Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3389

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، سَمِعَهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ، فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا فَتُخْرِجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًا، وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ، فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ» (1) . [2: 43]

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " مانگتے ہوئے چمٹ نہ جایا کرو اللہ کی قسم! تم میں سے جو شخص جو بھی چیز مانگتا ہے اور اس کے مانگنے کی وجہ سے میں نا پسندیدگی کے عالم میں وہ چیز اسے دے دیتا ہوں، تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جائے گی۔"

أَخِيهِ، سَمِعَهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ، ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Hadith 3389

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3390

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ سَأَلَ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ فَهُوَ مُلْحِفٌ» ، قَالَ: قُلْتُ: الْيَاقُوتَةُ نَاقَتِي خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ، قَالَ: وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا (1) . [1: 13]

): حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " جو شخص (دوسرے سے کچھ ) مانگے ، حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ (چاندی) موجود ہو، تو وہ شخص لپٹ کر سوال کرنے والا ہے۔" راوی کہتے ہیں: میں نے سوچا میری اونٹنی یا قوتہ تو ایک اوقیہ سے زیادہ بہتر ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔

وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا ← قُلْتُ: الْيَاقُوتَةُ نَاقَتِي خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ، ← «مَنْ سَأَلَ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ فَهُوَ مُلْحِفٌ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 3390

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3391

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِيُثْرِيَ مَالَهُ فَإِنَّمَا هُوَ رَضْفٌ مِنَ النَّارِ يَتَلَهَّبُهُ، مَنْ (1) شَاءَ فَلْيُقِلَّ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُكْثِرْ» (2) . [2: 62]

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو شخص لوگوں سے اس لیے مانگتا ہے تا کہ اس کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کرے، تو وہ جہنم کے انگارے جمع کر رہا ہے اب جو چاہے وہ تھوڑے اکٹھے کرے جو چاہے وہ زیادہ اکٹھے کر لے۔"

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ، ← الْمُغِيرَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيُّ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 3391

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3392

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرَّجُلَ يَأْتِينِي مِنْكُمْ لَيَسْأَلَنِي فَأُعْطِيهِ، فَيَنْطَلِقُ وَمَا يَحْمِلُ فِي حِضْنِهِ (3) إِلَّا النَّارَ» (4) . [2: 62]

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کچھ مانگتا ہے ،تو میں اسے دے دیتا ہوں وہ چلا جاتا ہے ، حالانکہ اس نے اپنے دامن میں صرف آگ کو اٹھا یا ہوتا ہے۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3392

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3393

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَإِنَّمَا يَسْأَلُ (1) جَمْرًا، فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُمْ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ» (2) . [2: 62]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو لوگوں سے ان کے مال میں سے مانگتا ہے وہ انگارہ مانگتا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ وہ تھوڑا مانگے یا زیادہ مانگے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3393

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3394

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبِرْتِيُّ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنَ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ الْحَنْظَلِيَّةِ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الْأَقْرَعَ وَعُيَيْنَةَ سَأَلَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ أَنْ يَكْتُبَ بِهِ لَهُمَا، وَخَتَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِدَفْعِهِ إِلَيْهِمَا، فَأَمَّا عُيَيْنَةَ فَقَالَ: مَا فِيهِ؟، فَقَالَ: فِيهِ الَّذِي أَمَرْتَ بِهِ، فَقَبَّلَهُ وَعَقْدَهُ فِي عِمَامَتِهِ، وَكَانَ أَحْلَمَ الرَّجُلَيْنِ، وَأَمَّا الْأَقْرَعُ فَقَالَ: أَحْمِلُ صَحِيفَةً لَا أَدْرِي مَا فِيهَا كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ، فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِمَا (1) وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَتِهِ، فَمَرَّ بِبَعِيرٍ مُنَاخٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ فِي آخِرِ النَّهَارِ، وَهُوَ فِي مَكَانِهِ، فَقَالَ: «أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ» ، فَابْتُغِيَ فَلَمْ يُوجَدْ، فَقَالَ: «اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ، ارْكَبُوهَا صِحَاحًا، وَكُلُوهَا سِمَانًا، كَالْمُتَسَخِّطِ آنِفًا، إِنَّهُ مَنْ سَأَلَ شَيْئًا وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا يُغْنِيهِ؟، قَالَ: «مَا يُغَدِّيهِ، أَوْ يُعَشِّيهِ» (2) [1: 13] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يُغَدِّيهِ، أَوْ يُعَشِّيهِ» ، أَرَادَ بِهِ عَلَى دَائِمِ الْأَوْقَاتِ حَتَّى يَكُونَ مُسْتَغْنِيًا بِمَا عِنْدَهُ، أَلَا تَرَاهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ: «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ» (3) فَجَعَلَ الْحَدَّ الَّذِي تَحْرُمُ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ بِهِ هُوَ الْغِنَى عَنِ النَّاسِ، وَبِيَقِينٍ نَعْلَمُ أَنَّ وَاجِدَ الْغَدَاءِ أَوِ الْعِشَاءِ لَيْسَ مِمَّنِ اسْتَغْنَى عَنْ غَيْرِهِ حَتَّى تَحْرُمَ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ، عَلَى أَنَّ الْخِطَابَ وَرَدَ فِي هَذِهِ الْأَخْبَارِ بِلَفْظِ الْعُمُومِ، وَالْمُرَادُ مِنْهُ صَدَقَةُ الْفَرِيضَةِ دُونَ التَّطَوُّعِ

حضرت سہل بن خظلیہ رضی اللہ عنہہ جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ اقرع اور عینیہ نے نبی اکرمﷺ سے کچھ مانگا، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہہ کو حکم دیا کہ ان کے لیے ایک تحریر لکھ دیں نبی اکرم ﷺ نے اس پر مہر لگا دی اور وہ تحریر ان دونوں کے سپرد کرنے کا حکم دیا۔ عینیہ نے دریافت کیا: اس میں کیا ہے، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہہ نے بتا یا: اس میں وہ چیز ہے، جس کے بارے میں تمہیں دینے کا حکم دیا گیا ہے اس نے اسے قبو ل کیا اور اسے اپنے عمامے میں رکھ لیا وہ ان دونوں آدمیوں میں زیادہ سمجھدار تھا ، لیکن اقرع نے کہا: کیا میں ایک ایسے صحیفے کو اٹھا لوں جس کے بارے میں مجھے پتہ ہی نہیں کہ اس میں کیا تحریر ہے یہ، تو ایک ایسے صحیفے کی مانند ہو گا جو غلط فہمی کا شکار کر دیتا ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہہ نے ان دونوں کے قو ل کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو بتایا۔ نبی اکرم ﷺ کسی کام کے سلسلے میں باہر تشریف لائے۔ دن کے ابتدائی حصے میں نبی اکرم ﷺ ایک اونٹ کے پاس سے گزرے تھے جو مسجد کے دروازے کے باہر بٹھا یا گیا تھا پھر دن کے آخری حصے میں نبی اکرم ﷺ اس کے پاس سے گزرے وہ اسی جگہ موجود تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کا مالک کہاں ہے اسے تلاش کیا گیا، لیکن وہ نہیں ملا تو نبی اکرم ﷺ نے ار شاد فرمایا: ان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ان پر ایسی حالت میں سواری کرو جب یہ تندرست ہوں انہیں کھلا کر موٹا تازہ رکھو پھر نبی اکرمﷺ نے کچھ پہلے کے واقعے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: جو شخص کوئی چیز مانگتا ہے اور اس کے پاس ایسی چیز موجود ہو، جس کی وجہ سے اسے مانگنے کی ضرورت نہ ہو، تو ہ شخص جہنم کے انگارے زیادہ کر رہا ہوتا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اس کو مانگنے کی ضرورت نہ ہونے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کے پاس صبح اور شام کا کھانا موجود ہو۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان" جو کچھ وہ صبح کرتا ہے اور شام کو کرتا ہے" اس سے مراد آپ کی مراد یہ ہے، جو وہ ہمیشہ کرتا ہے ۔یہاں تک کہ وہ اس سے بے نیاز ہو جاتا ہے کیا تم نے دیکھا نہیں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ "صدقہ دینا کسی خوشحال شخص کے لئے اور کام کرنے والے تندرست شخص کے لئے جائز نہیں ہے۔" تو نبی اکرم ﷺ نے یہاں صدقہ حرام ہونے کی حد اس چیز کو قرار دیا ہے جس کی وجہ سے آدمی لوگوں سے بے نیاز ہو جائے۔ آپ یہ بات یقینی طور پر جانتے ہیں کہ جس شخص کے پاس صبح اور شام کا کھانا موجود ہو وہ ان افراد میں شامل نہیں ہوتا جو دوسروں سے بے نیاز ہو جائیں یہاں تک کہ اس کے لئے صدقہ لینا حرام ہو جائے۔ اس بنیاد پر کہ ان روایات میں روایت کے الفاظ عمومی طور پر منقول ہوئے ہیں۔ لیکن اس سے مراد فرض صدقہ ہے۔ نفلی صدقہ مراد نہیں ہے۔

أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبِرْتِىُّ

Hadith 3394

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3395

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْم ، قَالَ : اَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ھَارُوْنَ بْنِ رِئَابٍ ، عَنْ کِنَانَۃَ الْعَدَوِیِّ ، قَالَ: کُنْتُ عِنْد قَبِیصَۃَ بْنِ الْمُخَارِقِ فَاسْتَعَانَ بِہٖ نَفَرٌ مِنْ قَوْمِہٖ فِیْ نِکَاحِ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِہٖ ، فَاَبَی اَنْ یُعْطِیَھُمْ شَیْئًا ، فَانْطَلَقُوا مِنْ عِنْدِہٖ ، قَالَ کِنَانَۃُ : فَقُلْتُ لَہٗ : اَنْتَ سَیِّدُ قَوْمِکَ ، وَاَتَوْکِ یَسْاَلُوْنَکَ ، فَلَمْ تُعْطِھِمْ شَیْئًا ، قَالَ : اَمَّا فِیْ ھٰذَا ، فَلَا اُعْطِی شَیْئًا ، وَسَاُخْبِرُکَ عَنْ ذٰلِکَ ، تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَۃِ فِیْ قَوْمِیِ ، فَاَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَاَخْبِرْتُہٗ وَسَاَلْتُہٗ اَنْ یُعِینَنِی ، فَقَالَ : بَلْ نَحْمِلْھَا عَنْکَ یَا قَبِیضَۃُ ، وَنُؤَدِّیھَا اِلَیْھِمْ مِنْ اِبِلِ الصَّدَقَۃِ ، ثُمَّ قَالَ : اِنَّ الْمَسْاَلَۃَ لا تَحِلُّ اِلَّا لِثَلَاثٍ : رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَۃً ، فَقَدْ حَلَّتْ لَہٗ حَتّٰی یُؤَدِّیَھَا ، اَوْ رَجُلٍ اَصَابَتْہُ جَائِحَۃٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَہٗ حَتّٰی یُصِیْبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ اَوْ سَدَادًا مِنْ عَیْشٍ ، وَرَجُلٍ اَصَابَتْہُ فَاقَۃٌ فَشَھِدَ لَہٗ ثَلَاثَۃٌ مِنْ ذَوِی الْحِجَا مِنْ قَوْمِہٖ اَنْ قَدْ حَلَّتْ لَہُ الْمَسْاَلَۃُ ، فَقَدْ حَلَّتْ لَہٗ حَتّٰی یُصِیْبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ ، اَوْ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ ، وَالْمَسْاَلَۃُ فِیمَا سِوٰی ذٰلِکَ سُحْتٌ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قُوْلُہٗ وَالْمَسْاَلَۃَ فِیْ سِوٰی ھٰذِہِ الْاَشْیَاءِ الثَّلَاثَۃِ مِنْ السُّلْطَانِ عَنْ فَضْلِ حِصِّتِہٖ مِنْ بَیْتِ الْمَالِ سُحْتٌ ، لِاَنَّ الْمَسْاَلَۃَ فِیْ غَیْرِ ھٰذِہِ الْخِصَالِ الثَّلَاثَۃِ مِنْ غَیْرِ السُّلْطَانِ عَنْ غَیْرِ بَیْتِ مَالِ الْمُسْلِمِیْنَ تَکُوْنَ سُحْتًا اِذَا کَانَ الْاِنْسَانُ غَیْرَ مُسْتَغْنٍ بِمَا عِنْدَہُ

کنانہ عدوہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہہ کے پاس موجود تھا ان کی قوم کے کچھ افراد نے اپنی قوم کے ایک شخص کی شادی کے بارے میں ان سے مدد مانگی، تو انہوں نے اسے کچھ دینے سے انکار کر دیا وہ لوگ ان کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ کنانہ کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: آپ اپنی قوم کے سردار ہیں وہ لوگ آپ کے پاس کچھ مانگنے آئے تھے آپ نے انہیں کچھ بھی نہیں دیا ، تو انہوں نے فرمایا: جہاں تک اس معاملے کا تعلق ہے، تو میں انہیں کچھ بھی نہیں دوں گا میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں ۔ ایک مرتبہ میں نے اپنی قوم کی کوئی ادائیگی اپنے ذمے لے لی میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ ﷺ کو اس بارے میں بتایا اور آپ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ میری مدد کریں، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے قبیصہ تمہاری طرف سے ادائیگی ہم اپنے ذمے لیتے ہیں اور صدقے کے اونٹوں میں سے ان لوگوں کو ادائیگی کر دیں گے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: مانگنا صرف تین آدمیوں کے لئے جائز ہوتا ہے۔ ایک وہ شخص جس کے ذمے ادائیگی لازم ہو، تو اس کے لیے مانگنا جائز ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس ادائیگی کو کر دے یا جسے کوئی آفت لاحق ہو جائے اس کے نتیجے میں اس کا مال ضائع ہو جائے، تو جب تک اس کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کا سامان نہیں ہوتا اس وقت تک اس کے لیے مانگنا جائز ہے اور ایک وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو جائے اس کی قوم کے تین سمجھدار لوگ اس کے بارے میں گواہی دیں کہ اس کے لیے مانگنا جائز ہو گیا ہے، تو اس شخص کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے ، یہاں تک کہ اس کےلئے اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کا سامان ہو جائے اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان" اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے۔" اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے: حاکم وقت سے بیت المال میں سے اپنے مخصوص حصے سے اضافی طور پر ان تین چیزوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: ان تین خصوصیا ت کے علاوہ کی صورت میں حاکم وقت کے علاوہ کسی اور سے مانگنا مسلمانوں کے بیت المال میں سے وصولی نہ ہو۔ اس وقت حرام ہو گا جب انسان کے پاس اتنا کچھ موجود ہ نہ ہو جس کی موجودگی میں ( کسی سے مانگنے سے ) بے نیاز ہو۔

كِنَانَةَ الْعَدَوِيِّ، ← هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 3395

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3396

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ (1) بْنُ أَشْرَسَ الْعَدَوِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ مِنْهَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَجِيئَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا» ، ثُمَّ قَالَ: «يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُولَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ: لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا» (2) . [3: 17]

کنانہ بن نعیم عدوی حضرت قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے ایک ادائیگی اپنے ذمے لے لی میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تا کہ ا س کے بارے میں مدد مانگوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے قبیصہ تم ٹھہرے رہو جب ہمارے پاس (صدقے کا مال) آئے گا ، تو ہم تمہیں دینے کا حکم دے دیں گے پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے قبیصہ مانگنا تین میں سے کسی ایک شخص کے لئے جائز ہے ایک وہ شخص جس کے ذمے کوئی ادائیگی ہو اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس ادائیگی کو کر دے، تو اس (مانگنے ) سے رک جائے۔ ایک وہ شخص جسے آفت لاحق ہو، جس کے نتیجے میں اس کامال ضائع ہو جائے اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اور ایک وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین سمجھدار لوگ اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں شخص کو فاقہ لاحق ہوا ہے اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کر سکے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے، جسے ما نگنے والاحرام کے طور پر کھاتا ہے۔

قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ، ← كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، ← هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← حَوْثَرَۃُ بْنُ اَشْرَسَ الْعَدَوِیُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3396

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3397

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّمَا الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ، فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ فِي أَمْرٍ لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا» (1) . [1: 13]

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " مانگنا خراش ڈالنا ہے، جس کے ذریعے آدمی اپنے چہرے پر خراش ڈالتا ہے، تو جو شخص چاہے وہ اسے اپنے چہرے پر باقی رہنے دے اورجو شخص چاہے اسے ترک کر دے، البتہ حکمران (یا متعلقہ سرکاری اہل کار سے حکومتی آمدن میں سے ) مانگا جا سکتا ہے یا کسی ایسی صورت میں مانگا جا سکتا ہے، جو انتہائی مجبوری ہو۔"

النَّبِيِّ ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ،

Hadith 3397

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3398

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ، فَسَمِعْتُهُ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ: «مَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفُّهُ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلَنَا أَعْطَيْنَاهُ» ، قَالَ: فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ، فَأَنَا الْيَوْمَ أَكْثَرُ الْأَنْصَارِ مَالًا (1) . [1: 89]

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میرا یہ ارادہ تھا کہ میں آپ ﷺ سے کچھ مانگوں گا میں نے آپﷺ کو خطبے کے دوران یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: " جو شخص بے نیازی اختیار کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز رکھتا ہے ، جو شخص مانگنے سے بچتا ہے اللہ تعالیٰ اسے مانگنے سے محفوظ رکھتا ہے، اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے گا ہم اسے دے دیں گے"۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں واپس آگیا اور میں نے آپ ﷺ سے کچھ نہیں مانگا اور آج انصار میں میرے پاس سب سے زیادہ مال ہے۔"

فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ، فَأَنَا الْيَوْمَ أَكْثَرُ الْأَنْصَارِ مَالًا ← «مَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفُّهُ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلَنَا أَعْطَيْنَاهُ» ← أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ، فَسَمِعْتُهُ يَخْطُبُ، وَهُوَ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ بِالْبَصْرَةِ

Hadith 3398

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3399

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ أَهْلَهُ شَكَوْا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ، فَخَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَسْأَلَهُ لَهُمْ شَيْئًا، فَوَافَقَهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ: «أَيُّهَا النَّاسُ، قَدْ آنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَغْنُوا عَنِ الْمَسْأَلَةِ، فَإِنَّهُ مَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفُّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا رُزِقَ عَبْدٌ شَيْئًا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ، وَلَئِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا أَنْ تَسْأَلُونِي لَأُعْطِيَنَّكُمْ مَا وَجَدْتُ» (2) . [2: 62]

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ان کی اہلیہ نے ان کے سامنے کسی ضرورت کی شکایت کی، تو وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جانے کے ارادے سے نکلے، تاکہ اپنے گھر والوں کے لئے نبی اکرم ﷺ سے کچھ مانگیں ۔ نبی اکرم ﷺ اس وقت منبر پر موجود تھے اور یہ ارشاد فرما رہے تھے۔ " اے لوگو! تم پر ایسا وقت آگیا ہے کہ تم مانگنے سے بے نیاز ہو جاو بے شک جو شخص ( مانگنے سے ) بچنے کی کوشش کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بچا کے رکھتا ہے، جو شخص خوشحالی حاصل کرنے چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوشحالی عطا کرتا ہے اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے بندے کو صبر سے زیادہ کشادہ اور کوئی چیز نہیں دی گئی اگر تم مانگنے پر اصرار کرتے ہو، تو جو میرے پاس ہو گا وہ میں تمہیں دے دوں گا۔"

سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ

Hadith 3399

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3400

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ، قَالَ: «مَا يَكُنْ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفُّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ» (1) [3: 66]

حضرت ا بو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: کچھ انصار نے نبی اکرم ﷺ سے کچھ مانگا نبی اکرم ﷺ نے وہ انہیں عطا کر دیا انہوں نے پھر آپ ﷺ سے مانگا آپﷺ نے پھر انہیں عطا کر دیا، یہاں تک کہ آپﷺ کے پاس جو مال تھا وہ ختم ہو گیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرما یا: میرے پاس جو کچھ بھی بھلائی موجود ہے میں تم لوگوں سے بچا کر اسے نہیں رکھوں گا، لیکن جو شخص مانگنے سے بچنے کی کوشش کرے گا اور اللہ تعالیٰ اسے مانگنے سے بچا کے رکھے گا اور جو شخص (لوگوں سے) بے نیازی اختیار کرنے کی کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دے گا اور جو شخص صبر کرنا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر عطا کرے گا اور کسی بھی شخص کو ایسی کوئی چیز نہیں گئی جو صبر سے زیادہ بہتر اور صبر سے زیادہ کشادہ ہو۔

عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 3400

chevron_left Previous
1…15161718
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr