صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ · حديث 3305
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَیْبَۃَ ، حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ دَاؤدَ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْد اللہِ ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ: کُنَّا نُخْرِجُ فِیْ صَدَقَۃِ الْفِطْرِ اِذْ کَانَ فِینَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ ، اَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، اَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیرٍ ، اَوْصَاعًا مِنْ اَقِطٍ ، وَلَمْ نَزَلْ کَذٰلِکَ حَتّٰی قَدِمَ عَلَیْنَا مُعَاوِیَۃُ مِنْ الشَّامِ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ قَدْمَۃً ، فَکَانَ فِیمَا کَلَّمَ بِہِ النَّاسَ : مَااَرَی مُدّیْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ اِلَّا تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ ھٰذِہِ فَاَخَذَ النَّاسُ بِذٰلِکَ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے، تو ہم صدقہ فطر میں اناج کا ایک صاع یا کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع دیا کرتے تھے یہ معاملہ اسی طرح چلتا رہا ، یہاں تک کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہہ (اپنے عہد حکومت میں) شام سے مدینہ منورہ آئے انہوں نے اس بارے میں لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ کہا میں یہ سمجھتا ہوں کہ شام کی گندم کے دو مدارس صاع کے برابر ہوتے ہیں، تو لو گوں نے اس بات کو اختیار کر لیا۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on al-Fitr charity · Hadith 3305
