Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3401

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصِبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ دِمِشْقَ: إِيَّاكُمْ وَأَحَادِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ، فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يُخِيفُ النَّاسَ فِي اللَّهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ» وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ، فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ، وَعَنْ شَرَهٍ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ» (1) . [2: 62]

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہہ نے دمشق کے منبر پر یہ بات بیان کی خبردار نبی اکرمﷺ کی احادیث کے بارے میں احتیاط کرو اور اس حدیث کے بارے میں بھی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کے عہد میں ہوئی تھی، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں لوگوں کو خوف دلایا کرتے تھے وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ " اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے۔" اور میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ " میں خزانچی ہوں میں اپنی رضا مندی کے ساتھ جس شخص کو کوئی چیز دوں گا ، تو اس میں اس شخص کے لئے برکت رکھی جائے گی اور جس شخص کو مانگنے کی وجہ سے کچھ دوں گا یا اس کے لالچ کی وجہ سے دوں گا، تو اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہو گی جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا۔"

مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ الْيَحْصِبِيَّ، ← رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 3401

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3402

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا حَكِيمُ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا أَخْيَرُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى» ، قَالَ حَكِيمٌ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا (1) . [2: 2]

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ سے کچھ مانگا نبی اکرم ﷺ نے مجھے عطا کر دیا میں نے پھر مانگا آپ ﷺ نے پھر عطا کر دیا ایسا تین مرتبہ ہوا، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے حکیم یہ مال میٹھا اور سر سبز ہے، جوشخص نفس کی سخاوت کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اورجو شخص نفس کے لالچ کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جاتا اور اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہوتی ہے، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ حضرت حکیم رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! اس ذات کی قسم! جس نے آپﷺ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اب میں مرتے دم تک آپﷺ کے بعد کسی سے کوئی چیز نہیں مانگوں گا۔

سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ ← عُرْوَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← فُلَيْحٌ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3402

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3403

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْمَعَافِرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَعْطَى ابْنَ السَّعْدِيِّ أَلْفَ دِينَارٍ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، وَقَالَ: أَنَا عَنْهَا غَنِيٌّ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنِّي قَائِلٌ لَكَ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَاقَ اللَّهُ إِلَيْكَ رِزْقًا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ، وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ فَخُذْهُ، فَإِنَّ اللَّهَ أَعْطَاكَهُ» (2) . [1: 13]

قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ نے ابن سعد ی کو دو ہزار دینار دئیے، تو انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا اور بولے : مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے ان سے فرمایا: میں تمہیں وہی بات بتانے لگا ہوں جو نبی اکرمﷺ نے مجھ سے فرمائی تھی۔ " جب اللہ تعالیٰ مانگے بغیر ، تمہارے لالچ کے بغیر ، تمہیں کوئی رزق عطا کرے، تو تم اسے حاصل کر لو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وہ تمہیں عطا کیا ہے۔"

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 3403

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3404

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِیٍّ الْجُھَنِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُوْلُ : مَنْ بَلَغَہُ مَعْرُوْفٌ عَنْ اَخِیہِ مِنْ غَیْرِ مَسْاَلَۃٍ وَّلَا اِشْرَافِ نَفْسٍ فَلْیَقْبَلْہُ ، وَلَا یَرّدَّہُ ، فَاِنَّمَا ھُوَ رِزْقٌ سَاقَہُ اللہُ اِلَیْہِ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : ھٰذَا الْاَمْرُ الَّذِی اُمِرْنَا بِاسْتِعْمَالِہٖ ھُوَ اَخْذُ مَا اُعْطِیَ الْمَرْءُ ، وَالشَّیْئَانِ الْمَعْلُو مَانِ الَّذِی اُبِیحَ لَہٗ ذٰلِکَ عِنْدَ عَدَمِھِمَا ھُوَ الْمَسْلَالَۃُ وَاِشْرَافُ النَّفْسِ ، فَاِنْ وُجِدَ اَحَدُ ھُمَا فِی الْغَنِیِّ الْمُسْتَقِلِّ بِمَا عِنْدَہُ زُجِرَ عَنْ اُخْذِ مَا اُعْطِیَ دُونَ الْفُقَرَاءِ الْمُضْطَرِّینَ ، وَالتَّارَۃُ الَّتِیْ یُبَاحُ فِیْھَا اَخْذُمَا اَعْطِیَ الْمَرْءُ ، وَاِنْ وُجِدَ فِیْہِ الْمَسْاَلَۃُ وَاِشْرَافُ النَّفْسِ ھِیَ حَالَۃُ اِلاضْطِرَارِ ، وَاِلاضْطِرَارُ عَلٰی ضَرْبَیْنِ : اضْطِرَارٌ بِجدَۃٍ ، وَاضْطِرَارٌ بِعُدْمٍ ، وَاِلاضْطِرَارُ الَّذِی یَکُوْنُ بِجِدَۃٍ ھُوَ اَنْ یَّمْلِکَ الْمَرْءُ الشَّیْءَ الْکَثِیرَ مِنْ حُطَامِ ھٰذِہِ الدُّنْیَا سِوٰی الْمَاْکُولِ وَالْمَشْرُوبِ ، وَھُوَ فِیْ مَوْضِعٍ لَا یُبَاعُ فِیْہِ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ اَصْلًا ، فَھُوَ وَاِنْ کَانَ وَاجِدًا حُکْمُُہٗ حُخْمُ الْمُضْطَرِّ ، لَہٗ اَخْذُ مَا اُعْطِیَ ، وَاِنْ کَانَ سَائِلًا اَوْ مُشْرِفَ النَّفْسِ اِلِیْہِ ، وَاضْطِرَارُ الْعُدْمِ ھُوَ وَاضِحٌ لَا یَحْتَاجُ اِلَی الْکَشْفِ عَنْہُ

حضرت خالد بن عدی جہنی رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جس شخص کو مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر اپنے بھائی کی طرف سے کوئی بھلائی ملے، تو وہ اسے قبول کر لے وہ اسے واپس نہ کرے، کیونکہ یہ وہ رزق ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف بھیجا ہے۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) یہ حکم جس پر عمل کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے، وہ اس چیز کو لے لینا ہے، جو آدمی کو دی گئی ہو ، اور دو متعین چیزیں ایسی ہیں جن کی عدم موجودگی میں( کسی سے کوئی چیز لینا) آدمی کے لئے مباح ہوتا ہے۔ وہ ( دو متعین چیزیں) مانگنا اور لالچ ہیں، تو ایسا خوشحال شخص جو مستقل طور پر ( خوشحال ہو) اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک چیز اس میں پائی جائے تو اس کے لئے دئیے جانے والے مال کو لینا ممنوع ہو جائے گا۔ یہ حکم اضطرار کا شکار فقیر کے لئے نہیں ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی کے لئے ملنے والی چیز کو لینا مباح ہوتا ہے ، اگرچہ اس میں مانگنے اور لالچ کی صورت پائی جا رہی ہو، اور یہ حالت اضطرار میں ہوتا ہے۔ اضطرار کی دو صورتیں ہیں۔ ایسا اضطرار جو ( مال کی) موجودگی میں ہو، اور ایسا اضطرار (جو مال کی) عدم موجودگی میں ہو۔ وہ اضطرار جو (مال کی) موجودگی میں ہوتا ہے ، اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اس دنیا کے بہت سے سازو سامان کا مالک ہو، ( لیکن وہ سامان)کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ ہو اور آدمی ایسی جگہ موجود ہو جہاں کھانے پینے کی اشیاء سرے سے فروخت ہی نہ ہوتی ہوں۔ توآپ اگرچہ اس کے پاس (مال ) موجود ہے لیکن اس کا حکم اضطرار کے شکار شخص کا ہو گا۔اسے جو کچھ دیا جائے وہ لینا اس کے لئے جائز ہو گا۔ اگرچہ وہ شخص مانگنے والا ہو یا اس میں لالچ موجود ہو اور ( مال کی) عدم موجودگی کی صورت میں لاحق ہونے والا اضطرار واضح ہے۔ اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔

خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ، ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← الْمُقْرِئُ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3404

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3405

أخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ، قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِيَ بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ، وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ، قَالَ: خُذْ مَا أُعْطِيتَ، فَإِنِّي قَدْ قُلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمَلِي مِثْلَ قَوْلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ» (1) . [1: 105]

ابن ساعدی مالکی بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ نے مجھے زکٰوۃ وصول کرنے کا نگران مقرر کیا جب میں فارغ ہو کر آیا اور انہیں ادائیگی کر دی، تو انہوں نے مجھے تنخواہ دینے کا حکم دیا میں نے ان سے کہا: میں نے اللہ کی رضا کے لیے یہ کام کیا ہے اور میرا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ انہوں نے فرما یا: جو تمہیں دیا جا رہا ہے اسے وصول کر لو، کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں، میں نے بھی یہ کام کر کے وہی بات کہی تھی جو تم نے کہی ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ " جب تمہارے مانگے بغیر تمہیں کوئی چیز دے دی جائے ، تو تم اسے خود بھی استعمال کرو اور صدقہ بھی کرو۔"

ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ، ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 3405

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3406

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَهُ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى» (1) . [1: 13]

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ سے کچھ مانگا آپ ﷺ نے مجھے عطا کر دیا میں نے پھر آپ ﷺ سے مانگا آپ ﷺ نے پھر عطا کر دیا پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا۔ " بے شک یہ مال میٹھا اور سر سبز ہے، جو شخص نفس کی رضا مندی کے ساتھ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور جو شخص نفس کے لالچ کے ساتھ اسے حاصل کرتا ہے، تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جاتی اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہوتی ہے، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔"

سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ ← سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ،

Hadith 3406

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3407

سَمِعْتُ أَبَا خَلِيفَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ بَكْرِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ مُسْلِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ابوالقاسم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ " وہ شخص در حقیقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا۔"

«لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ» ← اَبَا الْقَاسِمِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنِ بَکْرِ بْنِ الرَّبِیْعِ بْنِ مُسْلِمٍ ← اَبَا خَلِیْفَۃَ

Hadith 3407

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3408

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَعَاذَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ (2) فَادْعُوا اللَّهَ لَهُ حَتَّى تَرَوْا (3) أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ» (4) . [1: 67] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَصَّرَ جَرِیْرٌ فِیْ اِسْنَادِہٖ ، لِاَنَّہٗ لَمْ یَحْفَظْ اِبْرَاھِیْمَ التَّیْمِیَّ فِیْہِ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو شخص اللہ کے نام پر تم سے پناہ مانگے اسے پناہ دے دو اور جو شخص اللہ کے نام پر تم سے کچھ مانگے تم اسے کچھ دے دو اور جو شخص تمہاری دعوت کرے، تو اسے قبول کر لو اور جو بھلائی کرے، تو تم اس کا بدلہ دو اور اگر تمہیں اسے بدلہ دینے کے لئے کچھ نہیں ملتا، تو تم اس کے لئے اتنی دعا کرو جس سے تمہیں اندازہ ہو جائے کہ اب تم نے اسے بدلہ دے دیا ہے۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) جریر نے اس کی سند مختصر کر دی ہے کیونکہ انہوں نے اس کی سند میں ابراہیم تیمی کا نام یاد نہیں رکھتا۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3408

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3409

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ» (1) . [1: 67]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نےارشاد فرمایا ہے: " جو شخص اللہ کے نام پر مانگے، تو اسے دے دو جو شخص اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دے دو اور جو شخص تمہاری دعوت کرے، تو اسے قبول کرو۔"

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ مَعْنٍ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ،

Hadith 3409

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3410

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَرَرْتُ بِرَجُلٍ فَلَمْ يُضَيِّفْنِي، وَلَمْ يَقْرِنِي، أَفَأَحْتَكِمُ (2) ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلِ اقْرِهِ» (3) . [3: 65]

ابو احوص اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! میرا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا اس نے مجھے مہمان بھی نہیں بنایا اور میری مہمان نوازی بھی نہیں کی، تو کیا میں اس کے ساتھ ایسا ہی کروں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:(جی نہیں) بلکہ تم اس کی مہمان نوازی کرو۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 3410

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3411

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَأَطْعَمْنَاهُمْ رُطَبًا، وَسَقَيْنَاهُمْ مِنَ الْمَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ» (1) . [4: 1]

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہہ ہمارے ہاں تشریف لائے ہم نے ان کو کھانے کے لئے تازہ کھجوریں پیش کیں اور انہیں پانی پیش کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ ان نعمتوں میں شامل ہے جن کے بارے میں تم سے حساب لیا جائے گا۔

رَسُولُ اللَّهِ «هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ» ← جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَأَطْعَمْنَاهُمْ رُطَبًا، وَسَقَيْنَاهُمْ مِنَ الْمَاءِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3411

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3412

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ أَبُو يَعْلَى، بِالْأُبُلَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ (2) بْنُ جُنَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي رَأَيْتُ فُلَانًا يَدْعُو وَيَذْكُرُ خَيْرًا، وَيَذْكُرُ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُ دِينَارَيْنِ، قَالَ: «لَكِنْ فُلَانٌ أَعْطَيْتُهُ مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا، فَمَا أَثْنَى وَلَا قَالَ خَيْرًا» (1) . [2: 62]

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی میں نے فلاں شخص کو دیکھا ہے، جو دعا کرتا ہے اور بھلائی کا ذکر کرتا ہے وہ یہ ذکر کرتا ہے کہ آپ ﷺ نے اسے دو دینار دیئے ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: لیکن فلاں کو، تو میں نے اتنا اور اتنا کچھ دیا تھا ، لیکن نہ، تو اس نے تعریف کی اور نہ ہی بھلائی کی بات کہی۔

خَيْرًا» ← «لَكِنْ فُلَانٌ أَعْطَيْتُهُ مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا، فَمَا أَثْنَى وَلَا ← قُلْتُ لِلنَّبِيِّ إِنِّي رَأَيْتُ فُلَانًا يَدْعُو وَيَذْكُرُ خَيْرًا، وَيَذْكُرُ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُ دِينَارَيْنِ، ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ أَبُو يَعْلَى، بِالْأُبُلَّةِ،

Hadith 3412

chevron_left Previous
1…15161718
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr