Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ فَضْلِ الزَّكَاةِ · حديث 3245

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقال: حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اعْبُدِ اللَّهَ لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ. ذرها" - يعني الناقة- (1) .

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اللہ کی عبادت کرو تم کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراو تم نماز قائم کر ، زکوٰۃ ادا کرہ، صلہ رحمی کر و اور اب اسے چھوڑ دو۔ نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ تھی کہ اونٹنی کو چھوڑ دو۔

بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، ← أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 3245

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ فَضْلِ الزَّكَاةِ · حديث 3246

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيِّ (1) ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بن عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَوْھَبٍ ، وَاَبُوْہُ عُثْمَانُ ، اَنَّھُمَا سَمِعَا مُوْسَی بْنِ طَلْحَۃَ ، یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ، اَنَّ رَجُلًا قَالَ : یَا نَبِیَّ اللہِ اَخْبِرْنِیْ بِعَمَلِ یُدْکِلُنِی الْجَنَّۃُ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : مَالَہٗ ؟ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَرَبٌ مَالَہٗ ، قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا ، وَتُقِیمُ الصَّلَاۃَ ، وَتُؤْتِی الزَّکَاۃَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ ذَرْھَا ، قَالَ : کَاَنَّہٗ کَانَ عَلٰی رَاحِلَتِہِ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ﷺ آپ ﷺ مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے لوگوں نے کہا: اس کا مال اس کا مال۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ارب مالہ ا؎ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اللہ کی عبادت کرو، تم کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراو ، تم نماز قائم کر، تم زکوٰۃ ادا کرو، تم صلہ رحمی کرو اور اب اسے چھوڑ دو۔ راوی کہتے ہیں: گویا نبی اکرم ﷺ اس وقت سواری پر سوار تھے۔

الْقَوْمُ مَالَہٗ ← بِعَمَلِ یُدْکِلُنِی الْجَنَّۃُ ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ ← أبي أيوب الأنصاري أن رجلا ← اَبُوْہُ عُثْمَانُ اَنَّھُمَا سَمِعَا مُوْسَی بْنِ طَلْحَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← شُعْبَةُ، ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ← حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 3246

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ فَضْلِ الزَّكَاةِ · حديث 3247

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بْنِ يَحْيَى بْنِ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ التَّمِيمِيُّ بِالْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمَانَ الْأَغَرُّ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْ عَبْدٍ يَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ، ويجتنب الكبائر إلا دخل الجنة" (1) . قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : لِسَلْمَانَ الْاَغَرِّ ابْنَانِ : اَحَدُھُمَا عَبْدُ اللہِ ، وَالْاٰخَرُ عُبَیْدُ اللہِ ، وَجَمِیْعًا حَدَّثَا عَنْ اَبِیْھِمَا ، وَھٰذَا عَبْدُ اللہِ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو بندہ بھی اللہ کی عبادت کرتا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ نماز قائم کرتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو، رمضان کے روزے رکھتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو، تو ہو جنت میں داخل ہو جائے گا۔" (امام ابن حباب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) سلمان اغر نامی راوی کے دو بیٹے ہیں ان میں سے ایک عبداللہ ہے اور دوسرا عبید اللہ ہے اور ان دونوں نے اپنے والد کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے، یہاں اس کا راوی عبداللہ ہے۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بْنِ يَحْيَى بْنِ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ التَّمِيمِيُّ

Hadith 3247

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ فَضْلِ الزَّكَاةِ · حديث 3248

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَلَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَلَا تواضع أحد لله إلا رفعه الله" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " صدقہ مال میں کوئی کمی نہیں کرتا اور معاف کرنے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ بندے کی عزت میں اضافہ کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سر بلندی عطا کرتا ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 3248

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ فَضْلِ الزَّكَاةِ · حديث 3249

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عن الْهِجْرَةِ فَقَالَ: "وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ"؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا"؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ من عملك شيئا" (1) .

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نے نبی اکرم ﷺ سے ہجرت کے بارے میں دریافت کیا: تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارا ستیا ناس ہو ہجرت کا معاملہ بہت سخت ہے کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں۔ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم ان کی زکوٰۃ دیتے ہو، اس نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم سمندروں کے پرے بھی عمل کر لو، تو اللہ تعالیٰ تمہارے عمل میں سے کوئی چیز چھوڑے گا نہیں (یعنی ہر چیز کا تمہیں بدلہ دے گا)۔ باب: زکوٰۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان

"فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ من عملك شيئا" ← نَعَمْ ← "فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا"؟ ← نَعَمْ ← الْهِجْرَةِ فَقَالَ: "وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ"؟ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 3249

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ لِمَانِعِ الزَّكَاةِ · حديث 3250

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أخبرنا المقرىء، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "شرُّ مَا في الرجل شُحٌّ هالِعٌ، وجُبْنٌ خَالِعٌ" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " آدمی میں سب سے بری چیز وہ کنجوسی ہے ، جو غمگین کر دے اور وہ بزدلی ہے، جو حواس رخصت کر دے۔"

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ ← أَبِي ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← المقرىء ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 3250

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ لِمَانِعِ الزَّكَاةِ · حديث 3251

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ بِوَاسِطَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ السُّكَّرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أبدا" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اللہ کی راہ میں اڑنے والا غبار اور جہنم کا دھواں ایک بندے کے اندر اکٹھے نہیں ہو سکتے اور کنجوسی اور ایمان ایک بندے کے دل میں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ← صَفْوَانِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ السُّكَّرِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ بِوَاسِطَ،

Hadith 3251

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ لِمَانِعِ الزَّكَاةِ · حديث 3252

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ (1) ، عَنِ الْحَارِثِ بن عبد الله أن بن مَسْعُودٍ قَالَ: آكُلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ وَكَاتِبُهُ وَشَاهِدَاهُ إِذَا عَلِمُوا بِهِ، وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ لِلْحُسْنِ، وَلَاوِي الصَّدَقَةِ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ هِجْرَتِهِ مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ القيامة (2) .

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہہ فرماتے ہیں: سود کھانے ولا، اسے کھلانے والا، اسے لکھنے والا، اس کے دونوں گواہ جب یہ عمل کریں اور جسم گودنے والی عورت اور خوبصورتی کے لیے گودوانے والی عورت اور زکوٰۃ میں خیانت کرنے والا اور ہجرت کرنے کے بعد مرتد ہونے والا دیہاتی ، یہ سب حضرت محمدﷺ کی زبانی، قیامت کے دن ملعون ہوں گے۔

الْحَارِثِ بن عبد الله أن بن مَسْعُودٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 3252

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ لِمَانِعِ الزَّكَاةِ · حديث 3253

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ یَحْیَی الْحَسَّانِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُھَیْلُ بْنُ اَبِیْ صَالِحٍ ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، عَنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا مِنْ عَبْدٍ لَہٗ مَالٌ لَا یُؤَدِّی زَکَاتَہٗ اِلَّا جَمَعَ اللہُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُحْمَی عَلَیْہِ صَفَائِحُ مِنْ نَارِ جَھَنَّمَ ، یَکْوٰی بِھَا جَبِینُہُ وَظَھْرُہُ حَتّٰی یَقْصِیَ اللہُ بَیْنَ عِبَادِہِ فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِینَ اَلْفَ سَنَۃٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ، ثُمَّ یَرَی سَبِیلَہٗ اِمَّا اِلٰی جُنَّۃٍ وَّاِمَّا اِلٰی نَارٍ ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ اِبلٍ لَا یُؤَدِّی زَکَانَھَا اِلَّا بُطِحَ لَھَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ اَوْفَرَ مَا کَانَتْ تَسِیْرُ عَلَیْہِ کُلَّمَا مَضَی عَلَیْہِ اُخْرَاھَا رُدَّتْ عَلَیْہِ اُولَاھَا ، حَتّٰی یَحْکُمَ اللہُ بَیْنَ عِبَادِہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِینَ اَلْفَ سَنَۃٍ ، ثُمَّ یَرَی سَبِیلَہٗ اِمَّا اِلٰی جُنَّۃٍ وَّاِمَّا اِلٰی نَارٍ ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا یُؤَدِّی زَکَاتَھَا اِلَّا بُطِحَ لَھَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ کَاَوْفَرِ مَا کَانَتْ ، فَتَطَؤُہُ بِاَظْلَافِھَا ، وَتَنْطَحُہُ بِقُرُوْنِھَا ، لَیْسَ فِیْھَا عَقْصَاءُ خَمْسِینَ اَلْفَ سَنَۃٍ ، ثُمَّ یَرَی سَبِیلَہٗ اِمَّا اِلٰی جُنَّۃٍ وَّاِمَّا اِلٰی نَارٍ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: : جس بھی بندے کے پاس مال موجود ہو، جس کی وہ زکوٰۃ ادا نہ کرتا ہو، توا للہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے لیے (مال کو) جمع کرے گا اور اسے تختیوں کی شکل میں جہنم کی آگ سے گرم کیا جائے گا ، جس کے ذریعے اس کی پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا، جس وقت اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ نہیں کر دیتا جو ایک ایسے دن میں ہو گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال جتنی ہو گی جو تمہارے گنتی کے حساب سے ہیں پھر اس کے بعد وہ شخص اپنا راستہ دیکھ لے گا جو جنت کی طرف جاتا ہو گا یا جہنم کی طرف جاتا ہو گا اور جو شخص اونٹون کی زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا اسے اونٹوں کے سامنے کھلے میدان میں ڈال دیا جائے گا وہ اونٹ پہلے سے زیادہ موٹے تازے ہوں گے وہ اونٹ اس پر سے گزریں گے جب آخری اس پر سے گزر جائے گا ، تو پہلا دوبارہ اس پر آئے گا اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا، جب تک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ نہیں کر دے گا جو ایسے دن میں ہو گا، جس کی مقدار پچاس (50) ہزار سال کے برابر ہو گی پھر وہ شخص اپنا راستہ دیکھے گا جو یا، تو جنت کی طرف جاتا ہو گا یا جہنم کی طرف جاتا ہو گا بکریوں کا جو بھی مالک ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا ہو گا اسے ان بکریوں کے سامنے ایک کھلے میدان میں ڈال دیا جائے گا وہ بکریاں پہلے سے زیادہ موٹی تازی ہوں گی وہ اپنے پاوں کے ذریعے اسے روندیں گی اور اپنے سینگوں کے ذریعے اسے ماریں گی ان میں سے کوئی بکرے ٹیڑھے سینگ والی یا بغیر سینگ کے نہیں ہو گی جب ان میں سے آخری اس پر سے گزر جائے گی، تو پہلے والی واپس اس پر آئے گی اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا، جب تک اللہ تعالیٰ اس دن میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ نہیں کرتا جس دن کی پچاس ہزار سال ہے پھر وہ شخص اپنا راستہ دیکھ لے گا جو یا جنت کی طرف جاتا ہو گا یا جہنم کی طرف جاتا ہو گا۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ،

Hadith 3253

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ لِمَانِعِ الزَّكَاةِ · حديث 3254

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَاْتِی الْمَالُ الَّذِی لَمْ یُعْطَ الْحَقُّ مِنْھَا ، فَتَطَاْ الْاِبِلُ سَیِّدَھَا بِاَخْفَافِھَا ، وَیَاْتِی الْبَقَرُ وَالْغَنَمُ فَتَطَاُ صَاحِبَھَا بِاَظْلَافِھَا ، وَتَنْطَحُہُ بِقُرُوْنِھَا ، وَیَاْتِی الْکَنْرُ شُجَاعًا اَقْرَعَ ، فَیَلْقَی صَاحِبَہُ فَیَفِرُّ مِنْہُ ، ثُمَّ یَسْتَقْبِلُہٗ وَیَفِرُّ مِنْہُ ، فَیَقُوْلُ : مَالِی وَمَالَکَ ؟ ، فَیَقُوْلُ اَنَا کَنْزُکَ اَنَا کَنزُکَ ، فَیَتَلَقَّاہُ صَاحِبُہُ بِیَدِہِ فَیَلْقَمْ یَدَہُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " وہ مال (قیامت کے دن) آئے گا، جس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی گئی ہو گی، تو ( اس میں سے ) اونٹ اپنے آقا کو اپنے پاوں کے ذریعے روندے گا، گائے اور بکریاں آئیں گی اپنے مالک کو اپنے پاوں کے ذریعے روندیں گی اور اپنے سینگوں کے ذریعے ماریں گی۔ خزانہ ایک گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور اپنے مالک کے پیچھے جائے گا وہ مالک اس سے بھاگے گا پھر وہ اس کے سامنے آجائے گا پھر وہ اس سے بھاگے گا، تو وہ کہے گا میرا تمہارا کیا واسطہ ہے ، تو وہ خزانہ کہے گا میں تمہارا خزانہ ہوں پھر اس کا مالک اپنا ہاتھ اس کی طرف کرے گا، تو وہ اس کے ہاتھ کو چبا جائے گا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 3254

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ لِمَانِعِ الزَّكَاةِ · حديث 3255

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بن جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ اَنَّہٗ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللہِ ، یَقُوْلُ : سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُوْلُ: نَامِنْ صَاحِبِ اِبِلٍ لَا یَفْعَلُ فِیْھَا خَیْرًا اِلَّا جَائَتْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَکْثَرَ مَا کَانَتْ ، وَاُقْعِدَ لَھَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَیْہِ بِقَوَائِمَھَا وَاَخْفَافِھَا ، وَلَا صَاحِبِ بَقَرٍ اِلَّا جَائَتْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَکْثَرَ مَا کَانَتْ ، وَاُقْعِدَ لَھَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُہُ بِقُرُوْنِھَا وَتَطَؤُہُ بِاَظْلَا فِھَا لَیْسَ فِیْھَا جَمَّاءُ وَلَا مُکَسَّرٌ قَرْنُھَا ، وَلَا صَاحِبِ کَنْزٍ لَا یَفْعَلُ فِیْہِ حَقَّہُ اِلَّا جَاءَ کَنْزَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاعًا اَقْرَعَ یَتْبَعُہٗ فَاغِرًا فَاہُ ، فَاِذَا اَتَاہُ فَرَّمِنْہُ فَیُنَادِیہِ رَبُّہُ :کَنْزُکَ الَّذِیْ خَبَّاْتَہُ ، فَاِذَا رَاَی اَنْ لَّابُدَّ لَہٗ مِنْہُ سَلَکَ یَدَہُ فِیْ فِیْہِ فَیَقْضَمُھَا قَضْمَ الْفَحْلِ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " اونٹوں کا جو بھی مالک ان کے بارے میں بھلائی نہیں کرے گا (یعنی ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا ) ، تو وہ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ (صحت مند ہو کر) آئیں گے اس شخص کو ان کے سامنے ایک کھلے میدان میں بٹھا دیاجائے گا وہ اپنی ٹانگوں اور پاوں کے ذریعے اسے ماریں گے ۔ گائے کا مالک (جو ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا)، تو وہ گائے قیامت کے دن پہلے سے زیادہ (صحت مند ہو کر) آئیں گی اس شخص کو ان کے سامنے ایک کھلے میدان میں بٹھا دیا جائے گا وہ اپنے سینگوں کے ذریعے اسے ماریں گی اور پاوں کے ذریعے اسے روندیں گی ان میں کوئی ایسی گائے نہیں ہو گی جو بغیر سینگ کے ہو یا جس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو۔ خزانے کا جو بھی مالک ( اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا)، تو وہ خزانہ قیامت کے دن گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور اپنا منہ کھول کر اس کے پیچھے جائے گا جب وہ اس کے قریب آئے گا، تو یہ اس سے بھاگے گا، تو اس کا پروردگار اسے پکارے گا: یہ وہ تمہارا خزانہ ہے، جسے تم نے سنبھال کے رکھا ہوا تھا جب وہ شخص یہ دیکھے گا کہ اب وہ اس سے نہیں بچ سکتا تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ کی طرف بڑھائے گا، تو وہ سانپ اس کے ہاتھ کو یوں چبا لے گا، جس طرح اونٹ کوئی چیز چباتا ہے۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← بن جُرَيْجٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عبد الله بن محمد المديني

Hadith 3255

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ لِمَانِعِ الزَّكَاةِ · حديث 3256

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ الطَّائِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہِ لَا یَمُوتُ رَجُلٌ فَیَدَعُ اِبَلًا اَوْ بَقَرًا اَوْ غَنَمًا لَمْ یّؤْدِّ زَکَاتَھَا اِلَّا مُثِّلَتْ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَعْظَمَ مَا تَکُوْنُ وَاَسْمَنَہٗ ، تَنْطَحُہُ بِقُرُوْنِھَا وَتَطَؤُہُ بِاَخْفَافِھَا ، کُلَّمَا ذَھَبَ اُخْرَاھَا رَجَعَ اُولَاھَا کَذٰلِکَ حَتّٰی یَقْضِیَ اللہُ بَیْنَ النَّاسِ

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جو شخص مرتے ہوئے اونٹ یا گائے یا بکریاں چھوڑ جائے جس کی اس نے زکٰوۃ ادا نہ کی ہو، تو قیامت کے دن انہیں پہلے سے بڑے اور پہلے سے بھاری بھر کم وجود میں اٹھایا جائے گا وہ اپنے سینگوں کے ذریعے اسے ماریں گے اور پاوں کے ذریعے اسے روندیں گے جب ان میں سے آخری چلا جائے گا، تو پہلے والا پھر آجائے گا اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا، جب تک اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں کر دےگا۔"

اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← دَاوُدُ الطَّائِيُّ، ← مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 3256

chevron_left Previous
12345…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr