Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ · حديث 3305

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَیْبَۃَ ، حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ دَاؤدَ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْد اللہِ ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ: کُنَّا نُخْرِجُ فِیْ صَدَقَۃِ الْفِطْرِ اِذْ کَانَ فِینَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ ، اَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، اَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیرٍ ، اَوْصَاعًا مِنْ اَقِطٍ ، وَلَمْ نَزَلْ کَذٰلِکَ حَتّٰی قَدِمَ عَلَیْنَا مُعَاوِیَۃُ مِنْ الشَّامِ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ قَدْمَۃً ، فَکَانَ فِیمَا کَلَّمَ بِہِ النَّاسَ : مَااَرَی مُدّیْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ اِلَّا تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ ھٰذِہِ فَاَخَذَ النَّاسُ بِذٰلِکَ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے، تو ہم صدقہ فطر میں اناج کا ایک صاع یا کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع دیا کرتے تھے یہ معاملہ اسی طرح چلتا رہا ، یہاں تک کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہہ (اپنے عہد حکومت میں) شام سے مدینہ منورہ آئے انہوں نے اس بارے میں لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ کہا میں یہ سمجھتا ہوں کہ شام کی گندم کے دو مدارس صاع کے برابر ہوتے ہیں، تو لو گوں نے اس بات کو اختیار کر لیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on al-Fitr charity · Hadith 3305

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ · حديث 3306

أَخْبَرَنَا محمد بن إسحاق بن خزيمة فيما اتخبت عَلَيْهِ مِنْ كِتَابِ الْكَبِيرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، قَالَ: قَالَ اَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ ، وَذَکَرُوا عِنْدَہُ صَدَقَۃَ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : لَا اُخْرِجُ اِلَّا مَا کُنْتُ اُخْرِجُ فِیْ عَھْدِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، صَاعَ تَمْرٍ ، اَوْصَاعَ حِنْطَۃٍ ، اَوْصَاعَ شَعِیرٍ ، اَوْصَاعَ اَقِطٍ فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : اَوْمُدَّیْنِ مِنْ قَمْحٍ ؟ فَقَالَ : لَا ، تِلْکَ قِیمَۃُ مُعَاوِیَۃَ لَا اَقْبَلُھَا وَلَا اَعْمَلُ بِھَا

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ کے بارے میں یہ بات معقول ہے۔ لوگوں نے ان کے سامنے صدقہ فطر کا ذکر کیا، تو انہوں نے فرمایا: میں، تو صدقہ فطر اسی طرح نکالوں گا، جس طرح میں نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقد میں نکالتا تھا یعنی کھجور کا ایک صاع یا گندم کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے ان سے کہا: یا پھر گندم کے دو مد، تو انہوں نے فرمایا: جی نہیں یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہہ کی مقرر کر دہ قیمت ہے میں اسے قبول نہیں کرو ں گا اور اس پر عمل بھی نہیں کروں گا

اَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ وَذَکَرُوا عِنْدَہُ صَدَقَۃَ رَمَضَانَ ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← محمد بن إسحاق بن خزيمة فيما اتخبت عَلَيْهِ مِنْ كِتَابِ الْكَبِيرِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on al-Fitr charity · Hadith 3306

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ · حديث 3307

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عن بن عَجْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيَاضٌ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: لَا أُخْرِجُ أَبَدًا إِلَّا صَاعًا، إنا کُنَّا نُخْرِجُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَاعَ تَمْرٍ ، اَوْ صَاعَ شَعِیرٍ ، اَوْصَاعَ زَبِیبٍ ، اَوْصَاعَ اِقِطٍ یَعْنِیْ فِیْ صَدَقَۃِ الْفِطْرِ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیا ن کرتے ہیں: میں ہمیشہ صاع کی شکل میں ادائیگی کروں گا، جس طرح ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں کیا کرتے تھے جو کھجور کا ایک صاع ہوتا تھا جو کا ایک صاع ہوتا تھا یا کشمش کا ایک صاع ہوتا تھا یا پنیر کا ایک صاع ہوتا تھا ان کی مرادیہ تھی کہ صدقہ فطر کے طور پر اسے ادا کرتے تھے۔

لَا أُخْرِجُ أَبَدًا إِلَّا صَاعًا، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضٍ، ← بن عَجْلَانَ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on al-Fitr charity · Hadith 3307

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3308

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَدْرِ النَّهَارِ، فَجَاءَ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ عَلَيْهِمْ سُيُوفٌ، عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ، بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَرَأَيْتُ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغَيَّرَ لَمَّا رَأَى مِنْهُمْ مِنَ الْفَاقَةِ، قَالَ فَدَخَلَ، فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَخَرَجَ، فَصَلَّى، ثُمَّ قَالَ: " {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيباً} (النساء:1) ، {اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} (الحشر: من الآية18) ، يَتَصَدَّقُ امْرُؤٌ مِنْ دِينَارِهِ، وَمِنْ دِرْهَمِهِ، وَمِنْ ثَوْبِهِ، وَمِنْ صَاعِ بُرِّهِ، وَمِنْ صَاعِ شَعِيرِهِ" حَتَّى ذَكَرَ شِقَّ تَمْرَةٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ تَعْجِزُ كَفَاهُ، بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَوْمَيْنِ مِنَ الثِّيَابِ وَالطَّعَامِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَهَلَّلَ حَتَّى كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ، ثُمَّ قَالَ: "مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، فَعَمِلَ بِهَا مَنْ بَعْدَهُ، كَانَ لَهُ اَجْرُھَا وَاَجْرُ مَنْ یَّعْمَلُ بِھَا مِنْ بَعْدِہٖ ، وَمَنْ سَنَّ سَیِّئَۃً فَعَمِلَ بِھَا مَنْ بَعْدَہٗ ، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا ، وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : ھٰذَا الْخَیَرُ دَالٌ عَلٰی اَنَّ قَوْلَ اللہِ جَلَّ وَعَلَا ( لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَاُخْرٰی) (الأنعام :164) اَرَادَ بِہٖ بَعْضَ الْاَوْزَارِ لَا الْکَلُّ ، اِذْ اَخْبَرَ الْمُبِیِّنُ عَنْ مُّرَادِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا فِیْ کِتَابِہٖ اَنَّ مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃٌ سَیِّئَۃً ، فَعَمِلَ بِھَا مَنْ بَعْدَہٗ ، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھُا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہٖ ، فَکَاَنَّ اللہَ جَلَّ وَعَلَا قَالَ : لَا تُزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَاُخْرٰی اِلَّا مَا اَخْبَرَکُمْ رَسُوْلِی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّھَا تَزِرُ ، وَالْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَقُلْ ذٰلِکَ ، وَلَا خَصَّ عُمُومَ الْخِطَابِ بِھٰذَا الْقَوْلِ اِلَّا مِنَ اللہِ ، شَھِدَ اللہُ لَہٗ بِذٰلِکَ حَیْثُ قَالَ (وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُوحَی) (النجم :4) صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَنَظِیرُ ھٰذَا قَوْلُہٗ جَلَّ وَعَلَا: (وَاعْلَمُو اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلہِ خُمُسَہُ) (الأنفال :41) فَھٰذَا خَطَّابٌ عَلَٰ الْعُمُومِ ، کَقَوْلِہٖ تَعَالٰی (لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ اُخْرَی) (الاٗنعام:164) ثُمَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَتَلَ قَتِیلًا فَلَہٗ سَلَبُہُ ، فَاَخْبَرَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ السَّلَبَ لَا یُخَمَّسُ وَاَنَّ الْقَلِیْلَ یَکُوْنُ مُنْفَرِدًا بِہٖ ، فَھٰذَا تَخْصِیصُ بَیَانِ لِذٰلِکَ الْعُمُومِ الْمُطَلِّق

منذربن جریر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ لوگ دن چڑھے نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے کچھ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جن کے جسم پر نا مناسب لباس تھا اور پاوں میں جوتے نہیں تھے انہوں نے کھالیں اوڑھی ہوئی تھیں تلواریں لٹکائی ہوئی تھیں ان میں سے زیادہ تر لوگوں کا تعلق مضر قبیلے سے تھا بلکہ ان سب کا تعلق مضر قبیلے سے تھا جب نبی اکرم ﷺ نے ان کافقر و فاقہ ملاحظہ فرمایا، تو آپ ﷺ کی پریشانی آپﷺ کے چہرہ اقدس پر مجھے نظر آئی۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ گھر میں تشریف لے گئے آپ ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی پھر انہوں نے اقامت کہی، تو نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ ﷺ نے نماز پڑھائی پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "( ارشاد باری تعالیٰ ہے) اے لوگو! اپنے اس پر وردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک ہی جان سے پیدا کیا ہےاور اس سے اس کے جوڑے کو پیدا کیا اور پھر ان دونوں سے بہت زیادہ مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا اس اللہ سے ڈرو جس کے وسیلے سے تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے داری کا خیال رکھو بے شک اللہ تعالیٰ تمہارا نگران ہے"۔ (ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:) " اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ہر شخص اس بات کا جائزہ لے کہ اس نے آگے کے لیے کیا بھیجا ہے۔" (نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے:) آدمی اپنے دینار میں سے اپنے درہم میں سے اپنے کپڑے میں سے گندم کا ایک صاع جو کا ایک صاع صدقہ کرے، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے نصف کھجور کا تذکرہ کیا (راوی بیان کرتے ہیں:) انصار سےتعلق رکھنے والا ایک شخص ایک تھیلی لے کر آیا جسے وہ بمشکل اٹھا رہا تھا وہ اس سے اٹھائی نہیں جا رہی تھی، پھر لوگ یکے بعد دیگرے چیزیں لانے لگے، یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے کپڑوں اور اناج کے دو ڈھیر دیکھے، تو میں نے نبی اکرم ﷺ کے چہرہ مبارک کو دیکھا کہ وہ سونے کی طرح دمک رہا تھا پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: " جو شخص اسلام میں کسی اچھے طریقے کا آغاز کرے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے تو اس شخص کو اس اچھے کام بھی اجر ملے گا اور اس کے بعد جولوگ اس پر عمل کریں گے (ان کا سابھی) اجر ملے گا اور جو شخص کسی برے طریقے کا آغاز کرے اور اس کے بعد اس برے طریقے پر عمل کیا جائے تو اسے ( اپنے برے عمل) کا بھی گناہ ہو گا اور اس کے بعد جو لوگ اس برائی پر عمل کریں گے ان کا بھی اسے گنا ہ ہو گا۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالی ٰ کا یہ فرمان " کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا" اس سے مراد بعض قسم کا بوجھ ہے تمام اقسام کے بوجھ مراد نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مراد کو بیان کرنے والی شخصیت (نبی اکرم ﷺ ) نے یہ بات بتائی ہے کہ جو شخص اسلام میں برے طریقے کا آغاز کرتا ہے اور پھر اس کے بعد اس طریقے پر عمل کیا جاتا ہے ، تو اس برائی کا بوجھ اس شخص پر بھی ہو گا۔ اس کے بعد جو شخص اس برائی پر عمل کرے گا اس کا بوجھ بھی اس شخص پر ہو گا تو گویا اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ماسوائے اس کے جس کے بارے میں میرے رسول نے تمہیں یہ اطلاع دے دی ہے کہ وہ بوجھ اٹھائے گا اور نبی اکرم ﷺ نے یہ بات اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ارشاد فرمائی ہے اور آپ نے اس خطاب کے عموم کو اللہ تعالیٰ کے حکم کےتحت مخصوص کیا ہے۔ اس بات کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔" یہ رسول اپنی خواہش نفس سے کلام نہیں کرتا یہ صرف وہی کلام کرتا ہے، جو اس کی طرف وحی کیا جاتا ہے۔" اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ "تم لوگ یہ بات جان لو کہ تم جو بھی غنیمت حاصل کر و گے اس کا پانچوں حصہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہو گا۔" تو یہ خطاب عمومی طور پر ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: " کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔" پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی کہ جو شخص کسی کو قتل کرے گا تو اس مقتول کا سامان اس شخص کو مل جائے گا۔ تو نبی اکرم ﷺ نے یہاں یہ اطلاع دی ہے کہ مقتول کے جسم پر موجود سامان مال خمس میں شامل نہیں ہو گا اور تھوڑا مال بھی اسی (قاتل) کو ملے گا، تو یہ اس مطلق عمو می حکم کی تخصیص ہو جائے گی۔

أَبِيهِ ← الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3308

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3309

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا يونس بن عبيد، عن الحسنذكر إِطْفَاءِ الصَّدَقَةِ غَضَبَ الرَّبِّ جَلَّ وَعَلَا [3309] أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الصَّدَقَۃُ تُطْفِیْءُ غَضَبَ الرَّبِّ ، وَتَدْفَعُ مِیتَۃَ السُّوْءِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "صدقہ پر وردگار کے غضب کو بجھا دیتا ہے اور بری موت کو پرے کرتا ہے۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ، ← إِطْفَاءِ الصَّدَقَةِ غَضَبَ الرَّبِّ جَلَّ وَعَلَا ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3309

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3310

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ أَنَّهُ سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ" أَوْ قَالَ: "حَتَّى يُحْكَمَ بَيْنَ النَّاسِ". قَالَ يَزِيدُ: فَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُخْطِئُهُ يَوْمٌ لَا يَتَصَدَّقُ فِيهِ بشيء ولو كعكة، ولو بصلة (1) .

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "(قیامت کے دن) ہر شخص اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا، یہاں تک کہ لوگوں کےدرمیان فیصلہ ہو جائے گا۔" (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائےگا۔ یزید نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے ابوالخیر نامی راوی روزانہ کوئی نہ کوئی چیز صدقہ کیا کرتے تھے، اگرچہ کوئی روٹی یا پیاز ہی صدقہ کریں۔

"حَتَّى يُحْكَمَ بَيْنَ النَّاسِ". ← "كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ" أَوْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ ← حرملة بن عُمَران أنه ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3310

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3311

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "من اسْتَطَاعَ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فليفعل" (1) .

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو شخص ( کوئی بھی چیز صدقہ کر کے) جہنم سے بچ سکتا ہو، اسے ایسا کرنا چاہئے، خواہ وہ نصف کھجور کے ذریعے ایسا کرے۔"

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3311

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3312

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ: اَتٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّدَقَۃِ اَعْظَمْ ؟ قَالَ : اَنْ تَصَدَّقَ وَاَنْتَ صَحِیْحٌ شَخِیحٌ تَخْشَی الْفَقْرَ وَتَاْمَلُ الْغِنَی ، وَلَا تُمْھِلْ حَتّٰی اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ، قُلْتَ : لِفُلَانٍ کَذَا ، اَلَا وَقَدْ کَانَ لِفُلَانٍ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! کون ساصدقہ زیادہ بڑا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ کہ تم ایسی حالت میں صدقہ کرو کہ تم تندرست بھی ہو تمہیں (اپنے مال کے ساتھ) محبت بھی ہو اور تمہیں ( مال خرچ کرنے کے نتیجے میں) غربت کا اندیشہ بھی ہو اور تمہیں خوشحا ل رہنے کی خواہش بھی ہو تم (صدقہ کرنے کو ) اتنا موخر نہ کر دینا کہ جان حلق تک پہنچ جائے اور پھر تم یہ کہو کہ فلاں کو اتنا ملے فلاں کو اتنا ملے، حالانکہ وہ ویسے ہی فلاں کو مل جانا ہے۔

أَتَى رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ فقَالَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3312

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3313

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ، حدثنا عيسى بن بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا اللَّْٰتُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ،عَنْ اَبِی الزِّنَادِ ، عَنْ اَلْاَعْرَجِ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ، قَالَ: مَثَلُ الْمُنْفِقِ وَالْبَخِیلِ کَمَثَلِ رَجُلَیْنَ عَلَیْھِمَا جَنَّتَانِ مِنْ لَّدُنْ تَرَاقِیھِمَا اِلٰی ثَدْ یَیْھِمَا ، فَاَمَّا الْمُنْفِقُ فَاِذَا اَرَادَ اَنْ یُنْفِقَ مَادَتْ عَلَیْہِ ، وَاتْسَعَتْ حَتّٰی تُبْلُغَ قَدَمَیْہِ وَتَعْفُوَ اَثَرَہُ ، وَاَمَّا الْبَخِیلُ فَاِذَا اَرَادَ اَنْ یُنْفِقَ اَخَذَتْ کُلُّ حَلْقَۃٍ مَوْضِعَھَا وَلَزِمَتْ ، فَھُوَ یُرِیْدُ اَنْ یُوَسِّعَھَا وَلَا تَتَّسِعُ ، فَھُوَ یُرِیْدَ اَنْ یُوَسِّعَھَا وَلَا تَتَّسِعُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " خرچ کرنے والے اور کنجوس کی مثال ایسے آدمیوں کی طرح ہے جن کے جسم پر دوزرہیں ہوتی ہیں جو ان کی گردن سے لے کر سینے تک ہوتی ہیں خرچ کرنے والا شخص جب خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کی زرہ کھل جاتی ہے اور کشادہ ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ ( ڈھیلی ہو کے نیچے گر جاتی ہے) او ر اس کے قدموں تک آ جاتی ہے اور اس کے پاوں کے نشان کو ڈھانپ لیتی ہے جہاں تک کنجوس شخص کا تعلق ہے جب وہ خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو اس زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ پر جم جاتا ہے اور پختہ ہو جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی وہ اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّْٰتُ بْنُ سَعْدٍ ← عيسى بن بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3313

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3314

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَسْرَعُكُنَّ بِي لُحُوقًا أَطْوَلُكُنَّ يَدًا". قَالَتْ: فَكُنَّ يَتَطَاوَلْنَ أَيُّهُنَّ أَطْوَلُ يَدًا. قَالَتْ: فَكَانَ أَطْوَلَنَا يَدًا (1) زَيْنَبُ، لِأَنَّهَا كَانَتْ تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَتَتَصَدَّقُ (2) .

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم ( یعنی ازواج مطہرات ) میں سے مجھ سے سب سے پہلے وہ ملے گی، جس کے ہاتھ تم سب سے لمبے ہیں۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ازواج مطہرات نے اپنے ہاتھوں کی پیمائش کی کس کا ہاتھ زیادہ لمبا ہے؟ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو سّیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا ہاتھ ہم سب سے لمبا تھا، کیونکہ وہ اپنے اس ہاتھ کے ذریعے خود کام کاج کرتی ہیں اور صدقہ وخیرات کرتی تھیں۔

عَائِشَةَ ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ← طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3314

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3315

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ (1) بْنُ مُدْرِكٍ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ عَائِشَۃُ ، اَنَّ نِسَاءَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اجْتَمَعْنَ عِنْدَہٗ لَمْ تُغَادِرْ مِنْھُنَّ وَاحِدَۃٌ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَیَّتُنَا اَسْرَعُ بِکَ لُحُوقًا ؟ فَقَالَ : اَطْوَ لُکُنَّ یَدًا ، قَالَ : فَاَخَذْنَ قَصَبَۃً یَتَذَارَعْنَھَا ، فَمَاتَتْ سَعوْدَۃٌ بِنْتُ زَمْعَۃَ ، وَکَانَتْ کَثِیرَۃَ الصَّدَقَۃِ ، فَظَنَنَّا اَنَّہٗ قَالَ اَطْوَلُکُنَّ یَدًا بِالصَّدَقَۃِ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیا ن کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج آپ ﷺ کے پاس جمع تھیں ان میں سے کوئی بھی غیر موجود نہیں تھی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ سے سب سے پہلے، ہم میں سے کون ملے گی؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کا ہاتھ زیادہ لمبا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ازواج مطہرات نے ایک لکڑی لی اور اس کے ذریعے اپنے ہاتھوں کی پیمائش کرنے لگیں، تو سیّدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا انتقال پہلے ہوا کیونکہ وہ بکثرت صدقہ کیا کرتی تھیں (سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیا ن کرتی ہیں) ہم نے یہ گمان کیا کہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان کہ جس کا ہاتھ زیادہ لمبا ہو اس سے مراد یہ ہے کہ جو زیادہ صدقہ کرتی ہو۔

فَقُلْتُ: ← حَدَّثَتْنِیْ عَائِشَۃُ اَنَّ نِسَاءَ النَّبِیِّ اجْتَمَعْنَ عِنْدَہٗ لَمْ تُغَادِرْ مِنْھُنَّ وَاحِدَۃٌ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ السَّدُوسِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3315

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3316

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي الحباب عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ یَتَصَدَّقْ بِصَدَقَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ ، وَلَا یَقْبَلُ اللہُ اِلَّا الطَّیِّبَ ، اِلَّا کَانَ اللہُ یَاْخُذُھَا بِیَمِیْنِہِ فَیُرَبِّیھَا لَہٗ کَمَا یُرَبِّی اَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ اَوْ فَصِیلَہٗ حَتّٰی تَبْلُغَ التَّمْرَۃُ مِثْلَ اُحُدٍ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو بھی مسلمان پاکیزہ کمائی میں سے صدقہ کرتا ہے ویسے اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ چیز کو ہی قبول کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ( اس صدقے کو) اپنے دست قدرت میں لے لیتا ہے اور اسے بڑھانا شروع کرتا ہے ، جس طرح کوئی شخص اپنے جانور کے بچے کو پالتا پوستا ہے، یہاں تک کہ ایک کھجور "احد" پہاڑ جتنی ہو جاتی ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْحُبَابِ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3316

chevron_left Previous
1…8910…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr