صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3401
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصِبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ دِمِشْقَ: إِيَّاكُمْ وَأَحَادِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ، فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يُخِيفُ النَّاسَ فِي اللَّهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ» وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ، فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ، وَعَنْ شَرَهٍ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ» (1) . [2: 62]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہہ نے دمشق کے منبر پر یہ بات بیان کی خبردار نبی اکرمﷺ کی احادیث کے بارے میں احتیاط کرو اور اس حدیث کے بارے میں بھی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کے عہد میں ہوئی تھی، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں لوگوں کو خوف دلایا کرتے تھے وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ " اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے۔" اور میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ " میں خزانچی ہوں میں اپنی رضا مندی کے ساتھ جس شخص کو کوئی چیز دوں گا ، تو اس میں اس شخص کے لئے برکت رکھی جائے گی اور جس شخص کو مانگنے کی وجہ سے کچھ دوں گا یا اس کے لالچ کی وجہ سے دوں گا، تو اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہو گی جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا۔"
مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ الْيَحْصِبِيَّ، ← رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ
Hadith 3401
