Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3377

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حرملة، حدثنا بن وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَهْرِيُّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَيْسَ مِنْ نفس بن آدَمَ إِلَّا عَلَيْهَا صَدَقَةٌ فِي كُلِّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمِنْ أَيْنَ لَنَا صَدَقَةٌ نَتَصَدَّقُ بِهَا؟ فَقَالَ: "إِنَّ أَبْوَابَ الْخَيْرِ لَكَثِيرَةٌ: التَّسْبِيحُ، وَالتَّحْمِيدُ، وَالتَّكْبِيرُ، وَالتَّهْلِيلُ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَتُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَتُسْمِعُ الْأَصَمَّ، وَتَهْدِي الْأَعْمَى، وَتُدِلُّ الْمُسْتَدِلَّ عَلَى حَاجَتِهِ، وَتَسْعَى بِشِدَّةِ سَاقَيْكَ مَعَ اللَّهْفَانِ الْمُسْتَغِيثِ، وَتَحْمِلُ بِشِدَّةِ ذِرَاعَيْكَ مَعَ الضَّعِيفِ، فَهَذَا كُلُّهُ صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ" (1) .

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " انساں کی ہر ایک سانس کے عوض میں اس پر روزانہ صدقہ دینا لازم ہوتا ہے، جس میں سورج نکلتا ہے۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ ﷺ ! اتنا زیادہ صدقہ دینے کے لئے ہمارے پاس کہاں گنجائش ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بھلائی کے دروازے زیادہ ہیں سبحان اللہ کہنا، الحمداللہ کہنا، اللہ اکبر کہنا، لا الہٰ الا اللہ پڑھنا ، نیکی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا، تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹا دینا، بہرے شخص کو بات سمجھا دینا، نابینا شخص کی رہنمائی کر دینا، کسی کام کے سلسلے میں رہنمائی مانگنے والے کی رہنمائی کر دینا ، اپنی ٹانگوں کی مضبوطی کی وجہ سے مدد مانگنے والے پریشان حال شخص کے لیے کوشش کرنا، اپنے بازووں کی مضبوطی کی وجہ سے کمزور شخص کے لئے وزن اٹھا دینا یہ سب تمہاری طرف سے تمہارے نفس کے لئے صدقہ ہیں۔"

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَهْرِيُّ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Hadith 3377

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3378

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ" (1) .

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: تمہارے نبی ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: " ہر نیکی صدقہ ہے۔" اللہ تعالیٰ کا ہر نیکی کرنے پر صدقہ کرنے کو نوٹ کرنے کا تذکرہ خواہ وہ آدمی قولی طور پر کرے یا فعلی طور پر کرے

نَبِيُّكُمْ "كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ" ← حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيٍّ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 3378

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3379

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كُلُّ معروف صدقة" (1) .

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " ہر نیکی صدقہ ہے۔"

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Hadith 3379

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3380

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قال: "خَلَقَ اللَّهُ كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلَاثِ مِائَةِ مَفْصِلٍ، فَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَهُ، وَهَلَّلَ اللَّهَ، وَسَبِّحَ اللَّهَ، وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ، وَعَزَلَ عَظْمًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِهِمْ، وَأَمَرَ بِمَعْرُوفٍ، وَنَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَالثَّلَاثِ مِائَةٍ، فَإِنَّهُ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ" (1) .

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے تین سو ساٹھ جوڑ بنائے ہیں، تو جو شخص تین سو ساٹھ کی تعداد میں ( درج ذیل کام کرتا ہے) وہ اللہ اکبر پڑھتا ہے ، الحمداللہ پڑھتا ہے، لا الہٰ الا اللہ پڑھتا ہے، سبحان اللہ پڑھتا ہے، استغفراللہ پڑھتا ہے، لوگوں کے راسے سے ہڈی کو ہٹا دیتا ہے ، ان کے راستے سے پتھر کو ہٹا دیتا ہے ، نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے (وہ یہ سب کام تین سو ساٹھ مرتبہ کر لیتا ہے) ، تو وہ شام کے وقت ایسی حالت میں ہوتا ہے، کہ اس نے اپنے آپ کو جہنم سے بچا لیا ہوتا ہے۔

عَائِشَةَ تَقُولُ: ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخٍ أَنَّهُ ← جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ، ← أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 3380

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3381

أخبرنا ابن قتيبة، قال: حدثنا بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ: كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَعْدِلُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، وَيُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ، وَيَحْمِلُهُ عَلَيْهَا، وَيَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ، ويميط الأذى عن الطريق صدقة" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نےا رشاد فرمایا ہے: " انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ کرنا لازم ہے ہر اس دن میں جس میں سورج طلوع ہوتا ہے (یعنی روزانہ ایسا کرنا لازم ہے) آدمی کا دو آدمیوں کے درمیان انصاف کروا دینا اور آدمی کا کسی دوسرے شخص کے جانور پر سوار ہونے میں اس کی مدد کرنا اور اس کا وزن اس پر لدوا دینا اور اس کا سامان اس کے لیے اٹھوا دینا اور راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ( یہ سب کام ) صدقہ ہیں۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 3381

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3382

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حدثنا حرملة، قال: حدثنا بن وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ: إِنَّ رَبِّي وَرَبَّكَ يَقُولُ لَكَ: كَيْفَ رَفَعْتُ ذِكْرَكَ؟ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ. قَالَ: إِذَا ذُكِرْتُ ذُكِرْتَ معي" (1) .

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور بتایا میرے اور آپ ﷺ کے پروردگار نے آپﷺ سے یہ فرمایا ہے میں نے آپ ﷺ کے ذکر کو کیسے بلند کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ بہترجانتا ہے، تو انہوں نے بتایا :( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:) جب میرا ذکر کیا جائے گا، تو میرے ساتھ آپ ﷺ کا بھی ذکر کیا جائے گا۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 3382

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3383

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جابان عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ وَلَدُ زِنْیَۃٍ ، وَلَا مَنَّانٌ ، وَلَا عَاقٌ ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : مَعْنٰی نَفْیِ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدِ الزِّنَیَۃِ دُخُولَ الْجَنَّۃِ ، وَوَلَدُ الزِّئْیَۃِ لَیْسَ عَلَیْھِمْ مِنْ اَوْزَارِ آبَائِھِمْ وَاُمَّھَاتِھِمْ شَیْءٌ ، اَنَّ وَلَدَ الزِّئْیَۃِ عَلَی الْاَغْلَبِ یَکُوْنُ اَجْسَرَ عَلٰی ارْتِکَابِ الْمَزْجُورَاتِ ،اَرَادَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ وَلََ الزِّنْیَۃِ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ جُنَّۃً یَدْخُلُھَا غَیْرُ ذِی الزِّنْیِۃِ مِمَّنْ لَّمْ تَکْثُرْ جَسَارَتُہٗ عَلٰی ارْتِکَابِ الْمَزْجُورَاتِ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے ولا بچہ ، احسان جتانے والا شخص، ( والدین کا ) نا فرمان، باقاعدگی سے شراب پینے ولا شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کے جنت میں داخل ہونے کی نفی کرنا، حالانکہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے پر اس کا ماں باپ کے گناہ کا بوجھ نہیں ہونا چاہئے۔ اس کا مفہوم یہ ہے : زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والاے بچے عام طور پر ممنوعہ چیزوں کا زیادہ ارتکاب کرتے ہیں۔ اس لئے اس کےے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ ہوگی کہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے ولا بچہ جنت کے اس حصے میں داخل نہیں ہوگا ہاں وہ لوگ داخل ہوں گے جو زنا کے نتیجے میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اور ممنوعہ کامو ں کا زیادہ ارتکاب نہیں کیا کرتے تھے۔ اس روایت کا تذکرہ جس نے اس شخص کو غلط فہمی کا شکارک یا جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا (اور وہ ) اس بات کا قائل ہے کہ اس کی سند منقطع ہے

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← جابان ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 3383

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3384

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا بن مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ، عَنْ جَابَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَدْخُلَ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا مدمن خمر" (1) . قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : اخْتَلَفَ شُعْبَۃُ ، وَالثَوْرِیُّ فِیْ اِسْنَادِ ھٰذَا الْخَبَرِ ، فَقَالَ الثَّوْرِیُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابَانَ ، وَھُمَا ثِقَتَانِ حَافِظْانِ اِلَّا اَنَّ الثَّوْرِیَّ کَانَ اَعْلَمَ بِحَدِیثِ اَھْلِ بَلَدِہِ مِنْ شُعْبَۃَ ، وَاَحْفَظُ لَھَا مِنْہُ ، وَلَا سِیَّمَا حَدِیثَ الْاَعْمَشِ ، وَاَبِیْ اِسْحَاقَ ، وَمَنْصُورٍ ، فَالْخَبَرُ مُتَّصِلٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابَانَ ، فَمَرَّۃٌ رُوِیَ کَمَا قَالَ شُعْبَۃُ ، وَاُخْرَی کَمَا قَالَ سُفْیَانُ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " (والدین کا) نافرمان شخص، احسان جتلانے والا شخص اور باقاعد گی سے شراب پینے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) شعبہ اور ثوری نے اس روایت کی سند میں اختلاف کیا ہے ثوری یہ کہتے ہیں یہ سالم کے حوالے سے جابان کے حوالے سے منقول ہے اور یہ دونوں ثقہ اور حافظ ہیں۔ البتہ ثوری اپنے شہر کے افراد کی احادیث کے بارے میں شعبہ سے زیادہ علم رکھتے ہیں اور ان روایات کے بارے میں شعبہ سے زیادہ بڑے حافظ ہیں۔ بطور خاص وہ روایت جو اعمش ابو اسحاق اور منصور سے منقول ہیں ۔ اس لئے سالم کے حوالے سے جابان سے منقول یہ روایت متصل ہو گی تو ایک مرتبہ انہوں نے اسے اس طرح روایت کر دیا جس طرح شعبہ نے بیان کیا ہے اور ایک مرتبہ اس طرح روایت کر دیا جس طرح سفیان نے بیان کیا ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← جابان ← نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← بن مَهْدِيٍّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3384

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3385

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «أَلَا تُبَايعُونِي؟» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَايَعْنَاكَ مَرَّةً، فَعَلَى مَاذَا نُبَايعُكَ؟ قَالَ: «تُبَايعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَأَنْ تُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ» ، ثُمَّ أَتْبَعَ ذَلِكَ كَلِمَةً خَفِيفَةً «عَلَى أَنْ لَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا» (1) . [1: 13] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا» ، أَرَادَ بِهِ الْأَمْرَ بِتَرْكِ الشِّرْكِ، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى أَنْ لَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا» (1) أَرَادَ بِهِ الْأَمْرَ بِتَرْكِ الْمَسْأَلَةِ

): حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: کیا تم لوگ میری بیعت نہیں کرو گے، تو لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! ہم ایک مرتبہ آپ ﷺ کی بیعت کر چکے ہیں ہم کس بات پر آپ ﷺ کی بیعت کریں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اس بات پر میری بیعت کرو کہ تم کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراو گے، تم نما ز قائم کرو گے اور زکوٰۃ ادا کرو گے اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے پست آواز میں یہ الفاظ کہے: " اور اس بات پر کہ تم لوگوں سے کچھ مانگو گے نہیں۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان" اس بات پر کہ تم اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہراو گے"۔ اس سے آپ کی مراد شرک نہ کرنے کا حکم دینا ہے۔ اسی طرح کا یہ فرمان:" اس بات پر کہ تم لوگوں سے کچھ نہیں مانگو گے"۔ اس سے آپ کی مراد نہ مانگنے کا حکم دینا ہے۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 3385

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3386

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ الطَّائِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: قَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْأَلَنِي؟ فَقَالَ: قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ، فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ يَنْزِلَ بِهِ أَمْرٌ لَا يَجِدُ مِنْهُ بَدًّا» (2) [1: 13]

زید بن عقبہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ حجاج نے ان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ مجھ سے کچھ مانگتے نہیں ہیں، تو انہوں نے بتایا: حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہہ نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشادفرمائی ہے۔ " یہ مانگنا ایک خراش ڈالنا ہے، جو آدمی اپنے چہرے پر ڈال لیتا ہے، تو جو شخص چاہے وہ اسے اپنے چہرے پر باقی رہنے دے جو شخص چاہے وہ ایسا نہ کرے مگر یہ کہ جو شخص حاکم وقت ( یا متعلقہ سرکاری اہل کار) سے مانگے یا وہ شخص جسے کوئی ایسی صورت حال پیش ہو کہ مانگنا اس کی مجبوری ہو۔"

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← لَهُ الْحَجَّاجُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْأَلَنِي؟ فَقَالَ: ← زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← دَاوُدُ الطَّائِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 3386

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3387

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يُفْتَحُ إِنْسَانٌ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتْحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ، لَأَنْ يَعْمِدَ الرَّجُلُ حَبْلًا إِلَى جَبَلٍ (1) فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، وَيَأْكُلَ (2) مِنْهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ مُعْطًى أَوْ مَمْنُوعًا» (3) . [2: 63]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " مانگنے کا دروازہ جب بھی آدمی اپنے لیے کھولتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے آدمی ایک رسی لے کر اس ے ذریعے لکڑیوں کا گٹھا بنا کر اپنی پشت پر رکھ کر (اسے بازار میں جا کر فروخت کر کے) اس کو کھائے یہ اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگے اور اسے کچھ دیا جائے یا نہ دیا جائے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 3387

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3388

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلَاثًا، وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلَاثًا، يَرْضَى لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا، وَأَنْ تَنَاصَحُوا مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ أَمَرَكُمْ، وَيَسْخَطُ لَكُمْ قِيلَ، وَقَالَ: وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ» (1) . [3: 68]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین باتوں سے راضی ہے اور تمہارے لیے تین باتوں کو نا پسند کرتا ہے تمہار ے لیے اس بات سے راضی ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراو اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تم سب لوگ اس (حکمران) کی خیر خواہی کرو جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے امور کا نگران بنایا ہے اور وہ تمہارے لیے ان باتوں کو ناپسند کرتا ہے کہ قیل وقال کرنا، مال کو ضائع کرنا اور بکثرت مانگنا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 3388

chevron_left Previous
1…1415161718
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr