Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 25

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی حَدَّثَنَا اَبُوْ خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ الْقَعْقَاع عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ نعْمٍ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ بَعَتَ عَلِیٌّ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ الْیَمَنِ بِذَھَبٍ فِیْ اَدَمِ فَقَسَّمَھَمَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ زَیْدِ الْخَیْلِ وَالْاَقُرَع بْنِ حَابِسٍ وَعبَیْنَۃَ بْنِ حِصْنٍ و؟عَلْقَمَۃَ بْنِ عُلَا ثَۃَ فَقَالَ اُنَاسٌ مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ: نَحْنُ اَحَقُّ بِھٰذَا فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَشَقَّ عَلَیْہِ وَقَالَ: اَلَا تَاْمَنُونِیْ وَاَنَا اَمِیْنُ مَنْ فِی السَّمَاءِ یَاْتِیْنِیْ خَبَرُ مَنْ فِی السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً فَقَامَ إلَیْہِ نَاْتِیْءُ الْعَیْنِیْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَیْنِ نَاشِزُ الْوَجْہِ کَتُّ الِلّحْیَۃِ مَحْلُوقُ الرَّاْسِ مُشَمَّرُ الْاِزَارِ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللہِ اِتَّقِ اللہَ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :اَوَلَسْتُ بِاَحَقِّ اَھْلِ الْاَرْضِ اَنْ اَتَّقِیَ اللہَ ثُمَّ اَدْبَرَ فَقَامَ اِلَیْہِ خَالِدٌ سَیْفُ اللہِ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللہِ اَلا اَضْرِبُ عُنُقَہُ فَقَالَ : لَا اِنَّہٗ لَعَلَّہُ یُصَلِّی قَالَ : اِنَّہٗ رُبَّ مُصَلٍّ یَقُوْلُ بِلِسَانِہٖ مَا لَیْسَ فِیْ قَلْبِہٖ قَالَ : اِنِّیْ لَمْ اُومَرْ بَنْ اَشُقَّ قُدُوبَ النَّاسِ وَلَا اَشُقَّ بُطُونَھُم فَنَظَرَ اِلَیْھِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ وَھُوَ مُقَفَّی فَقَالَ : اِنَّہٗ سَیَخْرُجُ من ضِئْضِیْء ھٰذَا قَوْمٌ یَتْلُوْنَ کِتَابَ اللہِ لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَ ھُمْ یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّھْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ قَالَ عُمَارَۃُ فَحَسِبْتُ اَنَہٗ قَالَ: لَئنْ اَدْرَکْتُھُمْ لَاَقْتُلَنَّھُمْ قَتْلَ ثَمُوْدَ۔ (3:10)

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں: حضرت علیؓ نے یمن سے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں چمڑے میں کچھ سونا بھیجا۔ نبی اکرمﷺ نے وہ سونا زید خلیل ‘ اقرع بن حابس‘ عینیہ اور علقمہ بن علاثہ کے درمیان تقسیم کردیا۔ مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے یہ کہا: ہم اس کے زیادہ حق دار تھے۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرمﷺ کو ملی تو یہ بات آپﷺ کو گراں گزری آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ کیا تم لوگ مجھے امین نہیں سمجھتے ہو؟ حالانکہ میں اس ذات کا امین ہوں‘جو آسمان میں ہے‘ میرے پاس آسمان ہیں موجود ذات کی خبریں صبح و شام آتی ہیں ‘‘۔ (راوی کہتے ہیں:) تو چھوٹی آنکھوں اور ابھرے ہوئے گالوں ‘ تنگ پیشانی‘ گھنی داڑھی‘منڈے ہوئے سر اور اوپر کئے ہوئے تہبند والا ایک شخص نبی اکرمﷺ کے سامنے کھڑا ہوا۔اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا میں تمام اہل زمین سے زیادہ اس بات کا حق دار نہیں ہوں کہ میں اللہ سے ڈروں؟ پھر وہ شخص وہاں سے چلا گیا‘ تو اللہ کی تلوار حضرت خالدؓ اٹھ کر اس کی طرف جانے لگے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں۔ نبی اکرمﷺ نے اشاد فرمایا: جی نہیں! ہو سکتا ہے‘ وہ شخص نماز ادا کر رہا ہو۔ حضرت خالدؓ نے عرض کی گئی: نمازی ایسے ہیں‘ جو زبان کے ذریعے وہ بات کہتے ہیں‘ جو ان کے دل میں نہیں ہوتی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دل چیر کے دیکھوں‘ یا ان کے پیٹ چیر کے دیکھوں۔ پھر نبی اکرمﷺ نے اس شخص کی طرف دیکھا وہ اس وقت واپس جا رہا تھا‘ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: عنقریب اس کی اولاد میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے‘ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کریں گے‘ لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی‘ اور وہ لوگ دین سے ہوں خارج ہو جائیں گے‘ جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے‘‘۔ عمارہ نامی راوی یہ بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے۔ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے یہ ارشاد فرمایا : ’’اگر میں نے ان لوگوں کا زمانہ پا لیا‘ تو میں انہیں اس طرح قتل کروں گا‘ جس طرح قوم ثمود کو قتل کیا گیا تھا‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 25

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 26

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَجُلًا اَوْصٰی بِوَصَایَا اَبَّرَھَا فِیْ مَلِہٖ فَذَھَبْتُ اِلَی الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ اَسْتَشِیرُہٗ فَقَالَ القاسم: سَمِعْتُ عَائشۃَ تَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ : مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَامَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُورَدٌّ۔(2:86)

ابراہیم بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نےوصیت کرتے ہوئے اپنے مال کے بارے میں کسی کے ساتھ ترجیح سلوک کیا‘ تو میں قاسم بن محمد کے پاس گیا تاکہ میں ان سے اس بارے میں مشورہ لوں‘ قاسم نے بتایا میں نے سیّدہ عائشہؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے‘ نبی اکرمﷺ نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: ’’جو شخص ہمارے اس معاملے (یعنی دین) میں کوئی نئی چیز پیدا کرے گا ‘ جس کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو‘ تو وہ چیز مسترد کی جائے گی‘‘َ۔

أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 26

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 27

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاح الدُّولَا بِیُّ حَدَّثَنَا ا،بْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا اَبِیْ عَنِ الْقَاسَمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائشَۃَ قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ َحْدَثَ فَیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَرَدٌّ ۔ (3:43)

سیّدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جو شخص ہمارے اس معاملے (یعنی دین) میں کوئی نئی چیز پیدا کرے‘ جس کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو‘ تو وہ چیز مردود ہو گی‘‘۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبِي ← ا،بْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاح الدُّولَا بِیُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 27

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 28

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ عَلَیَّ مَالَمْ اَقُلْ فَلْیَتَبَوَّاْ مَفْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔(2:109)

’’جو شخص میری طرف منسوب کر کے ایسی بات بیان کرے‘ جو میں نے نہ کہی ہو‘ تو وہ شخص جہنم میں اپنےمخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہے‘‘۔ حضرت ابو ہریرہؓ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:

عَلَیَّ مَالَمْ اَقُلْ فَلْیَتَبَوَّاْ مَفْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔(2:109) ← مَنْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 28

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 29

اَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْسَی السِّخْتِیَانِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ َبِیِّ شَیْبَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ َبِیْ لَیْلَی عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ حَدَّثَ حَدَّیْثًا وَھُوَ یَری اَنَّہٗ کَذِبٌ فَھُوَ اَحَدُ الْکَاذِبَیْنَ ۔(2:109)

حضرت سمرہ بن چندبؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’جو شخص کوئی بات بیان کرےا ور وہ یہ بات جابتا ہو کہ یہ بات جھوٹ ہے‘تو وہ شخص بھی جھوٹوں میں سے ایک ہو گا‘‘۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ َبِیْ لَیْلَی ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ َبِیِّ شَیْبَۃَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ،

Hadith 29

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 30

اَخْبَرَنَا بْنِ زُھَیْرٍ بِتُسْتَرَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ اِشْکَابِ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَفْصٍ الْمَدَائنِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ خُبَیْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ اِبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَفٰی بِالْمَرْءِ اِثْمًا اَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَاسَمِعَ۔(2:109)

حضرت ابو ہریرہؓ‘روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: آدمی کے گناہ گار ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے‘ وہ ہر سنی ہوئی بات کو (آگے) بیان کردے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← عَلِیُّ بْنُ حَفْصٍ الْمَدَائنِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ اِشْکَابِ ← بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ،

Hadith 30

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 31

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیفَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُو الْوَلِیْدِ قَالَ حَدَّثَنَا لَیْتُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّھْرِیِّ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّاْ مَقْدَہٗ مِنَ النَّارِ ۔(2:109)

حضرت انس بن مالکؓ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے‘ وہ جہنم میں اپنی مخصوص جگہ پر پہنچنے کے لئے تیار رہے‘‘۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← لَیْتُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 31

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 32

اَخْبَرَنَا بْنِ قُتَیْبَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی قَالَ حَدَّثَنَا بن وَھْبٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ مُعَاوِیَۃَ بْنُ صَالِحِ عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْاَسْقَع قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اِنَّ مَنْ اَعْظَمِ الْفِرْیَۃِ ثَلَاثًا اَنْ یَّفْرِیَ الرُّجُلُ عَلٰی نَفْسِہِ یَقُوْلُ رَاَیْتُ وَلَمْ یَرَشَیْئًا فِی الْمَنَامِ اَوْ یَفَقَوَّلَ الرَّجُلُ عَلٰی وَالِدَیْہِ فَیُدْ عَی اِلٰی غَیْرِ اَبِیْہِ اَوْ یَقُوْلَ سَمِعَ مِنِّیْ وَلَمْ یَسْمَعْ مِنِّی۔ (2:109)

حضرت واثلہ بن اسقعؓ ‘ بیان کرتے ہیں‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’بے شک سب سے بڑا جھوٹ (یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی‘ پھر فرمایا:) یہ ہے‘ آدمی اپنی ذات کے بارے میں جھوٹ بولے۔ وہ یہ کہے کہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے‘ حالانکہ اس نے خواب میں سے کچھ نہ دیکھا ہو‘ یا پھر آدمی اپنے والدین کے بارے میں جھوٹی بات بیان کرے‘ تاکہ اسے اس کے باپ کی بجائے کسی اور کسی طرف منسوب کیا جائے‘ یا پھر وہ شخص یہ کہے کہ اس نے مجھ سے یہ بات ( یعنی حدیث) سنی ہے‘ حالانکہ اس نے مجھ سے وہ بات نہ سنی ہو‘‘۔

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بن قتيبة

Hadith 32

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr