Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3281

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضرير، حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَسَعِیْدٌ ، جَمِیْعًا عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیٰی ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: فلَیْسَ فِی الْفِضَّۃِ شَیْءٌ حَتّٰی یَبْلُغَ خَمْسَ اَوَاقٍ ، وَلَیْسَ فِی التَّمْرِ شَیْءٌ حَتّٰی یَبْلُغَ خَمْسَۃَ اَوْسُقٍ ، وَلَیْسَ فِی الْاِبِلِ شَیْءٔ حَتّٰی یَبْلُغَ خَمْسَۃً مِنَ الذَّوْدِ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "چاندی میں اس وقت تک زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی جب تک وہ پانچ اوقیہ تک نہ پہنچ جائے۔ کھجور میں اس وقت تک زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی جب تک وہ پانچ وسق نہ ہو جائے۔ اونٹوں میں اس وقت تک زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی جب تک وہ پانچ اونٹ نہ ہو جائیں۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ وَسَعِیْدٌ جَمِیْعًا ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضرير، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3281

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3282

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خمس أوسق صدقة، والوسق ستون صاعاً" (1) .

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " پانچ اوقیہ سے کم( چاندی میں) زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔ پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔ پانچ وسق سے کم (غلے میں) زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی( راوی کہتے ہیں) ایک وسق ساٹھ (60) صاع کا ہوتا ہے۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← هُشَيْمٌ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3282

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3283

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْوَزْنُ وَزْنُ مَكَّةَ، والمكيال مكيال أهل المدينة" (1) .

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " وزن کرتے ہوئے اہل مکہ کے وزن کا اعتبار کیا جائے گا اور ماپتے ہوئے اہل مدینہ کے پیمانے کا اعتبار کیا جائے گا۔" اس روایت کا تذکرہ جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ایک صاع پانچ رطل اور ایک تہائی رطل جتنا ہوتا ہے جیسا کہ حجاز اورمصر سے تعلق رکھنے والے ہمارے آئمہ نے یہ بات بیان کی ہے

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3283

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3284

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّھْلِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَبْرَاھِیْمُ بْنُ حَمْزَۃَ الزُّبَیْرِیُّ ، قَالَ ابْنُ خُزَیْمَۃَ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْھَاشِمِیُّ ، حَدَّثَنَا اَبُوْ مَرْوَانَ الْعُثْمَانِیُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ اَبِیْ حَازِمٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قِیلَ لَہٗ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَاعُنَا اَصْغَرُ الصِّیعَانِ ، وَمُدُّنَا اَصْغَرُ الْاَمْدَادِ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ صَاعِنَا ، وَیَارِکْ لَنَا فِیْ قَلِیْلِنَا وَکَثِیرِنَا ، وَاجْعَلْ لَنَا مَعَ الْبَرَکَۃٖ بَرَکَتَیْنِ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : فِیْ تَرْکِ اِنْکَارِ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیْثُ قَالُوْا : صَاعُنَا اَصْغَرُ الصِّیعَانِ بَیَانٌ وَاضِحٌ اَنَّ صَاعَ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ اَصْغَرُ الصِّیعَانِ ، وَلَمْ یَخْتَلِفْ اَھْلُ الْعِلْمِ مِنْ لَّدُنِ الصَّحَابَۃِ اِلٰی یَوْمِنَا ھٰذَا فِی الصَاعِ وَقَدْرِہٖ اِلَّا مَا قَالَہُ الْحِجَازِیُّونَ وَالْعِرَاقِیُّونَ ، فَزَعَمَ الْھِجَازِیُّونَ اَنَّ الصَّاعَ خَمْسَۃُ اَرْطَالٍ وَّثُلُتٌ ، وَقَالَ الْعِرَاقِیُّونَ : الصَّاعُ ثَمَانِیَۃُ اَرْطَالٍ ، فَلَمَّا لَمْ نَجِدْ بَیْنَ اَھْلِ الْعِلْمٍ خِلَافًا فِیْ قَدْرِ الصَّاعِ اِلَّا مَا وَصَفْنَا صَحَّ اَنَّ صَاعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ خَمْصَۃَ اَرْطَالٍ وَّثُلُثًا ، اِذْ ھُوَ اَصْنَغَرُ الصِّیعَانِ وَبَطَلِ قَوْلُ مَنْ زَعَمَ اَنَّ الصَّاعَ ثَمَانِیَۃُ اَرْطَالِ مِنْ غَیْرِ دَلِیْلِ ثَبَتَ لَہٗ عَلٰی صِحَّتِہِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی گئی یا رسول اللہ ﷺ ! ہمار ا صاع سب سے چھوٹا صاع ہے اور ہمارا مد سب سے چھوٹا مد ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفر مایا۔ " اے اللہ !تو ہمارے لیے ہمارے صاع میں برکت رکھ دے ہمارے لیے ہمارے تھوڑے اور زیادہ میں برکت رکھ دے اور ہمارے لیے اس برکت کے ہمراہ مزید دو برکتیں رکھ دے۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : نبی اکرم ﷺ کا ان حضرا ت کے الفاظ پر انکار نہ کرنا جب انہوں نے یہ کہا" ہمارا صاع سب سے چھوٹا صاع ہے" تو یہ اس بات کا واضح بیان ہے کہ اہل مدینہ کا صاع تمام صاعوں میں سب سے چھوٹا ہے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے زمانے سے لے کر ہمارے اس دور تک اہل علم میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، جو اس صاع کے بارے میں ہے اورا س کی مقدار کے بارے میں ہے البتہ اہل حجاز اور اہل عراق کی رائے مختلف ہے۔ اہل حجاز یہ کہتے ہیں کہ ایک صاع پانچ رطل اور ایک تہائی رطل کا ہوتا ہے جبکہ اہل عراق یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے، تو ہمیں اہل علم کے درمیان صاع کی مقدار کے بارے میں کوئی اختلاف پتہ نہیں چلتا ۔ ماسوائے اس کے جو ہم نے ذکر کیا ہے، تو یہ بات مستند طور پر ثابت ہو جائے گی کہ نبی اکرم ﷺ کا صاع پانچ رطل اور ایک رطل کے ایک تہائی حصے کاتھا کیونکہ یہ سب سے چھوٹا صاع ہے اور اس شخص کا موقف غلط ثابت ہو جائے گا جو اس بات کا قائل ہے کہ ایک صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے اس نے کسی دلیل لے بغیر یہ بات بیان کی ہے جس کا مستند ہونا ثابت ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ← ابْنُ خُزَیْمَۃَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْھَاشِمِیُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3284

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3285

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ أَوْ مَا كَانَ (1) عَثَرِيًّا الْعُشْرَ، وَفِيمَا سُقِيَ بالنضح نصف العشر (2) .

سالم بن عبداللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جو (زمین یا پیداوار) بارش کے پانی یا نہر یا چشمے کے ذریعے سیراب ہوتی ہے یا جو عشر ی زمین ہو اس میں نبی اکرم ﷺ نے دسویں حصے کی ادائیگی لازم قراد دی ہے اور جسے اونٹ پر پانی لا کر سیراب کیا جاتا ہے اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم قرار دی ہے۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3285

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3286

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ (1) قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دينار عن بن عُمَرَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَا كَانَ بَعْلًا أَوْ يُسْقَى بِنَهَرٍ أَوْ عَثَرِيًّا (2) يُؤْخَذُ مِنْ كُلِّ عَشَرَةٍ وَاحِدٌ" (3)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو بعل ہو یا جسے نہر کے ذریعے سیراب کیا جاتا ہو جو عشری ہو اس میں ہر دس میں سے ایک کی وصولی کی جائے گی۔"

بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3286

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3287

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حدثنا حرملة بن يحيى، قال: حدثنا بن وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم فرض فيما سقت السماء والنهار وَالْعُيُونُ الْعُشْرَ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفَ الْعُشْرِ (1) .

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جو ( زمین یا پیداوار ) بارش یا نہر یا چشمے کے ذریعے سیراب ہوتی ہے اس میں نبی اکرم ﷺ نے عشر کی ادائیگی لازم قرار دی ہے اور جسے اونٹ پر پانی لا کر سیراب کیا جاتا ہے اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم قرار دی ہے۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3287

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3288

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصوفي بغداد، حدثنا يحيى بن معين، حدثنا بن أبي مريم، عن الدراوردي، عن عبد اللَّهِ، وَعَبْدِ اللَّهِ أَخِيهِ، كِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ لِلْمَسْجِدِ مِنْ كُلِّ حَائِطٍ بِقَنَا (1) . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: عَبْدُ اللَّهِ هَذَا: هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ عُبَّادِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ التَّقَشُّفُ وَالْعِبَادَةُ حَتَّى كَانَ يَقْلِبُ الْأَخْبَارَ، وَلَا يَعْلَمُ، فَلَمَّا كَثُرَ ذَلِكَ مِنْهُ فِي أَخْبَارِهِ، بَطَلَ الِاحْتِجَاجُ بِآثَارِهِ، وَاعْتِمَادُنَا فِي هَذَا الْخَبَرِ على أخيه عبيد الله دونه.

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے مسجد کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ ہر باغ میں سے (پھل کا ) ایک خوشہ اس میں رکھا جائے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : عبداللہ نامی یہ راوی عبداللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب ہیں یہ اہل مدینہ کے عبادت گزار لوگوں میں سے ایک ہیں۔ ان پر دنیا سے بے رغبتی اور عبادت کا رنگ غالب تھا ۔ اس لئے یہ روایات کو الٹ پلٹ دیا کرتے تھے اور انہیں اس بات کا پتہ نہیں چلتا تھا تو جب ان کی نقل کردہ روایات میں اس نوعیت کی غلطیوں کی کثرت سامنے آئی تو ان کی نقل کردہ روایات سے استد لال کرنا باطل ہو جائے گا تو اس روایت کے بارے میں ہمارا اعتماد ان کے بھائی عبیدا للہ کی نقل کرد ہ روایت پر ہوگا ان پر نہیں ہو گا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عبد اللَّهِ، وَعَبْدِ اللَّهِ أَخِيهِ، كِلَاهُمَا ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصوفي بغداد،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3288

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3289

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ ، عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حِبَّانِ ، عَنْ عَمِّہِ ، وَاسِعِ بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ: اَمَرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ کُلِّ جَادٍّ عَشَرَۃِ اَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ بِقِنْوٍ یُعَلَّقُ فِیْ الْمَسْجِدِ لِلْمَسَاکِیْنَ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے یہ حکم دیا تھا کہ کھجوروں کے ہر دس وسق میں سے ایک خوشہ مسجد میں غریبوں کے لئے لٹکا دیا جائے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← هَارُونُ بن معروف ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3289

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَصَارِفِ الزَّكَاةِ · حديث 3290

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أبو بكر بن عياشن قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ (1) أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سوي" (2) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "زکوٰۃ لینا کسی خوشحال شخص کے لیے اور کمانے کے قابل شخص کے لئے جائز نہیں ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← أَبُو حُصَيْنٍ، ← أبو بكر بن عياشن ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ بِالْبَصْرَةِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of Zakat disbursements · Hadith 3290

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَصَارِفِ الزَّكَاةِ · حديث 3291

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ عَنْ كِنَانَةَ الْعَدَوِيِّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ، فَاسْتَعَانَ بِهِ نَفَرٌ مِنْ قَوْمِهِ فِي نِكَاحِ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، فَأَبَى أن یُعْطِیَھُمْ شِیْئًا ، فَانْطَلَقُوا مِنْ عِنْدِہٖ ، قَالَ کِنَانَۃُ فَقُلْتُ : لَہٗ : اَنْتَ سَیّدُ قَوْمِکَ ، وَاَتَوْکَ یَسْاَلُوْنَکَ فَلَمْ تُعْطِھِمْ شَئْئًا ، قَالَ اَمَّا فِیْ ھٰذَا اُعْطِی شَیْئًا ، وَسَاُخْبِرُکَ عَنْ ذٰلِکَ ، تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَۃٍ فِیْ قَوْفِی ، فَاَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہ وَسَلَّمَ ، فَاخْبِرْتُہٗ وَسَاَلْتُہٗ اَنْ یُعِینَنِی ، فَقَالَ : بَلْ نَحْمِلْھَا عَنْکَ یَا قَبِیصَۃُ ، وَنُؤَدِّیھَا اِلَیْھِمْ مِنْ اِبِلِ الصَّدَقَۃِ ثُمَّ قَالَ : اِنَّ المَسْاَلَۃَ لَا تَحِلُّ اِلَّا لِثَلَاثَۃٍ : رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَۃٍ ، فَقَدْ حَلَّتْ لَہٗ حَتّٰی یُؤَدِّیَھَا ، اَوْ رَجُلٍ اَصَابَتْہُ جَائِحَۃٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَہٗ ، فَقَدْ حَلَّتْ لَہٗ حَتّٰی یُصِیْبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ اَوْ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ ، اَوْرَجُلٍ اَصَابَتْہُ فَاقَۃٌ فَشَھِدَ لَہٗ ثَلَاثَۃٌ مِنْ ذَوِی الْحِجَا مِنْ قَوْمِہٖ اَنْ حَلَّتْ لَہُ الْمَسْاَلَۃُ ، فَقَدْ حَلَّتْ لَہٗ حَتّٰی یُصِیْبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ اَوْ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ ، فَالْمَسْالَۃُ فِیمَا سِوٰی ذٰلِکَ سُحْتٌ

کنانہ عدوی بیان کرتے ہیں: میں حضرت قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہہ کے پاس موجود تھا ا ن کی قوم کے کچھ افراد نے اپنی قوم کے ایک شخص کی شادی کے بارے میں ان سے مدد مانگی، تو انہوں نے ان لوگوں کو کچھ دینے سے انکار کر دیا وہ لوگ ان کے پاس سے اٹھ کرچلے گئے۔ کنانہ بیان کرتے ہیں: میں نے ان سے کہا : آپ اپنی قوم کے سردار ہیں وہ لوگ آپ کے پاس (مدد) مانگنے کے لئے آئے تھے آپ نے انہیں کچھ بھی نہیں دیا، تو انہوں نے فرمایا: جہاں تک اس معاملے کا تعلق ہے، تو میں کچھ بھی نہیں دوں گا میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں ایک مرتبہ میں نے اپنی قوم میں سے کسی کی کوئی ادائیگی اپنے ذمے لے لی میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو اس بارے میں بتایا میں نے آپ ﷺ سے درخواست کی کہ آپﷺ میری مدد کریں، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے قبیصہ تمہاری ادائیگی ہم اپنے ذمے لیتے ہیں اور صدقے کے اونٹوں میں سے انہیں ادائیگی کر دیں گے پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: (کسی سے کچھ) مانگنا صرف تین آدمیوں کے لئے جائز ہے ایک وہ شخص جو کوئی ادائیگی اپنے ذمے لے اس کے لیے مانگنا جائز ہے ، یہاں تک کہ وہ اس ادائیگی کو ادا کر دے ایک وہ شخص جسے مصیبت لاحق ہوئی ہو، جس کے نتیجے میں اس کی پیداوار ضائع ہو جائے اس کے لیے مانگنا جائز ہے ، یہاں تک کہ وہ اپنی ضروریات کی تکمیل کر پائے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) ایک وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو اور اس کی قوم کے تین سمجھدار لوگ اس کے بارے میں گواہی دیں کہ اس کے لئے مانگنا جائز ہو گیا ہے، تو اس کے لئے مانگنا جائز ہو گا، یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کرے، اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے۔

كِنَانَةَ الْعَدَوِيِّ، ← هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of Zakat disbursements · Hadith 3291

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَصَارِفِ الزَّكَاةِ · حديث 3292

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "إِنِّي أَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي، فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً، ثُمَّ أَرْفَعُهَا لِآكُلَهَا، ثُمَّ أخشى أن تكون صدقة فألقيها" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " میں اپنے گھر واپس جاتا ہوں وہاں مجھے کوئی کھجور گری ہوئی ملتی ہے، میں اسے کھانے کے لئے اٹھا تا ہوں پھر مجھے یہ اندیشہ ہوتا ہے کہیں یہ صدقے کی نہ ہو، تو میں اسے رکھ دیتا ہوں۔"

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of Zakat disbursements · Hadith 3292

chevron_left Previous
1…678…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr