Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ فَرْضِ الزَّكَاةِ · حديث 3269

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بن عمرو بن حزم (1) عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ، قَالَ : بَعَثَنِی النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَدَقَۃِ بَلِیَّ وَعُذْرَۃَ ، فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ مِنْ بَلِیَّ لَہٗ ثَلَاثُونَ بَعِیرًا ، فَقُلْتُ لَہٗ : اِنَّ عَلَیْکَ فِیْ اِبِلِکَ ھٰذِہِ بِنْتَ مَخَاضٍ ، قَال : ذَاکَ مَا لَیْسَ فِیْہِ طَھْرٌ وَلَا لَبَنٌ ، وَاِنِّیْ لَاَکْرَہُ اَنْ اُقْرِضُ اللہَ شَرَّ مَالِی ، فَتَخَیَّرْہُ ، فَقَالُ لَہٗ اُبِیُّ : مَا کُنْتُ لِآخُذَ فَوْقَ مَا عَلَیْکَ ، وَھٰذَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاْتِہٖ ، فَاَتَاہُ ، فَقَالَ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِاَبِیِّ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ھٰذَا مَا عَلَیْکَ فَاِنْ جِئْتَ بِفَوْقِہِ ، قَبِلْنَاہُ مِنْکَ ، قَالَ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ھٰذِہِ نَاقَۃٌ عَظِیْمَۃٌ سَمِیْنَۃٌ فَمَنْ یَّقْبِضُھَا؟ ، فَاَمََ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ یَّقْبَضُھَا ، وَدَعَا لَہٗ فِیْ مَالِہٖ بِالْبَرَکَۃِ قَالَ عُمَارَۃُ ، فَضَرَبَ الدَّھْرُ ضَرْبَۃً فَوَلَّانِیْ مَرْوَانُ صَدَقَۃَ بَلِیَّ وَعُذْرَۃَ فِیْ زَمَنٍ مُعَاوِیَۃَ ، فَمَرَرْتُ بِھٰذَا الرَّجُلِ فَصَدَقْتُ مَالَہٗ ثَلَاثِینَ حِقَّۃً ، فَیْھَا فَحْلُھَا عَلٰی اَلْفٍ وَّخَمْسِ مِائَۃِ بَعِیرٍ ، قَالَ ابْنَ اِسْحَاقَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ بَکْرٍ : مَا فَحْلُھَا ؟ ، قَالَ فِی السُّنَّۃِ اِذَا بَلَغَ صَدَقَۃُ الرَّجْلِ ثَلَاثُونَ حِقَّۃً اُخِذَ مَعَھَا فَحْلُھَا

(سند حدیث): حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلی اور عذرہ قبیلے سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا میرا گزر بلی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے پاس سے ہوا جس کے پاس تیس (30) اونٹ تھے میں نے اس سے کہا: تمہارے ان اونٹوں میں تم پر بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی اس نے کہا:یہ، تو ایک ایسا جانور ہے، جس پر سواری بھی نہیں کی جا سکتی اور یہ دودھ بھی نہیں دیتا مجھے یہ بات پسند نہیں ہے میں اللہ تعالیٰ کو اپنا برا مال پیش کروں تمہیں اس بارے میں اختیار ہے (کہ تم کوئی دوسرا جانور لے لو) حضرت ابی رضی اللہ عنہہ نے اس سے فرمایا: میں تم سے اس سے زیادہ وصولی نہیں کر سکتا جو تم پر لازم ہے۔ اللہ کے رسولﷺ تشریف فرما ہیں تم ان کی خدمت میں چلے جاو وہ شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے وہی بات کہی جو اس نے حضرت ابی رضی اللہ عنہہ سے کہی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: یہ وہ چیز ہے ، جو تم پر لازم ہے، اگر تم اس سے زیادہ لے آتے ہو، تو ہم اسے تمہارے طرف سے قبول کر لیں گے اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! یہ ایک موٹی تازی اونٹنی ہے کون اسے قبضے میں لے گا، تو نبی اکرم ﷺ نے ہدایت کی، تو ایک شخص نے اسے قبضے میں لے لیا۔ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کے مال میں اس کے لیے برکت کے لیے دعا کی۔ عمارہ نامی راوی کہتے ہیں: اس کے بعد ایک طویل عرصہ گزر گیا مروان ( جو مدینہ منورہ کا گورنر تھا) اس نے مجھے بلی اور عذرہ قبیلے سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا یہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہہ کے عہد خلافت کی بات ہے میرا گزر اس شخص کے پاس سے ہوا، تو میرے حساب سے اس کے مال کی زکٰوۃ تیس (30) حقے بنتی تھی جس میں ایک نر جانور بھی ہو اور اس کے اونٹوں کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن ابو بکر نامی راوی سے دریافت کیا: نر جانور ہونے سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: سنت یہ ہے کہ جب کسی شخص کی زکوٰۃ تیس (30) حقہ تک پہنچ جائے ، تو اس کے ہمراہ ایک نر جانور بھی لیا جائے گا۔

بَعَثَنِی النَّبِیُّ صَدَقَۃِ بَلِیَّ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on enforcing zakat · Hadith 3269

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ فَرْضِ الزَّكَاةِ · حديث 3270

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ مُصَّدِّقًا ، وَقَالَ : اِیَّاکَ یَا سَعْدُ اَنْ تَجِیءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِبَعِیرٍ لَہٗ رُغَاءٌ ، فَقَالَ : لَا اَجِدُہُ وَلَا اَجِیءُ بِہٖ ، فَاَعْفَاہُ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے سعد بن عبادہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے سعد ! اس چیز سے بچنے کی کوشش کرنا کہ تم قیامت کے دن ایسا اونٹ ساتھ لا و جو آواز نکال رہا ہو انہوں نے عر ض کی: نہ، تو میں اسے پاتا ہوں اورنہ ہی اسے لے کر آوں گا، تو نبی اکرمﷺ نے انہیں یہ ذمہ داری نہیں دی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on enforcing zakat · Hadith 3270

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ فَرْضِ الزَّكَاةِ · حديث 3271

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلَانَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ ولا عبده صدقة" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔"

"لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ ولا عبده صدقة" ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بن دينار أنه ← شُعْبَةُ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمَاجِشُونِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on enforcing zakat · Hadith 3271

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ فَرْضِ الزَّكَاةِ · حديث 3272

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِدْرِیسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْیَمَ ، حَدَّثَنَا فَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ اَبِیعَۃَ ، عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، عَنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لَا صَدَقَۃَ عَلٰی الرَّجُلِ فِیْ فَرَسِہِ وَعَبْدِہٖ ، اِلَّا زَکَاۃَ الْفِطْرِ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : فِیْ ھٰذَا الْخَبَرِ دَلِیْلٌ عَلٰی اَنَّ الْعَبْدَ لَا یَمْلِکُ ، اِذِ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَوْجَبَ زَکَاۃَ الْفِطْرِ الَّتِیْ تَجِبُ عَلَی الْعَبْدِ عَلٰی مَالِکِہِ عَنْہُ دُونَہُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " آدمی پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، البتہ (غلام میں )صدقہ فطر لازم ہوتا ہے۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ غلام ( کسی بھی چیز کا ) مالک نہیں ہوتا کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے صدقہ فطر کو غلام پر لازم قراد دیا ہے لیکن اس کی ادائیگی اس پر لازم نہیں ہے بلکے اس کے مالک پر لازم ہے۔

"لَا صَدَقَةَ عَلَى الرَّجُلِ فِي فَرَسِهِ وَعَبْدِهِ، إِلَّا زَكَاةَ الْفِطْرِ" ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← جَعْفَرُ بْنُ اَبِیعَۃَ ← فَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← ابْنُ مَرْيَمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on enforcing zakat · Hadith 3272

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ فَرْضِ الزَّكَاةِ · حديث 3273

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْرَجُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ على الصدقة، فمنع بن جَمِيلٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَالْعَبَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا يَنْقِمُ بن جَمِيلٍ إِلَّا أَنْ كَانَ فَقِيرًا، فَأَغْنَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا خَالِدٌ، فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا، لَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ، فَعَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا"، ثُمَّ قَالَ: "أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ الرَّجُلِ أَوْ صِنْوُ أبيه" (1) . قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَاَمَّا خَالِدٌ فَاِنَّکُمْ تَظْلِمُوْنَ خَالِدً قَدِا احْتَبَسَ اَدْرَاعَہٗ وَاَعْتَادَہُ فِیْ سَبِیلِ اللہِ ، یُرِیْدُ اِنَّکُمْ تَظْلِمُوْنَہٗ اَنَّہٗ حَبَسَ مَالَہٗ مِنَ الْاَدْرَاعِ وَالْاَعْتَادِ حَتّٰی لَمْ یَبْقَ لَہٗ مَالٌ تَجِبُ عَلَیْہ الصَّدَقَۃُ ، وَقَوْلُہٗ فِیْ شَاْنِ الْعَبَّاسِ : ھُوَ عَلَیَّ وَمِثْلُھَا یُرِیْدُ اَنَّ صَدَقَتَہٗ عَلَیَّ اَنِّیْ ضَامِنٌ عَنْہُ ، وَمِثْلُھَا مَعَھَا مِنْ صَدَقَۃٍ ثَانِیَۃٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، وَقَدْ رَوٰی شُعَیْبُ بْنُ اَبِیْ حَمْزَۃَ ھٰذَا الْخَبَرَ ، عَنْ اَبِی الزِّنَادِ ، وَقَالَ فِیْ شَاْنِ الْعَبَّاسِ ،فِھِیَ عَلَیْہِ صَدَقَۃٌ وَمِثْلُھَا مَعَھَا ، وَیُشْبِہُ اَنْ یَّکُوْنَ مَعْنَاہُ ، فِھِیَ لَہٗ صَدَقَۃٌ ، لِاَنَّ الْعَرَبَ فِیْ الْغَتِھَا نَقُوْلُ : عَلَیْہِ بَمِعْنٰی لَہٗ ، قَالَ اللہُ (اُولَئِکَ لَھُمُ اللَّعْنَۃُ وَلَھُمْ سُوءُ الدَّارِ) (الرعد :25) یُرِیْدُ : عَلَیْھِمُ اللَّعْنَۃُ ، وَالْعَبَّاسُ لَمْ یَحِلَّ لَہٗ اَخَذُ الصَّدَقَۃِ مِنْ وَجْھَیْنِ ، اَحَدُھُمَا : اَنَّہٗ کَانَ غَنِیًّا لَا یَحِلُّ لَہٗ اَخَذُ الصَّدَقَۃِ الْفَرِیضَیۃِ ، وَالْاُخْرٰی : اَنَّہٗ کَانَ مِنْ صِبَیَۃٍ بَنِیْ ھَاشِمٍ ، فَکَیْفَ یَتْرُکُ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَدَقَتَہٗ عَلَیْہِ ، وَھُوَ لَا یَحِلُّ لَہٗ اَخَذُھَا ، وَیَمْنَعُھَا مِنْ اَھْلِھَا مِنَ الْفُقرَاءِ ؟ وَقَدْ روٰی مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ ، عَنْ اَبِی الرِّنَادِ ھٰذَا الْخَبَرَ ، وَقَالَ فِیْ شَاْنِ الْعَبَّاسِ : فِھیَ لَہٗ وَمِثلُھَا مَعَھَا یُرِیْدُ : فَھِیَ لَہٗ عَلَیَّ ، کَمَا قَالَ وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ فِیْ خَبَرِہِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا ، تو ابن جمیل ، خالد بن ولید اور حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہہ نے زکوٰۃدینے سے انکا ر کر دیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابن جمیل کو صرف اس بات کا غصہ ہے کہ وہ غریب تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسے خوش حال کر دیا ہے جہاں تک کہ خالد کا تعلق ہے تو تم نے خالد کے ساتھ زیادتی کی ہے، اس نے ، تو پہلے ہی اپنی زر ہیں اور سازو سامان اللہ کی راہ میں مخصوص کر لیا ہے اور جہاں تک عباس کا تعلق ہے تو و ہ اللہ کے رسول کے چچا ہیں، تو ان کی زکوٰۃ کی ادائیگی اور اس کی مانند مزید ادائیگی میرے ذمے ہے پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ آدمی کا چچا آدمی کی جگہ ہوتا ہے (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) آدمی کے باپ کی جگہ ہوتا ہے۔ (امام ابن حبان اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان جہاں تک خالد کاتعلق ہے ، تو تم لوگوں نے خالد کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ اس نے اپنی زر ہیں اور سازو سامان کو اللہ کی راہ میں مخصوص کر دیا ہے۔ اس کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ ہے: تم لوگ اس کے ساتھ زیادتی کر رہے ہو کیونکہ اس نے اپنے مال میں سے زرہیں اور دیگر سازو سامان کو روک رکھا ہے یہاں تک کہ اس کے پاس کوئی مال باقی نہیں رہا جس پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہو اور حضرت عباس رضی اللہ عنہہ کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کا یہ کہنا کہ اس کی مثل کی ادائیگی میرے ذمے ہے۔ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے: ان کے زکوٰۃ کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور میں ان کی طرف سے ضامن ہوں اور اس کے ہمراہ اس کی مانند صدقے کا بھی ضامن ہوں جو اگلے سال ان پر لازم ہو گا۔ شعیب بن ابو حمزہ نے یہ روایت ابو زناد کے حوالے سے نقل کی ہے انہوں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہہ کے بارے میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں کہ یہ چیز ان پر لازم ہے اور اس کے ہمراہ اس کی مانند لازم ہے تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ چیز ان کے لئے صدقہ ہے کیونکہ عرب اپنے محاورے میں یہ کہتے ہیں اس پر لازم ہے،تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کو ملے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ "یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا ٹھکانہ ہے۔" اس سے مرادیہ ہے: ان لوگوں پر لعنت ہے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہہ کے لئے زکوٰۃ لینا جائز نہیں تھا۔ اس کی دو وجہ ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے : وہ خوشحال شخص تھے۔ ان کے لئے فرض زکوٰۃ کو لینا جائز نہیں تھا۔ دوسری وجہ یہ ہے:" حضرت ہاشم کی اولاد میں سے ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے ذمے لازم زکوٰۃ کو ترک کر دیں جبکہ ان کے لئے زکوٰۃ کو لینا جائز نہیں ہےا ور نبی اکرم ﷺ اپنے خاندان کے غریب افراد کو زکوٰۃ دینے سے منع کر دیں۔ جیسا کہ موسیٰ بن عقبہ نے ابوز ناد کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے جس میں حضرت عباس رضی اللہ عنہہ کے بارے میں یہ الفاظ ہیں۔ "تو یہ ان کو ملے گی اور اس کی مانند اس کے ہمراہ نہیں ملے گی"۔ اس کے ذریعے مراد یہ ہے: ان کی طرف سے اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے۔ جس طرح ورقاء بن عمر نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں۔

الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← وَرْقَاءُ ← شَبَابَةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on enforcing zakat · Hadith 3273

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ فَرْضِ الزَّكَاةِ · حديث 3274

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ اَبِیْ َوْفَی ، یَقُوْلُ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا اَتَاہُ رَجُلٌ بِصَدَقَۃِ مَالِہٖ صَلّٰی عَلَیْہِ ، فَاَتَیْتُ بِصَدَقَۃِ مَالِی ، فَقَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اللّٰھُمَّ صَلِّءَ لٰی آلِ اَبِیْ اَوْفَی

حضرت ابن ابواوفٰی رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جب کوئی شخص اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر آتا تھا، تو نبی اکرم ﷺ اس کے لیے دعائے رحمت کیا کرتے تھے میں اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: الے اللہ ! ابواوفٰی کی آل پر رحمت نازل کر۔

ابْنَ اَبِیْ َوْفَی ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on enforcing zakat · Hadith 3274

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3275

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ وَمَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ" (1) .

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "پانچ اوقیہ سے کم (چاندی) میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی اور نہ ہی پانچ وسق سے کم (اناج) میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہےاور نہ ہی پانچ سے کم اونٹوں میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے۔"

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ ← شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ، وَمَالِكٌ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3275

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3276

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَحِلُّ فِي الْبُرِّ وَالتَّمْرِ زَكَاةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَلَا يَحِلُّ فِي الْوَرِقِ زَكَاةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَ أَوَاقٍ، وَلَا يَحِلُّ فِي الْإِبِلِ زَكَاةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خمس ذود" (1) .

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " گندم اور کھجور میں اس وقت تک زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی جب تک کہ وہ پانچ وسق نہ ہو جائے۔ چاندی میں اس وقت تک زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی جب تک اس کی تعداد پانچ اوقیہ نہ ہو جائے۔ اونٹوں میں اس وقت تک زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی جب تک وہ پانچ اونٹ نہ ہو جائیں۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3276

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3277

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلَا تَمْرٍ دُونَ کَمْسَۃِ اَوْسُقٍ صَدَقَۃٌ ، وَلَیْسَ فِیمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَۃٌ ، وَلَیْسَ فِیمَا دُونَ خَمْسِ اَوَاقٍ صَدَقَۃٌ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " پانچ وسق سے کم اناج اور کھجوروں میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔ پانچ سے کم اونٹوں میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔ پانچ اوقیہ سے کم(چاندی میں) زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔"

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3277

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3278

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ عَلَى الناس من يخرص كرومهم وثمارهم (1) .

حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ لوگوں کی طرف کسی شخص کو بھیجتے تھے جو ان کے پھلوں اور پیداوار کا حساب لگا لیتا تھا۔

عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3278

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3279

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْكَرْمُ يُخْرَصُ كَمَا يُخْرَصُ النَّخْلُ ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النخل تمرا" (1) .

حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " انگور کے درخت کا اندازہ لگایا جا ئے گا،جس طرح کھجور کے درخت کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور پھر انگور کی شکل میں اس کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے گی ، جس طرح کھجور کے درخت کی زکوٰۃ کھجور کی شکل میں ادا کی جاتی ہے۔"

عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3279

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3280

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: جَاءَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ إِلَى مَسْجِدِنَا، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا خَرَصْتُمْ، فَخُذُوا، وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَدْعُوا الثُّلُثْ، فَدَعُوا الرُّبُعَ" (1) . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لِهَذَا الْخَبَرِ مَعْنَيَانِ، أَحَدُهُمَا: أَنْ يُتْرَكَ الثُّلُثُ أَوِ الرُّبُعُ مِنَ الْعُشْرِ. وَالثَّانِي: أَنْ يُتْرَكَ ذَلِكَ مِنْ نَفْسِ التَّمْرِ قَبْلَ أَنْ يُعَشَّرَ إِذَا كان ذلك حائطا كبيرا يحتمله.

عبدالرحمٰن بن مسعود بیان کرتے ہیں: حضرت سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہہ ہماری اس مسجد میں تشریف لائے انہوں نے ہمیں یہ حدیث بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "جب تم پیداوار کا اندازہ لگاو ، تو وصولی کر لو اور ایک تہائی حصے کو چھوڑ دو اگر تم ایک تہائی کو نہیں چھوڑتے ، تو چوتھے حصے کو چھوڑ دو۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): اس روایت کے دومفہوم ہو سکتے ہیں ایک یہ ہے: وہ عشر میں سے ایک تہائی یا ایک چوتھائی کو تر ک کر دے اور دوسرا مفہوم یہ ہے: وہ عشر لینے سے پہلے کھجوروں میں سے ہی اسے ترک کر دے جبکہ وہ باغ بڑا ہو۔

جَاءَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ إِلَى مَسْجِدِنَا، فَحَدَّثَنَا ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3280

chevron_left Previous
1…567…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr