔ (ا رشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’اُس نے جو دیکھا ( اس کے ) دل نے جھٹلایا نہیں ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اس معزز مقام پر اپنے قلب کے زریعے اپنے پروردگار کو دیکھا اور حضرت جبرائیل کو یا قوت سے بنے ہوئے حُلے میں دیکھا ‘ انہوں نے اس وقت آسمان اور زمین کے درمیان موجود خلاء کو بھر دیا تھا ‘ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے منقول اس روایت میں یہ بات مذکور ہے ‘ جسے ہم ذکر کر چکے ہیں۔

ابْنِ مَسْعُوْدٍ فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی:( مَاکَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاَی) ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسرَئِیلَ ← بْنُ اَبِیْ ذَائدَۃَ ← مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِح بْنِ ذَرِیحِ بِمَکْبَرَا

Hadith 59

صیح ابن حبان · کتاب ‹ کِتَابُ الْاِسْراءِ · حديث 60

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِبْنِ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أبو الربیع حدثنا بن وَھْبِ اَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ رَبِّہٖ بْنِ سَعِیْدٍ اَنَّ دَاؤدَ بْنَ اَبِیْ ھِنْدٍ حَدَّثَہٗ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِْ عَنْ مَّسْرُوْقِ بْنِ الْاَجْدَع اَنَّہٗ سَمِعَ عَائشَۃَ تَقُوْلُ اَعْظَمُ الْفِرْیَۃِ عَلَی اللہِ مَنْ قَالَ: اِنَّ مُحَمَّدًا صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاَی رَبَّہُ وَاِنَّ مُحَمَّدًا صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَتَمَ شَیْئًا مِنَ الْوَاحْیِ وَاِنَّ مُحَمَّدًا صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعْلَمُ مَافِیْ غَدٍ قِیْلَ یَا اُمَّ الْمُوْمِنِیْنَ وَمَا رَآہُ قَالَتْ لَا اِنَّمَا ذٰلِکَ جِبْرِیْلُ رَآہُ مَرَّتَیْنِ فِیْ صُوْرَتِہٖ مَرَّۃً مَلَاَ الْاُفُقَ وَمَرَّۃً سَادًّا أُفْقَ السَّمَآءِ ۔(3:14)

مسروق بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیّدہ عائشہؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سب سے بڑی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے ‘ جو یہ کہتا ہے ‘ حضرت محمدﷺ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے ’ یا جو یہ کہتا ہے‘ حضرت محمدﷺ نے وحی میں سے کوئی چیز چھپائی تھی ۔ (آپ ﷺ نے ساری باتیں بیان نہیں کی ہیں) یا جو یہ شخص کہتا ہے ’ حضرت محمد ﷺ یہ جانتے تھے کہ کل کیا ہو گا؟ ان سے دریافت کیا گیا : اے اُم المومنین پھرا نبیاکرمﷺ نے کسے دیکھا تھا؟ تو سیّدہ عائشہؓ نے فرمایا: وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے‘ جنہیں نبی اکرمﷺ نے ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ اس وقت جب انہوں نے افق کو بھر دیا تھا ‘ اور ایک مرتبہ اس وقت جب انہوں نے آسمان کے اُفق کو گھیرا ہوا تھا۔ امام ابو حاتمؓ فرماتے ہیں : جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوتا ہے کہ یہ دو روایات باہم متضاد ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیگر تمام انبیاء پر فضیلت عطا کی ہے۔ یہاں تک کہ حضرت جبرائیلؓ اپنے پروردگار کے اتنا قریب ہو گئے جتنا دو کمانوں کا فاصلہ ہوتا ہے اور اس وقت حضرت جبرائیل نے نبی اکرمﷺ کو تعلیم دی ۔ اس وقت نبی اکرمﷺ نے انہیں (یا شاید اللہ تعالیٰ کو ) دل کی آنکھ سے دیکھ لیا جسے اس نے چاہا۔ سیّدہ عائشہؓ سےمنقول اس روایت‘ کے نبی اکرمﷺ اس کا ادراک نہیں کر سکتے‘ کا مفہوم ی ہے : آپ نیند کے عالم میں اور بیداری کے عالم میں ایسا نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : ’’بصارت اس کا ادراک نہیں کر سکتی ‘ سے مراد یہ ہے : بصارت اس کا ادراک نہیں کر سکتی‘ اس کا دیدار قامت کے دن ہوگا لیکن بصارت جب اس کا دیدار کرے گی تو اس کا ادراک نہیں کر سکے گی‘ کیونکہ ادراک کا مطلب اجاطہ کرنا ہے اور دیدار کا مطلب دیکھنا ہے اور اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو سکتا ہے لیکن اس کی حقیقت کا ادراک نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ ادراک مخلوق کا ہو سکتا ہے اور بندے کی طرف س پروردگار کو دیکھنا ( ممکن ) ہو سکتا ہے۔ سیّدہ عائشہؓ سے منقول یہ روایت کہ بصارت اس کا ادراک نہیں کر سکتی‘ اس سے مراد یہ ہے کہ بصارت دنیا اور آخرت میں اس کا ادراک نہیں کر سکتی لیکن اپنے بندہوں میں سے وہ جس پر چاہے فضل کر کے اس کا اہل بنا سکتا ہے۔ لفظ دنیا کا اطلاق کئی زمینوں اور آسمانوں اور ان کے درمیان موجود جگہ پر ہوتا ہے ‘ کیونکہ ان اشیاء سے آغاز ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس لئے پیدا کیا تھا تاکہ ان میں آخرت کے لئے نیکیاں کمائی جائیں جو اس آغاز کے بعد آئے گی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اپنے پروردگار کا دیدار اس مقام پر کیا ہے جہاں لفظ دنیا کا اطلاق نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ ا س وقت دو کمانوں کے درمیان فاصلے سے بھی زیادہ قریب تھے۔ اس لئے سیّدہ عائشہؓ سے منقول روایت کا مطلب یہ ہو گا : نبی اکرمﷺ نے دنیا میں اس کا دیدار نہیں کیا۔ اس لئے ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے۔

عَائشَۃَ تَقُوْلُ اَعْظَمُ الْفِرْیَۃِ عَلَی اللہِ مَنْ ← مَّسْرُوْقِ بْنِ الْاَجْدَع اَنَّہٗ ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← عَبْدِ رَبِّہٖ بْنِ سَعِیْدٍ اَنَّ دَاؤدَ بْنَ اَبِیْ ھِنْدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَخْلَدٍ

Hadith 60

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr