Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3221

أخبرنا بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ (1) سعيد بن يزيد، عن أبي نضرة عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اِنَّ الدُّنْیَا خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ ، وَاِنَّ اللہَ سَیُخْلُفُکُمْ فِیْھَا لِیَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ ، فَاتَّقُوا الدُّنْیَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ ، فَاِنَّ اَوَّلَ فِتْنَۃِ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کَانَتِ النِّسَاءَ

حضرتابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "بے شک دنیا سر سبز اور میٹھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس میں رکھا ہے، تا کہ اس بات کو ظاہر کرے کہ تم لوگ کیا عمل کرتے ہو، تو تم لوگ دنیا سے بچو اور خواتین سے بچو ،کیونکہ بنی اسرائیل کا سب سے پہلا فتنہ (خواتین کی وجہ سے ہوا تھا)"

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبِي مَسْلَمَةَ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← بُنْدَارٌ ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 3221

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3222

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ بَعْدِي الْفَقْر ، وَلٰکِنِّیْ اَخْشَی عَلَیْکُمْ التَّکَاثُرُ ، وَمَا اَخْشَی عَلَیْکُمْ الْخَطَاَ ، وَلٰکِنِّیْ اَخْشَی عَلَیْکُمُ الْعَمْدَ

نبی اکرم ﷺ کا اپنی امت کے حوالے سے اس اندیشے کا شکار ہونا کہ وہ اموال کی کثرت اورجان بوجھ کر کئے جانے والے افعال ( کی آزمائش میں مبتلا ہو جائیں گے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الْعَطَّارُ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 3222

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3223

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ (1) ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْبُرُلُّسِيُّ (2) ، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يَقُولُ: "لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةٌ، وَإِنَّ فِتْنَةَ أُمَّتِي المال" (3) .

حضرت کعب بن عیاض رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " ہر امت کی ایک آزمائش ہوتی ہے میری امت کی آزمائش مال ہے۔"

"لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةٌ، وَإِنَّ فِتْنَةَ أُمَّتِي المال" ← رَسُولِ اللَّهِ ← كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْبُرُلُّسِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Hadith 3223

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3224

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ (1) حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يَقُولُ: آخِرُ مَا خَطَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى عَلَى شُهَدَاءِ أُحُدٍ ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ فِي مَقَامِي هَذَا، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أُرِيتُ أَنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَأَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تنافسوا فيها" (2) .

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ہمیں جو آخری خطبہ دیا تھا اس میں یہ ہوا کہ آپ ﷺ نے پہلے شہدائے احد کی نماز جنازہ ادا کی پھر آپ ﷺ منبر پر چڑھے اور آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیا ن کی پھر ارشاد فرمایا: " بے شک میں تمہارا پیش رو ہوں گا اور میں تمہارا گواہ ہوں گا اور میں اس وقت بھی اپنی اس جگہ پر کھڑے ہوئے اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اللہ کی قسم! مجھے یہ اندیشہ نہیں ہے کہ تم لوگ میرے بعد شرک کرو گے بلکہ یہ بات دکھائی گئی ہے کہ مجھےزمین کے خزانوں کی چابیاں عطاء کر دی گئی ہیں، تو مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ تم د نیا کی طرف راغب ہو جاو گے"۔

يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 3224

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3225

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ مِنْ زِينَةِ الدُّنْيَا وَزَهْرَتِهَا". فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُكَلِّمُكَ؟ فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ، وَقَالَ: "أَيْنَ السَّائِلُ"؟ وَرَأَيْنَا أَنَّهُ حَمِدَهُ، فَقَالَ: "إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مما ينبت الرَّبِیعُ یَقْتُلْ اَوْ یُلِمُّ حَبَطًا ، اَلَمْ تَرَ اِلٰی آکِلَۃِ الْخَضِرِ ، اَکَلَتْ حَتّٰی امْتَلَاتْ خَاصِرَ تَاھَا ، اسْتَقْبَلَتْ عَیْنَ الشَّمْسِ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ، ثُمَّ تَعَتْ ، وَاِنَّ الْمَالَ حُلْوَۃٌ خَضِرَۃٌ ، وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ ھُوَ اِنْ وَصَلَ الرَّحِمَ ، وَاَنْفَقَ فِیْ سَبِیلِ اللہِ ، وَمَثَلُ الَّذِی یَاخُذُہٗ بِغَیْرِ حَقِّہُ کَمَثَلِ الَّذِی یَاْکُلُ وَلَا یَشْبَعُ ، وَیَکُوْنُ عَلَیْہِ شَھِیدًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: تمہارے بارے میں مجھے سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کی زیب و زینت ، آرائش و زیبائش کو ظاہر کر دے گا ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی، تو نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ہمیں یہ اندازہ ہوا کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے اس شخص سے کہا گیا : کیا وجہ ہے کہ تم نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گزارش کی ہے، لیکن نبی اکرم ﷺ نے تمہارے ساتھ بات نہیں کی پھر نبی اکرم ﷺ کی یہ کیفیت ختم ہوئی، تو آپ ﷺ نے پسینے کو پونچھا اور دریافت کیا: سوال کرنے والا کون شخص ہے، جس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ نبی اکرمﷺ نے اس کی تعریف کی ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بھلائی برائی کو نہیں لے کر آئے گی، لیکن بہار میں جوچیز اُگتی ہے وہ کسی کو مار دیتی ہے اور کسی کو موٹا تازہ کر دیتی ہے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں سبزہ دکھانے والا جانور کھاتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ پھول جاتا ہے، تو وہ دھوپ میں آجاتا ہے وہاں لید کرتا ہے پیشاب کرتا ہے پھر چلتا ہے، بے شک مال میٹھا اور سر سبز ہے اور مسلمان کا بہترین ساتھی ہے، اگر مسلمان صلہ رحمی سے کام لے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور جو شخص ناحق طور پر اسے حاصل کرتا ہے اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور یہ (مال) قیامت کے دن اس شکص کے خلاف گواہ ہو گا۔

لَهُ رَجُلٌ: ← "إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ مِنْ زِينَةِ الدُّنْيَا وَزَهْرَتِهَا". ← خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3225

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3226

اَخْبَرَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ دَاوٗدَ بْنِ وَرْدَانَ ، بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ اخْبَرَنَا عِیْسَی بْنُ حّمَّادٍ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا اللَّیْتُ ، عَنْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعْدٍ ، اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا سَعِیْدٍ الْکُدْرِیَّ ، یَقُوْلُ: قَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ : لَا وَاللہِ مَا اَخْشَی عَلَیْکُمْ اَیُّھَا النَّاسُ اِلَّا مَا یُخْرِجُ اللہُ لَکُمْ مِنْ زُھْرَۃِ الدُّنْیَا ، فَقَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَیَاْتِی الْخَیْرُ بِالشَّرِّ ؟ ، فَصَمَتَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَاَعَۃً ، ثُمَّ قَالَ : کَیْفَ قُلْتَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھَلْ یَاْتِی الْخَیْرُ بِالشَّرِّ ؟ ، فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنَّ الْخَیْرَ لَا یَاْتِی اِلَّا بِخَیْرٍ ، وَلٰکِنْ ھُوَ اَنَّ کُلَّ مَا یُنْبِتُ الرَّبِیعُ یَقْتُلُ حَبَطًا ، اَوْ یُلِمُّ اِلَّا آلِکَۃَ الْخَضِرِ اَکَلَتْ حَتّٰی اِذَا امْتَلَاتْ خَاصِرَ تَھَا اسْتَقْبَلْتِ الشَّمْسَ ، فَثَلَطَتْ ، وَبَالَتْ ثُمَاجْتَرَّتْ فَعَادَتْ فَاَکَلَتْ ، فَمَنْ اَخَذَ مَالًا بِحَقِّہِ یُبَارَکُ لَہٗ ، وَمَنْ اَخَذَ مَالًا بِغَیْرِ حَقِّہِ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الَّذِی یَاْکُلُ وَلَا یَشْبَعُ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! اے لوگو! مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کی آرائش و زیبائش تمہارے سامنے ظاہر کر دے گا۔ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا بھلائی برائی لے کر آئے گی، تو نبی اکرم ﷺ کچھ دیر کے لیے خاموش رہے پھر آپﷺ نے دریافت کیا: تم نے کیا کہا ہے اس شخص نے عرض کی: میں نے یہ گزارش کی ہے یا رسول اللہ ﷺ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک بھلائی صرف برائی کو لے کر آتی ہے، لیکن اس کی مثال اسی طرح ہے، جس طرح بہار کا موسم (زیادہ کھانے والے جانور) کو مار دیتا ہے یا ہلاکت کے قریب کر دیتا ہے ، البتہ سبزہ کھانے والے جانور کا معاملہ مختلف ہے، یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ بھر جاتا ہے، وہ دھوپ میں آجاتا ہے، تو وہاں لید کرتا ہے پیشاب کرتا ہے پھر چرتا ہے واپس آتا ہے، تو جو شخص مال کو اس کے حق کے ہمراہ حاصل کرتا ہے، تو ا س کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور جو شخص مال کو ناحق طور پر حاصل کرتا ہے، اس کی مثال ایشے شخص کی مانند ہے، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا۔

عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← اللَّیْتُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ

Hadith 3226

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3227

أَخْبَرَنَا بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ: "إِنَّ مِمَّا أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زُهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا". فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَرَأَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، فَلُمْنَا الرَّجُلَ حِینَ یُکَلِّمُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا یُکَلِّمُہٗ ، فَلَمَّا جُلِّیَ عَنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، جَعَلَ یَمْسَحُ الرُّحَضَاءَ عَنْ وَجْھِہِ وَھُوَ یَقُوْلُ : اَیْنَ السَّائِلُ ؟ ، فَکَاَنَّہٗ قَدْ حَمِدَہٗ ، فَقَالَ : اِنَّ الْخَیْرَ لَا یَاْتِی بِالشَّرِّ ، وَاِنَّ مِمَّا یُنْبِتُ الرَّبِیعُ مَا یَقْتُلُ حَبَطًا ، اَوْ یُلِمُّ اِلَّا آکِلَۃَ الْخَضِرِ اَکَلَتْ حَتّٰی اِذَا ھِیَ امْتَلَاتْ خَاصِرَنَا ھَا اسْتَقْبَلَتْ عَیْنَ الشَّمْسِ ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ، وَاِنَّ ھٰذَا الْمَالَ نِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِم لِمَنْ اَخَذَہُ بِحَقِّہِ ، فَاَعْطَی مِنْہُ الْیَتِیمَ وَالْمِسْکِیْنَ وَالسَّائِلَ ، وَمَنْ اَخَذَہُ بِغَیْرِ حَقِّہِ کَانَ کَالّذِی یَاْکُلُ وَلَا یَشْبَعُ ، ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَیْہِ شَھِیدًا یَومَ الْقِیَامَۃِ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: تمہارے بار ے میں سب سے زیادہ اندیشہ مجھے اس بات کا ہے کہ تمہارے سامنے دنیا کی چمک اور زیب و زینت کو کھول دیا جائے گا، تو ایک صاحب کھڑے ہوئے انہو ں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی؟ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہہ کہتے ہیں: ہم نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ وحی نازل ہونا شروع ہوئی، تو ہم نے اس شخص کو ملامت کی کہ اس نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں گزارش کی تھی، لیکن نبی اکرم ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا جب نبی اکرم ﷺ کی یہ کیفییت ختم ہوئی، تو نبی اکرمﷺ نے اپنے چہرے سے پسینے کو پونچھا اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سوال کرنے والا شخص کہاں ہے، تو گویا نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کی تعریف کی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک بھلائی برائی کو نہیں لے کر آتی، لیکن موسم بہار جو کچھ اگا تا ہے وہ کسی کو مار دیتا ہے اور کسی کو ہلاکت کے قریب کر دیتا ہے ، البتہ سبزہ کھانے والے جانور کا حکم مختلف ہے وہ کھاتا ہے، یہاں تک کہ اس کا پیٹ پھول جاتا ہے، تو وہ دھوپ میں آ جاتا ہے وہاں وہ لید کرتا ہے پیشاب کرتا ہے، تو یہ مال مسلمان کا بہترین ساتھی ہے، لیکن اس شخص کا جو اسے حق کے ساتھ حاصل کرے اور اس میں سے یتیم، مسکین اور مانگنے والے کو دے اور جو شخص اسے نا حق طور پر حاصل کرتا ہے اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور یہ (مال) قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ ہوگا۔

بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ يَخْطُبُ النَّاسَ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← بْنِ سَلْمٍ

Hadith 3227

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِرْصِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 3228

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْمُخَرِّمِيُّ (1) ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الرجل على المال والشرف لدينه" (2) .

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہہ کے صاحب زادے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں: " دو بھو کے بھیڑیوں کو اگر بکریوں کے ریوڑ پر چھوڑ دیا جائے ، تو وہ اسے اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا مال اور شرف کا لالچ انسان کے دین کو نقصان پہنچاتا ہے۔"

أَبِيهِ ← ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْمُخَرِّمِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3228

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِرْصِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 3229

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، وَسَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ (1) ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يهرم بن آدَمَ، وَتَشِبُّ فِيهِ اثْنَتَانِ: الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ، والحرص على العمر" (2) .

حضرت انس رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے، لیکن اس کے اندر دو چیزیں ہمیشہ جوان رہتی ہیں مال کا لالچ (اور لمبی ) عمر کا لالچ۔"

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3229

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِرْصِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 3230

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَلْبُ الْکَبِیرِ شَابٌّ عَلٰی حُبِّ اثنَتَیْنِ : عَلٰی حُبِّ الْحَیَاۃِ ، وَحُبِّ الْمَالِ ، قَالَ ابْنُ عُرَفَۃَ : وَاَنَا وَاحِدٌ مِنْھُمْ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: بڑی عمر کے شخص کا دل بھی دو چیزوں کی محبت میں جوان رہتا ہے زند گی کی محبت میں اور مال کی محبت میں۔" ابن عرفہ نامی راوی کہتے ہیں: میں بھی ان لوگوں میں سے ایک ہوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3230

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِرْصِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 3231

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الحجاج بن محمد، عن بن جريج قال: سمعت عطاء يقول: سمعت بن عَبَّاسٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ مِلْءَ وَادِي مَالٍ، لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ مِثْلُهُ، ولا يملأ نفس بن آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مِنْ تاب" (1) .

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " اگر کسی آدمی کو مال سے بھر ہوئی وادی مل جائے ، تو اس کی یہ خواہش ہو گی کہ اسے اتنی ہی اور مل جائے انسا ن کا پیٹ صرف مٹی بھرتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔"

النَّبِيِّ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3231

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِرْصِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 3232

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بن فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ (1) مِنْ نَخْلٍ، لَابْتَغَى إِلَيْهِ ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جوف بن آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تاب" (2) .

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اگر آدمی کے پاس کھجوروں کے باغ کی دو وادیاں ہوں، تو وہ تیسری کا طلبگار ہو گا آدمی کے پیٹ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے اورجو شخص توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔"

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← بن فُضَيْلٍ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Hadith 3232

chevron_left Previous
1234…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr