Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِرْصِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 3233

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ نَخْلٍ، لَتَمَنَّى إليه مثله، ولا يملأ جوف بن آدم إلا التراب" (3) . لَمْ یُحَدِّثُ عَنْ اَحْمَدَ بْنِ اَبِیْ شُعَیْبٍ اِلَّا عُمَرُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانٍ ، تَفَرَّدَ الْاَعْمَشُ بِقَوْلِہٖ مِنْ نَخْلٍ ، قَالَہُ الشَّیْخُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " اگر آدمی کے پاس کھجوروں کے باغات کی ایک وادی ہو، تو وہ ا س کی مانند اور کی آرزع کرے گا آدمی کے پیٹ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے۔" احمد بن ابو شعیب کے حوالے سے صرف عمر بن سعید نے یہ روایت نقل کی ہے او رروایت کے الفا ظ میں کھجوروں کے باغ کو نقل کرنے میں اعمش نامی راوی منفرد ہے یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 3233

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِرْصِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 3234

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مَالًا، لَأُحِبَّ أَنَّ لَهُ مثله، ولا يملأ نفس بن آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تاب" (2) .

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " اگر آدمی کے پاس مال کی ایک وادی ہو، تو وہ اس بات کا آرزو مند ہو گا کہ اس کی مانند اسے اور مل جائے آدمی کے نفس کو صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تو بہ کو قبول کرتا ہے۔"

النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ،

Hadith 3234

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِرْصِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 3235

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "لَوْ أن لِابْنِ آدَمَ وَادِیًا مِنْ ذَھَبٍ اَحَبَّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ وَادٍ اٰخَرُ ، وَلَا یَمْلَاُفَاہُ اِلَّا التُّرَابُ ، وَاللہُ یَتُوْبُ عَلٰی مَنْ تَابَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " اگر آدمی کے پاس سونے کی ایک وادی ہو، تو وہ اس بات کا آرزو مند ہوگا کہ اسے ایک اور وادی بھی مل جائے اس کے منہ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔"

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← بن قتيبة

Hadith 3235

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِرْصِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 3236

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ الْأَحْوَلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ أَنَسٌ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ، لَابْتَغَى واديا ثالثا، ولا يملأ جوف بن آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى من تاب" (2) .

حضرت انس رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " اگر آدمی کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں، تو وہ تیسری کے حصول کا خواہش مند ہو گا آدمی کے پیٹ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عاصم بن النضر الأحول ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3236

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِرْصِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 3237

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ يَسْأَلُهُ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى رَأْسِهِ مَرَّةً وَإِلَى رِجْلَيْهِ أُخْرَى لِمَا يَرَى بِهِ مِنَ الْبُؤْسِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: كَمْ مَالُكَ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ مِنَ الْإِبِلِ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ "لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ، لَابْتَغَى إليهما الثالث، ولا يملأ جوف بن آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ" قَالَ: فَقَالَ لِي عُمَرُ: مَا تَقُولُ؟ قَالَ: قُلْتُ: هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ. قَالَ: فَقُمْ بِنَا إِلَيْهِ. قَالَ: فَأَتَاهُ فَقَالَ: مَا يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ أُبَيْ: هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (1) .

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کے پاس آیا اور ان سے کچھ مانگا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے ایک مرتبہ اس کے سر کی طرف دیکھا اور دوسری مرتبہ اس کے پاوں کی طرف دیکھا یعنی اس کی خستہ حالی کو ملاحظہ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے اس سے دریافت کیا: تمہارے پاس کتنا مال ہے اس نے جواب دیا: چالیس اونٹ ہیں۔ راوی کہتے ہیں: ا س پر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ کہا ہے ،اگر آدمی کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں ، تو و ہ ان کے ساتھ تیسری کا آرزو مند ہو گا آدمی کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے مجھ سے دریافت کیا: تم کیا کہتے ہو۔ راوی کہتے ہیں: میں نے جواب دیا: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہہ نے اسی طرح میرے سامنے بیان کیا تھا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے فرما یا: تم میرے ساتھ اٹھ کر اس کی طرف چلو۔ راوی کہتے ہیں: پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہہ ان کے پاس آئے اور دریافت کیا : اس نے کیا بیان کیا ہے، تو حضرت ابی رضی اللہ عنہہ نے بتایا: اللہ کے رسول ﷺ نے میرے سامنے اسی طرح ارشاد فرمایا تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← الشَّيْبَانِيِّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3237

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِرْصِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 3238

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ بِنَسَا، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُزَنِيُّ بِجُرْجَانَ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بن بحر الْهَمْدَانِيُّ بِصُغْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى بْنِ أَبِي حَنْظَلَةَ بِصَيْدَا، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ بِعَسْقَلَانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَعُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ بِدِمَشْقَ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أن الرزق ليطلب العبد كما يطلبه أجله" (1) .

سیّدہ اُمّ درداء رضی اللہ عنہا حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: " رزق بندے کو اسی طرح تلاش کرتا ہے، جس طرح موت اسے تلاشش کرتی ہے۔"

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، ← ابْنِ جَابِرٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ بِدِمَشْقَ فِي آخَرِينَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى بْنِ أَبِي حَنْظَلَةَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بن بحر الْهَمْدَانِيُّ بِصُغْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُزَنِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ بِنَسَا، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 3238

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِرْصِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 3239

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يحيى، حدثنا بن وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَسْتَبْطِئُوا الرِّزْقَ، فَإِنَّهُ لَنْ يَمُوتَ الْعَبْدُ حَتَّى يَبْلُغَهُ آخِرُ رِزْقٍ هُوَ لَهُ، فَأَجْمِلُوا فِي الطلب: أخذ الحلال وترك الحرام" (1) .

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " رزق کی طر جلد بازی نہ کرہ، کیونکہ بندہ اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اس کے نصیب کا آخری رزق اس تک نہیں پہنچ جاتا اور اس کی طلب میں اس چیز کا خیال رکھو کہ حلال کرو اور حرام کوچھوڑ دو۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 3239

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِرْصِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 3240

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، عَنْ هُزَيْلِ بن شرحبيل عن بن عُمَرَ قَالَ: جَاءَ سَائِلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا تَمْرَةٌ عَائِرَةٌ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خذها. لو لم تأتها لأتتك" (1) .

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک سائل نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا وہاں ایک کھجور پڑی ہوئی تھی نبی اکرم ﷺ نے وہ اسے عطا کر دی نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: تم اسے حاصل کر لو اگر تم اس کے پاس نہ آتے ، تو وہ تمہارے پاس آ جاتی۔

النَّبِيُّ "خذها. لو لم تأتها لأتتك" ← جَاءَ سَائِلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَإِذَا تَمْرَةٌ عَائِرَةٌ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا، ← بن عُمَرَ ← هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3240

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِرْصِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 3241

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، قال: حدثنا بن وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَسْتَبْطِئُوا الرِّزْقَ، فإنه لَمْ یَکُنْ عَبْدٌ یَمُوتُ حَتّٰی یَبْلُغَہُ اٰخِرُرِزْقٍ ھُوَ لَہٗ ، فَاَجْمِلُوْا فِی الطَّلَبِ فِی الْحَلَالِ ، وَتَرْکِ الْحَرَامِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " رزق کی طرف جلدی نہ کرو، کیونکہ بندہ اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اس کے نصیب کا آخری رزق بھی اس تک نہیں پہنچ جاتا اور حلال کو طلب کرو اور حرام کو ترک کر دو۔"

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 3241

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِرْصِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 3242

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ شُرَحْبِيلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَبَّةَ وَسَوَاءً ابْنِي خَالِدٍ يَقُولَانِ: أَتَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَعْمَلُ عَمَلًا يَبْنِي بِنَاءً، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانَا، فَقَالَ: "لَا تنافسا في الرزق ما هزت رؤوسكما، فَإِنَّ الْإِنْسَانَ تَلِدُهُ أُمُّهُ وَهُوَ أَحْمَرُ لَيْسَ عليه قشر، ثم يعطيه الله ويرزقه" (1) .

حبہ بن خالد اور سواء بن خالد بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ﷺ اس وقت کوئی تعمیر کر رہے تھے جب آپﷺ فارغ ہوئے ، تو آپ ﷺ نے ہمیں بلوایا اور فرمایا: تم رزق کی طرف اس طرح سے مائل نہ ہو جانا کہ اس کے نتیجے میں تمہارے سر گھوم جائیں( یا جب تک تمہار ا سر گھومتا ہے یعنی جب تک تم زندہ ہو تم مکمل طور پر رزق کی طرف ہی متوجہ نہ رہنا )، کیونکہ جب انسان کو اس کی ماں جنم دیتی ہے، تو وہ سرخ رنگ کا ہوتا ہے اس کے اوپر کھال بھی نہیں ہوتی پھر بھی اللہ تعالیٰ اسے عطا کر تا ہے اور اسے رزق دیتا ہے۔

سلام بن شرحبيل ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3242

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِرْصِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 3243

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حدثنا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ الضَّرِیْرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ اَبِیْ حَازِمٍ ، قَالَ: اَتیْنَا کَبَّابًا نَعُوْدُہُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُوْلُ : اِنَّ الرَّجُلَ لَیُؤْجَرُ فِیْ نَفَقَتِہٖ کُلِّھَا اِلَّا فِیْ ھٰذَا التُّرَابِ، قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہ : مَعْنٰی ھٰذَا الْخَبَرِ : لَا یُؤْجَرُ اِذَا اَنْفَقَ فِی التُّرَابِ فَضْلًا عَمَّا یَحْتَاجُ اِلَیْہِ مِنَ الْبِنَاءِ۔

قیس بن ابو حازم بیان کرتے ہیں: ہم حضرت خباب رضی اللہ عنہہ کی عیادت کرنے کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے بتا یا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: آدمی جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے اسے اس کا اجر ملے گا ماسوائے اس کے جو اس مٹی میں ہو (یعنی جو تعمیرات وغیرہ کی جائے) (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) اس روایت کا مطلب یہ ہے: جب کوئی شخص مٹی میں وہ چیز خرچ کرے جو اس کی بنیادی ضروریات سے اضافی ہو تو اس پر اسے اجر نہیں دیا جائے گا۔

"إِنَّ الرَّجُلَ لَيُؤْجَرُ فِي نَفَقَتِهِ كُلِّهَا إِلَّا فِي هَذَا التُّرَابِ"، ← رَسُولِ اللَّهِ ← اَتیْنَا کَبَّابًا نَعُوْدُہُ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← بن قتيبة

Hadith 3243

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِرْصِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 3244

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْل الْعَبْدُ مَالِیِ وَاِنَّمَا لَہٗ مِنْ مَالِہٖ ثَلَاثَۃٌ : مَا اَکَلَ فَاَفْنَی ، اَوْ مَا اَعْطَی فَاَبْقَی ، اَوْلَبِسَ فَاَبْلٰی وَمَا سِویٰ ذٰلِکَ فَھُوَ ذَاھِبٌ وَتَارِکُہُ لِلنَّاسِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " بندہ یہ کہتا ہے یہ میرا مال ہے، حالانکہ اس کے مال سے اس کو تین چیزیں ملتی ہیں وہ چیز جسے وہ کھا کر فنا کر دے اور جسے ( اللہ کی راہ میں ) دے کر باقی رکھے اور جسے پہن کر پرانا کر دے اس کے علاوہ جو بھی ہے وہ رخصت ہونے والا ہے، جسے وہ لوگوں کے لیے چھوڑ جائے گا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3244

chevron_left Previous
1234…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr