Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ لِمَانِعِ الزَّكَاةِ · حديث 3257

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ ثَوْبَانَ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قَالَ: "مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ كَنْزًا مُثِّلَ لَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَتْبَعُهُ، فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ الَّذِي خَلَّفْتَ بَعْدَكَ، فَلَا يَزَالُ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ يده فيقضمها (1) ثم يتبعه سائر جسده" (2) .

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جوشخص اپنے بعد خزانہ چھوڑ کا جائے گا ، توقیامت کے دن اس خزانے کو ایک گنجے سانپ کی شکل دے دی جائے گی، جسی کی دو زبیب (اس سے مراد اطراف سے نکلے ہوئے دانت ہیں یا آنکھ کے اوپر موجود دو سیا نقطے ہیں) ہوں گی وہ اس شخص کے پیچھے جائے گا وہ شخص دریافت کرے گا تم کون ہو ؟ وہ کہے گا: میں تمہارا وہ خزانہ ہوں جسے تم اپنے پیچھے چھوڑ آئے تھے پھر وہ خزانہ مسلسل اس کے پیچھے رہے گا، یہاں تک کہ وہ شخص اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھائے گا وہ خزانہ اس کے ہاتھ کو چبا لے گا اور پھر اس کے بعد اس کے پورے وجود کو نگل لے گا۔"

ثَوْبَانَ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the promise of the person who takes away Zakat · Hadith 3257

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ لِمَانِعِ الزَّكَاةِ · حديث 3258

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ بن عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ وَهُوَ يَتَعَوَّذُ مِنْهُ، فَلَا يَزَالُ يَتْبَعُهُ حَتَّى يلقمه أصبعه" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "تم میں سے کسی ایک شخص کا خزانہ قیامت کے دن گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا و ہ اپنے مالک کے پیچھے جائے گا وہ مالک اس سے بچنے کی کو شش کرے گا، لیکن وہ اس کے پیچھے رہے گا، یہاں تک کہ وہ اپنی انگلیا ں اس (سانپ) کے منہ میں دیدے گا۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← بن عَجْلَانَ ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the promise of the person who takes away Zakat · Hadith 3258

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ لِمَانِعِ الزَّكَاةِ · حديث 3259

أَخْبَرَنَا عُمَرُ "1" بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَسَدِيُّ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَبَيْنَا أَنَا فِي حَلْقَةٍ وَفِيهَا مَلَأٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ أَخْشَنُ الثِّيَابِ، أَخْشَنُ الْجَسَدِ، أَخْشَنُ الْوَجْهِ، فَقَامَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: بَشِّرِ الْكَنَّازِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَى عَلَيْهِمْ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُوضَعُ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِ أَحَدِهِمْ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ "2" نُغْضِ كَتِفِهِ وَيُوضَعَ عَلَى نُغْضِ كَتِفِهِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةَ ثديه، فوضعوا رؤوسهم، فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ، رَجَعَ إِلَيْهِ شَيْئًا. قَالَ: وَأَدْبَرَ فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ هَؤُلَاءِ إِلَّا كَرِهُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ. قَالَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ لَا يَعْقِلُونَ، إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي، فَقَالَ: "يَا أَبَا ذَرٍّ" - فَأَجَبْتُهُ- قَالَ: "أَتَرَى أُحُدًا" - قَالَ: فَنَظَرْتُ مَا عليَّ "3" مِنَ الشَّمْسِ، وَأَنَا أَظُنُّهُ يَبْعَثُنِي لِحَاجَةٍ لَهُ- فقلت: أراه، فَقَالَ: "مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أنفقته كُلَّهُ غَيْرَ ثَلَاثَةِ دَنَانِيرَ"، ثُمَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا ". قَالَ: قُلْتُ: مَا لَكَ وَلِإِخْوَانِكَ قُرَيْشٍ؟ قَالَ: لَا وَرَبِّكَ لَا أَسْأَلُهُمْ دُنْيَا وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ فِي دِينِي حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" "4".

احنف بن قیس بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا میں ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اس میں قریش کے کچھ افراد بھی تھے اسی دوران ایک صاحب وہاں آئے جنہوں نے کھر درے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ان کا جسم بھی کھر درا تھا چہرہ بھی کھر درا تھا وہ ان لوگوں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور بولے: خزانے جمع کرنے والوں کو انگاروں کی اطلاع دے دو جنہیں ان کے لیے جہنم کی آگ میں بھڑکایا جا رہا ہے اور پھر اسے ان میں سے کسی ایک شخص کے سینے پر رکھا جائے گا، یہاں تک کہ وہ انگارہ اس کے کندھے کی طرف سے نکل جائے گا اور اسے اس شخص کے کندھے پر رکھا جائے گا ، تو وہ اس کے سینے سے نکل جائے گا، تو لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے انہیں کوئی جواب دیا ہو پھر وہ صاحب چلے گئے میں ان صاحب کے پیچھے گیا وہ ایک ستون کے پاس جا کے بیٹھ گئے میں نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ ان سب لوگوں نے آپ کی اس بات کو نا پسند کیا ہے، جو آپ نے ان سے کہی ہے، تو اس شخص نے کہا: یہ لوگ عقل نہیں رکھتے ہیں میرے خلیل حضرت ابولقاسمﷺ نے مجھے بلوایا اور فرمایا: اے ابو ذر میں نے کہا: میں حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے احد کو دیکھا ہے ۔ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہہ کہتے ہیں: میں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ دھوپ کتنی تیز ہے میرا یہ خیال تھا کہ شاید نبی اکرم ﷺ اپنے کسی کام سے مجھے بھیجنا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس اس (احد پہاڑ ) جتنا سونا ہو اور میں اس سب کو خرچ کر دوں، لیکن تین دینار خرچ نہ کروں (یعنی میں اسے بھی خرچ کر دوں گا)۔ (حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہہ نےفرمایا) یہ لوگ ہیں کہ یہ دنیا جمع کیے جا رہے ہیں انہیں کسی چیز کی عقل ہی نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: آپ کا اور آپ کے قریشی بھائیوں کا کیا واسطہ۔ انہوں نے فرمایا: جی نہیں تمہارے پروردگار کی قسم! میں ان لوگوں سے دنیا نہیں مانگوں گا، نہ ہی اپنے دین کے بارے میں ان سے مسئلہ دریافت کروں گا، یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی بارگا ہ میں حاضر ہو جاوں۔

قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَبَيْنَا ← الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إسماعيل بن إبراهيم الأسدي ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the promise of the person who takes away Zakat · Hadith 3259

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ لِمَانِعِ الزَّكَاةِ · حديث 3260

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ: بَشِّرِ الْكَنَّازِينَ فِي ظُهُورِهِمْ بِكَيٍّ يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ، وبِكَيٍّ مِنْ قِبَلِ قَفاهم يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ. ثُمَّ تَنَحَّى، فَقَعَدَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: أَبُو ذَرٍّ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: مَا شيءٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُهُ قُبَيْلُ "1"؟ قَالَ: مَا قُلْتُ إِلَّا شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: قُلْتُ: فَمَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَاءِ؟ قَالَ: خُذْهُ، فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً، فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فدعه" "2".

احنف بن قیس کہتے ہیں: میں قریش کے کچھ افراد کے پاس بیٹھا ہوا تھا حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہہ وہان سے گزرے انہوں نے فرمایا: خزانے جمع کرنے والوں کو یہ اطلاع دے دو کہ ان کی پشتوں کو اس چیز کے ذریعے داغا جائے گا جو ان کے پہلو سے نکل جائے گی اور اس چیز کے ذریعے داغا جائے گا جوان کی گدی کی طرف ڈالی جائے گی، تو سامنے کی طرف سے نکل جائے گی پھر وہ ایک طرف ہٹ کر بیٹھ گئے۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہہ ہیں۔ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا میں نے کہا: ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے آپ کو وجوہات بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کیا چیز ہے انہوں نے فرمایا: میں نے صرف وہی بات بیان کی ہے، جو میں نے ان کے نبی ﷺ کی زبانی سنی ہے میں نے دریافت کیا: پھر آپ اس تنخواہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: تم اسے حاصل کر لو، کیونکہ اب اس کے ذریعے ضروریات پوری کی جاتی ہیں، لیکن جب یہ تمہارے دین کی قیمت بنے، تو تم اسے چھوڑ دو۔

الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← خُلَيْدٍ الْعَصَرِيِّ ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the promise of the person who takes away Zakat · Hadith 3260

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ لِمَانِعِ الزَّكَاةِ · حديث 3261

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَأْتِي الْمَالُ الَّذِي لَا يُعْطَى فِيهِ الْحَقُّ "1" تَطَأُ الْإِبِلُ سَيِّدَهَا بِأَخْفَافِهَا، وَيَأْتِي الْبَقَرُ وَالْغَنَمُ فَتَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَظْلَافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَيَأْتِي الْكَنْزُ شُجَاعًا أَقْرَعَ، فَيَلْقَى صَاحِبَهُ، فَيَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُهُ وَيَفِرُّ مِنْهُ، وَيَقُولُ: مَا لِي وَلَكَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ، فَيَلْقَمُ يَدَهُ" "2".

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "وہ مال آئےگا جس کا حق (یعنی زکوٰۃ) نہیں ادا کیا گیا ہو گا اونٹ اپنے مالک کو اپنے پاوں کے ذریعے روندے گا۔ گائے اور بکریاں آئیں گی اپنے مالک کو اپنے پاوں کے ذریعے روندیں گی اور سینگوں کے ذریعے ماریں گی۔ خزانہ گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور اپنے مالک کے پیچھے جائے گا اس کا مالک اس سے بھاگے گا وہ پھر اس کے سامنے آجائے گا پھر اس سے بھاگے گا اور یہ کہے گا میرا تمہارے ساتھ کیا واسطہ ہے، تو وہ کہے گا میں تمہارا خزانہ ہوں پھر وہ اس کے ہاتھ کو چبا لے گا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the promise of the person who takes away Zakat · Hadith 3261

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ لِمَانِعِ الزَّكَاةِ · حديث 3262

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عبد اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلَا يُفقه مَا يَقُولُ، حَتَّى دَنَا، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خمس صَلَوَاتِ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ ، قَالَ : ھَلْ عَلَیَّ غَیْرُھَا ؟ ، قَالَ : لَا اِلَّا تَطَوَّعَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَصِیَامُ شَھْرِ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : ھَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُ ؟ ، قَالَ : لَا اِلَّا اَنْ تَطَوَّعَ ، قَال : وَذَکَرَلَہٗ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الزَّکَاۃ ، فَقَالَ : ھَلْ عَلَیَّ غَیْرُھَا ؟ قَالَ : لَا اِلَّا اَنْ تَطَوَّعَ ، قَالَ : فَاَدْبَرَ الرَّجُلُ وَھُوَ یَقُوْلُ وَاللہِ لَا اَزِیذَ عَلَی ھٰذَا وَلَا الْقُصُ مِنْہُ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَفْلَحَ اِنْ صَدَقَ

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نجد سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنائی دیتی تھی ، لیکن وہ کیا کہہ رہا ہے یہ سمجھ نہیں آتا تھا جب وہ قریب ہوا، تو پتہ چلا کہ وہ اسلام کے بارے میں دریافت کر ہا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: دن اور رات میں پانچ نمازیں (فرض ہیں) اس نے دریافت کیا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر ( کوئی نماز ادا کرنا) فرض ہے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جی نہیں ، البتہ اگر تم نوافل ادا کرو ( تو یہ بہتر ہیں) راوی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا (فرض ہے) اس نے دریافت کیا: کیا ان کے علاوہ ( کوئی اور روزے بھی) مجھ پرلازم ہیں نبی اکرم ﷺ نےفرمایا: جی نہیں ، البتہ اگر تم نفل (روزے رکھو، تو یہ بہتر ہیں)۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اس کے سامنے زکوٰۃ کا تذکرہ کیا ، تو اس نے دریافت کیا: اس کے علاوہ ( کوئی ادائیگی) بھی مجھ پر لازم ہے نبی اکرم ﷺ نےفرمایا: جی نہیں ، البتہ اگر تم نفلی طور پر (صدقہ و خیرات کرو، تو یہ بہتر ہیں) راوی کہتے ہیں: پھر وہ شخص چلا گیا وہ یہ کہہ رہا تھا اللہ کی قسم ! میں اس میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا اور اس میں کوئی کمی بھی نہیں کروں گا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا : اگر اس نے سچ کہا، تو یہ کامیا ب ہو گیا۔

طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the promise of the person who takes away Zakat · Hadith 3262

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ لِمَانِعِ الزَّكَاةِ · حديث 3263

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى "1" بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، فَوَجَدُوا فِي شَمْلَتِهِ دِينَارَيْنِ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "كَيَّتانِ" "2"

حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہہ) بیا ن کرتے ہیں: اہل صفہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا ، تو لوگوں کو ان کی چادر میں دو دینار ملے لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ دونوں داغ لگانے والے ہیں۔

كَيَّتَانِ ← تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، فَوَجَدُوا فِي شَمْلَتِهِ دِينَارَيْنِ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the promise of the person who takes away Zakat · Hadith 3263

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ لِمَانِعِ الزَّكَاةِ · حديث 3264

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنَ الْاَکْوَعِ ، قَالَ: کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاُتِیَ بِجَنَازَۃٍ ، فَقَالُوْا صَلِّ عَلَیْھَا یَا رَسُوْلَ اللہِ ، قَالَ : ھَلْ تَرَکَ عَلَیْہِ دَیْنًا ، قَالُوْا : لَا ، قَالَ : فَھَلْ تَرَکَ مِنْ شَیْءٍ ، قَالُوْا ثَلَاثَۃُ دَنَانِیرَ ، قَالَ ثَلَاثُ کَیَّاتٍ ثُمَّ اُتِیَ بِالثَّانِیَۃِ ، فَقَالُوْا : یَا نَبِیَّ اللہِ صَلِّ عَلَیْھَا ، قَالَ : ھَلْ تَرَکَ مِنْ دَیْنٍ ، قَالُوْا : نَعَمْ ، قَالَ : فَھَلْ تَرَکَ مِنْ شَیْءٍ ، قَالُوْا : لَا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ یُقَالُ لَہٗ اَبُوْ اَبُوْ قَتَادَۃَ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیَّ دَیْنُہُ ، قَالَ : فَصَلّٰی عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ موجود تھا ایک جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! آپﷺ اس کی نماز جنازہ ادا کریں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: تین دینار۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تین ایسی چیزیں جن سے داغ لگایا جائے گا۔ ایک اور جنازہ آیا لوگوں نے عرض کی:اے اللہ کے نبی ﷺ آپ ﷺ اس کا نماز جنازہ ادا کیجئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے۔ لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ انصار میں سے ایک صاحب جن کا نام حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہہ تھا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمے ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔

کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ فَاُتِیَ بِجَنَازَۃٍ فَقَالُوْا صَلِّ عَلَیْھَا ← سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the promise of the person who takes away Zakat · Hadith 3264

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ لِمَانِعِ الزَّكَاةِ · حديث 3265

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ یَحْیَی الْاَسْلَمِیُّ ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَسِّمُ ذَھَبًا اِذْ اَتَاہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَعْطِنِی ، فَاَعْطَاہُ ، ثُمَّ قَالَ : زِدْنِیْ فَزَادَہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ وَلّٰی مُدْبِرًا ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَاْتِینِی الرَّجُلُ فَیَسْاَلُنِیْ فَاُعْطِیہِ ، ثُمَّ یَسْاَلُنِیْ فَاُعْطِیہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ وَلّٰی مُدْبِرًا وَقَدْ جَعَلَ فِیْ ثَوْبِہٖ نَارًا اِذَا انْقَلَبَ اِلٰی اَھْلِہِ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ سونا تقسیم کر رہے تھے اسی دوران ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ مجھے بھی دیجئے۔ نبی اکرمﷺ نے اسے عطا کر دیا پھر اس نے کہا: آپﷺ مجھے مزید دیجئے، تو نبی اکرمﷺ نے اسے مزید عطا کیا ایسا تین مرتبہ ہوا پھر وہ منہ پھیر کر چلا گیا ، تو نبی اکرمﷺ نےا رشاد فرمایا: ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے مانگتا ہے میں اسے عطا کر دیتا ہوں وہ پھر مجھ سے مانگتا ہے، تو میں اسے عطا کر دیتا ہوں ایسا تین مرتبہ ہوتا ہے پھر وہ شخص مڑ کر چلا جاتا ہے، حالانکہ اس نے اپنے کپڑے میں آگ ڈالی ہوئی ہوتی ہے، اس وقت جب وہ اپنے گھر واپس جا رہا ہوتاہے۔

بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللہِ یُقَسِّمُ ذَھَبًا اِذْ اَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ یَحْیَی الْاَسْلَمِیُّ ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the promise of the person who takes away Zakat · Hadith 3265

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ فَرْضِ الزَّكَاةِ · حديث 3266

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْبُجَيْرِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بِبُسْتَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ لَمَّا اسْتُخْلِفَ كَتَبَ لَهُ حِينَ وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ هَذَا الْكِتَابَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا، فَلَا يُعْطِهَا. فِي أَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ فَمَا دُونَهَا: الْغَنَمُ، فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ، فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ. فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ، فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ، فَإِذَا بَلَغَتْ وَاحِدَۃً وَسَتِّینَ اِلٰی خَمْسٍ وَّسَبْعِینَ فَفِیْھَا جَذَعَۃٌ ، فَاِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِینَ اِلٰی تِسْعِینَ فَفِیْھَا ابْنَتَا لَبُوْنٍ ، فَاِذَا بَلَغَتْ اِحْدَی وَتِسْعِینَ اِلٰی عِشْرِیْنَ وَمِائَۃٍ فَفِیْھَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ ، فَاِذَا زَادَتْ عَلٰی عِشْرِیْنَ وَمِئَۃٍ فَفِیْ کُلِّ اَرْبَعِینَ ابْنَۃُ لَبُوْنٍ ، وَفِیْ کُلِّ خَمْسِینَ حِقَّۃٌ ، وَاِنَّ مَنْ بَلغَتْ عِنْدَہُ مِنَ الْاِبِلِ صَدَقَۃُ الْجَذَعَۃِ وَلَیْسِ عِنْدَہُ جَذَعَۃٌ وَعِنْدَہُ حِقَّۃٌ فَاِنَّھَا تُقْبَلُ مِنْہُ الْحِقأَۃُ ، وَیَجْعَلْ مَعَھَا شَاتَیْنِ اَوْ عِشْرِیْنَ دِرْ ھَمًا ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَہُ صَدَقَۃُ الْحِقَّۃِ وَلَیْسَتْ عِنْدَہُ ِحِقَّۃٌ وَعِنْدَہُ جَذَعَۃٌ فَاِنَّھَا تُقْبَلُ مِنْہُ الْجِذَعَۃُ وَیُعْطِیہِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِیْنَ دِرْھَمًا اَوْ شَاتَیْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتْہُ الْحِقَّۃُ وَلَیْسُ عِنْدَہُ اِلَّا ابْنَۃُ لَبُوْنِ فَاِنَّھَا تُقْبَلُ مِنْہُ ، وَیُعْطِی شَاتَیْنِ اَوْ عِشْرِیْنَ دِرْھَمًا ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتْہُ ابْنَۃَ لَبُوْنٍ وَّلَیْسَتْ عِنْدَہُ اِلَّا حِقَّۃٌ فَاِنَّھَا تُقْبَلُ مِنْہُ الْحِقَّۃُ وَیُعْطِیہِ الْمُصَّدِقُ عِشْرِیْنَ دِرْھَمًا اَوْ شَاتَیْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُہٗ ابْنَۃَ مَخَاضٍ مَخَاضٍ وَّلَیْسَتْ عِنْدَہٗ، وَعِنْدَہُ ابْنَۃُ لَبُوْنٍ فَاِنَّھَا تُقْبَلُ مِنْہُ ابْنَۃُ لَبُوْنٍ وَّیُعْطِیہِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرَیْنَ دِرْھَمًا اَوْ شَاتَیْنِ ، وَمَنْ لَّمْ یَکُنْ عِنْدَہُ ابْنَۃُ مَخَاضٍ ، وَعِنْدَہُ ابْنُ لَبُوْنِ فَاِنَّہٗ یُقْبَلُ مِنْہُ ، وَلَیْسَ مَعَہٗ شَیْءٌ ، وَمَنْ لَّمْ یَکُنْ مَعَہٗ اِلَّا اَرْبَعَۃٌ مِنَ الْاِبِلِ فَلَیْسِ فِیْھَا صَدَقَۃٌ اِلَّا اَنْ یَّشَاءَ رَبُّھَا ، فَاِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا مِنَ الْاِبِلِ فَفِیْھَا شَاۃٌ ، وَصَدَقَۃُ الْغَنَمِ فِیْ کُلِّ شَائِمَتِھَا اِذَا کَانَتْ اَرْبَعِینَ اِلٰی عِشْرِیْنَ وَمِائَۃٍشَاۃٌ ، فَاِذًا زَادَتْ عَلٰی عِشْرِیْنَ وَمِئَۃٍ اِلٰی اَنْ تَبْلُغَ مِائَتَیْنِ ، فَفِیْھَا شَاتَانِ فَاِنْ زَادَتْ عَلَی الْمِئَتَیْنِ اِلٰی ثَلَاثِ مِائَۃٍ فَفِیْھَا ثَلَاثُ شِیَاہٍ ، فَاِذَا زَادَتْ عَلٰی ثَلَاثِ مِئَۃٍ فَفِیْ کُلِّ مِئَۃٍ شَاۃٌ ، وَلَا یَخْرُجُ فِی الصَّدَقَۃِ ھَرِمَۃٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ ، وَلَا تَیْسٌ اِلَّا اَنْ یَّشَاءَ الْمُصَّدِّقُ ، وَلَا یُجْمَعُ بَیْنَ مُتَفَرِّقٍ وَّلَا یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْیَۃَ الصَّدَقَۃِ ، وَمَا کَانَ مِنْ خَلِیطَیْنِ فَاِنَّھُمَا یَتَرَا جَعَانِ بَیْنَھُمَا بِالسَّوِیَۃِ ، وَاِذَا کَانَتْ سَائِمَۃُ الرَّجُلِ نَاقِصَۃً مِنْ اَرْبَعِینَ شَاۃً وَاحِدَۃً فَلَیْسَ فِیْھَا صَدَقَۃٌ اِلَّا اَنْ یَّشَاءَ رَبُّھَا ، وَفِی الرِّقَۃِ رُبْعُ الْعُشْرِ فَاِذَا لَمْ یَکُنْ مَالٌ اِلَّاتِسْعِینَ وَمِئَۃً فَلَیْسَ فِیْھَا صَدَقَۃٌ اِلَّا اَنْ یَّشَاءَ رَبُّھَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا ، تو انہوں نے جب حضرت انس رضی اللہ عنہہ کو یمن بھیجا، تو انہوں نے انہیں یہ خط لکھ کر بھیجا۔" اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ زکوٰۃ کی فرضیت کا وہ حکم نامہ ہے جو اللہ کے رسولﷺ نے مسلمانوں پر فرض قرار دی تھی جس کے بار ے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا تھا مسلمانوں میں سے جس کسی سے اس کے مطابق مطالبہ کیا جائے ، تو وہ ادائیگی کرے گا اور جس سے اس سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے، تو وہ ادائیگی نہیں کرے گا چوبیس (24) یا اس سے کم اونٹوں میں سے ہر پانچ اونٹوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہے جب ان کی تعدید پچیس (25) ہو جائے ، تو 35 تک میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہے، اگر بنت مخاض نہ ہو، تو ایک ابن لبون مذکر کی ادائیگی لازم ہے جب ان کی تعداد 36 سے لے کر 45 تک ہو تو ان میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہے جب ان کی تعداد 46 سے لے کر 60 تک ہو، تو اس میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہے، جسے جفتی کے لئے دیا جا سکے۔ جب اس کی تعداد 61 سے لے کر 75 تک ہو، تو اس میں جزعہ کی ادائیگی لازم ہے جب ان کی تعداد 76 سے لے کر 90 تک ہو، تو اس میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہے جب ان کی تعداد 91 سے لے کر 120 تک ہو، تو اس میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہے جنہیں جفتی کے لئے دیا جا سکے جب ان کی تعداد 120 سے زیادہ ہو جائے، تو ہر 40 میں ایک بنت لبون کی اور ہر 50 میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اس پر زکوٰۃ کے طور پر جزعہ کی ادائیگی لازمی ہو او ر اس کے اس جزعہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس حقہ ہو، تو اس سے حقہ وصول کر لیا جائے گا اور وہ شخص اس کے ہمراہ دو بکریاں یا بیس (20) درہم دے گا اور جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اس پر حقہ کی ادائیگی لازم ہو اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس جزعہ ہو اس سے جزعہ وصول کر لیا جائے گا اور زکوٰۃ وصول کرنے والا شخص اسے یا ، تو بیس (20) درہم دے گا یا دو بکریاں دے گا اور جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اس پر حقہ کی ادائیگی لازم ہو، لیکن اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس بنت لبون ہو، تو اس سے بنت لبون کو وصول کیا جائے گا اور وہ شخص دو بکریاں یا بیس (20) درہم دے گا اور جس شخص کے پا س اتنے اونٹ ہوں کہ زکوٰۃ کے طور پر بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو اس کے پاس حقہ ہو، تو اس سے حقہ کو وصول کر لیا جائے گا اور زکوٰۃ وصول کرنے والا اور بیس (20) درہم یا دو بکریاں دے گا ، جس شخص کے پا س اتنے اونٹ ہوں کہ ان کی زکوٰۃ بنت لبون بنتی ہو اس کے پاس بنت لبون نہ ہو، تو اس سکے پاس بنت لبون نہ ہو، تو اس سے بنت مخاض کو قبول کیا جائے گا اور وہ شخص اس کے ہمراہ بیس (20) درہم یا دو بکریاں دے گا، جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اس کی زکٰوۃ بنتی ہو او ر وہ اس کے پاس نہ ہو اس کے پاس بنت لبون ہو، تو اس سے بنت لبون کو قبول کیا جائے گا ور زکٰوۃ لینے والا شخص اسے بیس درہم یا دو بکریاں ادا کرے گا، جس شخص کے پاس بنت مخاض نہ ہو بلکہ اس کے پاس بنت لبون ہو، توا س سے وہی وصول کیا جائے گا اور اس کے ہمراہ کوئی چیز نہیں لی جائے گی اور جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں ،تو ان میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، البتہ اگر ان کا مالک چاہے ( تو کوئی ادائیگی کر سکتا ہے) اونٹوں کی تعداد پانچ ہو، تو ان میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی اور سائمہ بکریوں میں چالیس سے لے کر ایک سو بیس تک میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی جب ایک سو بیس (120) سے زیادہ ہوں، تو دو سو تک میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی اگر دو سو سے زیادہ ہوں ، تو تین سو تک میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی اگر تین سے سوسے زیادہ بکریاں ہوں، تو ہر ایک سو میں سے ایک بکرے کی ادائیگی لازم ہو گی زکوٰۃ میں بوڑھے ، کانے اور کمزور جانور کو وصول نہیں کیا جائے گا ، البتہ اگر زکوٰۃ وصول کرنے والا چاہے، توایسا کر سکتا ہے اور (زکوٰۃ سے بچنے کے لئے) متفرق مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور جو مال دو آدمیوں کی مشتر کہ ملکیت ہو، تو ان دونوں سے برابری کی بنیاد پر وصولی کی جائے گی اور جب کسی شخص کی سائمہ بکریاں چالیس سے کم ہوں خواہ ایک بھی کم ہو، تو اس میں زکوٰۃ لازمی نہیں ہو گی۔ البتہ اگر ان کا مالک چاہے ( تو کوئی ادائیگی کر سکتا ہے) چاندی میں عشر کے چوتھائی حصے (یعنی اڑھائی فیصد) کی ادائیگی بھی لازم ہو گی اگر مال صرف ایک سو نوے ہو، تو اس میں زکوٰۃ لازم نہیں ہ گی، البتہ اگر اس کا مالک چاہے، تو ادائیگی کر سکتا ہے۔"

أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ لَمَّا اسْتُخْلِفَ ← ثُمَامَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، بِبُسْتَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْبُجَيْرِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on enforcing zakat · Hadith 3266

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ فَرْضِ الزَّكَاةِ · حديث 3267

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ الحسن. عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لَا جَلَبَ ، وَلَا جَنَبَ ،وَلَا شِغَارَ ، وَمَنِ انْتَھَبَ نُھْبَۃً فَلَیْسَ مِنَّا

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جلب ، جنب ، شغار کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور جو شخص اچک کر کوئی چیز لیتا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on enforcing zakat · Hadith 3267

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ فَرْضِ الزَّكَاةِ · حديث 3268

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صدقة، قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : ھٰذَا الْخَبَرُ یُبَیِّنُ بِاَنَّ الْمُرَادَ مِنْ قَولِہِ : (خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً تُطَھِِّرُھُمْ) (التوبۃ :103) اَرَادَ بِہٖ بَعْضَ الْمَالِ ، اِذِ اسْمُ الْمَالِ وَاقِعٌ عَلٰی مَادُونَ الْخَمْسِ مِنَ الذُّوْدِ ، وَالْخَمْسِ مِنَ الْاَوَاقِ ، وَالْخَمْسِ مِنَ الْاَوْسُقِ ، وَقَدْ نَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِیجَابَ الصَّدَقَۃِ عَنْ مَادُونَ الَّذِی حَدَّ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نےارشاد فرمایا ہے: " پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی پانچ اوقیہ (سے کم چاندی ) میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی ، پانچ وسق سے کم (اناج میں) زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔" ( امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان " تم ان کے اموال میں سے زکوٰۃ کو وصول کر کے انہیں پاک و صاف کر دو، اس کے ذریعے بعض مال مراد ہے کیونکہ لفظ مال کا اطلاق اس چیز پر بھی ہوتا ہے ، جو پانچ اونٹوں سے اور پانچ اوقیہ چاندی سے یا پانچ وسق اناج سے کم ہو لیکن نبی اکرم ﷺ نے اس مخصوص حد سے کم میں زکوٰۃ لازم ہونے کی نفی کی ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَيُّوبُ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on enforcing zakat · Hadith 3268

chevron_left Previous
1…456…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr